جمعہ، 23 جنوری، 2026

سوال اب یہ نہیں کہ اسرائیل کس کے خلاف ہے




 اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک راستے کہاں بچتے ہیں؟
عالمی سیاست میں بعض امکانات محض مفروضے نہیں ہوتے بلکہ آنے والے بحرانوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان پر مشتمل ابھرتا ہوا اتحاد—جسے پہلے ہی عسکری، معاشی اور ایٹمی وزن حاصل ہے—اس میں ایران بھی شامل ہو جائے، اور چین اس پورے بلاک کو سفارتی، معاشی اور تکنیکی سرپرستی فراہم کرے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقت کے توازن میں ایک تاریخی زلزلہ ہوگا۔ ایسے منظرنامے میں سب سے زیادہ دباؤ جس ریاست پر پڑے گا، وہ اسرائیل ہے۔
یہ اتحاد محض چار مسلم ممالک کا مجموعہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ جغرافیائی تسلسل، توانائی کے وسائل، آبنائے ہرمز سے بحیرۂ روم تک اثرورسوخ، اور ایٹمی صلاحیت کے امتزاج کے ساتھ ایک ایسا بلاک بن جائے گا جو امریکی بعد از انخلا دور میں خطے کی نئی حقیقت کو متعین کرے گا۔ چین کی حمایت اس بلاک کو محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر تحفظ فراہم کرے گی، خاص طور پر سلامتی کونسل، عالمی تجارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ اسرائیل کو مسئلہ ہوگا یا نہیں—سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس بچے گا کیا؟

اسرائیل کا سب سے واضح راستہ یہ ہوگا کہ وہ چین کے ساتھ ہر قسم کی معاشی، تکنیکی اور سفارتی قربت ترک کر کے خود کو مکمل طور پر امریکی بلاک میں ضم کر دے۔ اس کا مطلب ہوگا:
چینی سرمایہ کاری کا خاتمہ
ایشیائی منڈیوں سے محدود رسائی
یورپی خودمختار پالیسیوں سے بڑھتا ہوا فاصلہ
یہ راستہ اسرائیل کو عسکری تحفظ تو فراہم کرے گا، مگر معاشی اور سفارتی تنہائی کی قیمت پر۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں امریکا واحد فیصلہ ساز نہیں رہا، یہ آپشن طویل مدت میں کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب اس پر گھیراؤ تنگ ہوتا ہے تو وہ پیشگی عسکری کارروائی کو ایک آپشن کے طور پر دیکھتا ہے—چاہے وہ ایران ہو، لبنان ہو یا غزہ۔
لیکن اس نئے بلاک کی موجودگی میں یہ راستہ انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ:
ایران کی شمولیت کا مطلب براہِ راست جوابی صلاحیت
ترکی اور پاکستان کی عسکری گہرائی
ایسی کسی مہم جوئی کا نتیجہ محدود جنگ نہیں بلکہ وسیع علاقائی تصادم ہو سکتا ہے، جس کے نتائج اسرائیل کے لیے ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔
ایک کمزور مگر حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل:
فلسطین کے معاملے میں حقیقی سیاسی رعایت دے
عرب اور مسلم دنیا سے تصادم کی پالیسی ترک کرے
خود کو ایک توسیع پسند ریاست کے بجائے ایک نارمل علاقائی ریاست کے طور پر پیش کرے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کی داخلی سیاست، نظریاتی ساخت اور طاقتور دائیں بازو کی قیادت اس راستے کو عملی طور پر تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔
چوتھا آپشن: یورپ اور ایشیا میں متبادل اتحاد
اسرائیل کوشش کر سکتا ہے کہ:
یورپی یونین کے ساتھ تعلقات گہرے کرے
بھارت، جاپان اور بعض افریقی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹجک روابط بڑھائے
مگر چین کی غیر موجودگی اور مسلم بلاک کی جغرافیائی برتری کے سامنے یہ اتحاد توازن قائم کرنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔
اگر ایران اس اتحاد میں شامل ہو جاتا ہے اور چین اس کا محافظ بن جاتا ہے، تو اسرائیل پہلی بار صرف عسکری خطرے میں نہیں بلکہ اسٹریٹجک گھٹن (Strategic Suffocation) کا شکار ہوگا۔ نہ وہ آزادانہ جنگ چھیڑ سکے گا، نہ بیک وقت امریکا اور چین کے ساتھ کھیل جاری رکھ سکے گا، اور نہ ہی معاشی وسعت کے پرانے راستے کھلے رہیں گے۔
صدر شی جن پنگ کا پیغام اس منظرنامے میں اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے:
نئی دنیا میں دو کشتیوں پر سوار رہنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
اسرائیل کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ وہ کس کے خلاف ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہ سکتا ہے—اور کس قیمت پر۔


قہر 313

قہر 313

عالمی عسکری سیاست میں بعض ہتھیار اپنی عملی صلاحیت سے کہیں زیادہ اپنی علامتی اور نفسیاتی تاثیر کے باعث موضوعِ بحث بنتے ہیں۔ ایران کا قہر 313 بھی ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جو 2013 میں منظرِ عام پر آتے ہی دفاعی ماہرین، میڈیا اور عسکری تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ طیارہ صرف ایک ممکنہ اسٹیلتھ فائٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سوال کے طور پر سامنے آیا کہ جدید جنگ میں اصل طاقت خالص تکنیکی برتری ہے یا اس برتری کا تاثر اور بیانیہ؟

قہر 313 کو ایران نے اپنی ایوی ایشن انڈسٹریز آرگنائزیشن کے تحت ایک مقامی سطح پر تیار کردہ اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ہلکا، کم رفتار، کم ریڈار سگنیچر رکھنے والا طیارہ ہے جو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت مختصر رن ویز سے پرواز اور کم بلندی پر مؤثر آپریشن بتائی گئی، جو ایران کے جغرافیائی اور دفاعی حالات کے مطابق اہم سمجھی جاتی ہے۔

تاہم جب بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے اس طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو کئی سنگین سوالات سامنے آئے۔ پروں کا غیر متوازن سائز، کاک پٹ کی ساخت، انجن کی گنجائش اور ایرودائنامکس ایسی تھیں جو ایک مکمل اور عملی فائٹر جیٹ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دفاعی حلقوں میںقہر 313 کو ایک نمائشی ماڈل یا ابتدائی پروٹو ٹائپ قرار دیا گیا، نہ کہ ایک مکمل طور پر فعال جنگی طیارہ۔

لیکن قاہر 313 کو محض ایک ناکام یا غیر سنجیدہ منصوبہ کہہ کر رد کر دینا بھی حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ ایران کوئی ایسا ملک نہیں جو پچھلے چند برسوں سے دباؤ میں ہو؛ بلکہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے عملی طور پر ایک مسلسل حالتِ جنگ میں زندہ رہا ہے۔ براہِ راست فوجی تصادم، خفیہ جنگ، اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور ٹیکنالوجی تک محدود رسائی—یہ سب ایران کے مستقل دفاعی ماحول کا حصہ رہے ہیں۔

ان سخت حالات کے باوجود ایران نے کبھی اپنے دفاعی اور بالخصوص دفعی 

دفاعی

صلاحیتوں کے حصول سے غفلت نہیں برتی۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام، اور مقامی سطح پر عسکری پیداوار—یہ سب اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ قاہر 313 بھی اسی ذہنیت کی ایک کڑی ہے، چاہے وہ عملی میدان میں مکمل کامیاب ہو یا نہ ہو۔

حالیہ برسوں میں ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ

قہر 313 کے تصور کو بغیر پائلٹ فضائی پلیٹ فارم، یعنی ڈرون ٹیکنالوجی، میں ڈھالنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اب علامتی منصوبوں کو عملی دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسی جنگوں کے تناظر میں جہاں بغیر پائلٹ نظام فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران کی اس دفاعی سوچ میں حالیہ برسوں میں ایک نمایاں تبدیلی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران اب یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ محض عسکری خود کفالت کافی نہیں، بلکہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات ہی اس کے دفاع کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت، ترکی کے ساتھ محتاط تعاون، پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی، اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا اعتماد—یہ سب ایران کی اسی بدلی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسی سوچ کے نتیجے میں خطے کے کئی ممالک میں ایران کے حوالے سے رویّے میں نرمی اور ہمدردی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ ایران اب صرف ایک مزاحمتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جو تصادم کے بجائے توازن، اور تنہائی کے بجائے شراکت داری کے ذریعے اپنی سلامتی یقینی بنانا چاہتی ہے۔

نتیجتاً، قاہر 313 کو ایک مکمل جنگی طیارے کے بجائے ایک اسٹریٹجک علامت کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ علامت اس امر کی نمائندگی کرتی ہے کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے، بلکہ بیانیہ، نفسیاتی دباؤ، مسلسل مزاحمت اور ٹیکنالوجی کا تاثر بھی طاقت کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
قہر 313 شاید آسمانوں میں فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکے، مگر اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران نہ سویا ہے، نہ ہتھیار ڈالے ہیں، اور نہ ہی مستقبل کی جنگ کے تقاضوں سے غافل ہے۔


غزہ کا پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس





غزہ کا  پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس 
 غزہ  پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، 
غزہ میں حالیہ تباہ کن جنگ کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد امن، نظم و نسق اور استحکام کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔ اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت دو اہم ڈھانچے سامنے آئے ہیں: غزہ پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس۔ اگرچہ یہ دونوں ادارے ایک ہی مقصد، یعنی غزہ میں پائیدار امن و استحکام، کے لیے قائم کیے گئے ہیں، مگر ان کی نوعیت، دائرۂ کار اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔
غزہ پیس بورڈ دراصل ایک بین الاقوامی انتظامی اور سفارتی ادارہ ہے، جس کا بنیادی کام غزہ کے بعد از جنگ سیاسی، انتظامی اور معاشی مستقبل کی نگرانی کرنا ہے۔ اس بورڈ کی ذمہ داریوں میں غزہ کے عبوری حکومتی ڈھانچے کی تشکیل، تعمیرِ نو کے منصوبوں کی منصوبہ بندی، عالمی مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی تنظیم، اور مختلف بین الاقوامی فریقوں کے درمیان رابطہ کاری شامل ہے۔ یہ ادارہ براہِ راست کسی عسکری کارروائی میں شامل نہیں بلکہ اس کا کردار پالیسی سازی، حکمرانی اور ترقیاتی سمت کے تعین تک محدود ہے۔ غیر معمولی طور پر اس بورڈ کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کر رہے ہیں، جس کے باعث اسے روایتی اقوامِ متحدہ کے اداروں سے ہٹ کر ایک طاقتور اور متنازعہ پلیٹ فارم سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس، بین الاقوامی استحکامی فورس 
ایک خالصتاً سکیورٹی اور عسکری نوعیت کا انتظام ہے۔ یہ فورس اقوامِ متحدہ کی منظوری کے ساتھ مختلف ممالک کے فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جس کا مقصد غزہ میں زمینی سطح پر امن و امان قائم رکھنا ہے۔ اس کے دائرۂ کار میں جنگ بندی کی نگرانی، غیر قانونی اسلحے کا خاتمہ، سرحدی اور حساس علاقوں کی نگرانی، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنا شامل ہے۔ سادہ الفاظ میں، جہاں پیس بورڈ غزہ کے سیاسی و انتظامی مستقبل کا خاکہ تیار کرتا ہے، وہیں استحکامی فورس اس خاکے کو عملی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
یوں یہ کہنا درست ہوگا کہ غزہ پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایک کی کامیابی دوسرے کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر انتظامی فیصلوں کو زمینی تحفظ حاصل نہ ہو تو وہ محض کاغذی منصوبے رہ جاتے ہیں، اور اگر عسکری استحکام کے پیچھے واضح سیاسی و ترقیاتی وژن نہ ہو تو وہ دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو پاتا۔
غزہ کے مستقبل کا انحصار اسی نازک توازن پر ہے کہ آیا یہ دونوں ادارے واقعی غیر جانبداری، شفافیت اور مقامی آبادی کے مفادات کو سامنے رکھ کر کام کر پاتے ہیں یا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کا رخ متعین کرے گا۔

بدھ، 21 جنوری، 2026

ایران، اسرائیل اور کرد 4





ایران، اسرائیل اور کرد 4

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کسی روایتی جنگ کی صورت میں سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک طویل المدت اور بالواسطہ کشمکش ہے جو مختلف محاذوں، پراکسی نیٹ ورکس اور اسٹریٹیجک اتحادیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ انہی خاموش مگر فیصلہ کن محاذوں میں ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عنصر کرد فیکٹر ہے۔ کرد نہ تو اسرائیل کے فطری اتحادی ہیں اور نہ ایران کے، مگر دونوں ریاستیں انہیں اپنی اسٹریٹیجک ضرورت کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔

ایران کے نزدیک کرد مسئلہ محض ایک نسلی یا ثقافتی سوال نہیں، بلکہ یہ قومی وحدت، سرحدی سلامتی اور ریاستی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چونکہ کرد آبادی ایران، عراق، ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور مختلف کرد تحریکیں سرحد پار روابط رکھتی ہیں، اس لیے تہران کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ یا مغربی انٹیلی جنس ادارے کردوں کو ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ایران کرد جماعتوں پر سخت کنٹرول، سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مستقل موجودگی اور بعض اوقات عراق کے اندر سرحد پار کارروائیوں کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

اس کے برعکس اسرائیل کا نقطۂ نظر بالکل مختلف ہے۔ اسرائیلی پالیسی تاریخی طور پر اس حکمتِ عملی پر مبنی رہی ہے جسے

 “Peripheral Doctrine”

 کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی اور دشمن ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔ اس تناظر میں کرد اسرائیل کے لیے ایک ممکنہ اسٹرٹیجک اثاثہ سمجھے جاتے ہیں: وہ عرب نہیں، تاریخی طور پر ریاست سے محروم رہے ہیں، اور علاقائی تنازعات میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل کے مفادات واضح ہیں۔ وہ ایران اور بعض عرب ریاستوں کے اندر دباؤ پیدا کرنا چاہتا ہے، انٹیلی جنس نیٹ ورکس تک رسائی کا خواہاں ہے، اور اپنے گرد ایسے غیر ریاستی دباؤ کے حلقے بنانا چاہتا ہے جو اس کے حریفوں کے لیے مستقل چیلنج بنے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اسرائیل نے عراقی کردوں سے خفیہ روابط رکھے اور 2017 میں کردستان کے ریفرنڈم کی کھل کر حمایت کی۔ تاہم یہ حمایت زیادہ اخلاقی کم اور اسٹرٹیجک نوعیت کی تھی۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرد کوئی واحد، منظم یا یکساں بلاک نہیں۔ کرد سیاست اندرونی تقسیم کا شکار رہی ہے—بارزانی اور طالبانی جیسے مختلف دھڑے، قوم پرست، بائیں بازو اور قبائلی رجحانات، سب اپنی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر کردوں کا بنیادی ہدف اپنی شناخت کا تحفظ، سیاسی خودمختاری اور ریاستی جبر سے نجات ہے۔ اسی پس منظر میں بعض کرد قیادتیں اسرائیل سے روابط کو ایک وقتی حکمتِ عملی سمجھتی ہیں، جبکہ دیگر حلقے اسے اخلاقی تضاد اور فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتے ہیں۔

اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ “کرد اسرائیل کے ایجنٹ ہیں”۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ کچھ کرد دھڑے مخصوص حالات میں اسرائیلی مفادات سے وقتی ہم آہنگی اختیار کر لیتے ہیں، جسے پوری قوم کی اجتماعی پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایران اور اسرائیل کے باہمی تصادم میں کرد کہاں کھڑے ہیں؟ ایرانی بیانیے میں کرد ایک ممکنہ بیرونی سازش کا مہرہ سمجھے جاتے ہیں، اسرائیل کو اصل دشمن قرار دیا جاتا ہے، اور کرد علاقوں کو انٹیلی جنس کی ممکنہ راہداری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی بیانیے میں کرد ایک مظلوم قوم ہیں، ایران ایک توسیع پسند ریاست، اور کردوں کی حمایت ایران پر اخلاقی اور اسٹرٹیجک دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے۔

حقیقت مگر ان دونوں بیانیوں سے زیادہ تلخ ہے۔ کرد اکثر ان دو بڑی طاقتوں کے بیچ پس جاتے ہیں۔ انہیں کہیں سے مکمل ریاستی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اور زیادہ تر صورتوں میں ان کا استعمال زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔ طاقت کی اس بساط میں وہ مہرے بن جاتے ہیں، فیصلہ ساز نہیں۔

سب سے بڑا تضاد تاریخ کا وہ تلخ موڑ ہے جہاں ایک کرد رہنما، سلطان صلاح الدین ایوبی، نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا، جبکہ آج بعض کرد دھڑے اسرائیل سے تعلقات کے باعث مسلم دنیا میں شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہی تضاد کرد سیاست کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائش ہے—اور شاید مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بھی ایک کڑا امتحان۔


کرد اور ترکیہ 3


کرد اور ترکیہ 3
کرد اور ترکیہ کے درمیان کشیدگی جدید مشرقِ وسطیٰ کے ان پیچیدہ تنازعات میں شمار ہوتی ہے جنہیں محض سیکیورٹی مسئلہ قرار دے کر سمجھنا ممکن نہیں۔ یہ تنازع دراصل قوم، شناخت، ریاستی نظریے اور طاقت کے استعمال کے درمیان ایک گہرے تصادم کی علامت ہے، جس کی جڑیں خود ترک جمہوریہ کی قومی تشکیل میں پیوست ہیں۔
ترکی کی کل آبادی کا اندازاً پندرہ سے بیس فیصد حصہ کردوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر جنوب مشرقی اناطولیہ، دیاربکر، وان، حکاری اور ماردین جیسے علاقوں میں آباد ہیں۔ کردی زبان، خصوصاً کرمانجی لہجہ، ترکی میں سب سے زیادہ بولی جانے والی اقلیتی زبان ہے۔ اس کے باوجود طویل عرصے تک ریاستی سطح پر اس زبان اور اس سے جڑی شناخت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
1923 میں قائم ہونے والی ترک جمہوریہ کی بنیاد ایک سخت قوم پرستانہ اور وحدانی نظریے پر رکھی گئی، جس کا نعرہ تھا: ایک قوم، ایک زبان، ایک پرچم۔ ترک ہونا شہری شناخت کی بنیادی شرط قرار پایا، جبکہ کردوں کو سرکاری بیانیے میں اکثر “پہاڑی ترک” کہا گیا۔ کردی زبان، ثقافت اور حتیٰ کہ ناموں تک پر پابندیاں لگیں، اور کرد شناخت کا عملاً انکار کیا گیا۔ یہی وہ ریاستی رویہ تھا جس نے آنے والی دہائیوں میں مزاحمت اور بغاوت کی بنیاد رکھی۔
1920 اور 1930 کی دہائی میں کئی کرد بغاوتیں ہوئیں، جن میں 1925 کی شیخ سعید بغاوت نمایاں تھی، جس میں مذہبی اور قومی دونوں عناصر شامل تھے، مگر اسے سخت فوجی کارروائی کے ذریعے کچل دیا گیا۔ اسی طرح 1937–38 میں درسیم آپریشن نے کرد۔ترک تعلقات پر گہرے اور دیرپا زخم چھوڑے، جہاں ہزاروں کرد، خصوصاً علوی آبادی، ہلاک ہوئی۔ یہ واقعات آج بھی ترکی کی اجتماعی یادداشت میں ایک متنازع اور حساس باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس تاریخی پس منظر میں 1978 میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کا قیام عمل میں آیا۔ عبداللہ اوجالان کی قیادت میں بننے والی اس تنظیم نے ابتدا میں مارکسزم۔لینن ازم سے متاثر نظریات اپنائے، بعد ازاں “ڈیموکریٹک کنفیڈرلزم” کا تصور پیش کیا۔ 1984 کے بعد PKK نے ترکی کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اب تک چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں فوجی اہلکار، عام شہری اور جنگجو شامل ہیں۔ ترک ریاست PKK کو ایک دہشت گرد تنظیم اور قومی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ قرار دیتی ہے۔
ریاستی ردِعمل کے طور پر کرد علاقوں میں طویل عرصے تک ایمرجنسی قوانین نافذ رہے، وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کیے گئے، جبری نقل مکانی ہوئی اور اظہار و زبان پر سخت پابندیاں لگائی گئیں۔ ان اقدامات پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا تنقید کی، مگر سیکیورٹی بیانیہ غالب رہا۔
2000 کے بعد، خصوصاً اردوان کے ابتدائی دور میں، یورپی یونین میں شمولیت کے تناظر میں محدود اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ کردی زبان پر بعض پابندیاں نرم ہوئیں، کرد میڈیا اور تعلیم کے لیے محدود گنجائش پیدا کی گئی۔ 2013 سے 2015 کے درمیان حکومت اور PKK کے درمیان ایک امن عمل بھی شروع ہوا، جس سے مسئلے کے سیاسی حل کی امید بندھی، مگر یہ عمل جلد ہی ناکام ہو گیا۔
2015 کے بعد صورتحال دوبارہ شدید عسکری تصادم کی طرف لوٹ گئی۔ کرد شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، اور کرد نواز سیاسی جماعت HDP کو سخت کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں سیاسی راستہ مزید محدود ہو گیا۔
اس کشیدگی کو شام کی خانہ جنگی نے ایک نئی علاقائی جہت دے دی۔ شام میں کرد ملیشیا
YPG کے ابھرنے کو ترکی PKK کی توسیع سمجھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے YPG کی حمایت نے ترکی۔امریکہ تعلقات کو بھی متاثر کیا، جبکہ ترکی نے شام میں متعدد فوجی آپریشن کر کے کسی بھی کرد خودمختار پٹی کے قیام کو روکنے کی کوشش کی۔
اصل مسئلہ درحقیقت نظریاتی ہے۔ ترک ریاست وحدانی قومی ریاست، سیکیورٹی کو اولین ترجیح اور علاقائی سالمیت کے تصور پر قائم ہے، جبکہ کرد مؤقف کثیرالقومی شناخت، سیاسی شرکت اور خودمختاری کے مطالبے کے گرد گھومتا ہے۔ اسی بنیادی اختلاف نے اس تنازع کو طویل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ ترکی میں کرد مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ ایک طرح سے منجمد ہو چکا ہے۔