بدھ، 8 اکتوبر، 2025

ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ



شرم الشیخ میں امن مزاکرات کے بارے میں بہت کم خبریں باہر آرہی ہیں البتہ عرب میڈیا میں ایک ترمیم شدہ 20 نکاتی ٹرم پلان کا مسودہ گردش کر رہا ہے جو الجزیرہ ٹی وی کی ویب سایٹ پر بھی مجود ہے ۔ اپنے دوستوں کے لیے اس کا اردو ترجمہ پیش ہے

ترمیم شدہ 20 نکاتی منصوبہ: نوآبادیاتی شرائط سے آزاد ٹرمپ پلان


فلسطین اور اسرائیل دونوں ایسے دہشت گردی سے پاک ممالک ہوں گے جو اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ نہ ہوں۔


فلسطین کو فلسطینی عوام کے فائدے کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، جنہوں نے پہلے ہی بہت تکالیف برداشت کی ہیں۔


اگر دونوں فریق اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔ اسرائیلی افواج قیدیوں کی رہائی کی تیاری کے لیے طے شدہ حد تک پیچھے ہٹ جائیں گی، اور تمام فوجی کارروائیاں بند ہو جائیں گی۔


دونوں فریقوں کی جانب سے اس معاہدے کو عوامی طور پر قبول کرنے کے 72 گھنٹوں کے اندر تمام مغوی — زندہ اور جاں بحق — واپس کر دیے جائیں گے۔


تمام مغویوں کی رہائی کے بعد، اسرائیل عمر قید یافتہ قیدیوں کے ساتھ ساتھ وہ تمام فلسطینی قیدی بھی رہا کرے گا جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔


جب تمام مغوی واپس کر دیے جائیں، تو ایسے حماس اراکین جو پُرامن بقائے باہمی پر آمادہ ہوں اور اپنے ہتھیار جمع کرائیں، انہیں عام معافی دی جائے گی۔ جو حماس اراکین غزہ چھوڑنا چاہیں، انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔


اس معاہدے کی منظوری کے فوراً بعد مکمل انسانی امداد غزہ پٹی میں داخل کی جائے گی۔ کم از کم امدادی مقدار 19 جنوری 2025 کے معاہدے کے مطابق ہوگی، جس میں بنیادی ڈھانچے (پانی، بجلی، نکاسیٔ آب) کی بحالی، اسپتالوں اور تنور خانوں کی تعمیرِ نو، اور ملبہ ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کے لیے ضروری آلات کی فراہمی شامل ہے۔


غزہ میں امداد اور سامان کی تقسیم اقوام متحدہ، اس کی ایجنسیوں، ریڈ کریسنٹ اور دیگر غیر جانب دار بین الاقوامی اداروں کے ذریعے بغیر کسی مداخلت کے کی جائے گی۔ رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں اسی طریقہ کار کے تحت کھولا جائے گا جو 19 جنوری 2025 کے معاہدے میں نافذ کیا گیا تھا۔


فلسطین، جس میں غزہ ایک لازمی حصہ ہوگا، فلسطینی اتھارٹی (PA) کے تحت ہوگا۔ بین الاقوامی مشیر اس عمل میں مدد کر سکتے ہیں، لیکن خودمختاری صرف فلسطینیوں کی ہوگی۔


فلسطینی اتھارٹی عرب ماہرین اور منتخب بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے تعمیر نو اور ترقی کا منصوبہ تیار کرے گی۔ بیرونی تجاویز پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اقتصادی منصوبہ بندی عرب قیادت میں ہوگی۔


فلسطینی خصوصی اقتصادی زون قائم کر سکتے ہیں، جس کے محصولات اور تجارتی نرخ فلسطین اور شراکت دار ممالک کے درمیان طے پائیں گے۔


کسی بھی خودمختار فلسطینی علاقے سے کسی کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا۔ جو جانا چاہے وہ آزادانہ جا سکتا ہے اور آزادانہ واپس آ سکتا ہے۔


حماس اور دیگر گروہوں کا حکومتی معاملات میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ تمام فوجی و دہشت گردی کے ڈھانچے ختم کیے جائیں گے، جس کی تصدیق غیر جانب دار مبصرین کریں گے۔


علاقائی شراکت دار اس بات کی ضمانت دیں گے کہ حماس اور دیگر گروہ معاہدے کی پابندی کریں، تاکہ غزہ اپنے ہمسایوں یا اپنے عوام کے لیے خطرہ نہ بنے۔


عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کی دعوت پر فلسطین میں 1 نومبر 2025 سے عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) تعینات کی جائے گی، جو فلسطینی سیکیورٹی کو تربیت و تعاون فراہم کرے گی۔ یہ فورس مصر اور اردن کے مشورے سے سرحدی حفاظت، عوامی تحفظ اور سامان کی تیز تر نقل و حرکت کو یقینی بنائے گی تاکہ تعمیر نو کا عمل تیز ہو۔


اسرائیل نہ تو غزہ اور نہ ہی مغربی کنارے پر قبضہ کرے گا یا اسے ضم کرے گا۔ اسرائیلی افواج 31 دسمبر 2025 تک تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا کر لیں گی، جب تک ISF اور فلسطینی سیکیورٹی کنٹرول سنبھال لیں۔


اگر حماس اس تجویز کو تاخیر کا شکار کرے یا مسترد کرے، تو امداد اور تعمیر نو کا عمل ان علاقوں میں جاری رہے گا جو ISF اور فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں ہوں گے۔


فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان برداشت اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے بین المذاہب مکالمے کا نظام قائم کیا جائے گا۔


یکم جنوری 2026 سے ریاستِ فلسطین اپنی مکمل خودمختار سرزمین پر حکومت کرے گی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 12 ستمبر کی قرارداد اور 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کے مطابق۔


امریکہ ریاستِ فلسطین کو فوری طور پر ایک خودمختار، پُرامن ملک کے طور پر تسلیم کرے گا اور اسے اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت دی جائے گی، تاکہ وہ ریاستِ اسرائیل کے ساتھ امن سے رہ سکے۔

منگل، 7 اکتوبر، 2025

مزاکرات کا دوسرا دن




شرم الشیخ میں مذاکرات کا دوسرا دن کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوا، مگر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ امریکی، قطری، مصری اور ترک نمائندوں کی شمولیت سے امکان بڑھ گیا ہے کہ بدھ کا دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا باہمی بداعتمادی ختم ہو کر ایک پائیدار جنگ بندی کی راہ ہموار کر پاتی ہے یا نہیں — اور کیا غزہ ایک نئے باب کا آغاز دیکھ سکے گا۔

 امن کی نئی امید
مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ یہ دن علامتی طور پر نہایت اہم تھا کیونکہ یہ 7 اکتوبر 2023 کے اُس حملے کی دوسری برسی تھی جس نے موجودہ جنگ کو جنم دیا۔

امریکی امن منصوبہ اور مذاکرات کا محور
مذاکرات کا مرکز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ ہے، جس میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی غیر مسلحی اور غزہ کے لیے ایک بین الاقوامی انتظامی نظام کی تجویز شامل ہے۔
اسرائیل نے منصوبے کو اصولی طور پر قبول کر لیا ہے اور مذاکرات کو "تکنیکی تفصیلات" تک محدود قرار دیا ہے۔ دوسری جانب حماس کا اصرار ہے کہ معاہدے میں مستقل جنگ بندی اور مکمل اسرائیلی انخلا کی ضمانت شامل ہو، جو ابھی تک اسرائیل نے تسلیم نہیں کی۔

پہلا دن
پیر کے روز مذاکرات کے پہلے دن ماحول مثبت رہا۔ مبصرین کے مطابق بات چیت کے اختتام پر ایک محتاط امید پیدا ہوئی۔

گفتگو کے اہم نکات میں یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے، غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل اور ابتدائی انخلا زونز کے تعین پر تبادلہ خیال شامل تھا۔ تاہم سب سے بڑا اختلافی نکتہ یہ رہا کہ حماس چاہتی ہے اسرائیل کسی بھی معاہدے کے بعد دوبارہ جنگ شروع نہ کرے۔

دوسرا دن 
منگل کو مذاکرات میں اہم سیاسی شخصیات شامل ہو گئیں۔ امریکی وفد کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور ترکی کے انٹیلیجنس سربراہ ابراہیم کالن بھی مذاکرات میں شریک ہو چکے ہیں۔
حماس کا اصرار
اسی دوران حماس کے رہنما خلیل الحیہ، جو پچھلے مہینے قطر میں ایک اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے کو کھو چکے تھے، پہلی بار منظرِ عام پر آئے۔ انہوں نے مصری ٹی وی پر کہا کہ حماس صرف ایسے معاہدے پر دستخط کرے گی جس میں مستقل امن کی بین الاقوامی ضمانت ہو۔

عوامی دباو
دنیا بھر میں جنگ کے متاثرین کی یاد میں احتجاجی مظاہرے اور دعائیہ اجتماعات منعقد ہوئے۔ لندن، سڈنی اور نیویارک میں فلسطینیوں کے حق میں ریلیاں ہوئیں، جبکہ اسرائیل میں حملے میں مارے جانے والوں کی یادگار تقاریب منعقد کی گئیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں “پائیدار امن کے امکانات حقیقی لگ رہے ہیں”، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فریقین سے اپیل کی کہ “اس نایاب موقع کو ضائع نہ کریں”۔

تیسرے دن کے مذاکرات سے قبل اہم رکاوٹیں 
غیر مسلحی: ٹرمپ کا منصوبہ حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن حماس نے انکار کر دیا ہے۔
مکمل انخلا: حماس کا کہنا ہے کہ آخری یرغمالی کی رہائی اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے مشروط ہوگی۔
غزہ کا نظم و نسق: منصوبے میں بین الاقوامی انتظامیہ (جن میں ٹونی بلیئر کا ذکر ہے) کی تجویز شامل ہے، جبکہ حماس چاہتی ہے کہ اختیار فلسطینیوں کے پاس رہے۔
بین الاقوامی ضمانتیں: حماس چاہتی ہے کہ کسی تیسرے فریق کی نگرانی میں ایسا قانونی نظام بنے جو اسرائیل کو دوبارہ جنگ سے روکے۔

مبصرین کے مطابق اس بار مذاکرات کا ماحول نسبتاً تعمیری ہے، جس سے ایک ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا ہو گئی ہے۔


کامیابی والے ہنر



کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مئی 2025 کی پاک–بھارت فضائی جھڑپ میں پاکستان نے بھارت جیسے بڑے ملک کی فضائیہ کو اتنی تیزی اور مہارت سے کیسے شکست دی؟
جواب صرف ایک لفظ میں ہے: مصنوعی ذہانت
پاکستانی نوجوان انجینیئرز اور ماہرینِ ٹیکنالوجی نے اے آئی پر مبنی سسٹم تیار کر کے نہ صرف دشمن کے منصوبے پڑھ لیے بلکہ لمحوں میں مؤثر جوابی کارروائی کی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ مستقبل کی جنگیں، معیشتیں اور سیاست — سب ذہانت اور ٹیکنالوجی سے جیتے جائیں گے۔
مصنوعی ذہانت کیا ہے؟
مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانی دماغ کی طرح سوچ، سمجھ، سیکھ اور فیصلے کر سکتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی ڈیٹا، الگورتھم اور کمپیوٹنگ کے ذریعے ایسے نتائج نکالتی ہے جو کبھی صرف انسان ہی نکال سکتے تھے۔
آج اے آئی, چیٹ جی پی ٹی , اور سیک ڈیپ
جیسے پروگراموں میں انسانوں کی طرح گفتگو کرتی ہے،
فیکٹریوں میں روبوٹس کو خودکار بناتی ہے،
اسپتالوں میں بیماریوں کی تشخیص کرتی ہے،
اور موبائل ایپس کو آپ کی پسند سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔
دنیا کس سمت جا رہی ہے؟
امریکی سینیٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اگلے دس برسوں میں 100 ملین نوکریاں مصنوعی ذہانت سے ختم ہو سکتی ہیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے ہوں گے:
فاسٹ فوڈ: خودکار کچن روبوٹس کے ہاتھ میں جائیں گے۔
اکاؤنٹنگ: مالیاتی حساب کتاب خودکار نظام کرے گا۔
ٹرانسپورٹ: سیلف ڈرائیونگ گاڑیاں ڈرائیوروں کی جگہ لیں گی۔
صحت: رپورٹس اور تشخیص مشینیں خود تیار کریں گی۔
تعلیم: اے آئی ہر طالب علم کے لیے ذاتی نصاب تجویز کرے گی۔
یہ تبدیلیاں بظاہر خطرہ لگتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ نئے مواقع کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔
پاکستان کے لیے نئے مواقع
پاکستان میں اگر یہ ٹیکنالوجی درست سمت میں استعمال ہو تو یہ معیشت، تعلیم، زراعت اور دفاع — ہر میدان میں انقلاب لا سکتی ہے
نوجوانوں کے لیے سنہری موقع
پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ملک کو ترقی کی نئی راہ پر ڈال سکتی ہے۔
نوجوانوں کو درج ذیل شعبوں میں مہارت حاصل کرنی چاہیے:
ڈیٹا اینالیسس اور پروگرامنگ
مشین لرننگ اور روبوٹکس
ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس
ویڈیو ایڈیٹنگ اور گرافک ڈیزائن
سائبر سیکیورٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ
یہ مہارتیں انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنائیں گی، جہاں وہ صرف نوکری نہیں بلکہ خود روزگار بھی پیدا کر سکیں گے۔

پیر، 6 اکتوبر، 2025

مذاکرات کا پہلا دن


مذاکرات کا پہلا دن
مصر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا پہلا دن احتیاط کے ساتھ مگر امید افزا انداز میں مکمل ہوا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر پیش رفت کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
بحیرہ احمر کے ساحلی سیاحتی شہر شرم الشیخ میں ہونے والی بات چیت کو “مثبت” قرار دیا گیا، جہاں فریقین نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے ایک واضح روڈمیپ پر اتفاق کیا۔ یہ طے پایا کہ مذاکرات منگل کو دوبارہ ہوں گے۔
حماس کے نمائندوں نے ثالثوں کو آگاہ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی سے متعلق پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پہلے دن کی گفتگو تین اہم نکات پر مرکوز رہی: قیدیوں اور مغویوں کا تبادلہ، جنگ بندی، اور غزہ میں انسانی امداد کا داخلہ۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اسرائیلی مغویوں اور فلسطینی قیدیوں کی جلد رہائی کو اولین ترجیح دے رہے ہیں تاکہ امن منصوبے کے دیگر نکات پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو۔ ان کا کہنا تھا، “ٹیکنیکل ٹیمیں دونوں فریقوں کی فہرستوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ رہائی کے لیے مناسب ماحول یقینی بنایا جا سکے۔”
صدر ٹرمپ نے کہا، “ہمارے پاس معاہدہ کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ ہم اچھی پیش رفت کر رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ حماس نے کچھ اہم معاملات پر مثبت لچک دکھائی ہے۔” انہوں نے عرب و ترک مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی کی بدولت حماس مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک غزہ میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ، عالمی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں (بشمول اسرائیلی ادارے) ان کارروائیوں کو نسل کشی قرار دے چکی ہیں۔
پیر کے روز مذاکرات کے دوران بھی اسرائیلی حملوں میں کم از کم دس فلسطینی شہید ہوئے، جن میں تین وہ افراد شامل تھے جو انسانی امداد کے حصول کی کوشش کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اپنے بیان میں حماس کے 2023 کے “بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملے” کو “قابلِ مذمت” قرار دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پیش کردہ حالیہ تجویز ایک ایسا موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق “ایک مستقل جنگ بندی اور قابلِ اعتماد سیاسی عمل ہی مزید خونریزی روکنے اور پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہے۔”

چینی صدر کا بیان




چینی صدر کا بیان:

"We reviewed the U.S. standards for defining terrorism... and found that they apply perfectly to Israel."

یہ جملہ محض ایک سیاسی ریمارک نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار پر کڑا سوال ہے۔ چین نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ اگر دنیا وہی اصول اختیار کرے جو امریکہ نے خود طے کیے ہیں، تو اسرائیل صاف صاف ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر سامنے آتا ہے۔

دہشت گردی کی تعریف میں سب سے پہلے نہتے شہریوں پر حملہ آتا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کے رہائشی علاقوں، اسپتالوں اور اسکولوں پر وہ ظلم ڈھایا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ عورتیں، بچے، معذور، حتیٰ کہ نومولود تک اسرائیلی بمباری کی زد میں آئے۔ دنیا کا کون سا قانون ہے جو اسے دہشت گردی نہیں کہتا؟

اس کے بعد اجتماعی سزا کا معاملہ ہے۔ کسی خطے کو خوراک، پانی، بجلی اور دواؤں سے محروم کرنا بظاہر جنگ نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف اعلان ہے۔ غزہ کو ایک کھلی جیل میں بدل دینا اور وہاں مصنوعی قحط پیدا کرنا، امریکہ کے اپنے ہی بیان کردہ "state terrorism" کے معیار پر پورا اترتا ہے۔

سیاسی دباؤ کے لیے خوف اور دہشت کا استعمال بھی اسرائیل کے طریقۂ کار کا حصہ ہے۔ فلسطینیوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے ان کی زمین چھینی جاتی ہے، ان کے گھروں کو مسمار کیا جاتا ہے اور بستیاں آباد کی جاتی ہیں۔ یہی وہ عمل ہے جسے دنیا نسل کشی اور نسلی تطہیر کے نام سے جانتی ہے۔

اقصیٰ مسجد اور دیگر مقدس مقامات پر حملے بھی اسرائیل کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ نمازیوں پر تشدد، عبادت میں رکاوٹ اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنا محض سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی کا دوسرا رخ ہے۔

چین کے نزدیک اصل نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کو مسلسل پامال کرتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں ایک کے بعد ایک نظر انداز کی جاتی ہیں، لیکن مغربی دنیا آنکھیں بند کیے بیٹھی رہتی ہے۔ یہ وہی دوہرا معیار ہے جسے چین نے بے نقاب کیا ہے۔

دہشت گردی صرف بم یا بندوق نہیں، بلکہ پروپیگنڈہ بھی اس کا ہتھیار ہے۔ اسرائیل نے میڈیا کی طاقت استعمال کرکے دنیا کے سامنے جھوٹا بیانیہ بیچا اور اپنے مظالم کو چھپایا۔ یہ بھی دہشت گرد سوچ کی علامت ہے۔

آخر میں سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ کے وضع کردہ اصول ہی عالمی معیار ہیں تو پھر ان پر اسرائیل کیوں پورا نہیں اترتا؟ چین نے یہ سوال اٹھا کر دراصل دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔