پیر، 26 جنوری، 2026

خوف کی سیاست



 خوف کی سیاست

عبرانی اخبار معاریو میں شائع ہونے والا حالیہ تجزیہ محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے جس میں آج صہیونی–امریکی قیادت مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ فوجی تجزیہ کار الون بن ڈیوڈ کے مطابق، ایران کے مضبوط اور غیر لچکدار موقف نے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو ایسی الجھن میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی سیدھی راہ دکھائی نہیں دیتی۔

رپورٹ کا سب سے معنی خیز پہلو وہ اعتراف ہے جس میں کہا گیا کہ امام خامنہ‌ای نے ٹرمپ کے ساتھ ایک طرح سے “ذاتی حساب” کھولتے ہوئے اس کے تکبر کو براہِ راست للکارا۔ یہ محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ وقار کی جنگ تھی۔ امریکی صدر، جو طاقت کی زبان سمجھنے اور اسی پر بات کرنے کے عادی ہیں، اس بار ایک ایسے وقار سے ٹکرا گئے جسے نہ دباؤ توڑ سکا اور نہ دھمکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ، رہبرِ ایران کے وقار کو مجروح کرنے میں ناکامی کے باعث، ذاتی اضطراب اور ذہنی بے چینی کا شکار نظر آئے۔

اسی تسلسل میں رپورٹ یہ انکشاف بھی کرتی ہے کہ ٹرمپ نے خطے کے مختلف رہنماؤں اور خصوصاً نیتن یاہو سے مشاورت کی، مگر وہاں سے جو جواب ملا وہ خود امریکی طاقت کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ “اتنی طاقت اور یہ تمام عسکری قوتیں بھی تہران میں نظام کو گرانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔” یہ جملہ دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام اور داخلی طاقت کا وہ اعتراف ہے جو برسوں کی سیاسی بیان بازی میں کبھی اس وضاحت سے سامنے نہیں آیا تھا۔

نیتن یاہو کا کردار اس پوری کہانی میں سب سے زیادہ معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہی شخص تھا جس نے ایرانی ردِعمل کے خوف سے امریکی جارحانہ رویّے کو لگام دینے کی کوشش کی۔ بظاہر “دفاع” کے نعروں کے پیچھے، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی قیادت خود جانتی ہے کہ وہ ایرانی میزائل طاقت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ یہ اعتراف اسرائیلی عسکری برتری کے دیرینہ دعووں پر ایک اور کاری ضرب ہے۔

رپورٹ میں ایران کے دو ہزار سے زائد تیار بیلسٹک میزائلوں کا ذکر محض ایک عددی حقیقت نہیں، بلکہ نفسیاتی برتری کی علامت ہے۔ جب دشمن خود یہ ماننے لگے کہ ان کے طیارے اور افواج محض “پریڈز” بن کر رہ گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا توازن میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں میں بدل چکا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “وقار کا جال” اپنی پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ طاقتور ہونے کے دعوے دار اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ایک غلط قدم پورے خطے کو ایسی آگ میں جھونک سکتا ہے جس کا انجام ان کے قابو میں نہیں ہوگا۔ معاریو کا یہ تجزیہ دراصل اسی سچ کی گواہی ہے کہ جدید سیاست میں صرف ہتھیار نہیں، وقار، استقامت اور نفسیاتی برتری بھی فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔

اتوار، 25 جنوری، 2026

نشان حیدر



یہ تین مئی 1956 کا دن تھا جب اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا نے ملک کے لیے نمایاں شہری اور فوجی خدمات ادا کرنے والے افراد کو مختلف تمغے دینے کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

اسی اعلان میں کہا گیا کہ ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر ہو گا اور یہ تمغہ مسلح افواج کے ان ارکان کو دیا جائے گا جنھوں نے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے زبردست خطرات کا سامنا کرتے ہوئے بے حد بہادری اور زبردست ہمت کا مظاہرہ کیا ہو۔

اس اعزاز کا نام اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے نام پر رکھا گیا۔ حضرت علی میدان جنگ میں اپنی بہادری وکراری کی وجہ سے مشہور ہیں اور خود پیغمبر اسلام نے انہیں 'شیر خدا' کا لقب دیا تھا۔

میاں محمد مسعود الزماں نے اپنی کتاب 'نشان حیدر' میں لکھا ہے کہ 'نشان حیدر' پانچ کونوں کا ایک ستارہ ہے جو توپ کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ ان کونوں کے کنارے تانبے اور نکل کے مرکب سے بنتے ہیں۔ اس میں چاند اور ستارہ ہیرے کا ہوتا ہے، فیتہ ریشمی اور سبز رنگ کا ہوتا ہے، اس کی چوڑائی ڈیڑھ انچ ہوتی ہے، جب یہ فیتہ تمغے کے بغیر پہنا جاتا ہے تو اس کے اوپر پنچ کونی ستارے کی نقل لگالی جاتی ہے۔'

 وزارت دفاع کے حکم پر 'پاکستان مِنٹ' (وہ جگہ جہاں سِکّے بنائے جاتے ہیں) نشان حیدر تیار کرتی ہے۔ اسے دشمن سے چھینے گئے اسلحہ کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 88 فیصد تانبا، 10 فیصد سونا اور 2 فیصد زنک (جست) شامل کیا جاتا ہے۔

عوامی سطح پر اس قسم کی کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ نشان حیدر پانے والوں کو مالی طور پر کیا فوائد دیے گئے تاہم ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید کے مطابق نشان حیدر کا اعزاز پانے والوں کے اہل خانہ کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ چاہیں تو نقدی لے لیں یا زرعی اراضی۔

نشان حیدر کا اعزاز بلالحاظِ عہدہ پاکستان کی مسلح افواج کے کسی بھی فرد کو دیا جا سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ اعزاز صرف جنگ میں شہید ہونے والوں کو دیا جائے، 

نشانِ حیدر حاصل کرنے والے سب سے پہلے فوجی، کیپٹن راجہ سرور تھے جنھوں نے 27 جولائی 1948 کو کشمیر کے محاذ پر جان دی تھی اور ان کا اعزاز 27 اکتوبر 1959 کو ان کی اہلیہ نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھ سے وصول پایا تھا۔

میجر محمد اکرم نشان حیدر حاصل کرنے والی وہ واحد شخصیت ہیں جو بنگلہ دیش میں دفن ہیں جبکہ باقی قبریں ملک کے مختلف علاقوں اور کشمیر میں واقع ہیں۔

پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو 1971 کی جنگ سے قبل نشانِ حیدر حاصل کرنے والے اہلکار تھے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاکستانی فضائیہ کے وہ واحد افسر ہیں جنھیں بے مثال شجاعت پر نشان حیدر دیا گیا۔

1971 سے 1999 کے درمیان نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں میں ایک اور نام کا اضافہ ضرور ہوا جو کہ نائیک سیف علی خان جنجوعہ کا تھا جنھیں 14 مارچ 1949 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اپنا سب سے بڑا فوجی اعزاز 'ہلال کشمیر' دینے کا اعلان کیا تھا۔

30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ہلال کشمیر کو نشان حیدر کے مساوی قرار دینے کا اعلان کیا تو اس فہرست میں نائیک سیف علی کا نام بھی شامل ہو گیا۔

سیف علی جنجوعہ کے بارے میں دفاعی ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید نے کہا کہ 'وہ پاکستان آرمی کا حصہ تھے اور 1948 میں کشمیر کی پہلی جنگ میں بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ وہ بجا طور پر نشان حیدر کے اعزاز کے مستحق تھے۔'

کیپٹن کرنل شیر خان کو کارگل میں اپنے دستوں کے ساتھ قیادت اور معرکہ آرائی کرتے دیکھنے والے بھارتی بریگیڈئیر نے بعد ازاں بھارتی میڈیا سے اپنے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی جیب میں ایک تعریفی رقعہ اس وقت لکھ کر رکھ دیا تھا جب کرنل شیر خان کا جسد خاکی پاکستان کی فوج کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ اس رقعے میں تحریر تھا کہ کرنل خان بڑی بہادری سے لڑے اور ان کی اس بہادری کا اعتراف ہونا چاہیے۔


ہفتہ، 24 جنوری، 2026

آسمانی آگ



آسمانی آگ
مارچ 1945 کی وہ رات انسانی تاریخ کے سب سے ہولناک ابواب میں سے ایک ہے، مگر اسے شاذ ہی وہ توجہ دی جاتی ہے جو اس کی سنگینی کا تقاضا کرتی ہے۔ 334 امریکی بمبار طیاروں نے صرف ایک رات میں ٹوکیو پر 1665 ٹن آتش گیر بم برسائے۔ گنجان آباد شہر، جہاں زیادہ تر مکانات لکڑی سے بنے تھے، لمحوں میں ایک دہکتی ہوئی بھٹی میں بدل گیا۔ آگ اس شدت سے پھیلی کہ ایک لاکھ سے زائد انسان جل کر مر گئے اور دس لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو گئے۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ آسمان سے برسنے والی ایسی آگ تھی جس نے پورے شہر کو اجتماعی قبر میں تبدیل کر دیا۔  جانی نقصان کے اعتبار سے یہ تباہی  ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ بڑی تھی۔
ٹوکیو کا یہ واقعہ کوئی استثنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے سلسلے کی کڑی تھا جس میں جدید جنگ نے شہری آبادی کو براہِ راست ہدف بنانا معمول بنا لیا۔ اس سے قبل جرمنی کے شہر ڈریسڈن پر اتحادی بمباری نے ہزاروں شہریوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ ہیمبرگ میں فائر اسٹورم نے پورے محلّے صفحۂ ہستی سے مٹا دیے، جبکہ برطانیہ کا شہر کوونٹری بھی آسمان سے برسنے والی آگ کی علامت بن گیا۔ ان تمام واقعات میں ایک قدرِ مشترک نمایاں ہے: جنگ کا میدان سپاہیوں سے نکل کر عام انسانوں کے گھروں تک آ چکا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد بھی یہ روایت ختم نہیں ہوئی، بلکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید مہلک ہو گئی۔ کوریا کی جنگ میں امریکی بمباری نے شمالی کوریا کے شہروں کو اس حد تک تباہ کیا کہ بعد میں خود امریکی تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا کہ وہاں کھڑا رہنے کے قابل شاید ہی کوئی بڑا شہر بچا ہو۔ ویتنام میں نیپام بموں نے جنگل ہی نہیں، دیہات اور انسانوں کے جسم تک جلا ڈالے۔ آسمان سے گرنے والی آگ نے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے درمیان کوئی فرق نہ کیا۔
یہی منظر عراق میں دہرایا گیا۔ بغداد پر بمباری، فلوجہ میں آگ اور دھماکوں کا طوفان، اور بعد ازاں افغانستان میں فضائی حملے—سب نے یہ ثابت کیا کہ جدید جنگ میں طاقتور ریاستیں اپنے دشمن کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو سزا دیتی ہیں۔ لیبیا، شام اور یمن میں بھی اتحادی فضائی کارروائیاں شہروں کو ملبے کے ڈھیر میں بدلتی رہیں، اور ہر بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ نشانہ صرف عسکری اہداف تھے، حالانکہ زمین پر جلتے ہوئے گھر اور لاشیں ایک مختلف کہانی سناتی رہیں۔
اسی سلسلے کی  سب سے دردناک مثال فلسطین، بالخصوص غزہ ہے۔ غزہ ایک محصور خطہ ہے، جہاں نہ پناہ گاہیں ہیں نہ فرار کے راستے۔ یہاں آسمان سے برسنے والی آگ جدید بموں، میزائلوں اور فاسفورس جیسی ہتھیاروں کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔ رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول اور پناہ گزین کیمپ اس آگ سے محفوظ نہیں رہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹوکیو میں آگ ایک رات میں برسی، جبکہ غزہ میں یہ آگ وقفوں وقفوں سے برس رہی ہے، مگر اس کا مقصد وہی ہے: اجتماعی خوف، اجتماعی سزا اور اجتماعی تباہی۔
ان تمام مثالوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ آسمان سے آگ برسانا کسی ایک جنگ یا ایک دور کا مسئلہ نہیں، بلکہ طاقت کے اس تصور کا اظہار ہے جس میں اخلاق، قانون اور انسانیت ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ٹوکیو سے لے کر ڈریسڈن، ویتنام سے لے کر بغداد، اور بغداد سے لے کر غزہ تک، آگ کا رنگ بدلتا رہا مگر جلنے والے انسان وہی رہے—عام شہری۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ فاتحین کی زبان میں یہ سب “ضروری جنگی اقدامات” کہلاتا ہے، جبکہ متاثرین کے لیے یہ زندگی بھر کا زخم بن جاتا ہے۔ ٹوکیو کی آگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب جنگ آسمان سے لڑی جائے تو زمین پر بسنے والے انسان صرف اعداد و شمار بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور غزہ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ یہ تاریخ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نئے نام اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ آج بھی دہرائی جا رہی ہے۔

جمعہ، 23 جنوری، 2026

آر سی ڈی کا تعارف



آر سی ڈی کا تعارف

RCD (Regional Cooperation for Development)
ایک علاقائی تعاون کا ادارہ تھا جو 1964ء میں پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان قائم ہوا۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے معاشی، تجارتی، ثقافتی اور سائنسی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا تھا۔
اس تنطیم کا صدر تہران، ایران میں تھا ، آر سی ڈی کا قیام سرد جنگ کے دوران ہوا، جب عالمی طاقتوں کے دباؤ اور علاقائی سیاسی چیلنجز کے پیش نظر مسلم ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت محسوس کی گئی۔
یہ اتحاد درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر قائم ہوا
تجارتی رابطے بڑھانا اور مشترکہ مارکیٹس قائم کرنا ، معاشی ترقی کے منصوبے (انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، توانائی) میں اشتراک ،ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی شعبوں میں تعلقات مضبوط کرنا
آر سی ڈی نے سیاسی میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا
پاکستان، ایران اور ترکی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ پالیسیز اپنائیں ۔تینوں ممالک نے عالمی فورمز میں ایک دوسرے کا موقف سہارا دیا ۔ اس اتحاد نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو مستحکم کیا ، یہ اثرات آج بھی خطے میں تعلقات کے حوالے سے اہم مثال کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
آر سی ڈی کا بنیادی مقصد معاشی ترقی اور تعاون تھا، جس کے اہم پہلو یہ تھے
تینوں ممالک کے درمیان اشیاء کی باہمی تجارت میں اضافہ
صنعتی، زرعی اور توانائی کے منصوبوں میں شراکت داری
سڑکیں، بندرگاہیں اور توانائی کے منصوبے
انسانی وسائل کی ترقی اور مشترکہ علمی منصوبے
یہ اقتصادی تعاون خطے میں روزگار، پیداوار اور معیشت کی مضبوطی کے لیے اہم تھا۔
آر سی ڈی نے نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی اور ثقافتی تعلقات کو بھی فروغ دیا۔ یونیورسٹیاں اور مشترکہ تحقیقی پروگرام شروع کیے گئے ۔وسیقی، ادب، زبان اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں طائفو ں کا تبادلہ شروع ہوا، وام کے درمیان سمجھ بوجھ اور اعتماد میں اضافہ ہوا ۔ اس سے تینوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات مضبوط ہوئے۔
اگرچہ آر سی ڈی نے متعدد مثبت اقدامات کیے، لیکن یہ کچھ چیلنجز بھی سامنا کرنا پڑا۔ خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے مشترکہ اقدامات میں تاخیر پیدا ہونا شروع ہوئی جس کے باعث ایران مین اسلامی انقلاب کے بعد کے بعد دوبارہ فعال کرنے میں مشکلات آئیں۔
اگر آر سی ڈی یا اس کے جدید فارم
ECO
کی روح کو فعال رکھا جائے، تو پاکستان، ایران اور ترکی کے تعلقات کے وسیع امکانات ہیں

چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں




چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں 
عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے روایتی توازن تیزی سے بدل رہے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ نے جس یک قطبی عالمی نظام کو قائم رکھا، اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ عالمی فیصلہ سازی کا مرکز واشنگٹن ہی رہے۔ مگر چین کے معاشی، سفارتی اور عسکری عروج نے اس تصور کو عملاً چیلنج کر دیا ہے۔ آج دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں دراصل اسی کثیر قطبی نظام کی تشکیل کو تیز کر رہی ہیں، جسے روکنا امریکی پالیسی کا اصل ہدف تھا۔
امریکہ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی پر پابندیاں، سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی محدود کرنے اور انڈو پیسیفک میں عسکری اتحادوں کے قیام جیسے اقدامات کیے۔ کواڈ اور آکس جیسے اتحاد چین کے گرد اسٹریٹجک دباؤ بڑھانے کی علامت ہیں۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی چین کو محدود کرنے کے لیے تھی، مگر اس کے نتائج عالمی سطح پر ایک مختلف سمت میں سامنے آ رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں وہ ممالک بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو کبھی امریکی موقف کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ آسٹریلیا، جو چند سال قبل چین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے تھا، اب اپنے تعلقات کو دوبارہ متوازن اور فعال بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے چین کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط کی بحالی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ محض امریکی دباؤ کی بنیاد پر کسی بڑی عالمی طاقت سے مستقل لاتعلقی ممکن نہیں۔
اسی طرح برطانیہ کے وزیرِ اعظم کا دورۂ چین غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دورے کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کو اس کے ’’سنہری دور‘‘ (Golden Era) کی طرف دوبارہ لے جانا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یورپی طاقتیں بھی اب چین کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے امریکی تصور سے فاصلہ اختیار کر رہی ہیں اور اپنے معاشی و اسٹریٹجک مفادات کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھ رہی ہیں۔
چین نے امریکی دباؤ کے جواب میں اپنی عالمی حکمتِ عملی کو مزید وسعت دی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے چین نے ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں متبادل اتحاد اور شراکتیں قائم کیں۔ روس، ایران اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب کسی ایک طاقت کے اشاروں پر چلنے کو تیار نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کی چین مخالف پالیسیوں نے صرف چین کو نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی یہ احساس دلایا ہے کہ یک قطبی نظام میں ان کی خودمختاری کس قدر محدود ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتیں اب متوازن خارجہ پالیسی، کثیر جہتی تعلقات اور متبادل مالی و تجارتی نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت، ڈالر کی بالادستی پر سوالات، اور نئی معاشی شراکتیں اسی بدلتی سوچ کا اظہار ہیں۔
یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بجائے ایک نئے عالمی توازن کو جنم دے رہی ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں طاقت، اثر و رسوخ اور فیصلے کسی ایک دارالحکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مختلف مراکز میں تقسیم ہوں گے۔ بظاہر امریکہ جس کثیر قطبی عالمی نظام کو روکنا چاہتا تھا، آج وہی نظام تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے—اور اس کی رفتار کو خود امریکی پالیسیاں ہی مزید تیز کر رہی ہیں۔