جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

خسارۂ ذات

**خسارۂ ذات**  
*دلپزیر احمد جنجوعہ*  

زندگی کا ہر دن نفع اور نقصان کے ایک نئے توازن میں گزرتا ہے۔ مگر ایک ایسا نقصان ہے جس کا احساس سب سے کم ہوتا ہے — **خسارۂ ذات**۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے ہی اندر سے کچھ کھو دیتا ہے، اپنی روح سے، اپنی سچائی سے، اپنی اصل سے۔  

سوچیے، ایک مزدور سارا دن پسینہ بہاتا ہے، لیکن شام کو اُسے مزدوری نہ ملے — یہ صرف مالی نقصان نہیں، یہ اُس کی محنت کی بے قدری کا خسارہ ہے۔ ایک ملازم پورا سال دیانت داری سے کام کرے، لیکن سالانہ ترقی کی فہرست میں اس کا نام نہ آئے — یہ اس کی ذات کا خسارہ ہے۔ ایک طالب علم جو راتوں کی نیند قربان کر کے امتحان کی تیاری کرے مگر ناکام ہو جائے، وہ اپنی محنت اور حوصلے کا نقصان جھیلتا ہے۔ ایک سرمایہ کار جو اپنے خوابوں کی رقم کسی کمپنی میں لگا دے اور مارکیٹ میں اس کے حصص گر جائیں — وہ صرف روپے نہیں، اعتماد بھی کھو دیتا ہے۔  

لیکن ان سب سے بڑا خسارہ وہ ہے جو **انسان اپنے ضمیر کے ساتھ کرتا ہے**۔ جب وہ اپنے آپ سے وعدہ کرے کہ جھوٹ نہیں بولے گا، اور پھر وعدہ توڑ دے — یہ اخلاقی شکست اس کے اندر ایک خلا چھوڑ جاتی ہے۔ یہی خلا رفتہ رفتہ اس کی انسانیت کو چاٹنے لگتا ہے۔  

قرآن مجید میں ارشاد ہے:  
> **وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ**  
(سورۃ العصر)  

زمانے کی قسم! انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی وصیت کی۔  
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی کا پیمانہ بینک بیلنس یا عہدہ نہیں، بلکہ ایمان، عمل، سچائی اور صبر ہیں۔  

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:  
> “دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فارغ وقت۔”  
(صحیح بخاری)  

کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم اپنی صحت اور وقت کو کس طرح ضائع کر دیتے ہیں؟ ہم دوسروں کو نقصان سے بچانے کے لیے تو بہت فکرمند ہوتے ہیں، مگر خود اپنی ذات کے نقصان کے بارے میں کتنے غافل ہیں۔  

امام غزالیؒ نے کہا تھا:  
> “جو اپنی روح کی اصلاح کے بغیر دنیا کی فلاح چاہتا ہے، وہ سب سے بڑے خسارے میں ہے۔”  

اور مولانا رومؒ نے فرمایا:  
> “اگر تُو نے اپنی جان کو نہ پہچانا تو سمجھ لے کہ تُو نے سب کچھ کھو دیا۔”  

یہ اقوال ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں — کہ اصل خسارہ دولت یا عہدہ نہیں، بلکہ **خودی کا زوال** ہے۔  

دنیا کا خسارہ تو کبھی پورا ہو سکتا ہے، مگر آخرت کا خسارہ ناقابلِ تلافی ہے۔ قرآن میں صاف فرمایا گیا:  
> **"إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"**  
(الزمر: 15)  
بے شک سب سے بڑے خسارے والے وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو گنوا دیا۔  

زندگی کی اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنی ذات کے سرمائے کو ضائع نہ کرے۔ ایمان، کردار، سچائی اور صبر — یہی وہ اثاثے ہیں جو **خسارۂ ذات** سے بچاتے ہیں۔ ورنہ زمانے کے بازار میں وہ سب کچھ جیت کر بھی انسان خود کو ہار دیتا ہے۔

بدھ، 29 اکتوبر، 2025

روضۂ رسول حق کے دربار کی گواہیﷺ —




روضۂ رسول حق کے دربار کی گواہیﷺ 

مدینہ منورہ — وہ شہر جس کی فضا میں ایمان کی خوشبو ہے، اور جس کی گلیوں میں نبی ﷺ کے قدموں کی آہٹ آج بھی سنائی دیتی ہے۔ یہاں کا سب سے مقدس مقام وہ ہے جہاں آقائے دو جہاں ﷺ آرام فرما ہیں۔ روضۂ رسول ﷺ پر نظر پڑے تو سب سے پہلے ایک جملہ دل کی گہرائیوں کو چھو جاتا ہے -

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ المَلِکُ الحَقُّ المُبِین، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ صَادِقُ الوَاعِدِ الاَمِین۔
یہ الفاظ نہ صرف ایمان کی بنیاد ہیں بلکہ صداقت اور امانت کی وہ سند ہیں جو انسانیت کو آسمان سے عطا ہوئی۔

پہلا حصہ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ المَلِکُ الحَقُّ المُبِین
یعنی "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بادشاہ، حق اور ظاہر کرنے والا ہے۔"
یہ جملہ توحید کی مکمل تصویر ہے۔ یہاں “المَلِک” یعنی بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے — کوئی طاقت، کوئی حکومت، کوئی اقتدار اس کے حکم کے بغیر نہیں۔ “الحق” اس بات کی شہادت ہے کہ حقیقت صرف وہی ہے، باقی سب مظاہر عارضی ہیں۔ اور “المبین” وہ ذات ہے جو سب کچھ ظاہر کرنے والی ہے، جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
یہ کلمہ محض عقیدے کا اظہار نہیں بلکہ شعور کی بیداری ہے — کہ دنیا کا ہر نظام، ہر قانون، ہر حرکت اسی کی مشیت کے تابع ہے۔ جب انسان دل سے اس آیت کو سمجھتا ہے تو اس کا غرور پگھل جاتا ہے، اور بندگی کا شعور جاگ اٹھتا ہے۔

دوسرا حصہ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ صَادِقُ الوَاعِدِ الاَمِین
یعنی "محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، وعدے کے سچے اور امانت دار۔"
یہ وہ تعریف ہے جو کسی فرد کے لیے نہیں بلکہ ایک مثالی وجود کے لیے ہے — جس نے انسانیت کو سچائی، انصاف، صبر اور محبت کا کامل درس دیا۔ “صادق الوعد” — وہ جو کبھی وعدہ خلاف نہ ہوا۔ “الامین” — وہ جس کی امانت و دیانت پر دشمن بھی گواہ تھے۔
روضۂ رسول ﷺ پر یہ الفاظ محض تبرک نہیں بلکہ اعلان ہیں — کہ سچائی، امانت اور وعدے کی پاسداری ایمان کا جزوِ لازم ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ایمان صرف زبان سے ادا کیے گئے کلمے کا نام نہیں، بلکہ کردار میں اترے ہوئے نور کا نام ہے۔

روحانی مفہوم
یہ دو جملے دراصل ایک ہی پیغام کے دو رخ ہیں — ایک اللہ کی وحدانیت اور دوسرا نبی ﷺ کی رسالت۔ ایک ہمیں مقصدِ حیات بتاتا ہے اور دوسرا اس مقصد تک پہنچنے کا راستہ۔ جب کوئی دل سے کہتا ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تو وہ اپنے وجود کی تمام جھوٹی خدائیوں سے انکار کرتا ہے۔ اور جب وہ کہتا ہے مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ تو وہ اعلان کرتا ہے کہ وہ سچائی اور امانت کے اس راستے کا پیروکار ہے جو محمد ﷺ نے دکھایا۔

روضۂ رسول ﷺ کی تاثیر
وہ لمحہ جس میں کوئی مؤمن روضۂ اقدس کے سامنے کھڑا ہو کر یہ الفاظ پڑھتا ہے، اس کے دل پر ایک عجیب سکون نازل ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ الفاظ صرف دیواروں پر نہیں، بلکہ روح کے اندر لکھے جا رہے ہوں۔ وہاں کا نور، وہاں کی فضا، اور وہ سکوت — سب اسی ایک حقیقت کی گواہی دیتے ہیں:
کہ “اللہ حق ہے، اور محمد ﷺ اس کے سچے رسول ہیں۔”
روضۂ رسول ﷺ صرف ایک زیارت گاہ نہیں، یہ ایمان کی تجدید کا مقام ہے۔ یہاں انسان اپنی ساری خواہشیں، غم، اور تکبر چھوڑ کر خالص بندگی کی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔

ان دو جملوں میں کائنات کا نچوڑ چھپا ہے۔ ایک اللہ کے وجود کی دلیل ہے، اور دوسرا انسان کے کامل ترین 
یونے کی گواہی۔
اگر انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کے دل سے خوف، نفرت اور جھوٹ ختم ہو جائیں — اور باقی رہ جائے صرف روشنی، وہ روشنی جو مدینہ کے آسمان سے پھوٹتی ہے۔

“لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ المَلِکُ الحَقُّ المُبِین،
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ صَادِقُ الوَاعِدِ الاَمِین۔”
یہ وہ کلمہ ہے جو روح کو ایمان کی روشنی سے منور کرتا ہے،
اور انسان کو بندگی کے سچ میں زندہ کر دیتا ہے۔


انسانی شعور کی چار منازل

 


 انسانی شعور کی چار منازل

انسانی ذہن ہمیشہ تلاش میں رہتا ہے — کبھی حقیقت کی جستجو میں، کبھی یقین کے استحکام میں۔ یہ جستجو ہی انسان کو چار فکری منازل میں تقسیم کرتی ہے: مومن، منکر، منافق اور متذبذب۔ یہ چاروں کیفیتیں دراصل انسانی شعور کی مختلف حالتیں ہیں، جو فرد کی سوچ، عمل اور سماج پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

مومن 
مومن وہ ہے جو حقیقت کو پہچاننے کے بعد دل سے اسے تسلیم کرے اور اپنے عمل سے اس پر گواہی دے۔ ایمان اس کے لیے صرف عقیدہ نہیں بلکہ شعوری یقین اور عملی اخلاقیات کا امتزاج ہوتا ہے۔
مومن کا ذہن سکون، توازن اور اعتماد سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ شک اور تذبذب کے مرحلوں سے گزر کر یقین کے مقام تک پہنچتا ہے۔ اس کے لیے کائنات اتفاق نہیں بلکہ نظم اور حکمت کی مظہر ہے۔ قرآن اسی یقین کو “نورٌ علیٰ نور” قرار دیتا ہے — روشنی پر روشنی۔
ایمان والے انسان معاشرے میں عدل، صداقت اور خدمت کا چراغ جلاتے ہیں۔
 امام حسینؓ نے
نے ساری متاح حیات کربلا کے میدان میں قربان کر کے مومن کی مثال قائم کی۔

منکر 
منکر وہ شخص ہے جو سچائی کا ادراک رکھنے کے باوجود اسے تسلیم کرنے سے انکار کرے۔ وہ عقل رکھتا ہے مگر دل کے تکبر، مفاد یا انا کے باعث حق سے منہ موڑ لیتا ہے۔
منکر کا ذہن تضاد، ضد اور خوف کا مجموعہ ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ غلط ہے، مگر اپنی برتری یا مفاد کے لیے سچائی سے فرار اختیار کرتا ہے۔
فرعون نے موسیٰؑ کے معجزات دیکھے مگر اقتدار قائم رکھنے کے لیے سچ ماننے سے انکار کیا۔
ابوجہل جانتا تھا کہ محمد ﷺ صادق و امین ہیں، لیکن قبیلوی برتری نے اسے حق کے سامنے جھکنے نہ دیا۔
منکر جب اقتدار یا علم کا حامل ہو تو معاشرے میں سچائی کمزور اور مفاد پرستی غالب آ جاتی ہے۔ ایسے لوگ نظریاتی انتشار پیدا کرتے ہیں، مگر ان کے سوال ہی آگے چل کر فکری ارتقاء کا سبب بنتے ہیں۔


 منافق 
منافق وہ ہے جو زبان سے ایمان کا اظہار کرے مگر دل میں انکار چھپائے۔ اس کی وفاداری اصول نہیں بلکہ ذاتی مفاد سے بندھی ہوتی ہے۔
منافق مسلسل خوف اور تضاد کا شکار رہتا ہے۔ وہ نہ ایمان کے سکون سے بہرہ مند ہوتا ہے، نہ انکار کی آزادی سے۔ اس کا وجود دو چہروں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
مدینہ کا عبداللہ بن اُبی بظاہر مسلمان تھا مگر ہر موقع پر مسلمانوں کے خلاف سازش کرتا۔ وہ اقتدار کے خوف سے ایمان لایا، مگر دل سے کبھی مان نہ سکا۔
منافق معاشرے کے لیے سب سے خطرناک عنصر ہے۔ وہ سچائی کے لبادے میں جھوٹ پھیلاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے
"إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ"
(بے شک منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے)
کیونکہ نفاق انسان کو اعتماد، سچائی اور اجتماعی بھروسے سے محروم کر دیتا ہے۔

متذبذب 
متذبذب وہ شخص ہے جو نہ پوری طرح ایمان لا پاتا ہے نہ کھلے دل سے انکار کرتا ہے۔ وہ فکری اور روحانی دو راہے پر کھڑا رہتا ہے۔
متذبذب کا ذہن کشمکش، تجسس اور خوف کا میدان ہوتا ہے۔ وہ حق کو دیکھتا ہے مگر قدم نہیں بڑھا پاتا۔ کبھی علم اسے قریب لاتا ہے، کبھی وسوسہ دور کر دیتا ہے۔
یونانی فلسفی سقراط نے کہا تھا: “شک علم کی پہلی سیڑھی ہے۔”
اسی طرح اسلام نے بھی سوال کو جرم نہیں سمجھا — قرآن میں بارہا عقل، فکر اور تدبر کی دعوت دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ متذبذب انسان اگر علم و دلیل کے ذریعے رہنمائی پائے تو ایمان کی طرف پلٹ سکتا ہے۔
متذبذب لوگ معاشرے کے لیے بوجھ نہیں بلکہ موقع ہیں۔ ان میں تبدیلی کی صلاحیت باقی ہوتی ہے۔ اگر مومن علم، شفقت اور دلیل سے ان تک پہنچے تو وہ ایمان کی روشنی قبول کر لیتے ہیں۔ منافق کے برعکس، متذبذب کو قائل کرنا ممکن ہوتا ہے کیونکہ اس کا دل ابھی مکمل بند نہیں ہوتا۔

 شعور کی روشنی میں انسان کا مقام
انسان کا شعور چار سمتوں میں سفر کرتا ہے
مومن روشنی میں چلتا ہے۔
منکر روشنی دیکھ کر آنکھیں بند کرتا ہے۔
منافق روشنی کا لباس پہن کر اندھیرے میں رہتا ہے۔
متذبذب روشنی اور اندھیرے کے درمیان بھٹکتا ہے۔
یہ سب انسان کے اندر کے ممکنات ہیں۔ اصل کامیابی اس کی ہے جو شک سے گزر کر یقین تک پہنچے، اور یقین کو عمل کا جامہ پہنائے۔


“شک اگر علم کی تلاش بن جائے،
تو وہ ایمان کا دروازہ کھول دیتا ہے۔”
 برطانوی فلسفی اینٹونی فلو
(Antony Flew)
 خدا کے وجود کے منکر رہے، مگر جب انہوں نے ڈی این اے اور انسانی تخلیق کے پیچیدہ ڈھانچے کا مطالعہ کیا تو تسلیم کر لیا کہ “ایسا منظم نظام محض اتفاق سے وجود میں نہیں آ سکتا۔”
جو کبھی الحاد کا مبلغ تھا اس نے خدا کے وجود کی گواہی میں کتاب لکھی
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جب علم تعصب سے پاک ہو تو منکر بھی ایمان کی طرف پلٹ آتا ہے۔

منگل، 28 اکتوبر، 2025

مثبت اور منفی سوچ





مثبت اور منفی سوچ

“انسان اپنی سوچ کا عکس بن کر جیتا ہے؛
روشنی ذہن میں ہو تو اندھیرا بھی راستہ بن جاتا ہے۔”


زندگی میں محرومیاں ہوں یا آسائشیں، دونوں انسان کے اندر ایک خاص ذہنی زاویہ پیدا کرتی ہیں — ایک ایسا مائنڈسیٹ جو وقت کے ساتھ اُس کی پہچان بن جاتا ہے۔ دولت، شہرت اور آرام اگرچہ زندگی کو سہولت دے سکتے ہیں، مگر سکون اور وقار کا تعلق ہمیشہ سوچ کے معیار سے ہوتا ہے۔

ہم روز دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص مال و دولت میں ڈوبا ہوا ہے مگر دل کے سکون سے محروم ہے، اور کوئی تنگدست اپنی خودداری کے باعث بادشاہوں کی طرح جیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل دولت مثبت سوچ ہے، اور اصل غربت منفی سوچ۔

مثبت سوچ انسان کو حالات سے اوپر اٹھا دیتی ہے۔ وہ رکاوٹ کو سبق سمجھتا ہے، اور محرومی کو تربیت۔ وہ جانتا ہے کہ زندگی کا ہر موڑ ایک نیا پیغام رکھتا ہے۔ یہی سوچ اُسے مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کی روشنی دکھاتی ہے۔

اس کے برعکس، منفی سوچ انسان کو آسائشوں کے باوجود قید کر دیتی ہے۔ وہ ہر نعمت میں کمی ڈھونڈتا ہے، ہر خوشی میں اندیشہ۔ مایوسی، شک اور خوف اس کے ذہن پر قابض رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی ہی سوچ کا غلام بن جاتا ہے۔

اصل غلامی جسم کی نہیں، ذہن کی ہوتی ہے۔
جو اپنے مائنڈسیٹ کا غلام بن جائے، وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ مگر جو اپنی سوچ کا مالک ہو جائے، وہ محرومی میں بھی مطمئن رہتا ہے۔

زندگی دراصل وہی دکھاتی ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر نگاہ میں روشنی ہو تو اندھیرا بھی جمال بن جاتا ہے، اور اگر نظر میں منفی سوچ چھا جائے تو روشنی بھی بوجھ لگتی ہے۔

لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا سوچتے ہیں۔
کیونکہ انسان اپنی سوچ کے رنگ میں ڈھل کر جیتا ہے —
اور جو اپنی سوچ کو سنوار لے، وہی دراصل زندگی جیتا ہے۔
سدا مثبت سوچیں اور خوش رہیں۔۔۔
دعا گو
دلپزیرجنجوعہ


اتوار، 26 اکتوبر، 2025

غزہ: امن کی تلاش یا طاقت کی آزمائش



 غزہ: امن کی تلاش یا طاقت کی آزمائش

 امریکہ نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نئی بساط بچھانے کی کوشش کی ہے۔ اس بار عنوان ہے: غزہ کے لیے بین الاقوامی سیکیورٹی فورس 
ISF) 
 ایک ایسا منصوبہ جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن فارمولے کا مرکزی ستون بتایا جا رہا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ ’’کئی ممالک‘‘ نے اس فورس میں شمولیت کی پیش کش کی ہے، مگر ساتھ ہی شرط عائد کی گئی ہے کہ اس میں صرف وہی ممالک شامل ہوں گے جن پر اسرائیل کو اعتماد ہو۔ یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اپنے اندر پوری سیاست سمیٹے ہوئے ہے۔ گویا امن کا پیغام بھی اسی دروازے سے گزرے گا جس کی چابی اسرائیل کے پاس ہے۔
 وزیرِ خارجہ کے مطابق اس منصوبے پر مذاکرات جاری ہیں اور اسے جلد عملی شکل دینے کا ارادہ ہے۔ تاہم انہوں نے خود اعتراف کیا کہ جب تک حماس کے ساتھ کسی درجے کی مفاہمت نہیں ہوتی، اس فورس کی تعیناتی ایک خواب ہی رہے گی۔  وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فورس کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے کہ  غزہ ایک غیر مسلح خطہ بن جائے جہاں کوئی گروہ اسرائیل یا اپنی ہی عوام کے لیے خطرہ نہ بنے۔ ٹرمپ پلان کے مطابق حماس کا غیر مسلح ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، اور اگر اس نے اسلحہ چھوڑنے سے انکار کیا تو ’’معاہدے کی خلاف ورزی‘‘ سمجھا جائے گا — جسے، ان کے الفاظ میں، ’’نافذ‘‘ کرنا پڑے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ’’نافذ کرنے‘‘ والا مرحلہ کس کے ہاتھ میں ہوگا؟ اسی ضمن میں 
ISF
 کی ساخت سامنے آتی ہے۔ منصوبے کے تحت یہ فورس ایک کثیرالملکی امن مشن ہوگی، جس کے ساتھ ایک مقامی تربیت یافتہ پولیس فورس بھی ہوگی۔ مقصد ہے ایک ایسا غیر مسلح اور دہشت گردی سے پاک غزہ قائم کرنا جہاں حالات مستحکم ہوں، اور اسرائیلی افواج کو بتدریج واپس بلایا جا سکے۔ فورس کے فرائض میں سرحدوں کی نگرانی، انسدادِ دہشت گردی، انسانی امداد کا تحفظ اور فلسطینی پولیس کی معاونت شامل ہوں گے۔ 
جب حالات معمول پر آئیں گے، اسرائیلی افواج مرحلہ وار واپسی کریں گی — لیکن تب تک ایک سیکیورٹی پٹی برقرار رکھی جائے گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کئی ممالک نے فورس میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے مصر، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، آذربائیجان، آسٹریلیا، ملائیشیا، کینیڈا، فرانس، اور قبرص ان میں شامل بتائے جاتے ہیں۔ مگر اسرائیلی وزیرِاعظم نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ترکیکی فوج کو غزہ میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے بعد خبریں آئیں کہ آذری اور انڈونیشی افواج کو مرکزی کردار دیا جا سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ یہ منظرنامہ بتاتا ہے کہ امن کی راہ پر چلنا ابھی آسان نہیں۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ خود بھی مانتے ہیں کہ ’’مشکلات ضرور آئیں گی، مگر ہمیں اس منصوبے کو کامیاب بنانا ہے۔‘‘ لیکن سوال یہی ہے کہ کیا یہ فورس واقعی امن لائے گی یا ایک نئے سیاسی معاہدے کی پیش بندی ثابت ہوگی؟
 غزہ کے زخم ابھی تازہ ہیں، اور ہر نئی ’’بین الاقوامی فورس‘‘ کے ساتھ وہاں کے عوام کو یہ اندیشہ ضرور ستاتا ہے کہ کہیں ان کے امن کا سودا کسی اور کی شرائط پر تو نہیں ہو رہا۔ 
 "غزہ کا امن اب طاقت کے توازن سے مشروط ہو چکا ہے۔"