ہفتہ، 4 اکتوبر، 2025

اسرائیل گھٹنوں کے بل




غزہ اس وقت بدترین انسانی المیے سے گزر رہا ہے۔ اسرائیلی بمباری میں معصوم بچے اور حاملہ عورتیں نشانہ بن رہی ہیں، گھر تباہ اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ تعلیمی ادارے کھنڈر بن گئے ہیں اور ہسپتالوں کو بمباری سے مٹایا جا چکا ہے۔ طبی عملے کے قتل اور ادویات کی کمی نے صورت حال کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔ غزہ کے عوام معاشی اور سماجی طور پر مکمل بربادی کے دہانے پر ہیں۔

اسرائیل نے نہ صرف یرغمالیوں کی بازیابی کے بہانے تشدد جاری رکھا بلکہ عالمی امدادی قافلوں اور کشتیوں پر بھی حملے کیے، جن کا مقصد بھوکے بچوں اور مریضوں تک خوراک و ادویات پہنچانا تھا۔ یہ اقدامات عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھے۔

عرب اور مسلم ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایک امن روڈ میپ سامنے آیا، جس میں فوری جنگ بندی، خوراک اور طبی امداد کی فراہمی اور صحت کے نظام کی بحالی شامل تھی۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اس کا اعلان کیا مگر نیتن یاہو کی ترامیم نے معاہدے کو شروع ہونے سے پہلے ہی کمزور کر دیا۔ قطر پر حملے کی دھمکی کے جواب میں ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر نے اگرچہ قطر میں موجود حماس قیادت کو وقتی تحفظ دیا، مگر اسرائیلی جارحیت کے اصل مسئلے کو حل نہ کر سکا۔

امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ پر شدید دباؤ بڑھا۔ اس کے قریبی حمایتی چارلی کرک کے قتل کو کئی حلقوں نے اسرائیلی کارستانی قرار دیا۔ اس پر مشہور اینکر ٹکر کارلسن نے دو ٹوک سوال اٹھایا: "کیا اسرائیل امریکہ کو کنٹرول کر رہا ہے؟" یہ سوال امریکی عوام کے ذہنوں میں گونج بن کر ابھرا اور ٹرمپ انتظامیہ کو دفاعی پوزیشن پر لے آیا۔

اس دوران پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا نے ایک واضح اور جرات مندانہ حکمتِ عملی اپنائی۔ ان ممالک نے عرب دنیا کے ساتھ کھڑے ہو کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا اور سلامتی کونسل میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مضبوط موقف اختیار کیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے عوامی بیان دے کر نہ صرف حالات پر گہری نظر ڈالی بلکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار کا سوال ہے۔ اس بیان نے پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر نمایاں کیا اور امن کی جستجو میں نئی توانائی پیدا کی۔

حماس نے بھی امن معاہدے کی چند شقوں پر نظرثانی کا اشارہ دیا، جسے ٹرمپ نے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ اس نے نیتن یاہو کو مزید دباؤ میں ڈال دیا کیونکہ اسرائیل کے اندر اس کی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے، کابینہ ٹوٹنے کے قریب ہے اور عدالتیں اس کے خلاف مقدمات کی تیاری کر رہی ہیں۔ یورپی ممالک بھی اس کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اپنی سیاسی بقا کے لیے وہ کبھی لبنان، کبھی ترکیہ اور کبھی ایران پر حملے کی باتیں کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی پشت پناہی کے بغیر اسرائیل زیادہ دیر اقتدار میں نہیں رہ سکتا۔

موجودہ حالات میں سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان، انڈونیشیا اور فرانس سمیت کئی ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ اگر امریکہ اپنے اندرونی دباؤ کے تحت اسرائیل کو مزید کھلی چھوٹ دینے سے پیچھے ہٹ جائے تو غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی ممکن ہے۔ یہ بحران واضح کر رہا ہے 
کہ فلسطین کے مسئلے پر عالم اسلام متحد ہو کر ایک نئے سیاسی توازن کو جنم دے سکتا ہے۔
عرب اور مالمان ممالک نے پہلی بار ایسا اتحاد دکھایا ہے جس نے سرائیل کو گھٹنوں کے بل کر دیا ہے ۔ اور اسرائیل کا ناقبل تسخیر ہونے کا پروپیگندہ بحیرہ مردار میں دفن ہو چکا ہے ۔

جنوں کے کھودے کنویں




جنات کے کھودے کنوویں

حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ آپ پر نہ صرف انسان بلکہ جنات اور دیگر مخلوقات بھی مسخر تھیں۔ ان کے دور میں عدل، فلاحِ عامہ اور معاشرتی ترقی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ ان کے حکم سے انسانوں کی بھلائی کے لیے کئی اقدامات کیے گئے جن میں پانی کی فراہمی اور زراعت کی بہتری کے لیے کنوؤں کی کھدائی بھی شامل تھی۔ یہ کھدائی عام انسانی طاقت کے بس کی بات نہ تھی، بلکہ اس میں جنات نے براہِ راست کردار ادا کیا۔

سعودی محقق ڈاکٹر فہد الغامدی اپنی کتاب تاریخ نجد و الحجاز کے آثار  میں لکھتے ہیں
"حجاز اور نجد کے بعض دیہاتوں میں ایسے کنویں موجود ہیں جن کی گہرائی اور پتھریلی ساخت انسانی محنت کے معیار سے بالا نظر آتی ہے۔ مقامی لوگ انہیں آج بھی جنات کی کارستانی قرار دیتے ہیں اور یہ روایات نبیوں کے ادوار سے جوڑی جاتی ہیں۔"

اسی طرح ڈاکٹر صالح المانع اپنے مقالے 
Arabian Wells and Mythical Narratives 
 میں بیان کرتے ہیں
"مکہ اور طائف کے نواحی دیہاتوں میں کچھ کنویں 'آبار الجن' یعنی جنات کے کنویں کہلاتے ہیں۔ یہ نام محض قصہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی یادداشت ہے جو ان تعمیرات کو ماورائی قوتوں سے جوڑتی ہے۔"

برطانوی مستشرق رچرڈ برٹن نے اپنی کتاب 
Personal Narrative of a Pilgrimage to Al-Madinah and Meccah (1855)
 میں حجاز کے انہی کنوؤں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا
"دیہات کے کچھ قدیم کنویں ایسے ہیں جنہیں مقامی لوگ جنات کے کام سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کی گہرائی اور مضبوطی کو دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ صرف انسانی قوت سے ممکن ہوئے ہوں۔"

امریکی ماہر بشریات ڈاکٹر کیتھ ہاورڈ اپنی تحقیق 
Myth and Reality in Arabian Oral Traditions (1999) 
میں لکھتے ہیں
"جنات سے منسوب کنویں محض دیومالائی کہانیاں نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ عرب معاشرے نے غیر معمولی انجینئرنگ کارناموں کو ماورائی مخلوقات کے ساتھ منسوب کر کے اپنی یادداشت میں محفوظ رکھا۔"

روایات میں بیان ہے کہ جب جنات کے سردار نے ایک بڑا کنواں کھود کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے کہا:
"اے اللہ کے برگزیدہ! ہم نے آپ کے حکم پر یہ کنواں کھودا تاکہ انسانیت پیاس سے محفوظ ہو۔"
حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا:
"یہ اللہ کی قدرت اور اس کی مخلوق کے تعاون کا مظہر ہے۔ جب انسان اور جن، اللہ کی اطاعت میں یکجا ہو جائیں تو زمین پر برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے۔"

حضرت یعقوب علیہ السلام کی حکومت صرف ایک زمینی اقتدار نہ تھی بلکہ کائنات کی مختلف مخلوقات کو ایک مقصدِ خیر کے تحت جوڑنے کی ایک روشن مثال تھی۔ سعودی اور مغربی محققین کی تحقیقات بھی اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ عرب کی سرزمین پر ایسے آثار موجود ہیں جنہیں صدیوں سے جنات کی کارستانی اور انبیاء کے حکم سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔

جمعہ، 3 اکتوبر، 2025

شادی کے ساتھ جڑی ہوئی معاشی ذمہ داریاں

 اسلامی اور معاشرتی تعلیمات میں شادی کو ایک پاکیزہ رشتہ اور ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جب لڑکا یا لڑکی 18 سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ بالغ ہوتے ہیں اور نکاح کے قابل سمجھے جاتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف بالغ ہونا کافی نہیں، شادی کے ساتھ جڑی ہوئی معاشی ذمہ داریاں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ شادی کے بعد مرد پر بیوی اور اولاد کی کفالت کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو 22 سال کی عمر تک پہنچنے والے اکثر لڑکے تعلیم یا ہنر حاصل کرنے کے مراحل میں ہوتے ہیں اور مالی طور پر کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے میں فوری شادی کر دینا نہ صرف لڑکے کے لیے بلکہ لڑکی کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتا ہے۔

غریب گھرانوں کے لڑکے جو والدین اور بہن بھائیوں کی کفالت کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے شادی کی جلدی عمر مناسب نہیں ہوتی۔ ایسے لڑکوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ پہلے اپنی آمدن مستحکم کریں اور پھر شادی کریں، جو اکثر 24 سے 26 سال کی عمر میں ممکن ہو پاتا ہے۔

پاکستان میں بدلتا ہوا رویہ

پاکستانی معاشرے میں عمومی رویہ بدل رہا ہے۔ اب نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی عملی زندگی میں قدم رکھ کر ذاتی آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ شادی شدہ زندگی میں کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب جوڑا عملی سوچ رکھنے والا ہو۔ اگر مرد کمانے والا ہو لیکن عورت بالکل انحصار کرنے والی ہو تو بعض اوقات معاشی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ مرد کے ساتھ ساتھ عورت بھی آمدنی حاصل کرنے والی ہو تاکہ دونوں مل کر زندگی کی ذمہ داریوں کو آسانی سے نبھا سکیں۔

عورت کا روزگار اور اسلامی تعلیمات

اسلامی تعلیمات اور پاکستانی معاشرے کی ضرورت کے مطابق لڑکیوں کے لیے تدریس، صحت اور آئی ٹی جیسے شعبے نہ صرف موزوں ہیں بلکہ ان میں کام کرنے والی خواتین کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک خود انحصار عورت نہ صرف اپنے شوہر کا سہارا بنتی ہے بلکہ والدین اور خاندان کے لیے بھی فخر کا باعث ہوتی ہے۔

عملی حل

  1. شادی کے فیصلے میں صرف عمر نہیں بلکہ معاشی حالات کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔

  2. لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی تعلیم اور ہنر کے ذریعے خود انحصاری کی طرف لایا جائے۔

  3. شادی کے اخراجات میں سادگی کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان جوڑے بوجھ سے آزاد رہیں۔

  4. والدین اپنے بچوں کو اس سوچ کے ساتھ تیار کریں کہ دونوں مل کر ایک کامیاب اور متوازن زندگی گزار سکیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ آج کے دور میں کامیاب ازدواجی زندگی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب شادی بالغ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی خودمختاری اور عملی منصوبہ بندی کو سامنے رکھ کر کی جائے۔

شادی کی عمر



شادی کی عمر
پاکستانی معاشرے میں شادی کی عمر ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر شادی کے لیے صحیح عمر کون سی ہے؟ کیا صرف جسمانی بلوغت ہی کافی ہے یا ذہنی اور جذباتی پختگی بھی ضروری ہے؟ یہ سوال نہ صرف مذہبی پہلو رکھتا ہے بلکہ سائنسی، سماجی اور قانونی حوالوں سے بھی اس پر غور کیا جانا چاہیے۔

اسلام کا نقطۂ نظر
اسلام شادی کو محض ایک رسم یا ذاتی خواہش نہیں بلکہ ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید میں "بلوغ النکاح" یعنی ازدواجی بلوغت اور "رشد" یعنی سمجھ بوجھ کو لازمی شرط قرار دیا گیا ہے (سورۃ النساء، آیت 6)۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف جسمانی طور پر بالغ ہونا کافی نہیں بلکہ عقل و شعور کے ساتھ ازدواجی زندگی کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہونا بھی ضروری ہے۔
احادیث میں اس بات کی ترغیب ملتی ہے کہ جو نوجوان شادی کی ذمہ داری نبھانے کے قابل ہوں، وہ جلد نکاح کریں تاکہ وہ اپنی زندگی کو پاکیزگی اور سکون کے ساتھ گزار سکیں۔ (صحیح بخاری و مسلم)۔

سائنسی حقیقت
جدید سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ انسان 18 سال کی عمر کے بعد جذباتی اور نفسیاتی طور پر پختگی حاصل کرتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق کم عمری کی شادی ماؤں اور بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ یونیسیف (UNICEF) کے اعداد و شمار کے مطابق 18 سال سے پہلے کی گئی شادیاں زیادہ تر گھریلو مسائل، تعلیم میں رکاوٹ اور صحت کی خرابی کا باعث بنتی ہیں۔

پاکستان میں صورتحال
ہمارے ہاں قانون بھی اس مسئلے پر یکساں نہیں۔ سندھ میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال رکھی گئی ہے، لیکن پنجاب اور وفاقی سطح پر لڑکیوں کے لیے یہ عمر 16 سال اور لڑکوں کے لیے 18 سال ہے۔ اس تضاد کے باعث عدالتوں میں مقدمات اور معاشرے میں الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ صرف پنجاب میں 2020 سے 2023 تک کم عمری کی شادی کے دو ہزار سے زیادہ کیس درج ہوئے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

دیہی اور شہری فرق
شہری علاقوں میں عموماً شادی 20 سے 25 سال کی عمر میں کی جاتی ہے اور یہ شادیاں زیادہ پائیدار اور خوشگوار ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ تعلیم مکمل ہو چکی ہوتی ہے اور ذہنی پختگی بھی آ چکی ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادیوں کے باعث اکثر لڑکیاں تعلیم چھوڑ دیتی ہیں اور گھریلو جھگڑوں کا سامنا کرتی ہیں۔

بحث 
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام ہو یا جدید سائنس، دونوں کا زور پختگی اور ذمہ داری پر ہے۔ کم عمری کی شادی نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان اور معاشرے پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ شادی کو زندگی کا ایک سنجیدہ فیصلہ سمجھ کر کرنا چاہیے، نہ کہ صرف روایت یا رسم کے طور پر۔

جمعرات، 25 ستمبر، 2025

Trump, the Middle East, and the UN’s Crisis of Credibility




Trump, the Middle East, and the UN’s Crisis of Credibility

The Middle East, a land burdened with wars and unresolved disputes, has long been a testing ground for international diplomacy. Palestine and Kashmir stand out as symbols of the United Nations’ repeated failures. Into this troubled stage stepped Donald Trump — a president with a showman’s flair, a businessman’s bargaining instincts, and an eye fixed firmly on both domestic politics and his own place in history.

Trump often spoke of “ending endless wars.” Behind that rhetoric was a personal desire for the Nobel Peace Prize, a trophy that would elevate him into the league of great statesmen. He wanted to be remembered as the man who brought peace where others had failed. Yet his actions painted a different picture. His administration denied entry to New York for Mahmoud Abbas, the President of the Palestinian Authority, blocking him from attending a UN General Assembly session on Palestine. Silencing the voice of Palestine while amplifying Israel’s narrative told the world where Washington’s loyalties lay.

That loyalty was not accidental. At home, Trump’s survival in politics depended on safeguarding Israel and aligning with the powerful Zionist lobbies that shape America’s Congress, media, and think tanks. Criticizing the U.S. president, the Senate, or even religion may be tolerated in America, but to question Israel remains the one unforgivable sin in public discourse. Netanyahu’s frequent diatribes against Muslims and liberals found an echo in Trump’s speeches, a clear demonstration of how closely the U.S. president followed the Israeli prime minister’s script.

Trump’s international conduct was equally controversial. In his UNGA addresses, he mocked London’s Mayor Sadiq Khan and earlier singled out Zohran Mumdani, a Muslim politician in New York. During his London visit, Sadiq Khan was deliberately excluded from the state dinner. These actions revealed more than personal grudges — they reflected a worldview shaped by suspicion of Muslims and amplified by Israel’s agenda.

But perhaps the most telling aspect of Trump’s UN narrative was not what he said, but what he ridiculed. He complained about the malfunctioning teleprompter and even the elevators at the UN headquarters, while ignoring the organization’s far deeper malfunctions. The UN has consistently failed to resolve the Palestinian and Kashmiri crises, not because of broken machines, but because of a broken system — the veto power.

Here lies the heart of the problem. Time and again, when the majority of the UN General Assembly stood united against Israeli actions, the United States used its veto in the Security Council to shield its ally. Democracy within the UN collapses at the stroke of a single veto. This flaw mirrors the collapse of the League of Nations and threatens to turn the UN into nothing more than a debating club. If Trump was serious about restructuring the UN, then the first and most urgent reform must be a reconsideration of the veto power. Without it, the dream of a peaceful world will remain empty rhetoric.

Funding has also become a weapon. The U.S. is the largest contributor to the UN, but Trump cut funding significantly, holding the institution hostage to Washington’s political will. This raised serious questions: should the UN remain in New York, under constant U.S. pressure? Or should it be moved to Europe, to a more neutral ground? And why should the financial lifeline of global governance depend on one country alone? A more balanced system — where each nation contributes according to its GDP — could finally give the UN the independence it desperately needs.

In the end, Trump’s Middle East policy was a mixture of ambition, bias, and political expediency. Pressured by Muslim leaders, urged by Europeans, and tempted by the lure of a Nobel Peace Prize, he still chose the path of one-sided loyalty to Israel. His speeches and actions revealed the depth of Zionist influence in American politics and the weakness of the UN in confronting it.

The tragedy is not Trump alone. The tragedy is an international order where peace is blocked not by the will of nations, but by the veto of one. Unless the UN reforms this structural flaw, it will remain a stage for speeches — not solutions — and the people of Palestine, Kashmir, and beyond will continue to pay the price.