جمعہ، 6 جون، 2025

سورہ سجدہ ایت 5




سورۃ السجدہ (آیت 5) کی سائنسی اور روحانی تشریح

آیت:
"يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ يَعۡرُجُ إِلَيۡهِ فِي يَوۡمٖ كَانَ مِقۡدَارُهُۥٓ أَلۡفَ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ"
(سورۃ السجدہ، آیت 5)

ترجمہ:
"وہ آسمان سے زمین تک تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے، پھر وہ امور ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھتے ہیں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔"

یہ آیت قرآن کے ان مقامات میں سے ایک ہے جہاں "وقت" کے نسبی 
(Relative)
 تصور کی جھلک نمایاں ہے۔ مفسرین اور سائنسی ماہرین، دونوں اس آیت کو ایک ایسی نشانی کے طور پر دیکھتے ہیں جو کائناتی حقیقتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
1. سائنسی پس منظر: وقت اور کششِ ثقل

آج کی جدید طبیعیات، خاص طور پر آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت 
(Theory of Relativity)
 کی رو سے، وقت کوئی مطلق حقیقت نہیں بلکہ ایک لچکدار 
(flexible)
تصور ہے، جو کششِ ثقل اور رفتار کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
جہاں کششِ ثقل شدید ہو (جیسے بلیک ہولز کے قریب)، وقت آہستہ گزرنے لگتا ہے۔
اسی طرح، اگر کوئی چیز روشنی کی رفتار کے قریب حرکت کرے تو اس پر وقت سست ہوجاتا ہے۔
یہ بات قرآن کی اس آیت کے بالکل مطابق ہے، جہاں ایک "یوم" (دن) کی مقدار انسانی حساب سے "ایک ہزار سال" بتائی گئی ہے۔
سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر کوئی سیارہ یا ستارہ انتہائی طاقتور کششِ ثقل رکھتا ہو، تو اس پر گزرا ہوا وقت، زمین پر موجود وقت سے یکسر مختلف ہو سکتا ہے۔
2.
 فلکیاتی حقائق اور "دن" کا مفہوم
ر سیارے پر دن کی لمبائی اس کی اپنے محور کے گرد گردش کی رفتار پر منحصر ہوتی ہے۔ چند مثالیں:


زمین: 24 گھنٹے


مریخ (Mars): 24 گھنٹے 37 منٹ


عطارد (Mercury): 58.6 زمین کے دن


زہرہ (Venus): 243 زمین کے دن


UY Scuti:
ایک دیوہیکل ستارہ جس کی گردش انتہائی سست ہے، اندازہ ہے کہ اس کا ایک "دن" ہزاروں زمینی سالوں پر محیط ہو سکتا ہے۔
یہ مظاہر قرآن کی مذکورہ آیت کو مزید واضح کرتے ہیں:
جس "دن" کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ زمینی پیمانوں کے مطابق نہیں بلکہ ایک کائناتی وقت کے پیمانے پر ہے، جو ہماری فہم سے بالاتر اور اللہ کے علم و قدرت کا حصہ ہے۔
3.
 دیگر قرآنی آیات میں وقت کا ذکر
سورۃ المعارج، آیت 4:
"تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ"
"فرشتے اور روح (یعنی جبرائیل) اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔"
یہاں ایک اور "یوم" کا ذکر ہے، جس کی مقدار انسانی حساب سے پچاس ہزار سال ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ یومِ قیامت کے تناظر میں بیان ہوا ہے، لیکن اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں وقت کا پیمانہ انسانی پیمانوں سے مکمل طور پر مختلف ہے۔
4.
تفاسیر کی روشنی میں
امام رازی، ابنِ کثیر، علامہ طبری اور دیگر مفسرین نے اس آیت کو مختلف انداز میں سمجھایا ہے:
بعض نے کہا کہ "ہزار سال" کا مطلب ایک انتہائی طویل دورانیہ ہے، تاکہ انسان کو اللہ کی تدبیر کی وسعت کا اندازہ ہو۔
بعض نے اسے فرشتوں کے سفر کے تناظر میں لیا: کہ وہ ایک دن میں ایسی مسافت طے کرتے ہیں جو انسانی حساب سے ہزار سال کی ہو۔
جدید مفسرین اور اسلامی سائنسی مفکرین (جیسے ڈاکٹر ذاکر نائیک، مہدی گلشنی، اور دیگر) اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ آیات وقت کی اضافیت 
Time Dilation)
 کی طرف واضح اشارہ ہیں، جو سائنس نے اب جا کر دریافت کی ہے۔
5.
 ایمان اور علم کی ہم آہنگی
قرآن کی یہ زبان اس بات کا ثبوت ہے کہ وحی کا کلام صرف ماضی کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے ذہنی افق کو چیلنج کرتا ہے اور اسے شعور کی بلند سطحوں پر لے جاتا ہے۔ قرآن کا انداز بیانیہ ایسا ہے جو سائنس کی ترقی کے ساتھ مزید واضح ہوتا جاتا ہے — جیسے جیسے انسان کائنات کو جانتا ہے، ویسے ویسے وہ اللہ کی آیات کو بہتر سمجھنے لگتا ہے:
سورۃ السجدہ کی یہ آیت ہمیں ایک ایسی حقیقت سے روشناس کرواتی ہے جو وقت اور کائناتی نظم کے بارے میں ہے۔ سائنس، فلکیات، نظریۂ اضافیت، اور قرآنی تفسیرات سب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ وقت ایک مطلق نہیں، بلکہ ربِ کائنات کی تخلیق کردہ ایک لچکدار جہت ہے۔ اور قرآن نے چودہ صدیاں قبل اسے نہایت خوبصورتی اور حکمت سے بیان کیا — جو آج بھی انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔

ایک سادہ سوال







فلسطین کی سرزمین مسلسل خون سے رنگین ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر بار جب اسرائیل غزہ پر حملہ کرتا ہے، ایک طاقتور ریاست اس کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے — امریکہ۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سوال صرف اسرائیل اور فلسطین تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ پوری عالمی سیاست، طاقت، انصاف اور اقوام متحدہ کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات صرف سفارتی نہیں، بلکہ گہرے عسکری مفادات پر مبنی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل کو ہر سال اربوں ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے۔ کانگریس ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2023 تک امریکہ، اسرائیل کو 150 ارب ڈالر سے زائد کی امداد دے چکا ہے، جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔
یہ امداد صرف ہتھیاروں یا ٹیکنالوجی کی حد تک محدود نہیں، بلکہ اس میں انٹیلی جنس، میزائل ڈیفنس سسٹمز، اور مشترکہ عسکری مشقیں بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کی "آئرن ڈوم" سسٹم کی بڑی فنڈنگ بھی امریکی بجٹ سے آتی ہے۔
جب بھی اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف کوئی قرارداد پیش کی جاتی ہے، تو امریکہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کر کے اسے روک دیتا ہے۔ 1972 سے لے کر اب تک امریکہ نے 45 سے زائد بار اسرائیل کے حق میں ویٹو استعمال کیا ہے۔ 2023 میں جب 14 ممالک نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، تو امریکہ نے اکیلے اسے ویٹو کر کے مسترد کر دیا۔
اب 2025 میں بھی اسئ عمل کو دہرایا گیا ہے
یہ ویٹو دراصل بین الاقوامی انصاف کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ ایک طرف اقوام متحدہ عالمی امن کی علمبردار کہلاتی ہے، اور دوسری طرف وہ طاقتور ممالک کے مفادات کی بندی بن کر رہ گئی ہے۔
مغربی میڈیا کی اکثریت اسرائیل کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ وہ حملہ آور کو مظلوم بنا کر پیش کرتی ہے اور حقیقی متاثرین کی آوازوں کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام عوام تک حقائق بہت محدود اور مسخ شدہ 
صورت میں پہنچتے ہیں۔
سیکورٹی کونسل میں ویٹو کے نام پر جو بے انصافی کی جاتی ہے ۔اس نے سیکورٹی کونسل کے وجود پر بالخصوص اور اقوام متحدہ پر بالعموم سوال اٹھا دیے ہیں ۔ سیکورٹی کونسل کے منافقانہ کردار نے عملی طور پر دنیا بھر کی عقل اجتماعی اور امن کی کوششوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے
 اس صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے
کیا ہم ہمیشہ ویٹو پاور کے سامنے لاشیں گنتے رہیں گے؟
یہ کالم کسی مخصوص نظریے کی تائید نہیں کرتا، بلکہ
ایک  ساہ سدوال اٹھاتا ہے
جب موجودہ عالمی نظام مسلسل ناکام ہو رہا ہو، تو کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم کسی متبادل کی تلاش شروع کریں؟
اگر دنیا کی طاقتور اقوام واقعی انسانی حقوق پر یقین رکھتی ہیں، تو انہیں سب کے لیے ایک جیسے اصول اپنانے ہوں گے۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں، تو پھر دنیا کو یہ مان لینا چاہیے کہ انصاف کا نظام صرف طاقت کی چھتری کے نیچے زندہ ہے۔

قربانی کا بنیادی فلسفہ




آج عرب دنیا میں عیدالاضحی ہے۔ مسلمان دنیا بھر میں حضرت ابراہیمؑ کی سنت ادا کر رہے ہیں، جانور قربان کیے جا رہے ہیں، ایسے میں جب "عید مبارک" کہنے کے لیے لب کھلتے ہیں، تو دل پر ایک بوجھ سا اتر آتا ہے۔ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور ذہن بار بار ایک ہی سمت دوڑتا ہے… غزہ!

وہ غزہ، جہاں آج بھی خون بہہ رہا ہے۔ جہاں نہ عید ہے، نہ خوشی، نہ مسکراہٹ۔ جہاں بچے قربانی کے جانور نہیں دیکھ رہے بلکہ بھوک اور پیاس اور دوائیوں کے نہ ہونے سے خود قربان ہو رہے  ہیں۔ جہاں ماؤں کے آنچل خون سے تر ہیں، اور باپ لاشیں ڈھونے پر مجبور ہیں۔

اسرائیل کئی ماہ سے غزہ میں آگ اور بارود برسا رہا ہے۔ اور دنیا، خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ جنگ صرف اسرائیل کی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے وہ طاقت کھڑی ہے جو دنیا کی بڑی طاقت کہلاتی ہے — امریکہ۔ وہی امریکہ جو مسلسل اسرائیل کو مالی، عسکری اور سفارتی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔

دنیا کے متعدد ممالک نے اس جنگ پر احتجاج کیا، جنگ بندی کا مطالبہ کیا، مگر جب یہ معاملہ اقوام متحدہ کی میز پر پہنچا تو ایک ویٹو نے پوری دنیا کی آواز کو دفن کر دیا۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسا عالمی نظام ہے، جہاں ایک ملک کی مرضی پوری انسانیت کی رائے پر غالب آ جاتی ہے؟

کیا دنیا واقعی اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ اسے بچوں کی لاشیں بھی ہلا نہیں سکتیں؟ کیا عورتوں کی چیخیں، اور معصوموں کی آہیں بھی عالمی ضمیر کو نہیں جگا سکتیں؟

غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک علاقے کا المیہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی ہم مہذب دنیا میں زندہ ہیں، یا پھر اب بھی طاقت کا قانون ہی سب کچھ ہے؟

المیہ یہ ہے کہ جو قومیں کبھی ظلم کا شکار رہی ہیں، آج وہ خود ظلم کی علامت بن چکی ہیں۔ جو اپنے مظالم کی تاریخ سے سبق سیکھ سکتی تھیں، وہی آج بے گناہوں پر آگ برسا رہی ہیں۔

ادھر مغربی دنیا کے شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ مگر مسلم دنیا؟ وہ یا تو خاموش ہے یا صرف بیانات سے آگے نہیں بڑھتی۔ عرب دنیا عید منا رہی ہے، مگر اس خوشی میں غزہ کے لہو کی تلخی ضرور گھلی ہوئی ہے۔

اور ایسے میں جب ہم حضرت ابراہیمؑ کی سنت ادا کر رہے ہیں، ہمیں ایک لمحہ رک کر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ قربانی کا اصل فلسفہ کیا ہے؟ کیا صرف جانور ذبح کرنا کافی ہے، یا ہمیں اپنی بے حسی، اپنے خوف، اپنی خاموشی کو بھی قربان کرنا ہوگا؟

حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے چلے تھے، اور خدا نے انسان کی جان بچانے کے لیے دنبہ بھیج دیا۔ اس واقعے کا اصل پیغام یہی تھا — انسان کی جان خدا کے نزدیک سب سے قیمتی ہے۔

مگر آج… انسان کو جانور سمجھا جا رہا ہے۔ اسے مٹی میں دفنایا جا رہا ہے، اور اس کے وجود کو بے وقعت کر دیا گیا ہے۔ افسوس، کہ جس انسان کے لیے آسمان سے دنبہ اتارا گیا تھا، آج وہی انسان بمباری سے مٹایا جا رہا ہے۔

یہ عید نہیں، ایک سوال ہے —
کیا ہم واقعی انسانیت کے پیغام کو سمجھ پائے ہیں؟
حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے چلے تھے، اور خدا نے انسان کی جان بچانے کے لیے دنبہ بھیج دیا۔ اس واقعے کا اصل پیغام یہی تھا — انسان کی جان خدا کے نزدیک سب سے قیمتی ہے۔



جمعرات، 5 جون، 2025

ٹھاکر اورٹھوکر میں فرق




ٹھاکر اور ٹھوکر میں فرق
کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کے نوجوانوں کی محنت، جذبے اور دیانت پر ہوتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں نوجوانوں میں کام چوری، سستی اور بیزاری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ روش نہ صرف ان کی ذاتی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ہماری قومی ترقی کے خواب کو بھی چکنا چور کر رہی ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قوموں کی عروج و زوال کی کہانی نوجوانوں کی کارکردگی سے جڑی ہوتی ہے۔ خلافت راشدہ کے دور میں نوجوان علم، محنت اور جہاد میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے دنیا کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنایا۔ برعکس اس کے، جب مسلمانوں کے نوجوان عیش و عشرت اور کاہلی کا شکار ہوئے تو زوال نے انہیں آ لیا۔
مذہبی تعلیمات بھی کام چوری کی شدید مذمت کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں واضح ارشاد ہے:
"اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔"
(النجم، 39)
نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
"جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتا ہے، وہ اللہ کا محبوب بندہ ہے۔"
(مسند احمد)
اسلامی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ محنت عین عبادت ہے اور سستی گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
دانشوروں کے اقوال بھی ہمیں یہی درس دیتے ہیں۔ مولانا رومی فرماتے ہیں:
"جب تک انسان عمل میں مصروف ہے، شیطان اس پر قابو نہیں پا سکتا۔"
علامہ اقبال نوجوانوں سے امید لگاتے ہوئے کہتے ہیں:
"محنت کشوں کا جہاں اور ہے، خواب دیکھنے والوں کا جہاں اور ہے۔"
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنے اندر محنت اور جفاکشی کا جذبہ پیدا کریں۔ کام چوری سے توبہ کریں اور خود کو علم، فن اور عمل کے میدانوں میں ثابت کریں۔ کیونکہ وقت اور محنت وہ خزانے ہیں جنہیں ضائع کرنا، اپنے مستقبل کو دفنانے کے مترادف ہے۔
یاد رکھیں:
“محنتی ہاتھ کبھی خالی نہیں رہتے اور سست لوگ کبھی اونچا مقام حاصل نہیں کرتے۔”
اگر آج ہم نے نوجوانوں میں کام کی عظمت کا شعور بیدار نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

باریک واردات

باریک واردات

سوشل میڈیا، جہاں ایک طرف عوامی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ ہے، وہیں دوسری طرف اب یہ غلط اطلاعات اور جھوٹی خبروں کا سب سے بڑا اڈہ بن چکا ہے۔ آج کل ایک خاص طرز کی وارداتیں انھی پلیٹ فارمز پر نظر آ رہی ہیں جنہیں اگر بغور نہ دیکھا جائے تو وہ قوم کے جذبات کو توڑنے، اداروں کے اعتماد کو مجروح کرنے اور معاشرے میں فرقہ واریت پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔

چند دن قبل ایک ایسی ہی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ایئر فورس کے ایک پائلٹ کو امریکہ میں کسی تقریب کے دوران تمغے سے نوازا گیا ہے۔ خبر میں نہ کوئی تصدیق تھی، نہ حوالہ۔ مگر سوشل میڈیا کے "رضاکاروں" نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا، تصاویر شیئر ہوئیں، مبارک بادیں دی گئیں، اور قوم جذباتی فضا میں بہک گئی۔

اس پر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور باخبر محترم جناب افضل چوہان نے، جو مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور سوشل میڈیا کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، ایک ہوش رُبا ویڈیو پیغام جاری کیا۔ ان کے مطابق نہ تو پاکستان ایئر فورس نے اس خبر کی تصدیق کی ہے، نہ حکومت نے۔ بلکہ ایئر فورس نے اپنے متحرک پائلٹوں کی باقاعدہ تصاویر جاری کیں جن میں وہ "نامزد" پائلٹ شامل ہی نہیں تھے۔

جناب افضل چوہان نے نشان دہی کی کہ یہ عمل دراصل ایک خاص ذہنیت کی جانب سے پھیلایا گیا بیانیہ ہے۔ امریکہ میں ایک مخصوص کمیونٹی کے لیے تمغہ دینے کی بات کو جان بوجھ کر وائرل کیا گیا تاکہ پاکستانی اداروں میں تفریق اور عوام میں تاثر سازی کا کھیل کھیلا جا سکے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ واردات صرف اسی واقعے تک محدود نہیں۔ سرگودھا، جو اپنے مالٹوں اور پاک فضائیہ کے اہم بیس کی وجہ سے معروف ہے، وہاں حال ہی میں ایک قتل کا واقعہ پیش آیا۔ تحقیقات کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا، ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی تھی، مگر سوشل میڈیا پر فوراً اسے ایک مذہبی اقلیت سے جوڑ دیا گیا۔ مقصد؟ وہی — جذبات بھڑکانا، تعصب پیدا کرنا، اور قومی وحدت کو ٹھیس پہنچانا۔

یہی واردات بھارت پلوامہ واقعے میں کر چکا ہے۔ تحقیق سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر "رضاکاروں" نے ایک مخصوص بیانیہ اتارا اور بھارت میں جنگی جنون پھیلایا، نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان پر چڑھائی کر دی — اور بعد ازاں دنیا کے سامنے شرمندگی اٹھائی۔

آج پاکستان ایک بار پھر نشانے پر ہے۔ 10 مئی کو پاکستان نے عالمی سطح پر جو سفارتی، اخلاقی اور عسکری کامیابیاں حاصل کیں، انہیں ماند کرنے کے لیے یہ باریک وارداتیں ڈالی جا رہی ہیں۔ مخصوص ذہن رکھنے والے گروہ نہ صرف متحرک ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر اپنا اثر بھی جما چکے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ نہیں کہ یہ وارداتیں کون کر رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان کا شکار کیوں بنتے ہیں؟

کیا ہماری ذمہ داری نہیں بنتی کہ ہم ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں؟ کیا ہمیں سیکھ لینا نہیں چاہیے کہ جذباتی ردعمل، بغیر تحقیق کے، ہمیں غیر ارادی طور پر دشمن کے بیانیے کا حصہ بنا دیتا ہے؟

یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم بالغ نظری کا مظاہرہ کریں۔ اداروں کو کمزور کرنے والی باتوں کا حصہ نہ بنیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ:

فارورڈ کرنے سے پہلے سوچیں

اگر ہم نے اس روش کو نہ بدلا تو کل یہی فیک نیوز، یہی افواہیں، ہمارے امن، ہماری یکجہتی اور ہمارے قومی وقار کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گی۔