اتوار، 16 اگست، 2026

بچوں کی حرمت اور معاشرے کی ذمہ داری





بچوں کی حرمت اور معاشرے کی ذمہ داری

کم سن بچوں، خصوصاً بچیوں کے خلاف جنسی جرائم ہمارے معاشرے کا ایسا المیہ ہیں جسے صرف قانونی جرم سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک بچے کے جسم، ذہن، اعتماد اور مستقبل پر حملہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی روک تھام کے لیے قانون کے ساتھ گھر، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت اور ریاستی نظام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان میں دستیاب اعداد و شمار مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ یہ مکمل تصویر نہیں کیونکہ بہت سے واقعات بدنامی، خوف اور خاندانی دباؤ کے باعث رپورٹ نہیں ہوتے۔ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کی State of Children in Pakistan 2025 کے مطابق 2025 میں پولیس ریکارڈ میں بچوں کے ریپ اور جنسی زیادتی سے متعلق دفعات کے تحت 5,024 چارجز رپورٹ ہوئے، جبکہ دیگر جنسی حملوں سے متعلق دفعات کے تحت 3,163 چارجز درج ہوئے۔ دستیاب اعداد میں لڑکیاں متاثرین کی اکثریت تھیں۔

ان اعداد کو کسی ایک ادارے یا طبقے کے خلاف فردِ جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ دینی مدارس بھی اس عمومی مسئلے سے الگ نہیں، لیکن محدود واقعات کی بنیاد پر تمام مدارس کو جرم کا مرکز قرار دینا تحقیق کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جہاں بچے بالغ افراد کی نگرانی میں رہتے یا تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہاں ان کے تحفظ کا نظام کتنا مؤثر ہے؟

یہ سوال گھروں کے بارے میں بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بچوں کے خلاف جنسی استحصال ہمیشہ کسی اجنبی کی طرف سے نہیں ہوتا؛ بعض اوقات خطرہ قریبی حلقے ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ سگے رشتہ دار، سوتیلے رشتے، خاندان کے قریبی افراد، ہمسائے یا بچے کی نگہداشت کرنے والے افراد بھی اعتماد کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس لیے معاشرے میں یہ شعور عام کرنا ضروری ہے کہ رشتہ چاہے کتنا ہی قریبی ہو، بچے کی جسمانی حرمت ناقابلِ تجاوز ہے۔

یہاں مسجد و منبر کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں مسجد ایک مؤثر سماجی ادارہ ہے اور امام و خطیب کی بات بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچتی ہے۔ اگر دینی رہنما بچوں کی حرمت، خاندانی ذمہ داری، جنسی جرائم کی قباحت اور جرم چھپانے کے نقصانات کو باقاعدہ اپنے خطابات کا حصہ بنائیں تو یہ ایک مؤثر قومی آگاہی مہم بن سکتی ہے۔

خاص طور پر سگے اور سوتیلے رشتوں کی حرمت کے بارے میں واضح دینی اور اخلاقی پیغام ضروری ہے۔ معاشرے میں یہ تصور عام ہونا چاہیے کہ رشتہ داری اعتماد کی ذمہ داری بڑھاتی ہے، اختیارات نہیں۔ کسی بچے کے ساتھ نامناسب رویہ صرف اس لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کہ ملزم اس کا رشتہ دار یا خاندان کا قابلِ احترام فرد ہے۔

مساجد والدین کو یہ بھی سمجھا سکتی ہیں کہ بچے کی کسی شکایت کو فوراً جھوٹ، شرارت یا بدنامی کا سبب نہ سمجھا جائے۔ اسے توجہ سے سننا، محفوظ ماحول دینا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں سے مدد لینا ضروری ہے۔ خاندان کی عزت جرم چھپانے سے نہیں بلکہ مظلوم کی حفاظت اور ظالم کو جواب دہ بنانے سے محفوظ رہتی ہے۔

اسی طرح دینی مدارس میں بچوں کے تحفظ کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے۔ اساتذہ اور عملے کی جانچ، واضح ضابطۂ اخلاق، شکایت کا محفوظ طریقہ، رہائشی بچوں کی نگرانی اور کسی شکایت کی صورت میں آزادانہ تحقیقات بنیادی انتظامی تقاضے ہونے چاہئیں۔ یہی اصول اسکولوں، یتیم خانوں اور دیگر رہائشی یا تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

ریاست کو بھی محض قانون بنانے کے بجائے اس کے نفاذ پر توجہ دینا ہوگی۔ پولیس، عدالت، child-protection اداروں اور صحت کے شعبے کے درمیان ایسا مربوط نظام ضروری ہے جس میں بچے کو شکایت کے بعد مزید خوف یا صدمے سے نہ گزرنا پڑے اور کسی بااثر شخص کو اپنے منصب یا تعلقات کی بنیاد پر تحفظ نہ مل سکے۔

اس مسئلے میں مذہبی قیادت کی سب سے بڑی خدمت شاید یہی ہوگی کہ وہ خاموشی کی ثقافت کو توڑے۔ مسجد کے منبر سے واضح کیا جائے کہ بچے اللہ کی امانت ہیں، ان کی عزت اور جسمانی حرمت کی حفاظت لازم ہے، کسی رشتے یا منصب کو اس حرمت سے تجاوز کا حق نہیں، اور جرم چھپانا مظلوم کی مدد نہیں بلکہ مجرم کو مزید موقع دینا ہے۔

اگر گھر بچے کو اعتماد دے، مدرسہ اور اسکول محفوظ ماحول فراہم کریں، ریاست قانون نافذ کرے اور مسجد و منبر مسلسل اخلاقی شعور پیدا کریں تو جنسی جرائم کے خلاف ایک حقیقی معاشرتی حصار قائم کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کی حفاظت صرف قانون کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ہمارے اجتماعی کردار کا امتحان ہے۔ اور اس امتحان میں مسجد، مدرسہ اور منبر کو خاموش تماشائی نہیں بلکہ اصلاح کی مؤثر آواز بننا ہوگا۔

جدید انسان اور گمشدہ معنی



جدید انسان اور گمشدہ معنی
آج کا انسان بظاہر تاریخ کے سب سے زیادہ باخبر ادوار میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے پاس کائنات کے راز جاننے کے لیے طاقتور دوربینیں ہیں، انسانی جسم کو سمجھنے کے لیے جدید آلات ہیں، معلومات تک رسائی کے لیے مصنوعی ذہانت ہے اور دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لمحوں میں رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ لیکن اس تمام علمی اور تکنیکی ترقی کے باوجود ایک سوال اب بھی اس کے سامنے کھڑا ہے: انسان آخر ہے کیا، اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

یہی وہ سوال ہے جہاں عبدالحکیم مراد کی فکری دنیا جدید ذہن سے مکالمہ شروع کرتی ہے۔

عبدالحکیم مراد کا اصل نام ٹموتھی ونٹر ہے۔ وہ 1960ء میں لندن میں پیدا ہوئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں مغربی فلسفے، مذہب، انسانی وجود اور جدید تہذیب کے بنیادی سوالات نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ اسلامی فکر کا مطالعہ ان کے لیے محض ایک مذہبی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری سفر بھی تھا۔ انہوں نے عربی اور اسلامی علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مسلم دنیا کے علمی مراکز میں وقت گزارا اور بالآخر اسلام کو اپنی فکری اور روحانی زندگی کا مرکز بنایا۔ بعد میں انہوں نے عبدالحکیم مراد کا نام اختیار کیا۔

ان کی شخصیت کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ جدید مغربی ذہن کے سوالات سے واقف ہیں اور اسلامی روایت کو بھی اس کی کلاسیکی علمی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ نہ تو جدید دنیا کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور نہ اسلامی روایت کو جدید فیشن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ مکالمے کا ہے: سوال جدید دنیا سے لیا جائے اور جواب اسلامی فکر کے وسیع علمی ورثے میں تلاش کیا جائے۔

جدید انسان کے بحران کو سمجھنے کے لیے شاید ’’علم‘‘ اور ’’معنی‘‘ کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارے پاس علم پہلے سے کہیں زیادہ ہے، مگر علم کی کثرت نے معنی کی ضمانت نہیں دی۔ ہم جانتے ہیں کہ ستارے کس فاصلے پر ہیں، انسانی خلیہ کس طرح کام کرتا ہے اور دماغ کے مختلف حصے کس طرح سرگرم ہوتے ہیں، لیکن یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ انسان کو زندگی کیوں ملی اور اسے زندگی کس مقصد کے لیے گزارنی چاہیے۔

سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، لیکن ’’کیوں‘‘ کا ہر سوال سائنسی تجربے کے دائرے میں نہیں آتا۔ طبیعیات مادے کے قوانین بیان کرسکتی ہے، حیاتیات زندگی کے ارتقائی مراحل کا مطالعہ کرسکتی ہے اور نیورو سائنس دماغ کے افعال کو سمجھ سکتی ہے، لیکن ان علوم سے یہ نتیجہ خود بخود اخذ نہیں ہوتا کہ زندگی بے مقصد ہے، اخلاق محض انسانی اتفاق ہے یا شعور صرف مادے کی ایک پیچیدہ حرکت ہے۔

یہاں مراد اسلامی فکر کے اس بنیادی تصور کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس میں عقل اور وحی ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ حقیقت کو سمجھنے کے مختلف ذرائع ہیں۔ عقل انسان کو سوال کرنے، مشاہدہ کرنے اور استدلال کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جبکہ وحی اسے ان سوالات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے جنہیں تجرباتی علم مکمل طور پر حل نہیں کرسکتا۔ انسان کہاں سے آیا؟ اس کی آخری منزل کیا ہے؟ خیر اور شر کی بنیاد کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ اور انسان کو اپنی آزادی کس مقصد کے لیے استعمال کرنی چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں صرف تجربہ گاہ میں رکھ کر حل نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں جدید انسان کے سامنے ایک اور سوال آتا ہے۔ اگر سائنس نے کائنات کی بہت سی ظاہری حقیقتوں کو سمجھا دیا ہے تو پھر مذہب کی ضرورت کیوں باقی ہے؟

مراد کی فکر میں جواب یہ ہے کہ سائنس اور مذہب بنیادی طور پر ایک ہی سوال کا جواب نہیں دے رہے۔ سائنس ’’کیسے‘‘ کو تلاش کرتی ہے، مذہب ’’کیوں‘‘ کو بھی موضوع بناتا ہے۔ سائنس ہمیں بتا سکتی ہے کہ بارش کیسے بنتی ہے، لیکن یہ سوال کہ انسان اس قدرتی نظام کے سامنے حیرت، شکر اور ذمہ داری کا احساس کیوں کرے، ایک مختلف سطح کا سوال ہے۔

یہ فرق سائنس کی اہمیت کم نہیں کرتا بلکہ اس کے دائرۂ کار کو واضح کرتا ہے۔

جدید تہذیب نے انسان کو آزادی کا ایک وسیع تصور دیا۔ فرد کو اپنے عقائد، پیشے، رہن سہن اور ذاتی فیصلوں کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ اختیار حاصل ہے۔ لیکن آزادی کے ساتھ ایک عجیب مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ اگر انسان ہر خواہش پوری کرنے کے لیے آزاد ہے تو کیا وہ واقعی آزاد ہے؟

اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کا غلام بن جائے، مسلسل لذت، دولت، شہرت اور دوسروں کی منظوری کا محتاج رہے تو ظاہری آزادی کے باوجود وہ اندر سے آزاد نہیں رہتا۔

اسلامی تصورِ آزادی اسی مقام پر جدید تصور سے مکالمہ کرتا ہے۔ اسلام انسان کو صرف بیرونی جبر سے آزاد نہیں کرنا چاہتا بلکہ اسے اپنے نفس کی غلامی سے بھی نجات دلانے کی دعوت دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے حقیقی آزادی یہ نہیں کہ انسان جو چاہے کرتا پھرے، بلکہ یہ ہے کہ انسان یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہو کہ اسے کیا چاہنا چاہیے۔

یہاں اخلاق کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

اگر اخلاق صرف معاشرتی اتفاق کا نام ہے تو کیا اکثریت کسی ظلم کو جائز قرار دے تو وہ اخلاقی ہوجائے گا؟ اگر سچ اور جھوٹ کی کوئی مستقل بنیاد نہیں تو ہم جھوٹ کو برا کیوں کہتے ہیں؟ اگر انصاف صرف انسانی قانون کا نام ہے تو پھر کوئی طاقتور معاشرہ اپنے مفاد میں کسی کمزور قوم کے ساتھ ناانصافی کرے تو اسے صرف اس لیے غلط کیسے کہا جائے کہ ہماری پسند مختلف ہے؟

اسلامی فکر اخلاق کو ایک ایسی بنیاد سے جوڑتی ہے جو انسان سے بلند ہے۔ خیر اور شر محض اکثریت کے فیصلے نہیں بلکہ ان کی ایک اخلاقی حقیقت ہے۔ خدا کا تصور اسی لیے صرف عبادت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی اخلاق اور ذمہ داری کی بنیاد بھی بن جاتا ہے۔

مراد کی فکر میں تصوف بھی اسی مکالمے کا اہم حصہ ہے۔ جدید انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر سکون کم ہے۔ اس کے پاس رابطے بہت ہیں مگر حقیقی تعلق کم ہوسکتا ہے۔ اس کے پاس انتخاب بہت ہیں مگر سمت کا فقدان ہوسکتا ہے۔ وہ دنیا کو تبدیل کرنے کی بے پناہ طاقت رکھتا ہے، مگر اپنے اندر کی بے چینی پر قابو پانے میں ناکام رہ سکتا ہے۔

تصوف اس بحران کو انسان کے باطن میں تلاش کرتا ہے۔ اس کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا کیسی ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان خود کیسا بن گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عبدالحکیم مراد جدید انسان کے لیے روحانیت کو ماضی کی کوئی فرسودہ چیز نہیں سمجھتے۔ ان کے فکری زاویے سے روحانی تربیت انسان کے اندر ایسی اخلاقی اور باطنی قوت پیدا کرسکتی ہے جو اسے اپنی خواہشات، خوف، حرص اور خود پسندی سے بلند ہونے میں مدد دیتی ہے۔

ان کی فکر کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام اور مغرب کے تعلق کو صرف تصادم کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ مغرب میں ایسی بہت سی اقدار ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا، اور اسلامی تہذیب کے پاس بھی عقل، علم، اخلاق، روحانیت اور اجتماعی زندگی کا ایک وسیع فکری ورثہ موجود ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون مکمل طور پر درست اور کون مکمل طور پر غلط ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسانی تجربے کی مکمل تصویر کہاں سے حاصل ہوسکتی ہے؟

مراد اسی لیے جدید دنیا کے ساتھ ایک تنقیدی مکالمے کی بات کرتے ہیں۔ نہ اندھی تقلید، نہ اندھی مخالفت۔

وہ جدید انسان کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ مذہب کو محض ماضی کی رسم سمجھ کر مسترد نہ کرے اور اسلام کو صرف سیاسی نعروں یا چند ظاہری احکام تک محدود کرکے نہ دیکھے۔ اسلامی روایت کے اندر فلسفہ بھی ہے، کلام بھی، فقہ بھی، تصوف بھی، اخلاق بھی اور انسانی وجود کے بارے میں ایک وسیع فکری بحث بھی۔

شاید آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ مذہب اور عقل کو دو دشمن خیموں میں تقسیم کرنے کے بجائے ان کے درمیان ایک سنجیدہ مکالمہ قائم کیا جائے۔

کیونکہ انسان صرف وہ نہیں جو وہ کھاتا ہے، پہنتا ہے، کماتا ہے یا ایجاد کرتا ہے۔ وہ وہ بھی ہے جو محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، سوال کرتا ہے، قربانی دیتا ہے، موت سے ڈرتا ہے، حسن کے سامنے ٹھہر جاتا ہے اور تنہائی میں اپنے وجود کے بارے میں سوچتا ہے۔

مصنوعی ذہانت شاید ہمیں یہ بتا دے کہ دماغ کس طرح معلومات کو منظم کرتا ہے، لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہے گا کہ انسان کو معنی کی تلاش کیوں رہتی ہے؟

سائنس شاید کائنات کے آغاز کے بارے میں مزید راز کھول دے، لیکن انسان پھر بھی پوچھے گا کہ وجود کے پیچھے کوئی مقصد ہے یا نہیں؟

جدید تہذیب شاید ہمیں بے شمار انتخاب دے دے، لیکن سوال پھر بھی یہی ہوگا کہ صحیح انتخاب کون سا ہے؟

عبدالحکیم مراد کی فکری اہمیت اسی مقام پر سامنے آتی ہے۔ وہ جدید انسان کے سوالات سے فرار اختیار نہیں کرتے بلکہ انہیں اسلامی روایت کے سامنے رکھتے ہیں۔ ان کا کام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ ’’اسلام کیا کہتا ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اسلام انسان، عقل، آزادی، اخلاق، روح اور حقیقتِ وجود کے بارے میں کیا تصور پیش کرتا ہے؟

شاید جدید انسان کا سب سے بڑا بحران خدا کے انکار سے پہلے معنی کے فقدان کا بحران ہے۔ اور شاید مذہب کا سب سے بڑا کام انسان کو صرف چند عقائد دینا نہیں بلکہ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ اس کا وجود بے مقصد نہیں۔

آخرکار سوال وہی ہے جس سے ہر فلسفہ، ہر مذہب اور ہر انسان کبھی نہ کبھی دوچار ہوتا ہے:

میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں، کیوں آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے؟


اتوار، 9 اگست، 2026

اپنی منزل خود دریافت کیجیے



اپنی منزل خود دریافت کیجیے

انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں، مگر اس کے سامنے امکانات کی ایک پوری کائنات بچھا دی جاتی ہے۔ وہ نہ اپنے ساتھ رزق لاتا ہے، نہ پیشہ، نہ مقام اور نہ پہچان۔ یہ سب اسے خود حاصل کرنا ہوتا ہے۔ وہ دروازے کھٹکھٹاتا ہے، ناکامیوں کا ذائقہ چکھتا ہے، راستے بدلتا ہے، گرتا ہے، سنبھلتا ہے، تب کہیں جا کر اپنی روزی، اپنی جگہ اور اپنا تعارف بناتا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہم روزگار کی تلاش کو تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، مگر زندگی کے مقصد کی تلاش دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ کوئی استاد ہمیں بتا دے گا کہ ہمیں کس سمت جانا ہے، کوئی بزرگ ہماری تقدیر کا نقشہ ہمارے ہاتھ میں رکھ دے گا، یا معاشرہ ایک دن ہمارے لیے وہ راستہ منتخب کر دے گا جس پر چل کر ہم مطمئن ہو جائیں گے۔ لیکن زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ مقصد عطا نہیں کیا جاتا، دریافت کیا جاتا ہے۔

یہ دریافت بھی کسی نقشے پر نہیں ہوتی؛ یہ انسان کے باطن میں ہوتی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے باطن تک پہنچنے سے پہلے ہی دوسروں کی آوازوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ بچپن میں والدین کی خواہشیں، جوانی میں معاشرے کی توقعات، اور عمر کے ہر موڑ پر "لوگ کیا کہیں گے" کا سایہ ہمارے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ رفتہ رفتہ ہم اپنی آواز اور دوسروں کی آواز میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔ پھر ایک دن احساس ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی تو بہت گزاری، مگر اپنی زندگی کبھی نہیں گزاری۔

یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا ہر شخص اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے؟

میرا جواب ہے: نہیں۔

اپنی مرضی سے صرف وہی شخص جی سکتا ہے جسے معلوم ہو کہ وہ کیوں جی رہا ہے۔

جس انسان کے پاس مقصد نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ دوسروں کی رائے کے سہارے چلتا ہے۔ اس کی سمت حالات طے کرتے ہیں، اس کے فیصلے ماحول بناتا ہے، اور اس کی خوشی دوسروں کی منظوری سے وابستہ رہتی ہے۔ وہ ہر تعریف پر پھول جاتا ہے اور ہر تنقید پر بکھر جاتا ہے، کیونکہ اس کے وجود کی بنیاد اندر نہیں، باہر ہوتی ہے۔

مقصد انسان کو صرف راستہ نہیں دیتا، ایک داخلی مرکز بھی عطا کرتا ہے۔ پھر وہ ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنا رخ نہیں بدلتا۔ وہ جانتا ہے کہ درخت اگر اپنی جڑوں پر اعتماد کھو دے تو ہر موسم اس کے لیے آندھی بن جاتا ہے۔

کائنات کی ہر شے اپنے مقصد کے ساتھ وابستہ ہے۔ دریا سمندر کی تلاش میں بہتا ہے، بیج روشنی کی آرزو میں زمین کا سینہ چیرتا ہے، ستارے اپنے مدار سے انحراف نہیں کرتے، سورج ہر صبح کسی تالی، کسی تعریف اور کسی اجازت کے بغیر طلوع ہوتا ہے۔ صرف انسان وہ مخلوق ہے جو دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر تلاش کرتے کرتے اپنی اصل منزل بھول جاتا ہے۔

یہ زمانہ رائے کا زمانہ ہے۔ ہر شخص آپ کی زندگی پر تبصرہ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی آپ کے خوابوں کو غیر حقیقی کہتا ہے، کوئی آپ کے فیصلوں کو ناپختہ، اور کوئی آپ کے راستے کو غلط قرار دیتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی سمت دوسروں کے ہاتھ میں دے دی تو آپ پوری عمر چوراہوں پر کھڑے رہیں گے، کیونکہ ہر شخص آپ کو الگ راستہ دکھائے گا۔

مقصد مل جانے کے بعد زندگی آسان نہیں ہوتی، لیکن واضح ضرور ہو جاتی ہے۔

مشکلات باقی رہتی ہیں، مخالفتیں بھی ختم نہیں ہوتیں، مگر انسان کے اندر ایک ایسی خاموش طاقت پیدا ہو جاتی ہے جو اسے ہر شور سے بلند کر دیتی ہے۔ پھر وہ ہر آواز کا جواب نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ منزل کی طرف بڑھتے ہوئے مسافر راستے میں کھڑے ہر تماشائی سے بحث نہیں کرتے۔

شاید اسی لیے تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی آواز سے زیادہ اپنے ضمیر کی آواز پر یقین کیا۔ انہیں پتھر بھی ملے، تنہائی بھی ملی، تمسخر بھی ملا، مگر ان کے قدم اس لیے نہیں رکے کہ وہ لوگوں کے لیے نہیں، اپنے مقصد کے لیے چل رہے تھے۔

ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم کامیابی کو مقصد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کامیابی صرف ایک نتیجہ ہے۔ مقصد اس سے کہیں بلند چیز ہے۔ کامیابی انسان کو شہرت دے سکتی ہے، دولت دے سکتی ہے، اختیار دے سکتی ہے، مگر مقصد اسے معنی دیتا ہے۔ اور معنی کے بغیر ہر کامیابی آخرکار ایک خالی برتن ثابت ہوتی ہے، جس میں شور تو بہت ہوتا ہے، سکون نہیں۔

اس لیے اگر آپ واقعی اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ مت پوچھیے کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ یہ بھی مت پوچھیے کہ دنیا آپ سے کیا چاہتی ہے۔ صرف ایک سوال کیجیے:

میں اس دنیا میں کس کام کے لیے آیا ہوں؟

ممکن ہے اس سوال کا جواب ایک دن میں نہ ملے، شاید برسوں لگ جائیں، شاید پوری زندگی کی مسافت طے کرنی پڑے۔ مگر یاد رکھیے، مقصد کی تلاش میں گزارا ہوا ایک دن بھی اس پوری عمر سے زیادہ قیمتی ہے جو دوسروں کے خواب پورے کرتے ہوئے گزر جائے۔

آخر میں صرف اتنا یاد رکھیے کہ انسان کی آزادی کا اعلان اس دن نہیں ہوتا جب وہ دوسروں کی زنجیریں توڑ دیتا ہے، بلکہ اس دن ہوتا ہے جب وہ اپنے وجود کے معنی دریافت کر لیتا ہے۔ جس لمحے انسان کو اپنی منزل مل جاتی ہے، اسی لمحے دنیا کی آوازیں مدھم پڑنے لگتی ہیں۔ پھر تعریف اس کا راستہ نہیں بدلتی، تنقید اس کے قدم نہیں روکتی، اور زمانہ اس کی سمت متعین نہیں کرتا۔

کیونکہ جس مسافر کو اپنی منزل معلوم ہو، وہ راستوں سے نہیں ڈرتا؛ اور جسے اپنی منزل نہ معلوم ہو، وہ ہر چوراہے پر دوسروں سے راستہ پوچھتا رہ جاتا ہے۔

اختیار کی شاہراہ کہاں جاتی ہے؟




اختیار کی شاہراہ کہاں جاتی ہے؟

پاکستان کی کہانی ایک خواب سے شروع ہوئی تھی۔ وہ خواب کسی فوجی طاقت، کسی سلطنت یا کسی خاندان کا نہیں تھا، بلکہ عوام کے سیاسی شعور کا تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ووٹ کی طاقت سے دنیا کو بتایا تھا کہ قومیں بندوق سے نہیں، اجتماعی فیصلے سے بھی وجود میں آ سکتی ہیں۔ شاید اسی لیے پاکستان کا پہلا سرمایہ زمین نہیں بلکہ عوام کا اعتماد تھا۔

مگر تاریخ کا سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔قیامِ پاکستان کے بعد ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ تشکیل پانے لگا جس میں ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان طاقت کا توازن مسلسل بدلتا رہا۔ ہر بحران نے کسی ادارے کو زیادہ اختیار دیا اور ہر گزرتے برس کے ساتھ یہ تاثر گہرا ہوتا گیا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں اختیار کم اور ذمہ داری زیادہ رہ گئی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، پارلیمان قائم رہی، انتخابات بھی ہوتے رہے، مگر یہ سوال کبھی دفن نہ ہو سکا کہ ریاست کے اہم فیصلوں کا آخری اختیار آخر کس کے پاس ہے۔

یہ تبدیلی صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہ رہی۔ ریاستی وسائل، قومی ترجیحات اور عوامی اثاثوں پر بھی عوام کی نفسیاتی ملکیت کمزور پڑنے لگی۔ جب ایک عام آدمی اپنی زندگی میں مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور بے بسی کا سامنا کرتا ہے اور دوسری طرف طاقت کے مراکز کی قوت اور اثرورسوخ کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں ایک عجیب سا سوال جنم لیتا ہے۔ کیا آزادی صرف پرچم بدلنے کا نام تھی ، پرچم کے ذہن میں آتے ہی وہ دور یاد آتا ہے جب اس سرزمین پر غیر ملکی حکمران حکومت کرتے تھے۔ اس زمانے میں بھی فیصلے کہیں اور ہوتے تھے اور عوام صرف ان فیصلوں کے نتائج بھگتتے تھے۔ آج حالات یقیناً مختلف ہیں، مگر اگر عوام کو اپنے ووٹ کی تاثیر محسوس نہ ہو تو تاریخ کا احساس بھی بدلنے لگتا ہے۔

بلوچستان اسی احساس کا سب سے پرانا اور سب سے گہرا استعارہ ہے۔ وہاں بے چینی کو اکثر طاقت سے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، مگر خاموشی ہمیشہ اطمینان نہیں ہوتی۔ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔ چند جمہوری ادوار میں سیاسی مصالحت کا راستہ اختیار کیا گیا، لیکن وہ قومی پالیسی نہ بن سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بے چینی نے صرف ایک صوبے تک محدود رہنے سے انکار کر دیا۔ اس کی لہریں خیبر پختونخوا تک پہنچیں اور اب کشمیر میں دستک دیتی دکھائی دیتی ہے۔

پاکستانی سیاست کی البتہ ایک خوبی بھی ہے۔ اس نے ہر دور میں ایسے رہنما پیدا کیے جنہوں نے بند راستوں میں بھی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بینظیر بھٹو ایک دوسرے سے مختلف سیاسی مکتبِ فکر رکھتے تھے، مگر ایک بات میں سب شریک تھے: وہ عوامی سیاست کو ریاستی اختیار کا اصل سرچشمہ بنانا چاہتے تھے۔ ان کی کامیابیوں پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے حصے کی قیمت بھی ادا کی۔

عمران خان کی سیاسی داستان اس روایت میں ایک منفرد باب کا اضافہ کرتی ہے۔ ان کے بارے میں ایک مضبوط سیاسی تاثر یہ رہا کہ ان کے اقتدار تک پہنچنے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا، مگر اقتدار سے نکالنے کے بعد یہی تعلق اختلاف اور پھر تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ یوں وہ بھی اسی سیاسی دائرے میں داخل ہوگئے جہاں ماضی کے بہت سے منتخب رہنما پہلے آ چکے تھے۔ اس منظرنامے نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا کہ پاکستان میں اصل مسئلہ افراد کا ہے یا اختیار کے نظام کا؟

یہی سوال موجودہ حکمران اتحاد کے سامنے بھی کھڑا ہے۔ کیا اس کا انجام بھی اپنے پیش روؤں جیسا ہوگا یا اس بار تاریخ مختلف فیصلہ سنائے گی؟ اس کا جواب آنے والا وقت دے گا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں سیاست دان ایک طرف ریاستی استحکام کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف عوامی بالادستی کے دعوے سے بھی دستبردار نہیں ہو سکتے۔ یہی تضاد ان کی سیاست کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ آئینی ترامیم نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی وزن کو کمزور کیا ہے۔ اگر یہ تاثر عوام میں مزید مضبوط ہوتا ہے تو ممکن ہے اس کے نتائج صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہ رہیں۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت جب اپنے فطری توازن سے آگے بڑھتی ہے تو ردِعمل بھی غیر معمولی ہوتا ہے۔ جو بساط آج سیاست دانوں کو محدود کرنے کے لیے بچھائی جا رہی ہے، بعید نہیں کہ کل وہی بساط اپنے بچھانے والوں کے لیے بھی آزمائش بن جائے۔

اسی تناظر میں عوامی ریفرنڈم کی بات بھی سنائی دیتی ہے۔ اگر کبھی ایسا مرحلہ آیا اور منتخب سیاسی قوتوں نے خود اس کی قیادت کی تو طاقت کے موجودہ توازن میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ بعض لوگ اس ضمن میں ترکی کی مثال دیتے ہیں، اگرچہ پاکستان کے حالات، تاریخ اور ادارہ جاتی ساخت اس سے مختلف ہیں۔ پھر بھی تاریخ کا ایک اصول ہر جگہ یکساں رہتا ہے: طاقت ہمیشہ مستقل نہیں ہوتی، مگر عوام کا فیصلے کی بازگشت نسلوں تک سنائی دیتی ہے۔

آخر میں صرف ایک تاریخی واقعہ ۔ رومی سلطنت نے بے شمار جنگیں جیتیں، اس کی فوجیں نصف دنیا پر چھا گئیں، مگر ان کے زوال کی وجوہات میں مورخین لکھتے ہیں کہ سلطنت اپنی رعایا کے دل ہار چکی تھی۔

تاریخ کا قلم یہ نہیں پوچھنا کہ کون سا حکمران زیادہ طاقتور تھا، کس جماعت نے کتنی نشستیں جیتیں یا کس ادارے کے پاس کتنا اختیار تھا۔ وہ صرف یہ لکھے گا کہ کیا اس ریاست نے اپنے عوام کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ ملک واقعی انہی کا ہے؟

اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے



اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے
جب کوئی نوجوان دین کے بارے میں سوال کرتا ہے تو بعض لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں: "زیادہ سوال نہ کرو، ایمان کمزور ہو جائے گا۔" یہ جملہ شاید اخلاص سے کہا جاتا ہو، لیکن قرآن کا اسلوب اس سے مختلف ہے۔ قرآن انسان کو خاموش رہنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اس کی عقل کو بیدار کرتا ہے۔ وہ بار بار پوچھتا ہے: "کیا تم غور نہیں کرتے؟"، "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"، "کیا تم دیکھتے نہیں؟" اور "کیا تم سمجھتے نہیں؟"۔ گویا اسلام کا آغاز سوال سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام یقین پر۔
اسلام کی پوری فکری روایت اسی حقیقت کی گواہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے سوال کیا تاکہ یقین مزید پختہ ہو۔ فرشتوں نے سوال کیا تاکہ حکمت کو سمجھ سکیں۔ صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سینکڑوں سوال کیے، اور قرآن نے ان سوالات کے جوابات کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔ اگر سوال کرنا ممنوع ہوتا تو وحی خود سوال و جواب کی صورت میں کیوں نازل ہوتی؟
قرآن تو اس سے بھی آگے بڑھ کر حکم دیتا ہے
"پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لیا کرو۔"
(سورۃ النحل: 43)
یہ آیت صرف ایک دینی ہدایت نہیں، بلکہ علم حاصل کرنے کا آفاقی اصول ہے۔ لاعلمی کا علاج خاموشی نہیں، سوال ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بلاشبہ جہالت کا علاج سوال کرنا ہے۔"
(سنن ابی داؤد)
قرآن صرف سوال کرنے کی دعوت ہی نہیں دیتا بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندگانِ صالح کی ایک صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے
"اور جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر اندھوں اور بہروں کی طرح نہیں گر پڑتے۔"
(سورۃ الفرقان: 73)
قرآن اپنے مثالی مومن کی تعریف یہ نہیں کرتا کہ وہ بغیر سوچے ہر بات قبول کر لیتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ اللہ کی آیات کو شعور، بصیرت اور سمجھ کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اس کا ایمان علم پر قائم ہوتا ہے، غفلت پر نہیں۔
بدقسمتی سے ہم نے بعض اوقات دین کو اتنا نازک بنا دیا ہے کہ ایک سوال سے بھی اسے خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ سچائی کبھی سوال سے نہیں ڈرتی۔ سوال تو صرف اس فکر کے لیے خطرہ بنتا ہے جس کے پاس دلیل نہ ہو۔ جس ایمان کی بنیاد تحقیق پر ہو، ہر نیا سوال اسے مزید مضبوط کرتا ہے۔
یاد رکھیے، لاعلم ہونا عیب نہیں، لاعلم رہنے پر اصرار کرنا عیب ہے۔ اسلام انسان کو عقل دیتا ہے، پھر اسے تحقیق کا حکم دیتا ہے، پھر اہلِ علم سے رجوع کرنے کی ہدایت دیتا ہے، اور آخرکار فیصلہ اس کے اپنے اختیار پر چھوڑ دیتا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:
"اور کہہ دیجیے: یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔"
(سورۃ الکہف: 29)
یہ آیت جبر کی نہیں، آزادیِ انتخاب کی آیت ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے، لیکن اس اختیار سے پہلے تحقیق کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد کی گئی ہے۔ اسی لیے قرآن کی ابتدا میں فرمایا گیا:
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقی لوگوں کے لیے۔"
(سورۃ البقرہ: 2)
متقی وہ نہیں جو سوال سے ڈر جائے، بلکہ وہ ہے جو حق کی تلاش میں اخلاص کے ساتھ نکلے، دلیل کو سنے، تعصب سے بلند ہو کر تحقیق کرے، اور جب حق واضح ہو جائے تو اسے قبول کرنے کا حوصلہ بھی رکھے۔
شاید یہی اسلام کی سب سے بڑی فکری عظمت ہے۔ یہ مذہب سوال سے نہیں گھبراتا، کیونکہ اسے اپنے جواب پر یقین ہے۔ وہ انسان سے اندھی اطاعت نہیں مانگتا، بلکہ بیدار عقل، مطمئن دل اور شعوری ایمان چاہتا ہے۔ اسلام کا اصل معرکہ سوال کرنے والوں سے نہیں، بلکہ جہالت، تعصب اور اندھی تقلید سے ہے