اتوار، 18 جنوری، 2026

رضا پہلوی — جلاوطنی کی سیاست،






رضا پہلوی — اقتدار کا خواب
ایران کے سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے صاحبزادے رضا پہلوی آج خود کو ایرانی عوام کے لیے ایک “متبادل قیادت” کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ نہیں کہ وہ کون ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کی نمائندگی کرتے ہیں، کن طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں، اور ایران کے اندر ان کی سیاسی حیثیت کیا ہے؟
رضا پہلوی 1960ء میں پیدا ہوئے اور 1979ء کے اسلامی انقلاب کے وقت ولی عہد تھے۔ انقلاب کے بعد وہ خاندان سمیت ایران سے نکل گئے۔
ان کی پوری سیاسی شناخت ایک کھوئی ہوئی سلطنت کے گرد گھومتی ہے—ایسی سلطنت جسے تاریخ، عوام اور وقت تینوں مسترد کر چکے ہیں۔
وہ خود کو کبھی:
آئینی بادشاہت کے حامی
کبھی جمہوری ریپبلکن
اور کبھی قومی اتحاد کی علامت
کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کے بیانیے میں واضح نظریاتی استقامت نظر نہیں آتی۔
رضا پہلوی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ:
وہ ایران کے اندر موجود نہیں
ان کی کوئی فعال سیاسی جماعت نہیں
ان کا کوئی عوامی تنظیمی ڈھانچہ نہیں
ان کی حمایت زیادہ تر:
بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں
سوشل میڈیا نیٹ ورکس
اور مغربی میڈیا تک محدود ہے۔
ایران کے اندر، خاص طور پر مذہبی، دیہی اور نچلے متوسط طبقے میں، ان کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔
رضا پہلوی کے امریکہ سے تعلقات حادثاتی نہیں، وراثتی ہیں۔
پہلوی خاندان امریکی حمایت سے اقتدار میں رہا
1953ء کی بغاوت امریکی کردار کا واضح ثبوت ہے
شاہی دور میں ایران امریکہ کا قریبی اتحادی تھا
رضا پہلوی: امریکی پالیسی تھنک ٹینکس
کانگریس کے حلقوں
اور امریکی میڈیا میں باقاعدہ رسائی رکھتے ہیں۔
ان کا مؤقف:
ایران پر دباؤ بڑھایا جائے
اسلامی جمہوریہ کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے
پابندیاں “عوام کے مفاد” میں ہیں
یہ مؤقف ایران کے اندر انہیں غیر ملکی ایجنڈے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔
رضا پہلوی کا اسرائیل کے ساتھ تعلق ان کی سیاست کا سب سے حساس اور نقصان دہ پہلو ہے۔
انہوں نے: اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا
کھلے عام اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کیں
ایران–اسرائیل دشمنی کو “مصنوعی” قرار دیا
یہ مؤقف: اسلامی جمہوریہ کے سخت خلاف
اور ایرانی عوام کی بڑی اکثریت کے جذبات سے متصادم
ہے۔
ایران میں اسرائیل کو:
فلسطینیوں کے خلاف جارح ریاست
خطے میں عدم استحکام کی علامت
سمجھا جاتا ہے۔
اس تناظر میں رضا پہلوی کا اسرائیل نواز رویہ انہیں:
“ایرانی مفادات کے بجائے اسرائیلی سلامتی کا وکیل”
بنا کر پیش کرتا ہے۔
رضا پہلوی کی سیاست ایک بنیادی تضاد کا شکار ہے:
وہ اقتدار عوام سے چاہتے ہیں مگر دباؤ بیرونی طاقتوں سے دلواتے ہیں
یہی تضاد: ان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے
ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ:
بیرونی حمایت یافتہ قیادتیں ایران میں کبھی دیرپا قبولیت حاصل نہیں کر سکیں۔
ایران میں عوامی ناراضی ضرور ہے:
مہنگائی
پابندیاں
سماجی مسائل
مگر یہ ناراضی:
شاہی نظام کی بحالی یا مغرب نواز قیادت میں ڈھلتی نظر نہیں آتی۔

محمد رضا شاہ پہلوی


 

محمد رضا شاہ پہلوی — اقتدار، ترقی اور انجام

ایران کی جدید تاریخ میں اگر کسی ایک شخصیت نے ترقی، جبر، مغربی وابستگی اور عوامی بغاوت—سب کو ایک ہی عہد میں سمو دیا، تو وہ محمد رضا شاہ پہلوی ہیں۔ ان کی حکمرانی محض ایک بادشاہت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا تجربہ تھی جس نے یہ ثابت کیا کہ طاقت، دولت اور جدیدیت اگر عوامی شعور اور ثقافتی ہم آہنگی سے کٹ جائیں تو انجام انقلاب ہی ہوتا ہے۔

محمد رضا شاہ 1941ء میں اس وقت تخت پر بیٹھے جب ان کے والد رضا شاہ کو برطانیہ اور سوویت یونین نے معزول کیا۔ عمر صرف بائیس برس تھی، تجربہ محدود، اور اقتدار بکھرا ہوا۔ ابتدا میں وہ ایک کمزور شاہ تھے—پارلیمنٹ، علما، فوج اور غیر ملکی طاقتیں سب اپنی اپنی جگہ مضبوط تھیں۔ مگر 1953ء نے سب کچھ بدل دیا۔

ڈاکٹر محمد مصدق نے جب تیل کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تو یہ ایران کی خودمختاری کا اعلان تھا، مگر مغرب کے لیے خطرے کی گھنٹی۔ نتیجہ وہی نکلا جو طاقت کی سیاست میں نکلتا ہے۔ سی آئی اے اور ایم آئی سکس کے تعاون سے مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ محمد رضا شاہ واپس آئے، مگر اب وہ بادشاہ نہیں رہے تھے—وہ مطلق العنان حکمران بن چکے تھے۔

1953

ء کے بعد ایران میں ترقی ضرور ہوئی، مگر آزادی سکڑتی چلی گئی۔ شاہ نے امریکا کو اپنا سب سے بڑا اتحادی بنایا۔ جدید اسلحہ، طاقتور فوج، اور خطے میں امریکا کا نمائندہ کردار—لیکن اس سب کی قیمت ایران کے عوام نے ادا کی۔ ساواک جیسے خفیہ ادارے نے اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا۔ جیلیں، تشدد، خوف—یہ سب ریاستی نظم کا حصہ بن گئے۔

1963

ء میں شاہ نے وائٹ ریولوشن کا اعلان کیا۔ زمینوں کی تقسیم، خواتین کو ووٹ کا حق، تعلیم اور صحت کے منصوبے—کاغذ پر یہ سب ترقی پسند اقدامات تھے۔ مگر زمینی حقیقت یہ تھی کہ دیہی معاشرہ ٹوٹا، مذہبی طبقہ دیوار سے لگا، اور دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی چلی گئی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں آیت اللہ خمینی کی آواز پہلی بار عوام کے دلوں میں اتری۔

محمد رضا شاہ کی سب سے بڑی غلطی شاید یہ تھی کہ انہوں نے جدیدیت کو مغربیت سمجھ لیا۔ شاہی تقاریب، مغربی طرزِ زندگی، سیکولر قانون سازی—یہ سب ایک ایسے معاشرے پر مسلط کیا گیا جو صدیوں سے مذہب اور روایت کے ساتھ جیتا آیا تھا۔ عوام نے محسوس کیا کہ ان کی شناخت چھینی جا رہی ہے۔

تیل کی دولت بہتی رہی، مگر اس کا رخ محلات کی طرف تھا، جھونپڑیوں کی طرف نہیں۔ مہنگائی بڑھی، بے روزگاری پھیلی، اور غصہ پکنے لگا۔ 1978ء میں یہ غصہ سڑکوں پر آ گیا۔ مساجد، بازار، یونیورسٹیاں—سب ایک آواز بن گئے۔ فوج نے بھی آخرکار غیر جانبداری اختیار کر لی۔

جنوری 1979ء میں محمد رضا شاہ ایران چھوڑ گئے۔ فروری میں خمینی واپس آئے۔ تاریخ نے فیصلہ سنا دیا۔

جلاوطنی میں شاہ کو وہی ذلت ملی جو اکثر طاقتور حکمرانوں کا مقدر بنتی ہے۔ کوئی مستقل پناہ نہیں، کوئی مستقل وقار نہیں۔ 1980ء میں مصر میں ان کا انتقال ہوا—تنہا، بیمار، اور تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے۔

محمد رضا شاہ پہلوی ہمیں یہ سبق دے گئے کہ
ریاستیں صرف سڑکوں، فیکٹریوں اور فوج سے نہیں بنتیں،
بلکہ عوام کے اعتماد، آزادی اور شناخت کے احترام سے بنتی ہیں۔
اور جب یہ تینوں چھن جائیں، تو انقلاب محض امکان نہیں—انجام بن جاتا ہے۔

رضا شاہ پہلوی





رضا شاہ پہلوی
ایران کی جدید تاریخ میں اگر کسی ایک شخصیت نے ریاستی ڈھانچے، سماجی مزاج اور سیاسی سمت کو یکسر بدل دیا، تو وہ رضا شاہ پہلوی تھے۔ وہ ایک ایسے عہد میں اقتدار میں آئے جب ایران داخلی انتشار، قبائلی خودمختاری، بیرونی مداخلت اور کمزور قاجاری حکومت کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ رضا شاہ نے اسی شکستہ ریاست کو ایک مضبوط، مرکزی اور جدید قومی ریاست میں ڈھالنے کا بیڑا اٹھایا—مگر اس عمل میں طاقت، جبر اور آمریت کو بھی ریاستی پالیسی بنا دیا۔
رضا شاہ کا اصل نام رضا خان تھا۔ وہ ایک غریب فوجی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے اور روسی تربیت یافتہ قزاق بریگیڈ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ 1921ء میں تہران میں فوجی بغاوت کے ذریعے وہ اقتدار کے مرکز میں داخل ہوئے۔ چند ہی برسوں میں انہوں نے قاجار شاہی کو ختم کر کے 1925ء میں خود کو ایران کا شاہ قرار دے دیا، یوں پہلوی خاندان کی بنیاد پڑی۔
رضا شاہ کا سب سے نمایاں پہلو ان کی ریاستی جدیدیت تھی۔ انہوں نے
ایک مضبوط قومی فوج قائم کی
ریلوے، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تعمیر کروایا
جدید عدالتی اور تعلیمی نظام متعارف کروایا
قبائلی سرداروں اور مقامی خودمختاری کو کچلا
ایران کو ایک مرکزی قومی ریاست میں بدل دیا
انہوں نے ایران کو مذہبی شناخت سے ہٹا کر قوم پرستانہ اور ایرانی تہذیبی شناخت کی طرف موڑنے کی کوشش کی، جس میں قدیم فارسی تاریخ اور قبل از اسلام ایران کو نمایاں کیا گیا۔
رضا شاہ کی پالیسیوں کا سب سے متنازع پہلو مذہب کے ساتھ ان کا رویہ تھا۔ انہوں نے
علما کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کیا
مذہبی عدالتوں کو ختم کیا
حجاب پر پابندی عائد کی
مذہبی اداروں کو ریاست کے تابع کر دیا
یہ اقدامات جدیدیت کے نام پر کیے گئے، مگر اس نے ایرانی معاشرے کے مذہبی طبقے میں شدید ردِعمل کو جنم دیا—وہی ردِعمل جو بعد میں 1979ء کے انقلاب کی فکری بنیاد بنا۔
رضا شاہ کی حکومت میں نظم تو تھا، مگر آزادی نہیں۔ سیاسی جماعتیں، آزاد صحافت، اختلافی آوازیں—سب کچھ ریاستی طاقت کے نیچے دبا دیا گیا۔ ان کا تصورِ حکمرانی یہ تھا کہ قوم کو پہلے مضبوط کیا جائے، آزادی بعد میں آئے گی۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ طاقت کے ذریعے نافذ کی گئی جدیدیت پائیدار نہیں ہوتی۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران رضا شاہ نے جرمنی کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا، جس پر برطانیہ اور سوویت یونین نے 1941ء میں ایران پر قبضہ کر لیا۔ انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ رضا شاہ جلاوطنی میں چلے گئے اور 1944ء میں جنوبی افریقہ میں انتقال کر گئے۔
رضا شاہ پہلوی کو ایران کی تاریخ میں ایک ہی لفظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ بیک وقت
جدید ایران کے معمار بھی تھے
اور آمرانہ ریاست کے بانی بھی
انہوں نے ایران کو پسماندگی سے نکالا، مگر عوامی شرکت اور فکری آزادی کو کچل کر۔ یہی تضاد ان کی سیاست کا مرکزی نکتہ ہے—اور یہی تضاد آج بھی ایران کی تاریخ کو سمجھنے کی کنجی ہے۔

ہفتہ، 17 جنوری، 2026

ایران کا نیا ہتھیار



ایران کا نیا ہتھیار
یہ بات کسی سائنسی افسانے سے مستعار نہیں، بلکہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو حالیہ دنوں میں عالمی ذرائع ابلاغ، عسکری تحقیقی اداروں اور دفاعی ماہرین کے مباحث میں نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ مختلف رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق ایران نے ایسی برقی اور خلائی جنگی صلاحیت فعال کی ہے جس کے باعث امریکی اور مغربی نگرانی کے لیے ایرانی فضائی حدود ایک ایسے خلا میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے جہاں مشاہدہ، رابطہ اور رہنمائی کے نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر پا رہے۔
اس بیانیے کے مطابق تہران نے روایتی میزائل روکنے والے نظاموں کے بجائے ایک غیر مرئی دفاعی ڈھانچہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد براہِ راست حملے کو روکنا نہیں بلکہ دشمن کی معلوماتی اور اعصابی ساخت کو مفلوج کرنا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت دشمن کی آنکھیں یعنی مصنوعی سیارے، اس کے کان یعنی حساس سینسر، اور اس کا دماغ یعنی کمانڈ اور کنٹرول نظام نشانے پر آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ خلائی برتری، جس پر امریکہ کی جدید جنگی منصوبہ بندی قائم ہے، مخصوص جغرافیے میں کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔
(حوالہ: RAND Corporation، Electronic Warfare in Modern Military Strategy)
کہا جا رہا ہے کہ اس نام نہاد ایرانی دائرۂ اثر کے اندر مغربی عسکری ٹیکنالوجی شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ عالمی محلِ وقوع بتانے والے نظام میں خلل کے باعث میزائل اپنی درست سمت کھو دیتے ہیں، بغیر پائلٹ فضائی نظام کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں، جبکہ خودکار جنگی نظام عملی طور پر بے جان مشینوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگر ان دعوؤں کو درست تسلیم کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جدید جنگ کا بنیادی تصور—جو مصنوعی سیاروں، معلوماتی روابط اور فوری انٹیلی جنس پر انحصار کرتا ہے—ایک غیر معمولی چیلنج سے دوچار ہو چکا ہے۔
(حوالہ: امریکی وزارتِ دفاع، GPS Vulnerability and Electronic Threats)
یہاں معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ طاقت کے تصور میں بنیادی تبدیلی کا ہے۔ بیسویں صدی کی جنگیں فوجی تعداد اور اسلحے کی برتری سے جیتی جاتی تھیں، جبکہ اکیسویں صدی کی جنگیں معلومات، برقی لہروں اور ذہنی اثرات کے میدان میں لڑی جا رہی ہیں۔ برقی جنگ، محلِ وقوع بتانے والے نظام میں خلل، سگنلز کی نقل اور مصنوعی سیاروں کی نگرانی میں رکاوٹ اب محض نظریاتی تصورات نہیں رہے بلکہ عملی میدانِ جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔
(حوالہ: نیٹو ریویو، The Rise of Electronic and Cognitive Warfare)
ایران طویل عرصے سے اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کہ وہ روایتی عسکری قوت میں امریکہ کا براہِ راست مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اس نے غیر متوازن جنگ کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کی بنیاد بنایا۔ سخت معاشی پابندیوں کے باوجود میزائل ٹیکنالوجی، بغیر پائلٹ نظام اور برقی جنگی صلاحیتوں میں پیش رفت اسی سوچ کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس پس منظر میں یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایران نے محدود مگر مؤثر برقی اور خلائی جنگی صلاحیت حاصل کر لی ہو۔
(حوالہ: انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز، Iran’s Military and Strategic Capabilities)
تاہم، یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ جدید جنگ میں بیانیہ بذاتِ خود ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ “آسمان کے اندھا ہو جانے” جیسے دعوے محض عسکری نوعیت کے نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔ دشمن کو یہ احساس دلانا کہ اس کے دیکھنے، سننے اور فیصلہ کرنے کے نظام ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں، اس کے اعتماد اور حکمتِ عملی کو کمزور کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ آج کے دور میں خوف، شکوک اور غیر یقینی ایک منظم اسٹریٹجک ہتھیار کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
(حوالہ: ہارورڈ کینیڈی اسکول، Psychological and Cognitive Warfare in Modern Conflicts)
اصل حقیقت غالباً ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ نہ آسمان مکمل طور پر اندھا ہو چکا ہے، اور نہ ہی یہ تمام دعوے محض افسانہ ہیں۔ قرینِ قیاس یہی ہے کہ ایران نے ایسی صلاحیت ضرور حاصل کر لی ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنی عسکری منصوبہ بندی، تکنیکی انحصار اور خلائی نگرانی کے تصورات پر نظرِ ثانی پر مجبور کر رہی ہے۔
اور شاید یہی اصل کامیابی ہے۔
کیونکہ جب کوئی بڑی طاقت یہ سوال کرنے لگے کہ
“کیا ہم واقعی دیکھ بھی پا رہے ہیں یا نہیں؟”
تو سمجھ لیجیے کہ جنگ کا پہلا مرحلہ بغیر کسی گولی کے خاموشی سے جیتا جا چکا ہے۔

جدید الیکٹرانک وارفیئر کا نیا مرحلہ



جدید الیکٹرانک وارفیئر کا نیا مرحلہ
جدید جنگیں اب صرف ٹینکوں، میزائلوں اور فوجی دستوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ خلا، سیٹلائٹس اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس بھی میدانِ جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں روسی نیٹ ورک
RFN
سے وابستہ سینئر تجزیہ کار محمد صافی الدین کا انکشاف اسی بدلتی ہوئی جنگی حقیقت کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے روس کے تیار کردہ جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم “ٹوبول” کو استعمال کرتے ہوئے اسٹارلنک نیٹ ورک کو غیر مؤثر بنا دیا، جو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے زیرِ استعمال تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہی ٹیکنالوجی اس سے قبل یوکرین کی جنگ میں عملی طور پر آزمائی جا چکی ہے۔
ٹوبول ایک اسٹیشنری الیکٹرانک وارفیئر کمپلیکس ہے، جو اسٹارلنک سیٹلائٹس کی مسلسل نگرانی، تجزیہ اور ٹریکنگ کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ سیٹلائٹس کی جانب ایک زیادہ طاقتور اور آلودہ
(contaminated)
سگنل بھیجتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید ریڈیو شور
(destructive radio noise)
پیدا ہوتا ہے۔ اس شور کی وجہ سے اسٹارلنک کا رابطہ منقطع یا ناقابلِ استعمال ہو جاتا ہے۔ یہ نظام بنیادی طور پر
Area Denial
کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی مخصوص علاقے میں دشمن کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کو مکمل طور پر مفلوج کر دینا۔
ملٹی لیئر خطرہ:
جب ٹوبول کو روس کے ایک اور درست نشانہ بنانے والے جیمر “ٹیرادا-2”
جیسے نظام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، تو یہ ایک کثیر سطحی
(multi-layered)
الیکٹرانک خطرہ بن جاتا ہے۔
یہ صرف سگنل جام نہیں کرتا بلکہ دیگر انٹیلیجنس سسٹمز کے ساتھ مل کر اسٹارلنک کے گراؤنڈ اسٹیشنز کی لوکیشن بھی معلوم کر سکتا ہے۔
یوں ایک ایسی ٹیکنالوجی، جو کبھی محفوظ اور ناقابلِ رسائی سمجھی جاتی تھی، خود ایک ٹریک ایبل کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ایران کی جانب سے اس سسٹم کے کامیاب استعمال کے بعد حاصل ہونے والا عملی ڈیٹا روس کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ یوکرینی فوج کا مواصلاتی ڈھانچہ تقریباً مکمل طور پر اسٹارلنک پر انحصار کرتا ہے۔
روس کسی بھی فیصلہ کن مرحلے پر دشمن کے مواصلاتی نظام کو وقتی ہی نہیں بلکہ مستقل طور پر مفلوج کر سکتا ہے۔ یہ صلاحیت کسی بڑے حملے سے قبل یا دوران دشمن کو اندھا اور گونگا کرنے کے مترادف ہوگی۔
یہ پیش رفت ایک واضح پیغام ہے کہ آنے والی جنگوں میں صرف زمین اور فضا ہی نہیں، بلکہ خلا بھی محفوظ نہیں رہا۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ جسے کبھی اسٹریٹجک برتری سمجھا جاتا تھا، اب ایک ایسی کمزوری بن چکا ہے جسے جدید الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران اور روس کی یہ تکنیکی ہم آہنگی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان تصادم اب ہتھیاروں سے زیادہ سگنلز، فریکوئنسیز اور ڈیٹا پر لڑا جائے گا۔ اور شاید یہی وہ جنگ ہے جس کے نتائج خاموش ہوں گے، مگر اثرات نہایت گہرے۔