منگل، 10 فروری، 2026

کتے اور بھیریے کی کہانی





کتے اور بھیڑیے کی کہانی

 رتقاء کے کسی دھندلے، نیم روشن موڑ پر کتا اور بھیڑیا ایک ہی قبیلے کے فرد تھے۔ جبلّت مشترک تھی، بدن میں مماثلت تھی، اور بقا کی خواہش دونوں کے سینے میں یکساں دھڑکتی تھی۔ نہ فطرت نے ان کے درمیان لکیر کھینچی، نہ وقت نے انہیں جدا کیا۔ یہ فرق کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھا—یہ فرق ایک سوچے سمجھے انتخاب سے پیدا ہوا۔

کتے نے انسان کے قریب رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جنگل کی وسعتوں کے بجائے دہلیز کو چنا۔ یہ قربت سہولت نہیں تھی، ایک ذمہ داری تھی—بھاری، مسلسل اور خاموش۔ اس نے انسان کے گھر، اس کے بچوں اور اس کے مال مویشی کی رکھوالی کی۔ اس نے اپنی ذات کو ڈھال بنایا، اپنے وجود کو خطرے کے سامنے رکھا، تاکہ پیچھے رہ جانے والے محفوظ رہیں۔
اس انتخاب کی قیمت بھی تھی۔ آزادی محدود ہوئی، اختیار مکمل نہ ملا، مگر دہلیز محفوظ رہی۔ اور یوں یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ حفاظت طاقت کا مظاہرہ نہیں، قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔

بھیڑیے نے جنگل کی بے کنار وسعتوں کو چنا۔ اس نے کسی دہلیز سے وابستگی قبول نہ کی، کسی ذمے داری کو اپنے گلے کا ہار نہ بنایا۔ بھوک مٹانے کے لیے وہ کھلے میدان میں اترا، حملہ کیا، نوچا، اور خوف کو اپنی پہچان بنا لیا۔ اس کے نزدیک زندگی حفاظت کا نام نہیں، غلبے کا دوسرا نام ہے؛ ذمہ داری اس کے ہاں بوجھ ہے، فتح ہی اس کی اخلاقیات ہے۔

کتا آج بھی دہلیز پر بیٹھا ہے۔ اس کی خواہش سادہ ہے: جو اس کے پیچھے ہیں، وہ محفوظ رہیں۔ مگر انسانی سماج نے وقت کے ساتھ ایک عجیب اور سفاک فیصلہ کیا۔ اس نے وفاداری کو کمزوری قرار دے دیا۔ جب کسی ہم جنس کو کمتر دکھانا مقصود ہو، اسے “کتا” کہا جاتا ہے۔ یوں اصول پسندی، قانون کی پاسداری اور اخلاقی انکار تمسخر کا نشانہ بن جاتے ہیں، اور کردار کی جگہ چالاکی کو فضیلت کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔

انسانی تاریخ ایسے محافظوں سے بھری پڑی ہے جو دروازوں پر کھڑے رہے، مگر فیصلہ ساز کمروں تک نہ پہنچ سکے۔ ان کے نام قراردادوں کے حاشیوں میں دب گئے، کیونکہ وہ فاتح نہیں تھے۔ فاتح وہ تھے جن کے ہاتھوں میں نقشے تھے، جنہوں نے سرخ لکیروں سے زمین بانٹی، اور جن کے فیصلوں کے بعد شہروں کے نام ملبے میں بدل گئے۔

یہ بھی تاریخ کا ایک تلخ تضاد ہے کہ خونخواری کو بہادری کہا جاتا ہے۔ کہیں آسمان سے آگ برستی ہے، کہیں بستیاں اجڑتی ہیں، اور کہیں ایوانوں میں بیٹھے لوگ اسے “ضروری اقدام” کا نام دے دیتے ہیں۔ میزوں پر فائلیں کھلتی ہیں، نقشوں پر نئی حد بندیاں بنتی ہیں، اور انسان صرف اعداد میں ڈھل جاتے ہیں—کسی رپورٹ کا ایک پیراگراف، کسی بریفنگ کی ایک سطر۔

رفتہ رفتہ یہی بھیڑیے دنیا کی بڑی کہانیوں کے مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔ ان کے لیے زبان نرم ہو جاتی ہے، الفاظ محتاط ہو جاتے ہیں، اور ظلم کو “توازن”، “سلامتی” یا “قومی مفاد” کا خوش نما عنوان دے دیا جاتا ہے۔ جو اس بیانیے سے اختلاف کرے، جو طاقت کے بجائے اصول کی بات کرے، وہ غیر حقیقت پسند، جذباتی یا غیر ذمہ دار قرار پاتا ہے۔

مسئلہ بھیڑیوں کی موجودگی نہیں—طاقت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ اصل مسئلہ وہ عالمی ہجوم ہے جو ان کے پیچھے چلتا ہے۔ وہ تالیاں ہیں جو ہر گرتے ہوئے شہر کے بعد بجتی ہیں۔ وہ خاموشی ہے جو ہر چیخ کے بعد چھا جاتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ ہم نے طاقت کو عقل کا مترادف، اور اخلاق کو رکاوٹ سمجھ لیا ہے۔

جب  پیمانے بگڑ جائیں تو محافظ مجرم دکھائی دینے لگتا ہے، اور آگ لگانے والا رہنما۔ پھر دہلیز پر بیٹھا کتا مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے، اور جنگل سے آنے والا بھیڑیا معتبر۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے اپنی ہی حفاظت پر شرمندہ ہونے لگتے ہیں۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ کتا درست ہے یا بھیڑیا طاقتور۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کن فیصلوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم کن ہاتھوں سے مصافحہ کرتے ہیں، اور کن آنکھوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ کیونکہ جس دن دنیا اپنے محافظوں کو بوجھ، اور اپنے جلادوں کو ناگزیر سمجھ لے، اس دن ظلم محض ایک عمل نہیں رہتا—وہ عالمی روایت بن جاتا ہے۔

اور جب ظلم روایت بن جائے،
تو تاریخ نہیں مرتی—
انسان مرنے لگتا ہے۔





خناس کی فطرت



خناس کی فطرت


صیہونیت کے سر تاج  برطانیہ نے رکھا۔ یورپ نے  ہولوکاسٹ کے کفارے کے بوجھ تلےاسےمضبوط کیا۔مگر اصل موڑ اس وقت آیا، مریکی سرپرستی نے اس تاج میں نسلی برتری کا ہیرا جڑ دیا۔یوں اسرائیل ایک مقدس استثنا بن گیا۔
 طاقت اگر حد سے بڑھا دی جائے، اگر اسے جواب دہی اور قانون کے بغیر تقدس عطا کر دیا جائے، تو پھر وہ طاقت نظم نہیں رہتی، وہ وحشت بن جاتی ہے۔
صیہونیت کے سر پر تاج سب سے پہلے برطانیہ نے رکھا۔ بالفور اعلامیے کے کاغذ پر محض ایک وعدہ نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر ایک مستقل زخم کندہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یورپ نے ہمدردی کے نام پر، ہولوکاسٹ کے کفارے کے بوجھ تلے، اور نوآبادیاتی مفادات کے تحفظ کی خاطر اس تاج کو مزید مضبوط کیا۔مگر اصل موڑ وہاں آیا، جہاں امریکی سرپرستی نے اس تاج میں نسلی برتری کا ہیرا جڑ دیا۔یہاں سے یہ تاج محض تحفظ کی علامت نہ رہا، بلکہ ایک کھلا اجازت نامہ بن گیا—ہر دیوار گرانے کا
ہر بستی اجاڑنے کا،اور ہر لاش کو “دفاع” کے جواز میں دفن کرنے کا۔یوں اسرائیل ایک ریاست نہیں رہا،بلکہ ایک مقدس استثنا بن گیا۔
اقوامِ عالم کے قوانین اس کے لیے کاغذ کے ٹکڑے ٹھہرے،انسانی حقوق اس کے سامنے بے آواز ہو گئے،اور اخلاقیات اس کی دہلیز پر جوتے اتار کر داخل ہونے لگیں۔
فلسطین کی گلیوں میں جب پتھر اٹھے،تو جواب میں فولاد اترا۔
جب بچوں کی چیخیں بلند ہوئیں، تو اسے حقِ دفاع کہا گیا۔
اور جب دنیا نے سوال کیا، تو ویٹو کی مہر نے ہر سوال کو دفن کر دیا۔
تاج کی تاریخ ہے ۔ وہ پہلے تحفظ دیتا ہے، پھر بے خوفی،اور آخرکار خود سری
آج المیہ یہ ہے کہ وہی امریکہ، جس نے اس تاج پر ہیرا پرویا تھا،اب خود اسی تاج کے سائے میں کھڑا ہے۔اسرائیل کو روکنے کی بات واشنگٹن میں سرگوشی بن چکی ہے،اور سرگوشی وہاں جرم سمجھی جاتی ہے۔کانگریس کے ایوان ہوں یا میڈیا کے کمرے،پٹہ دکھانا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔کیونکہ جسے برسوں یہ بتایا گیا ہو کہ وہ غلط نہیں ہو سکتا،وہ ایک دن یہ یقین کر لیتا ہے کہ اسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔
یہ کہانی نئی نہیں۔روم میں محافظوں نے قیصر کو نگل لیا تھا
بغداد میں غلاموں نے خلیفہ کو کٹھ پتلی بنا دیا تھا، اور جدید دنیا میں پراکسی اپنے خالقوں کے لیے وبال بنتی دیکھی جا چکی ہے
مگر صیہونیت کا معاملہ سب سے مختلف اس لیے ہے کہ یہاں طاقت کے ساتھ اخلاقی برتری کا سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔اور یہی وہ خناس ہے جو سب سے آہستہ اور دیرسے اترتا ہے۔
آج آگ پورے خطے میں پھیل رہی ہے۔امن ایک لفظ رہ گیا ہے، حقیقت نہیں۔
اور وہ ہاتھ جو کبھی تاج رکھنے کے لیے اٹھے تھے،آج کانپ رہے ہیں۔کیونکہ پٹہ ڈالنے کی ہمت کسی میں نہیں۔
اصل غلطی آج نہیں ہو رہی۔اصل غلطی اُس دن ہوئی تھی جب صیہونیت کو بغیر حساب کے عزت دے دی گئی تھی۔
تاریخ یہی لکھتی ہے جو تاج کا عادی ہو جائے، وہ قانون کو توہین سمجھتا ہے
اور جب قانون کو ویٹو تلے مسخ کر دیا جائے،تو تاج پہنے لاڈلے کو پٹہ ڈالنا
مشکل نہیں،ناممکن ہو جاتا ہے۔
قدیم رومی کہاوت  ہے-"ایک مرتبہ کتے کے سر پر تاج رکھ دیا جائے،تو پھر اسے پٹہ پہنانا ممکن نہیں رہتا۔"

پیر، 9 فروری، 2026

بند گلی



بند گلی

تاریخ میں کچھ مراحل ایسے آتے ہیں جب طاقت آگے بڑھنے کے بجائے خود اپنے گرد گھومنے لگتی ہے۔ فیصلہ کرنے کی  جرأت ختم ہو جاتی ہے۔ امریکہ  ایران  کشیدگی اسی کیفیت کی نمائندہ ہے—ایسا لمحہ جہاں ہر اقدام نقصان اور ہر تاخیر مزید نقصان کا پیش خیمہ ہے۔

واشنگٹن یہ حقیقت جانتا ہے کہ ایران پر حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں ہوگا، بلکہ ایک ایسا عمل ہوگا جو سرحدوں، اتحادوں اور طے شدہ حدوں کو بے معنی کر دے گا۔ اسی طرح پیچھے ہٹنا بھی ممکن نہیں، کیونکہ امریکی سیاسی ڈھانچہ پسپائی کو شکست اور ضبط کو کمزوری سمجھتا ہے۔ یوں فیصلہ اور عدم فیصلہ دونوں یکساں خطرناک بن چکے ہیں۔
ایسے ہی حالات میں سلطنتیں براہِ راست فیصلے کرنے کے بجائے بالواسطہ راستے اختیار کرتی ہیں۔ سفارتی پیغامات، ثالثی کی کوششیں اور محدود تصادم کے فارمولے اسی سوچ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک خلیجی ریاست کے ذریعے پیش کی گئی تجویز بھی اسی منطق پر مبنی تھی --محدود امریکی حملہ، محدود ایرانی جواب، اور یوں جنگ کو قابو میں رکھنے کا دعویٰ
تہران کا موقف واضح تھا  نہ محدود جنگ، نہ علامتی تصادم۔ یا تو مکمل تصفیہ—جس میں پابندیوں کا خاتمہ اور سیاسی حقیقت کا اعتراف شامل ہو—یا پھر کھلی محاذ آرائی۔ ایران کے نزدیک جزوی جنگ صرف ایک طویل، تدریجی تباہی کا دوسرا نام ہے۔
یہ موقف واشنگٹن کے لیے اس لیے پریشان کن ثابت ہوا کہ وہ جذباتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک تھا۔ اس نے اس مفروضے کو چیلنج کر دیا کہ جنگ کو ہمیشہ منظم اور محدود رکھا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ادھوری جنگیں تصادم کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ اسے مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی امریکی فیصلہ سازی اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی تقسیم، قانونی تنازعات اور سماجی اخلاقی بحران اس صلاحیت کو کمزور کر چکے ہیں کہ امریکہ بیرونی محاذ پر واضح اور مستقل پالیسی اختیار کر سکے۔ جو طاقت اندر سے منقسم ہو، وہ باہر استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔
اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ کوئی انجام بھی استحکام کی ضمانت نہیں دیتا۔
اگر امریکہ عسکری طور پر غالب آ جاتا ہے تو اس کا نتیجہ امن نہیں بلکہ خطے کی مزید تقسیم ہوگا۔ کمزور ریاستیں، غیر یقینی سرحدیں اور مستقل کشیدگی—یہی وہ نقشہ ہوگا جو “فتح” کے بعد ابھرے گا۔
اور اگر ایران اس تصادم سے مضبوط ہو کر نکلتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ کا دور اختتام کو پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں علاقائی طاقتیں خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے بڑھیں گی، عالمی قوتیں نئے اتحاد تشکیل دیں گی، اور خطہ ایک بار پھر غیر یقینی طاقت آزمائی کا میدان بن جائے گا۔
یوں مسئلہ صرف جنگ یا امن کا نہیں رہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ طاقت کے تمام روایتی فارمولے ناکام ہو چکے ہیں۔ سفارت کاری کمزوری سمجھی جا رہی ہے، جنگ ناقابلِ پیش گوئی ہے، اور تاخیر مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں گہرا کر رہی ہے۔
یہ بحران دراصل ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے: امریکہ اپنی حدوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں، اور ایران اپنی سیاسی و معاشی گھٹن کو خاموشی سے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس ٹکراؤ میں سب سے خطرناک مفروضہ یہ ہے کہ صورتحال کو اب بھی مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
 جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں تو فیصلے مذاکرات سے نہیں، طاقت کے ذریعے ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں سابق امریکی صدر جارج بش سینئر کا 1991 میں دیا گیا بیان آج بھی گونجتا ہے
یہ جنگ امریکہ کی سرزمین سے بہت دور لڑی جائے گی، اور امریکی عوام کو اس کی قیمت اپنے شہروں اور گلیوں میں ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ایسی یقین دہانیاں وقتی ہوتی ہیں۔ جنگیں ابتدا میں دور رہ سکتی ہیں، مگر ان کے اثرات کبھی مستقل طور پر دور نہیں رہتے۔

فلسطینیوں کی امریکہ سےبے دخلی کا نیا المیہ

 



“شیڈو فلائٹس” اسکینڈل

تاریخ اکثر ظلم کو اس لمحے قلم بند نہیں کرتی جب وہ وقوع پذیر ہوتا ہے، بلکہ ابتظار کیا جاتا ہے کہ  اسے کوئی نام دیا جا چکا ہو ۔ آج جس معاملے کو “شیڈو فلائٹس” کہا جا رہا ہے، وہ بھی ایسا ہی ایک نام ہے—ایک ایسا دعویٰ جو  دولت، سیاسی طاقت اور نظریاتی وابستگی کے اس خوفناک گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے جو بند کمروں میں انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔
سوژل میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ایک خطرناک حد عبور کی گئی ہے، جب ریاستی اختیار اور نجی مفادات کے درمیان لکیر مٹا دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق   امریکی سکیورٹی اداروں کو ایک طرح کی “جبری ٹریول ایجنسی” میں تبدیل کر دیا گیا، جس کا مقصد قانونی امیگریشن کا نفاذ نہیں بلکہ ایک مخصوص صہیونی بے دخلی ایجنڈے کی تکمیل تھا۔
اس بیانیے کا مرکزی کردار ایک اسرائیلی نژاد امریکی ارب پتی ہے، جس کا ذاتی طیارہ مبینہ طور پر امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے زیرِ استعمال رہا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ارب پتی ٹرمپ خاندان کے نہایت قریب تھا، اور اس کا طیارہ معمول کی انتظامی ضروریات کے بجائے ایک خفیہ اور سیاسی طور پر نہایت حساس مشن کے لیے استعمال ہوا۔
سب سے سنگین الزام فلسطینی قیدیوں سے متعلق ہے۔ دعویٰ ہے کہ انہیں ریاستِ ایریزونا سے براہِ راست تل ابیب منتقل کیا گیا—خاموشی سے، جبر کے ساتھ، اور دانستہ تذلیل کے ماحول میں۔ یہ کارروائی کسی ایک افسر کی زیادتی نہیں بلکہ ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ بتائی جاتی ہے، جس کا مقصد فلسطینی وجود کو صرف مقبوضہ  فلسطینی زمین سے ہی نہیں بلکہ جلاوطنی میں بھی مٹانا ہے ۔
ایسے واقعات اس تلخ حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں جس کا اظہار امریکی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے ناقدین برسوں سے کرتے آ رہے ہیں: کہ امریکی خارجہ پالیسی اب عوامی اداروں کی پیداوار کم اور طاقتور مالی اشرافیہ کے ہاتھوں میں ایک آلہ زیادہ بن چکی ہے۔ اس منظرنامے میں امریکی ریاست—اپنے قوانین، اداروں اور وسائل سمیت—قابض قوت کی سلامتی کے مفادات کے لیے استعمال ہوتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کو بوجھ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
“شیڈو فلائٹس” کا اسکینڈل محض طیاروں یا ملک بدری کا معاملہ نہیں۔ یہ طاقت کے اخلاقی ڈھانچے پر ایک سوال ہے: ریاستی مشینری کو کون چلا رہا ہے، کس کا دکھ نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور جب دولت اور نظریہ ایک ہی سمت میں کھینچنے لگیں تو قانون کس قدر آسانی سے مڑ جاتا ہے۔

سرکاری  خاموشی کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ قائم ہے: جب ریاستی اختیار عملی طور پر نجی ملکیت بن جائے، اور بے دخلی ایک انسانی المیے کے بجائے محض ایک انتظامی کارروائی بن کر رہ جائے، تو پھر انصاف—قومی ہو یا بین الاقوامی—کہاں باقی رہ جاتا ہے؟

اتوار، 8 فروری، 2026

عدل کی میزان




عدل کی میزان
قیامت کا منظر  تھا، مگر اس کے کردار حقیقت کے دھاگوں سے جُڑے ہوئے تھے۔ ابتدا میں ہر طرف شور تھا—بکھرتے قدم، چیختی آوازیں، اور خوف زدہ چہرے۔ پھر اچانک ایسا سکوت طاری ہوا جیسے کائنات نے اپنی سانس روک لی ہو۔ آوازیں دب گئیں، انسان رُک گئے، اور ایک غیر مرئی قوت نے وقت کو اپنے قبضے میں لے لیا۔
اسی سکوت میں ایک وسیع اسٹیج نمودار ہوا۔ یہ نہ شاہانہ تھا، نہ پرشکوہ۔ بس ایک سادہ مگر ہیبت ناک منظر، جس پر ایک شفاف آلہ رکھا گیا تھا۔ اتنا شفاف کہ کسی بھی عمل، کسی بھی نیت، کسی بھی جرم کو چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔ لوگوں کی نگاہیں اسی آلے پر جم گئیں اور سب نے سمجھ لیا یہ عدل کی میزان ہے۔
منصف کی موجودگی کا سب کو احساس تھا مگر  نہ چہرہ، نہ آواز، نہ کوئی علامت۔ مگر یقین ایسا پختہ تھا کہ کسی کو شک نہ رہا- یہاں فیصلہ ہو گا—اور فیصلہ کسی طاقت، کسی اثر و رسوخ، کسی سیاسی مصلحت، کسی مالی چمک یا خاندانی وجاہت کے نام پر متاثر نہیں ہوگا۔ یہ عدالت صرف انسان کے عمل کو تول رہی تھی۔
پہلے گواہوں کے طور پر جو چہرے سامنے آئے، وہ کسی ایک زمانے کے نہ تھے۔ یہ انسانی تاریخ کے مظلوم اور دفن شدہ صفحات تھے—کم عمر بچیاں، جنہیں ہر دور نے اپنے اندازسے مارا۔
ایک بچی آگے بڑھی۔  جسے صرف لڑکی ہونے کی سزا میں زندہ دفن کر دیا گیا۔ اس کا جرم صرف وجود تھا۔ خاموشی کے باوجود اس کی موجودگی نے پورے نظام پر سوال کھڑا کیا: میرا ہونا کب جرم بنا؟
دوسری بچی قرونِ وسطیٰ کی تھی۔ اسے خاندانی یا سیاسی مفاد کے لیے وقت سے پہلے بالغ کر دیا گیا تھا۔ اس کا بچپن چھین لیا گیا، لیکن آج میزان کے سامنے وہ اپنی پوری انسانی پہچان کے ساتھ کھڑی تھی۔
تیسری بچی نوآبادیاتی دور کی نمائندہ تھی۔ فاتح نے زمین کے ساتھ اس کے جسم کو بھی فتح سمجھا۔ اسے تاریخ میں ایک سطر میں “ضمنی نقصان” کہا گیا، مگر میزان کے سامنے وہ ایک مکمل انسان تھی، اور اس کے سوال نے پوری تہذیب کے خلاف فردِ جرم قائم کر دیا۔
پھر جدید دور کی بچیاں آئیں۔ کسی کے ہاتھ میں بم سے ٹوٹی گڑیا تھی، جو جنگ زدہ شہروں کی داستان سناتی تھی۔ کسی کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو جنسی تشدد کے بعد کبھی نہیں جاتا۔ کسی کا جسم بھوک سے نڈھال تھا، ایسی دنیا میں جہاں اناج وافر تھا ۔ یہ سب بول نہیں رہی تھیں، الزام نہیں لگا رہی تھیں، بس موجود تھیں—اور یہی موجودگی سب سے بڑی گواہی تھی۔
اسی لمحے سب پر حقیقت واضح ہو گئی: یہاں کسی ملک کا، کسی ادارے یا سیاسی بلاک کا محاسبہ نہیں ہو گا۔ نہ کسی تنظیم، نہ کسی مالی ادارے، نہ کسی نظریے یا اتحاد کی صفائی قبول کی جائے گی۔ فیصلہ فرد کے خلاف ہو گا۔
وہ فرد جو حکم دیتا، وہ جس نے دستخط کیے، جو خاموش رہا، جو فائدہ اٹھایا—سب اس میزان کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ یہاں کسی کو کہنا ممکن نہ ہوگا کہ “میں نظام کا حصہ تھا” کیونکہ یہاں نظام نہیں،عمل تولا جا رہا تھا ۔
 میزان میں ذرا بھی لغزش نہ تھی۔ اس کے لیے انسان کے پردے—قوم، ریاست، ادارہ، نظریہ—معنی نہیں رکھتے تھے۔ یہاں صرف عمل کا وزن لیا جا رہا تھا۔
فضا میں ایک سوال معلق تھا
جب تاریخ میں یہ سب ہو رہا تھا، تم کہاں کھڑے تھے؟
میں جاگ اٹھا، مگر یقین ہو گیا کہ یہ محض خواب نہیں تھا۔ یہ ایک انتباہ تھا: ایک دن منصف نظر نہیں آئے گا، مگر عدل ہر فرد کو پہچان لے گا۔