پیر، 28 جنوری، 2019

اندھا کنواں ظالم ڈول



علم ہوکہ حکم، رویہ یا معاملہ جب اس کو فطرت کے اصول کے خلاف استعمال کیا جائے گا تو ظلم کہلائے گا۔اور مظلوم وہ ہوتا ہے جس کو ایسا کام کرنے پر مجبور کر دیا جاٗے جو اس کا نہ ہو۔ انفرادی زندگی میں ظلم کا نتیجہ بیماری، معذوری اور خود کشی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے ۔ خاندانوں میں ظلم نفرت، ناچاکی اور طلاق کا سبب بنتا ہے اور معاشروں میں جھوٹ، فریب، ڈاکہ ، دہاندلی اور قبضوں کا چن چڑہاتا ہے۔ ریاستی سطح پر بے اعتمادی، بد گمانی ، لوٹ کھسوٹ اور رشوت کو تقویت دیتا ہے۔ 

معاشرے کی مثال ایک دریا کی مانند ہوتی ہے جو اپنے فطری راستوں اور رفتار سے بہتا ہے۔ بہتے دریاو ں میں مخصوص موسموں میں طغیانی آنا بھی فطری عمل ہے البتہ بہتا دریا اچانک خشک ہو جائے تو یہ عمل فطری شمار ہو گا۔ پاکستان میں بہتے دریا خشک ہو گئے مگر ظلم یہ ہواکہ کسی جہاندیدہ بزرگ نے لاٹھی پکڑ کر پہاڑ پر نہ چڑہنا ہی گوارا نہ کیا۔

پاکستان کے عسکری ادارے کے ایک سربراہ نے اپنے ادارے اور حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تو ادارے کے اندر سے کسی نے مزاحمت کی نہ کسی نے احتجاج کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ وہ ملک جو بناتے وقت لاکھوں جانوں کی بلی دی گئی تھی ۔ اس کے دو لخت ہونے پر نہ کسی کی غلطی کی نشان دہی کی گئی نہ کسی پر مقدمہ چلا۔کیا اس کو ظلم کے علاوہ کوئی دوسرا نام دیا جا سکتا ہے؟

ملک کی بنیاد رکھنے والوں نے صاف الفاط اور واضح لہجے میں بتایا تھا کہ یہ ایسا ملک ہوگا جہان تمام لوگوں کو امن میسر ہو گا۔ انگریز سے آزادی کا مطلب تھاشہریوں کو ریاست کے لیے قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے تحفظ مہیا کیا جائے گا۔ سماجی اور معاشی انصاف قائم کیا جائے گا۔ انسان کی تکریم کی مثال قائم کی جائے گی تاکہ دوسرے ملکوں کو اس نظام کو اپنے ہاں نافذ کرنے کی حرص پیدا ہو۔ ظلم یہ ہوا کہ عملی طور پر ہم نے ایسا ملک بنایا جہاں انسانی جان بے وقعت ہو کر رہ گئی۔ ریاست عوام دوست کا کردار ادا کرنے کی میں ناکام ہی نہیں ہوئی بلکہ عوام دشمنی کو اپنی کامیابی گرداننے لگی۔اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنے ہی شہریوں کو اپنی ہی سرزمین سے پکڑ کر دشمن کو فروخت کرے اور باقی ماندہ لوگوں کو ظلمتوں میں دھکیل کر بیرون ملک جا بسے اور ریاست چپ سادھ لے۔

ملک کی سب سے اونچی عدالت کے سب سے بڑے منصف کی عدالت میں منصف کے روبرو ایک شخص منصف پر رشوت مانگنے کا الزام لگائے ،الزام کی تردید ہو نہ عدالت کی توہین کا مقدمہ قائم کیا جائے نہ اس شخص کو پاگل خانے بھیجا جائے ۔ عدالتوں میں مقدما ت پر ریلیف دینے کی روائت تو کسی کتاب میں پڑہی نہ اخباروں مین دیکھی مگر دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا نظام عدل درجنوں ملکوں سے بہتر ہے ۔ ایسی خود فریبی کو ظلم کے علاوہ دوسرا کیا نام دیا جائے۔

اللہ کا طریقہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو پیشانی سے قابو کرتا ہے مگر ہماری حکومتوں کا شیوہ ہے وہ مخالفین کو کرپشن کے نام پر پکڑتی ہیں۔ کرپشن وہ غبارہ ہے جس میں بے بنیاد پروپیگنڈے کی ہوا بھر کر اس کو پھلایا جاتا ہے اور عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ کرپشن سے بھرا ہوا ہے ۔عجیب بات یہ ہے کہ جو معاشرہ سول حکومت کے دوران کرپٹ ہوتا ہے ۔ کسی آمر کے آتے ہی حاجی اور پرہیز گار ہو جاتا ہے مگر جوں سول حکومت قدم رنجہ ہوتی ہے یہ شیطان اسی لمحے مخالفین پر اپنا جال پھینک کر انھیں کرپٹ بنا دیتا ہے۔ یہ جو اہل دانش کا فرما ن ہے کہ ظلم کا معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا ۔ ان کو کوئی جا کر خبر کرے ۔آو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ہم نے ظلم کے غبارے میں اپنے جبر سے ہوا بھر کے اسے قائم بھی رکھاہوا ہے۔

کرپشن وہ اندھا کنواں ہے جس میں بار بار ڈول ڈالا جاتا ہے ۔ پہلے لوگ ڈول ڈالنے کے اس تماشے کو اشتیاق سے دیکھتے تھے۔ مگرہر بار اور بار بار یہ ڈول بے مراد ہی واپس آیا ہے۔ اب عوام بھی جان چکی ہے اس اندھے کنویں میں امید کا گمان بھی نہیں ہے ۔ جبر مگر یہ ہے کہ یہ ظالم ڈول ڈالنے والوں کے لیے خالی نہیں ٓتا۔اور یہی سب سے بڑا ظلم ہے ۔

اتوار، 27 جنوری، 2019

چارج شیٹ کا سال

درندگی کا کلچر

پارلیمانی نظام کا مستقبل

عمران کے وسیم اور انضمام، حقیقت کیا ہے؟

محمد بلال غوری

ترازو


بالعموم سپاہی کے بارے میں کہا جاتا ہے کوئی شخص ایک بار سپاہی بن گیا تو پھر وہ زندگی بھر سپاہی رہتا ہے لیکن شاید یہ بات کھلاڑیوں پر بھی صادق آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہردلعزیز اسکپر کسی بھی موقع پر کرکٹ کا حوالہ دینا نہیں بھولتے۔ ان کی کوئی تقریر 92کے ورلڈ کپ اور کرکٹ کی اصطلاحات کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ جب وہ اپوزیشن میں ہوا کرتے تھے تو بائونسر کروانے اور وکٹیں اُڑانے کی باتیں ہوتیں یہاں تک کہ انہوں نے ایک بال سے بیک وقت دو وکٹیں اڑانے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کا خیال ہے کہ اب فیلڈنگ کا مرحلہ تمام ہوا، اس لئے وہ جارحانہ بلے بازی کی باتیں کرتے ہیں۔ چند روز قبل قطر میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے اسکپر نے بتایا کہ جب ہم نے بیٹنگ شروع کی تو پاکستان 20رنز کے مجموعی اسکور پر 4وکٹیں گنوا چکا تھا لیکن اب فکر کی کوئی بات نہیں، میانداد اور عمران خان وکٹ پر موجود ہیں۔ جب انہوں نے میانداد کا حوالہ دیا تو مجھے 1987ء ورلڈ کپ کا پہلا سیمی فائنل یاد آگیا جو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آسٹریلیا اور پاکستان کے مابین کھیلا گیا۔
پاکستان نے 267رنز کے تعاقب میں اپنی اننگز شروع کی تو میچ پر گرفت بہت مضبوط تھی۔ جاوید میانداد اور عمران خان وکٹ پر موجود تھے اور فکر کی کوئی بات نہ تھی۔ جاوید میانداد 70رنز بناکرکلین بولڈ ہوئے تو عمران خان بھی 58رنز بنا کر کیچ آئوٹ ہو گئے۔ ایک موقع پر 45گیندوں پر محض 31رنز درکار تھے لیکن وکٹیں گرنے کے باعث پاکستان یہ میچ ہار گیا۔ شکست کے بعد اسکپر منہ بسور کر زمان پارک میں بیٹھ گئے اور اسپورٹس رپورٹرز کو بلا کر بتاتے رہے کہ یہ میچ پاکستان میاندادکی سلو بیٹنگ کی وجہ سے ہارا ہے۔ بہرحال اسکپر کو کھیل میں سیاست کے فن پر عبور حاصل تھا اس لئے بہت جلد میانداد کا پتا صاف کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
جب عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی مخالفت ہوئی تو اسکپر نے کہا، میرا یہ انتخاب وسیم اکرم کی طرح درست ثابت ہوگا اور عثمان بزدار ایک دن وسیم اکرم پلس بنے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وسیم اکرم واقعی عمران خان کا انتخاب تھا اور یہ موازنہ درست ہے؟ زندگی بھر اسپورٹس رپورٹنگ کرنے والے صحافی بتاتے ہیں کہ وسیم اکرم کبھی عمران خان کا انتخاب نہیں رہے۔ لاہور کے علاقے مزنگ کا رہائشی وسیم اکرم لاہور میں ’’کھبا‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور لُدھیانہ جمخانہ کی طرف سے کھیلا کرتا تھا۔ چونکہ لُدھیانہ جمخانہ ان دنوں لاہور کرکٹ ایسوسی ایشن کی مقامی سیاست میں اپوزیشن کیمپ کا حصہ تھا اس لئے اسے چانس نہ دیا گیا۔ لیجنڈری خان محمد جو پاکستان کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ تھے، انہیں بلا کر لاہور قذافی اسٹیڈیم میں ٹیلنٹ ہنٹ کیمپ لگایا گیا۔ خان محمد نے کہا کہ ’’کھبے‘‘ کو دو سال کی کرکٹ مل گئی تو یہ اڑا کر رکھ دے گا۔ ان دنوں نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان آ رہی تھی، اسکپر نے کھیلنے سے انکار کر دیا۔
کرکٹ بورڈ نے میانداد کی منت سماجت کی، میانداد نے اس شرط پر ٹیم کی کپتانی کرنے پر آمادگی ظاہر کی کہ نیوزی لینڈ ریٹرن ٹور بھی انہی کی کپتانی میں بھیجا جائے گا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم آئی تو 3روزہ پریکٹس میچ میں وسیم اکرم کو پریزیڈنٹ الیون کی جانب سے کھلایا گیا تو اس نے شاندار بائولنگ کی اور 7وکٹیں لے اُڑا۔ لیکن وسیم اکرم کو قومی ٹیم میں چانس نہ دیا گیا اور پھر جب میانداد کی کپتانی میں ریٹرن ٹور نیوزی لینڈ گیا تو وسیم اکرم کو موقع دیا گیا، یوں وسیم اکرم کو کسی حد تک جاوید میانداد کا انتخاب کہا جا سکتا ہے یا پھر اس دریافت کا سہرا لیجنڈری خان محمد کو جاتا ہے۔
کرکٹ سے شناسائی رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسکپر کی نظر انتخاب دو کھلاڑیوں پر ٹھہری اور وہ دونوں کامیاب اننگز نہ کھیل سکے۔ منصور اختر ایک نجی بینک کی طرف سے کھیلا کرتے تھے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کے بہترین بلے باز تھے۔ انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 561رنز کی شراکت کا ورلڈ ریکارڈ بھی بنایا۔ اسکپر نے منصور اختر کو نہ صرف ٹیم میں جگہ دی بلکہ اوپننگ بلے باز کے طور پر کھلایا لیکن یہ تجربہ ناکام ہو گیا اور منصور اختر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے تو اسکپر نے جم کر دفاع کیا اور بتایا کہ یہ ڈومیسٹک کا بہترین بلے باز ہے، ایک دن انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی بلے بازی کے جوہر دکھائے گا۔ اسکپر نے شدید مخالفت کے باوجود منصور اختر کو 41ون ڈے میچ کھلائے اور وہ 35اننگز میں 17.4کی اوسط سے صرف 593اسکور بنا سکے اور سب سے زیادہ اسکور 47رہا۔ اسکپر لوگوں کی تنقید کو خاطر میں لانے کے روادار نہیں مگر جب کوچ اور سلیکشن کمیٹی نے فیصلہ کرلیا تو پھر ہار ماننا پڑی۔ اسی طرح لیفٹ آرم لیگ اسپنر ندیم غوری جنہوں نے بطور امپائر خاصا نام کمایا، وہ بھی اسکپر کا غلط انتخاب ثابت ہوئے۔ 1990ء میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران اسکپر نے روایتی انداز میں سوچھے سمجھے بغیر ندیم غوری کو بلایا اور پوچھا:آسٹریلیا کے خلاف کھیلو گے؟ اس نے کہا:ہاں! کیوں نہیں۔ اسکپر نے کہا:تو پھر آ جائو۔ ندیم غوری ٹیسٹ میچ میں کوئی وکٹ نہ لے سکے۔ بعد ازاں 6ون ڈے میچوں میں بھی موقع دیا گیا لیکن عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ دکھا سکے۔
اسکپر اب سیاسی اننگز کو کرکٹ کے انداز میں کھیل رہے ہیں تو ان کی مرضی لیکن کرکٹ اصطلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے موازنہ تو درست کیا کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی اننگز کا آغاز بغیر کسی وکٹ کے نقصان پر کیا تھا اور بہت کم اسکور پر ان کی وکٹیں گر چکی ہیں حالانکہ اس سے قبل انہیں خیبر پختونخوا میں نیٹ پریکٹس کا بھی بھرپور موقع دیا گیا تھا۔ جہاں تک پنجاب میں عثمان بزدار اور خیبر پختونخوا میں محمود خان کے انتخاب کا تعلق ہے، ان کا موازنہ وسیم اکرم اور انضمام سے کرنا درست نہ ہوگا کیونکہ یہ دونوں کھلاڑی کبھی اسکپر کا انتخاب نہیں رہے۔ ہاں! البتہ ان دونوں کو منصور اختر اور ندیم غوری سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی اس واہمے میں مبتلا ہے کہ اسکپر کو غلطی کا احساس ہو گیا ہے، اس لئے انتخاب پر نظر ثانی متوقع ہے تو وہ اپنا مغالطہ دور کر لیں، اسکپر کسی قسم کی مخالفت یا تنقید کو خاطر میں نہیں لاتا، البتہ ڈریسنگ روم میں بیٹھے وہ کوچ جنہوں نے اسے اسکپر بنایا، کی طرف سے فیصلہ ہو جائے تو سرتابی نہیں کی جا سکتی۔ اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ ان کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے۔