منگل، 27 جنوری، 2026

خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ



خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ
ٹرمپ کے ذریعے ایران کو گرانے کے خواب دیکھنے والے صہیونی حلقے دراصل وہی ہیں جنہوں نے اس سے پہلے یمنی فوج کے خاتمے پر امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ یہ وہی پرانی شرط ہے، وہی پرانا اندازِ فکر اور وہی غلط اندازے—بس میدان بدل گیا ہے، کردار وہی ہیں اور انجام بھی کم و بیش وہی دکھائی دیتا ہے۔
اس وقت خواہش یہ تھی کہ یمنی فوج کو فیصلہ کن شکست دی جائے، غزہ کے حق میں یمن کی بحری عسکری کارروائیوں کو روکا جائے، باب المندب میں یمنیوں کے قائم کردہ محاصرے کو توڑا جائے، صہیونی ریاست کی گہرائی تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا خاتمہ کیا جائے، اور اس علاقائی اتحاد—جس میں امارات اور اسرائیل شامل تھے—کو گزشتہ دس برسوں کی ناکامیوں اور ذلت آمیز شکستوں کا بدلہ دلایا جائے۔ یہ صرف ایک عسکری منصوبہ نہیں تھا بلکہ ساکھ، غرور اور برتری کی بحالی کا خواب تھا۔
اسی لیے سب کی نظریں ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز تھیں۔ بائیڈن کے برعکس ٹرمپ کو ایک جری، سخت گیر اور جارح رہنما سمجھا جاتا تھا۔ بائیڈن کو برطانیہ کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف ناکام فوجی مہم پر تنقید کا سامنا رہا، جبکہ ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ آ کر طاقت کے بل پر پورا منظرنامہ بدل دے گا۔
اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ نے ایک فوجی وفد اسرائیلی نمائندوں کے ہمراہ ریاض بھیجا تاکہ سعودی اور اماراتی نظاموں کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ ابتدا میں عرب اور اسلامی عوامی رائے عامہ کا حوالہ دے کر انکار کیا گیا، کیونکہ یمنی مزاحمت کو خطے میں غیر معمولی اخلاقی اور عوامی تائید حاصل تھی۔ مگر امریکی دباؤ کے بعد ایک شرط رکھ دی گئی: اگر امریکہ ساٹھ دن کے اندر یمنی فوج کی اعلیٰ قیادت کو ختم کر دے، میزائل خطرے کو مکمل طور پر بے اثر کر دے اور یمنی عسکری صلاحیت کو مٹا دے، تو وہ باضابطہ طور پر امریکی کیمپ میں شامل ہو جائیں گے۔
ٹرمپ کی مکار اور متکبر شخصیت پر ان کا اندازہ بظاہر درست ثابت ہوا۔ چند ہی مہینوں میں اس نے یمن کے خلاف فوجی مہم دوگنی کرنے کا اعلان کیا، یمنی افواج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دھمکیاں دیں، اضافی طیارہ بردار بحری جہاز، اسٹریٹجک بمبار، ایٹمی آبدوزیں اور جدید اسٹیلتھ طیارے تعینات کر دیے۔
وہ اسلحہ میدان میں اتارا گیا جو امریکہ عموماً باقاعدہ ریاستوں اور منظم افواج کے خلاف استعمال کرتا ہے، نہ کہ ایسے ملک کے خلاف جو دس برس سے محاصرے میں ہو۔ بحرِ عرب، بحرِ احمر اور بحرِ ہند تک امریکی عسکری قوت پھیلا دی گئی، اس خوش فہمی میں کہ یمن کو کچل کر ایک فیصلہ کن فتح حاصل کر لی جائے گی اور بائیڈن کو کمزور اور ناکام ثابت کیا جا سکے گا۔
امریکی اسٹریٹجک بمبار، اسٹیلتھ طیارے اور فضائی ایندھن بردار جہاز یمن کی فضاؤں میں داخل ہوئے۔ ایٹمی آبدوزوں اور بحری بیڑوں نے ٹوماہاک میزائلوں سے شدید بمباری کی۔ زیرِ زمین اہداف کو تباہ کرنے والے دنیا کے طاقتور ترین بم یمن کے پہاڑوں اور شہروں پر برسائے گئے۔ ٹرمپ خود سوشل میڈیا پر ان مناظر کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرتا رہا۔
مگر دن گزرتے گئے اور زمینی حقیقت نہ بدلی۔ سمندر بدستور بند رہا، صہیونی ریاست کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رہے۔ اس کے برعکس امریکی افواج اس وقت ششدر رہ گئیں جب یمنی بحری اور بیلسٹک میزائلوں، اور درجنوں ڈرونز نے بحرِ عرب اور بحرِ احمر میں موجود طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ شدید بمباری کے باوجود امریکی ساختہ جدید ڈرون بڑی تعداد میں مار گرائے گئے۔
پھر یمنیوں نے ایک اور حیران کن قدم اٹھایا۔ جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کرتے ہوئے انہوں نے امریکی اسٹیلتھ بمباروں اور F-35 طیاروں کو خطرے میں ڈال دیا۔ امریکیوں کو قیمتی بمبار ہٹانا پڑے۔ بعدازاں بحریہ کے F-18 سپر ہارنیٹ طیاروں کی تباہی سامنے آئی، جسے چھپانے کے لیے کمزور اور غیر قائل وضاحتیں پیش کی گئیں۔
تقریباً پچاس دن کی شدید اور بے نتیجہ جنگ کے بعد ٹرمپ نے سلطنتِ عمان سے مداخلت کی درخواست کی۔ یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کی خواہش ظاہر کی گئی، اس شرط کے ساتھ کہ یمنی امریکی جہازوں کو نشانہ نہ بنائیں اور امریکہ بمباری روک دے۔ اس کے باوجود یمنی فوج نے صہیونی ریاست کے خلاف بحری محاصرہ اور فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔
دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز شکست کے ساتھ واپس لوٹ گئے۔ یوں دہائیوں سے قائم امریکی بحری برتری کا افسانہ ٹوٹ گیا۔ صہیونی ریاست تنہا رہ گئی، جبکہ یمنیوں نے محاصرے اور بھاری نقصانات کے باوجود آخری دم تک مزاحمت جاری رکھی۔
آج حقیقت یہ ہے کہ یمن ایک اسٹریٹجک علاقائی طاقت بن چکا ہے۔ برسوں سے لگائی گئی شرط ہار چکی ہے، اور اب یمن سے برابری اور احترام کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ہتھیار یا دباؤ ہو جو ان کے خلاف آزمایا نہ جا چکا ہو۔
سوال یہ ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین یمنیوں کو ختم نہ کر سکی تو اب ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعرے کس بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں؟ کیا ایران یمن سے بھی کمزور ہے؟ امریکہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے، مگر نہ وہ ایران کو مٹا سکے گا اور نہ اس کی حکومت گرا سکے گا۔ ایران اور وینزویلا میں وہی فرق ہے جو گرین لینڈ اور مشرقِ وسطیٰ میں ہے—جغرافیہ، تاریخ اور طاقت کے توازن کو نعروں سے نہیں بدلا جا سکتا۔

دربار کے اصول





دربار کے اصول


اگر یہ کہاوت درست ہے کہ قومیں اپنے حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتی ہیں، تو پھر یہ حقیقت بھی ماننا پڑے گی کہ کمزور ریاستوں کے حکمران ہمیشہ طاقتور ریاستوں کے اشاروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اقتدار کی اصل قوت اکثر توپ و تفنگ میں نہیں، بلکہ علامتوں کے دبیز پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ کبھی ایک خط، کبھی ایک مہر، کبھی ایک فون کال اور کبھی محض ایک نام—یہ سب بعض اوقات میزائلوں اور بموں سے زیادہ کاری ثابت ہوتے ہیں۔
تاریخ اس نفسیاتی طاقت کی گواہ ہے۔ 1709ء میں جنگِ پولتاوا میں روس کے ہاتھوں شکست کے بعد سویڈن کے بادشاہ چارلس بارہویں کی غیر موجودگی میں اندرونی قوتوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ تخت سے محروم بادشاہ فریاد لے کر عثمانی سلطان احمد ثالث کے دربار میں پہنچا۔ سلطان نے صرف ایک مختصر تحریر دی جو "سلطانی مہر "  زدہ تھی۔ اس مہرکے وقار اور رعب نے اقتدار پر قابض قوتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، مگر اقتدار کی نفسیات وہی رہیں۔ آج ترک سلطان کی جگہ امریکہ کا صدر اس مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک جملہ، ایک اشارہ، یا حتیٰ کہ خاموشی بھی دور رس نتائج پیدا کر دیتی ہے۔
 ٹرمپ کے سابقہ دور میں ، اقوام متحدہ کی قرارداوں کے برعکس  اقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت  کہا گئا تو دنیا کی  خاموشی بے خبری نہیں  بلکہ طاقتور کی ناراضگی کا اندیشہ تھا جو  داخلی انتشار، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔
اسی خوف کی جھلک ہمیں بعض ریاستوں کی خارجہ پالیسی میں اچانک موڑ، بڑے اسلحہ معاہدوں قیمتی تحائف اور نئی علاقائی صف بندیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ یورپ میں نیٹو کے معاملے پر ٹرمپ کے سخت مؤقف کے بعد کئی ممالک کا دفاعی اخراجات بڑھانے کا فیصلہ بھی کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ طاقتور  کی ناراضگی سے بچنے کی عملی تدبیر تھی۔
لاطینی امریکہ میں اقتصادی پابندیاں اور سیاسی دباؤ کئی حکومتوں کی داخلی سمت متعین کرتے رہے۔ یہی طاقت کا وہ کرشمہ ہے جس کے باعث جدید عالمی سیاست قرونِ وسطیٰ کی تمثیل سے جا ملتی ہے—فرق صرف اتنا ہے کہ آج فرمان مہر سے نہیں، ٹوئٹ سے صادر ہوتا ہے، اور دربار کی جگہ عالمی میڈیا نے لے لی ہے۔

سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت







جدید دور، سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن امور پر کبھی اندھا یقین سمجھا جاتا تھا، آج وہ انسانی تجربے اور مشاہدے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔

اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ایک دائیں طرف نیک اعمال لکھنے والا اور دوسرا بائیں طرف برے اعمال درج کرنے والا۔ آج سے پچاس یا سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔ لوگ بغیر کسی مادی دلیل کے اس پر یقین رکھتے تھے، کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر آج کے انسان کو اگر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالنے کی دعوت دی جائے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔

آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ انسان اب کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ڈیجیٹل سایہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے بنائے ہوئے آلات یہ سب کچھ محفوظ کر سکتے ہیں، تو پھر اللہ کے مقرر کردہ فرشتوں کا انسان کے اعمال لکھنا کیوں ناقابلِ یقین سمجھا جائے؟

یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت (AI) نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔ عدالتوں میں آج بھی آواز کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آواز بھی ایک قابلِ ریکارڈ اور قابلِ تجزیہ شے ہے۔

اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان رابطے کے لیے ترجمانوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:


قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔

اگر اس حدیث کو اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ بات ناقابلِ تصور محسوس ہوتی ہے۔ جانوروں کا انسان سے بات کرنا، یا جوتے اور ران کا خبریں دینا اُس دور کے انسان کے لیے محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

آج جانوروں پر تجربات ہو رہے ہیں جن میں ان کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔

اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ انسان کا موبائل فون، جو اکثر اس کی جیب یا ران کے قریب ہوتا ہے، اسے اس کے گھر والوں کے بارے میں پیغامات دیتا ہے، ان کی آوازیں سناتا ہے اور ان کی تصویریں دکھاتا ہے۔ یوں بظاہر بے جان اشیاء انسان سے “بات” کر رہی ہیں۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی ﷺ محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ جدید دور کے انسان کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر ان تعلیمات کا مطالعہ کرے۔

آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے خالق کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔







پیر، 26 جنوری، 2026

خوف کی سیاست



 خوف کی سیاست

عبرانی اخبار معاریو میں شائع ہونے والا حالیہ تجزیہ محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے جس میں آج صہیونی–امریکی قیادت مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ فوجی تجزیہ کار الون بن ڈیوڈ کے مطابق، ایران کے مضبوط اور غیر لچکدار موقف نے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو ایسی الجھن میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی سیدھی راہ دکھائی نہیں دیتی۔

رپورٹ کا سب سے معنی خیز پہلو وہ اعتراف ہے جس میں کہا گیا کہ امام خامنہ‌ای نے ٹرمپ کے ساتھ ایک طرح سے “ذاتی حساب” کھولتے ہوئے اس کے تکبر کو براہِ راست للکارا۔ یہ محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ وقار کی جنگ تھی۔ امریکی صدر، جو طاقت کی زبان سمجھنے اور اسی پر بات کرنے کے عادی ہیں، اس بار ایک ایسے وقار سے ٹکرا گئے جسے نہ دباؤ توڑ سکا اور نہ دھمکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ، رہبرِ ایران کے وقار کو مجروح کرنے میں ناکامی کے باعث، ذاتی اضطراب اور ذہنی بے چینی کا شکار نظر آئے۔

اسی تسلسل میں رپورٹ یہ انکشاف بھی کرتی ہے کہ ٹرمپ نے خطے کے مختلف رہنماؤں اور خصوصاً نیتن یاہو سے مشاورت کی، مگر وہاں سے جو جواب ملا وہ خود امریکی طاقت کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ “اتنی طاقت اور یہ تمام عسکری قوتیں بھی تہران میں نظام کو گرانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔” یہ جملہ دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام اور داخلی طاقت کا وہ اعتراف ہے جو برسوں کی سیاسی بیان بازی میں کبھی اس وضاحت سے سامنے نہیں آیا تھا۔

نیتن یاہو کا کردار اس پوری کہانی میں سب سے زیادہ معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہی شخص تھا جس نے ایرانی ردِعمل کے خوف سے امریکی جارحانہ رویّے کو لگام دینے کی کوشش کی۔ بظاہر “دفاع” کے نعروں کے پیچھے، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی قیادت خود جانتی ہے کہ وہ ایرانی میزائل طاقت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ یہ اعتراف اسرائیلی عسکری برتری کے دیرینہ دعووں پر ایک اور کاری ضرب ہے۔

رپورٹ میں ایران کے دو ہزار سے زائد تیار بیلسٹک میزائلوں کا ذکر محض ایک عددی حقیقت نہیں، بلکہ نفسیاتی برتری کی علامت ہے۔ جب دشمن خود یہ ماننے لگے کہ ان کے طیارے اور افواج محض “پریڈز” بن کر رہ گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا توازن میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں میں بدل چکا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “وقار کا جال” اپنی پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ طاقتور ہونے کے دعوے دار اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ایک غلط قدم پورے خطے کو ایسی آگ میں جھونک سکتا ہے جس کا انجام ان کے قابو میں نہیں ہوگا۔ معاریو کا یہ تجزیہ دراصل اسی سچ کی گواہی ہے کہ جدید سیاست میں صرف ہتھیار نہیں، وقار، استقامت اور نفسیاتی برتری بھی فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔

اتوار، 25 جنوری، 2026

نشان حیدر



یہ تین مئی 1956 کا دن تھا جب اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا نے ملک کے لیے نمایاں شہری اور فوجی خدمات ادا کرنے والے افراد کو مختلف تمغے دینے کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

اسی اعلان میں کہا گیا کہ ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر ہو گا اور یہ تمغہ مسلح افواج کے ان ارکان کو دیا جائے گا جنھوں نے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے زبردست خطرات کا سامنا کرتے ہوئے بے حد بہادری اور زبردست ہمت کا مظاہرہ کیا ہو۔

اس اعزاز کا نام اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے نام پر رکھا گیا۔ حضرت علی میدان جنگ میں اپنی بہادری وکراری کی وجہ سے مشہور ہیں اور خود پیغمبر اسلام نے انہیں 'شیر خدا' کا لقب دیا تھا۔

میاں محمد مسعود الزماں نے اپنی کتاب 'نشان حیدر' میں لکھا ہے کہ 'نشان حیدر' پانچ کونوں کا ایک ستارہ ہے جو توپ کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ ان کونوں کے کنارے تانبے اور نکل کے مرکب سے بنتے ہیں۔ اس میں چاند اور ستارہ ہیرے کا ہوتا ہے، فیتہ ریشمی اور سبز رنگ کا ہوتا ہے، اس کی چوڑائی ڈیڑھ انچ ہوتی ہے، جب یہ فیتہ تمغے کے بغیر پہنا جاتا ہے تو اس کے اوپر پنچ کونی ستارے کی نقل لگالی جاتی ہے۔'

 وزارت دفاع کے حکم پر 'پاکستان مِنٹ' (وہ جگہ جہاں سِکّے بنائے جاتے ہیں) نشان حیدر تیار کرتی ہے۔ اسے دشمن سے چھینے گئے اسلحہ کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 88 فیصد تانبا، 10 فیصد سونا اور 2 فیصد زنک (جست) شامل کیا جاتا ہے۔

عوامی سطح پر اس قسم کی کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ نشان حیدر پانے والوں کو مالی طور پر کیا فوائد دیے گئے تاہم ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید کے مطابق نشان حیدر کا اعزاز پانے والوں کے اہل خانہ کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ چاہیں تو نقدی لے لیں یا زرعی اراضی۔

نشان حیدر کا اعزاز بلالحاظِ عہدہ پاکستان کی مسلح افواج کے کسی بھی فرد کو دیا جا سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ اعزاز صرف جنگ میں شہید ہونے والوں کو دیا جائے، 

نشانِ حیدر حاصل کرنے والے سب سے پہلے فوجی، کیپٹن راجہ سرور تھے جنھوں نے 27 جولائی 1948 کو کشمیر کے محاذ پر جان دی تھی اور ان کا اعزاز 27 اکتوبر 1959 کو ان کی اہلیہ نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھ سے وصول پایا تھا۔

میجر محمد اکرم نشان حیدر حاصل کرنے والی وہ واحد شخصیت ہیں جو بنگلہ دیش میں دفن ہیں جبکہ باقی قبریں ملک کے مختلف علاقوں اور کشمیر میں واقع ہیں۔

پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو 1971 کی جنگ سے قبل نشانِ حیدر حاصل کرنے والے اہلکار تھے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاکستانی فضائیہ کے وہ واحد افسر ہیں جنھیں بے مثال شجاعت پر نشان حیدر دیا گیا۔

1971 سے 1999 کے درمیان نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں میں ایک اور نام کا اضافہ ضرور ہوا جو کہ نائیک سیف علی خان جنجوعہ کا تھا جنھیں 14 مارچ 1949 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اپنا سب سے بڑا فوجی اعزاز 'ہلال کشمیر' دینے کا اعلان کیا تھا۔

30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ہلال کشمیر کو نشان حیدر کے مساوی قرار دینے کا اعلان کیا تو اس فہرست میں نائیک سیف علی کا نام بھی شامل ہو گیا۔

سیف علی جنجوعہ کے بارے میں دفاعی ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید نے کہا کہ 'وہ پاکستان آرمی کا حصہ تھے اور 1948 میں کشمیر کی پہلی جنگ میں بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ وہ بجا طور پر نشان حیدر کے اعزاز کے مستحق تھے۔'

کیپٹن کرنل شیر خان کو کارگل میں اپنے دستوں کے ساتھ قیادت اور معرکہ آرائی کرتے دیکھنے والے بھارتی بریگیڈئیر نے بعد ازاں بھارتی میڈیا سے اپنے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی جیب میں ایک تعریفی رقعہ اس وقت لکھ کر رکھ دیا تھا جب کرنل شیر خان کا جسد خاکی پاکستان کی فوج کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ اس رقعے میں تحریر تھا کہ کرنل خان بڑی بہادری سے لڑے اور ان کی اس بہادری کا اعتراف ہونا چاہیے۔