اتوار، 18 جنوری، 2026

جب جوتھائی آبادی ختم ہو گئی



نوعِ انسان کی پہلی جنگ میں آبادی کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔ یہ سانحہ ایسا تھا کہ پوری دنیا غم اور ندامت میں ڈوب گئی۔ انسانیت اپنے خالق کے حضور شرمساری سے جھک گئی۔ مارنے والے بھی اپنے عمل پر مطمئن نہ تھے؛ جو لمحاتی اشتعال تھا، وہ مستقل پچھتاوے میں بدل چکا تھا۔

یہ انسانی تاریخ کا ایک مستقل اصول ہے کہ جب ظلم کرنے والا اپنے جرم کا اعتراف کر لے، ندامت ظاہر کرے، معافی مانگے اور منصف کی دی ہوئی سزا قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے تو انصاف بھی رحمت کا پہلو اختیار کر لیتا ہے۔ اس پہلی جنگ میں منصف کوئی انسان نہیں، بلکہ خود انسان کا خالق تھا—وہی خالق جس نے انسان کو پیدا کرتے وقت فرشتوں کے اس اندیشے کو رد کر دیا تھا کہ یہ زمین میں فساد کرے گا اور ایک دوسرے کا خون بہائے گا۔

مگر وہ اندیشہ حقیقت بن چکا تھا۔ بھائی نے بھائی کا خون بہا دیا تھا۔ قابیل، ہابیل کو قتل کر کے دنیا کی پہلی جنگ کا آغاز کر چکا تھا۔ اس وقت نہ ایٹم بم تھا، نہ لشکر، مگر چار افراد پر مشتمل ایک بستی جنگ کی نذر ہو چکی تھی۔ یہ غم اور یہ ندامت ایک دن یا ایک سال نہیں، بلکہ پورے ایک سو تیس برس تک انسانیت کے دل پر سایہ فگن رہی۔

بالآخر خالق نے شیثؑ کو عطا کر کے آدمؑ کے دل کو تسلی دی۔ نہ اللہ نے قابیل سے فوری انتقام لیا، نہ آدمؑ نے اپنے لاڈلے بیٹے ہابیل کے قتل پر قابیل کی موت مانگی، اور نہ ہی ہابیل کی ماں کے دل میں بدلے کی خواہش نے جنم لیا۔ یہ واقعہ انسانیت کے لیے ایک خاموش مگر گہرا پیغام تھا: کہ معافی، صبر اور مہلت بھی عدل ہی کی ایک صورت ہیں۔


زندگی کے اصل اوزار





زندگی کے اصل اوزار
غسل خانے کا بیسن
 ٹپک رہا تھا۔ میں نے پلمبر کو بلایا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص آیا، ہاتھ میں پرانا سا ٹول بکس، چہرے پر عجیب سا اطمینان۔
وہ کام میں لگ گیا۔ رنچ ٹوٹی ہوئی تھی، آری آدھی۔ ایک لمحے کو لگا شاید یہ شخص میرے مسئلے کا حل نہیں۔ مگر دس منٹ بعد نل ٹھیک تھا، پانی بند، کام مکمل۔
میں نے اسے زیادہ 1000 کا نوٹ دیا،
“آدہے ہی کافی ہیں”
یہ جواب چونکانے والا تھا، مگر اس کی مسکراہٹ میں کوئی دکھ یا مجبوری نہیں تھی، صرف اطمینان تھا۔ اس نے بتایا کہ مقررہ حق سے زیادہ لینا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر دل کا سکون نہیں۔
میں نے اس کے اوزاروں کی طرف اشارہ کیا۔
وہ ہنسا اور بولا،
“اوزار گھس جاتے ہیں، مگر ہنر باقی رہتا ہے۔ جیسے انسان—وقت کے نشان اسے کمزور نہیں، تجربہ کار بناتے ہیں۔”
پھر اس نے ایک سادہ مگر گہری بات کہی:
“قلم مہنگا ہو یا سستا، لکھنے والا جانتا ہو تو بات کاغذ پر اتر ہی جاتی ہے۔”
اس لمحے احساس ہوا کہ اصل طاقت وسائل میں نہیں، مہارت اور اعتماد میں ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے ہنر پر یقین رکھتا ہو، وہ محدود وسائل کے باوجود راستہ بنا لیتا ہے۔
ہم اکثر بہتر اوزار، بہتر حالات اور بہتر مواقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ مگر زندگی تب آگے بڑھتی ہے جب انسان موجود وسائل کے ساتھ بہترین کام کر دکھاتا ہے۔
ٹوٹے اوزار، پُرسکون چہرہ اور مکمل کام—یہ منظر ایک خاموش پیغام چھوڑ گیا:
اگر اندر یقین اور ہاتھ میں مہارت ہو، تو کمی رکاوٹ نہیں بنتی۔
اور یہی اعتماد انسان کو آگے بڑھاتا ہے۔

اسلامی انقلاب کے بعد ایران پر پابندیاں



ایران میں 1979ء کا اسلامی انقلاب صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ اس نے عالمی طاقتوں کے مفادات، مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی ترتیب اور مغربی بالادستی کے تصور کو کھلے چیلنج میں بدل دیا۔ اسی چیلنج کے جواب میں ایران کو جن پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ محض سفارتی اقدامات نہیں تھے، بلکہ ایک طویل المدت سیاسی، معاشی اور نفسیاتی جنگ کی شکل اختیار کر گئے۔
انقلاب کے فوراً بعد ایران نے:
شاہی نظام ختم کیا
امریکی اثر و رسوخ کو مسترد کیا
اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا
اور خارجہ پالیسی کو “نہ مشرق، نہ مغرب” کے اصول پر استوار کیا
یہ سب اقدامات امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ناقابلِ قبول تھے۔ یوں پابندیوں کا پہلا باب کھلا۔
نومبر 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور یرغمالی بحران نے امریکہ کو ایران کے خلاف سخت اقدامات کا جواز فراہم کیا۔
نتیجتاً:
ایرانی اثاثے منجمد کر دیے گئے
تجارتی تعلقات معطل ہوئے
سفارتی روابط ختم کر دیے گئے
یہ پابندیاں وقتی نہیں تھیں، بلکہ ایک طویل دشمنی کی بنیاد بن گئیں۔
1980ء میں ایران–عراق جنگ نے ایران کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنہا کر دیا۔
مغربی دنیا نے عراق کو بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت دی، جبکہ ایران:
اسلحے کی پابندیوں
مالی ناکہ بندی
اور سفارتی تنہائی
کا شکار رہا۔
اس مرحلے پر پابندیاں صرف سزا نہیں، بلکہ جنگی دباؤ کا ہتھیار بن گئیں۔
وقت کے ساتھ پابندیاں ایران کی معیشت کے بنیادی ستونوں پر مرکوز ہو گئیں:
تیل کی برآمدات پر پابندیاں
ایرانی بینکوں کو عالمی مالیاتی نظام (SWIFT) سے الگ کرنا
ڈالر میں لین دین پر قدغن
غیر ملکی سرمایہ کاری پر سخت رکاوٹیں
ان پابندیوں کے باعث
مہنگائی میں شدید اضافہ
کرنسی کی قدر میں کمی
بے روزگاری اور صنعتی جمود
لیکن اس کے ساتھ ہی ایران نے داخلی خودکفالت اور متبادل تجارتی راستے بھی تلاش کیے۔
2000ء کی دہائی میں ایران کے جوہری پروگرام نے پابندیوں کو عالمی رنگ دے دیا۔
اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ نے مشترکہ طور پر:
ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندی
عسکری اور دوہری استعمال کی اشیاء پر قدغن
ایرانی شخصیات اور اداروں پر بلیک لسٹنگ
یہ پابندیاں ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے کے نام پر تھیں، مگر ایران کے نزدیک یہ سائنسی خودمختاری پر حملہ تھا۔
پابندیوں نے صرف ریاست کو نہیں، عوام کو بھی متاثر کیا:
ادویات اور طبی آلات کی قلت
تعلیمی و تحقیقی تبادلے محدود
عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مشکل
یہی وجہ ہے کہ ایران میں پابندیوں کو اجتماعی سزا کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ایرانی قیادت نے پابندیوں کے جواب میں:
“مزاحمتی معیشت” کا تصور پیش کیا
مقامی صنعتوں کو فروغ دیا
ایشیا، روس اور خطے کی طاقتوں سے روابط بڑھائے
پابندیاں، جو ایران کو جھکانے کے لیے تھیں، اس نے انہیں نظریاتی مزاحمت میں بدل دیا۔
ایران پر لگنے والی پابندیاں محض معاشی اقدامات نہیں، بلکہ:
انقلاب کو ناکام بنانے کی کوشش
علاقائی اثرورسوخ کو محدود کرنے کی حکمت عملی
اور نظریاتی ریاست کو دبانے کا ہتھیار ہیں
لیکن چار دہائیوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ:
ایران پابندیوں کے تحت کمزور نہیں ہوا، بلکہ ایک نئی شکل میں ڈھل گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ایرانی مسئلہ آج بھی عالمی سیاست کا ایک کھلا سوال ہے—جس کا حل پابندیوں سے نہیں، مکالمے سے نکلے گا۔

ایرانی انقلاب 1979ء




ایرانی انقلاب 1979ء
محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ نصف صدی پر محیط فکری، سماجی اور تہذیبی کشمکش کا منطقی نتیجہ تھا۔ یہ انقلاب کسی ایک دن، ایک تقریر یا ایک تحریک سے جنم نہیں لیتا، بلکہ اس کی جڑیں رضا شاہ پہلوی کے دور میں پیوست، محمد رضا شاہ کے عہد میں گہری، اور بالآخر ایرانی معاشرے کے اجتماعی شعور میں پختہ ہو چکی تھیں۔
رضا شاہ پہلوی نے جس جدیدیت کی بنیاد رکھی، وہ سماج کی رضا کے بغیر نافذ کی گئی جدیدیت تھی۔ لباس، تعلیم، عدلیہ، حتیٰ کہ مذہبی شعائر تک کو ریاستی طاقت کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔
یہ جدیدیت ظاہری تھی، فکری نہیں؛ شہری تھی، عوامی نہیں؛ اور سب سے بڑھ کر، مذہب سے متصادم تھی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مذہبی طبقہ جدیدیت کا دشمن نہیں، بلکہ ریاست کا دشمن بن گیا۔
پہلوی دور میں علما کو سیاست سے بے دخل کیا گیا، مگر انہیں معاشرے سے ختم نہیں کیا جا سکا۔ مساجد، مدارس اور عزاداری کے اجتماعات سیاسی شعور کے خفیہ مراکز بن گئے۔
شیعہ فکر میں موجود شہادت، ظلم کے خلاف قیام، اور امام حسینؑ کی کربلا—یہ سب تصورات آہستہ آہستہ انقلابی زبان میں ڈھل گئے۔
یوں مذہب، جسے کمزور سمجھا گیا تھا، انقلاب کا سب سے طاقتور ہتھیار بن گیا۔
محمد رضا شاہ کے دور میں ایران میں مغربی طرزِ زندگی، ثقافت اور اقدار کو ریاستی سرپرستی حاصل ہوئی۔ شاہی دربار، اشرافیہ اور شہری متوسط طبقہ مغربی دنیا سے جڑ گیا، جبکہ دیہی اور مذہبی ایران خود کو غیر متعلق اور بے دخل محسوس کرنے لگا۔
یہی وہ فکری خلیج تھی جسے علی شریعتی جیسے مفکرین نے لفظ دیا:
"غرب زدگی "
یعنی اپنی تہذیبی جڑوں سے کٹ کر دوسروں کی نقالی۔
اگر خمینی انقلاب کا چہرہ تھے، تو علی شریعتی اس کا ذہن تھے۔
انہوں نے شیعہ مذہب کو جامد رسومات سے نکال کر انقلابی نظریہ بنایا۔
ان کے نزدیک:
حسینؑ ایک تاریخی کردار نہیں، ایک زندہ انقلابی علامت تھے
شیعیت، مظلوم کی آواز اور جابر کے خلاف احتجاج تھی
مذہب، سماجی انصاف کا مطالبہ تھا
شریعتی نے نوجوانوں، طلبہ اور پڑھے لکھے طبقے کو انقلاب کے فکری دائرے میں داخل کیا۔
محمد رضا شاہ کا ایران ترقی کر رہا تھا، مگر سیاسی طور پر سانس نہیں لے سکتا تھا۔
ساواک کی نگرانی، تشدد، قید و بند اور سنسرشپ نے اختلاف کو زیرِ زمین دھکیل دیا۔
جب اختلاف کو اظہار کی اجازت نہ ملے، تو وہ انقلاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔
آیت اللہ خمینی نے انقلاب کو محض احتجاج نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ریاستی نظریہ دیا۔
"ولایتِ فقیہ" کا تصور یہ تھا کہ:
غیبتِ امام کے دور میں
ریاست کی قیادت فقیہ کے پاس ہونی چاہیے
یہ نظریہ روایتی شیعہ سیاست سے مختلف اور انقلابی تھا، مگر اسی نے انقلاب کو واضح سیاسی سمت دی۔
1970ء کی دہائی میں تیل کی دولت نے ایران کو امیر بنایا، مگر مساوات نہیں دی۔ دولت اوپر جمع ہوئی، نیچے بے چینی بڑھی۔ جب معاشی ناانصافی فکری بے چینی سے ملتی ہے، تو انقلاب ناگزیر ہو جاتا ہے۔






ایران میں اسلامی انقلاب کے خاتمے کے خواہشمند


ایران میں اسلامی انقلاب کے خاتمے کے خواہشمند
ایرانی اسلامی انقلاب 1979ء صرف ایک حکومت نہیں، بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف سرگرم قوتیں محض سیاسی مخالف نہیں بلکہ ایک متبادل فکری، تہذیبی اور عالمی ایجنڈا رکھتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون لوگ ناخوش ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون اقتدار چاہتے ہیں اور کیوں؟
پہلوی خاندان اور شاہی حامی
اسلامی انقلاب کے خاتمے کے سب سے نمایاں خواہشمند پہلوی خاندان سے وابستہ عناصر ہیں، خصوصاً رضا پہلوی (ولی عہد)۔
ان کا بیانیہ:
اسلامی جمہوریہ ناکام ہو چکی ہے
ایران کو ایک سیکولر، مغرب نواز ریاست بننا چاہیے
شاہی دور کو استحکام اور ترقی کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ:
ان کا اثر زیادہ تر بیرونِ ملک ایرانیوں تک محدود ہے
ایران کے اندر ان کی کوئی مضبوط عوامی تنظیم موجود نہیں
یہ ایک نوستالجک سیاست ہے، زمینی حقیقت نہیں۔
مغرب نواز سیکولر اپوزیشن
یہ طبقہ دانشوروں، سابق بیوروکریٹس، صحافیوں اور این جی او نیٹ ورکس پر مشتمل ہے، جن میں:
لبرل ڈیموکریٹس
قوم پرست سیکولرز
انسانی حقوق کے علمبردار گروہ
شامل ہیں۔
ان کا ہدف:
ولایتِ فقیہ کا خاتمہ
مذہب کو ریاست سے الگ کرنا
مغربی طرز کا سیاسی نظام
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ:
یہ طبقہ عوامی مذہبی جذبات سے کٹا ہوا ہے
دیہی اور نچلے متوسط طبقے میں ان کی جڑیں کمزور ہیں
نسلی و علاقائی علیحدگی پسند تحریکیں
کرد، بلوچ، عرب اور بعض ترکمان گروہ بھی مرکزی ریاست سے ناراض ہیں۔
ان کے مطالبات:
خودمختاری یا وفاقی نظام
بعض صورتوں میں علیحدگی
یہ گروہ:
اسلامی انقلاب کو نہیں بلکہ مرکزی ریاست کو چیلنج کرتے ہیں
مگر بیرونی طاقتیں انہیں انقلاب مخالف بیانیے میں استعمال کرتی ہیں
یہ خطرہ ریاستی سلامتی کے لیے سنجیدہ ہے، مگر اقتدار کی متبادل قوت نہیں۔
بائیں بازو اور سابق انقلابی گروہ
ایرانی انقلاب میں شامل بعض مارکسی اور بائیں بازو کے گروہ بعد میں نظام سے باہر کر دیے گئے، جیسے:
مجاہدینِ خلق
کمیونسٹ و سوشلسٹ دھڑے
یہ گروہ:
مسلح جدوجہد
بیرونی سرپرستی
کے ذریعے نظام کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔
تاہم:
عوام میں ان کی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے
ایران کے اندر انہیں غدار سمجھا جاتا ہے
بیرونی طاقتیں — اصل محرک
اسلامی انقلاب کے خاتمے کا سب سے طاقتور اور مسلسل خواہشمند بیرونی بلاک ہے، جس میں:
امریکہ
اسرائیل
بعض یورپی اتحادی
اور چند علاقائی ریاستیں
ان کے مقاصد:
ایران کا علاقائی اثر ختم کرنا
اسرائیل کے خلاف مزاحمتی بلاک توڑنا
تیل اور سلامتی کے مفادات محفوظ بنانا
یہ طاقتیں:
پابندیاں
میڈیا وار
سائبر حملے
اپوزیشن کی سرپرستی
کے ذریعے نظام کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔
اندرونی ناراض طبقات
ایران میں:
مہنگائی
بے روزگاری
سماجی پابندیاں
پر عوامی ناراضی موجود ہے، مگر یہ ناراضی لازماً:
انقلاب کے خاتمے
یا مغربی نظام کی بحالی
کا مطالبہ نہیں کرتی۔
اکثر احتجاج:
اصلاح
شفافیت
معاشی بہتری
کے گرد گھومتے ہیں، نہ کہ نظام کی جڑ کاٹنے کے گرد۔
ایران میں اسلامی انقلاب کے خاتمے کے خواہشمند تو کئی ہیں، مگر:
ان میں عوامی اکثریت نہیں
کوئی متفقہ قیادت نہیں
کوئی قابلِ قبول متبادل نظام نہیں
یہی وجہ ہے کہ چار دہائیوں کی شدید پابندیوں، دباؤ اور داخلی چیلنجز کے باوجود:
اسلامی جمہوریہ ایران اب تک قائم ہے۔