پیر، 29 دسمبر، 2025

انسانی رویّے

  انسانی  رویّے

انسانی معاشرے میں اختلاف ایک فطری حقیقت ہے، مگر اس اختلاف کا اظہار کس انداز میں کیا جاتا ہے، یہی کسی فرد اور قوم کے فکری و اخلاقی معیار کا تعین کرتا ہے۔ تاریخ اور روزمرہ زندگی دونوں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اختلاف کے جواب میں عموماً تین رویّے سامنے آتے ہیں: علمی دلائل، بدزبانی، اور جسمانی تشدد۔ یہ تینوں دراصل شعور کے مختلف درجوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
علمی دلائل اختلاف کا اعلیٰ اور مہذب طریقہ ہیں۔ اس میں انسان عقل، علم اور دلیل کے ذریعے اپنی بات پیش کرتا ہے اور دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ علمی مکالمہ سننے، سوال کرنے اور جواب دینے کا نام ہے، نہ کہ جیتنے یا نیچا دکھانے کا۔ اس رویّے میں دلیل کا وزن شخصیت پر نہیں بلکہ خیال پر ہوتا ہے۔ اسی لیے علم اور دلیل معاشروں کو جوڑتے ہیں، ادارے مضبوط کرتے ہیں اور فکری ارتقاء کا راستہ کھولتے ہیں۔ جہاں اختلاف دلیل سے کیا جائے وہاں اختلاف دشمنی میں نہیں بدلتا بلکہ سیکھنے کا موقع بن جاتا ہے۔
اس کے مقابل بدزبانی اس وقت جنم لیتی ہے جب دلیل کمزور پڑ جائے یا انسان میں صبر اور اخلاق کی کمی ہو۔ گالی، طعنہ، تضحیک اور تحقیر دراصل فکری شکست کا اعلان ہوتے ہیں۔ بدزبانی کا مقصد قائل کرنا نہیں بلکہ خاموش کرانا ہوتا ہے۔ یہ زبان کو ہتھیار بنا کر دوسرے کی عزتِ نفس کو نشانہ بناتی ہے۔ بدزبانی وقتی طور پر غصے کی تسکین تو دے سکتی ہے، مگر نہ حقیقت بدلتی ہے اور نہ دلائل۔ اس کے نتیجے میں مکالمہ ختم اور نفرت کا آغاز ہو جاتا ہے۔
تیسرا اور سب سے خطرناک رویّہ جسمانی تشدد ہے۔ جب زبان بھی ناکام ہو جائے اور دلیل کا دروازہ بند کر دیا جائے تو ہاتھ اٹھتے ہیں، لاٹھیاں چلتی ہیں اور خون بہتا ہے۔ جسمانی تشدد دراصل فکر کی موت اور اخلاق کی شکست ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ تشدد کے ذریعے وقتی طور پر خوف تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر نہ سوچ بدلی جا سکتی ہے اور نہ سچ دبایا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تشدد نے ہمیشہ ردِعمل، نفرت اور مزید بگاڑ کو جنم دیا ہے۔
ان تینوں رویّوں کا تقابلی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ علمی دلائل شعور کی بلندی، بدزبانی ذہنی کمزوری اور جسمانی تشدد اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہیں۔ جہاں علم بولتا ہے وہاں ہاتھ خاموش رہتے ہیں، اور جہاں ہاتھ بولنے لگیں وہاں عقل دفن ہو جاتی ہے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہے کہ وہاں اختلاف کو کس سطح پر نمٹایا جاتا ہے۔ اگر معاشرہ علمی دلائل کو فروغ دے تو اختلاف اصلاح بن جاتا ہے۔ اگر بدزبانی عام ہو جائے تو سماج زبانی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اگر جسمانی تشدد کو جواز مل جائے تو انسان اور انسانیت دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
آخرکار، اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کس سے اختلاف کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ **ہم اختلاف کیسے کرتے ہیں**۔ دلیل انسان کو انسان رکھتی ہے، زبان کی بدتہذیبی اسے چھوٹا کر دیتی ہے، اور تشدد اسے حیوانیت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ انتخاب ہر دور میں انسان کے ہاتھ میں رہا ہے—قلم، زبان یا لاٹھی؛ یہی انتخاب اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔

سوال کی اہمیت




سوال کی اہمیت
علم کا آغاز حیرت  سے ہوتا ہے ۔ حیرت سوال  پیدا کرتی ہے اور سوال جواب تلاش کرتا ہے۔ 
سوال اس کنجی کی مانند ہے جس کے بغیر علم کا قفل نہیں کھلتا۔ جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لیے غوطہ ضروری ہے، ویسے ہی علم تک پہنچنے کے لیے سوال کی جرات لازم ہے۔ جہاں سوال نہیں ہوتا، وہاں ذہن ٹھہر جاتا ہے اور شعور ساکت ہو جاتا ہے۔
یہ تصور کہ سوال ایمان کے خلاف ہے، خود دین کی روح کے منافی ہے۔ قرآن بار بار غور و فکر، تدبر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے—یہ سب سوال ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ انبیاءؑ کے سوال کمزوری نہیں تھے بلکہ علم اور یقین کی جستجو تھے۔ صحابہؓ نے بھی سوال کیے، اور رسولِ اکرم ﷺ نے سوال  کی کبھی حوصلہ شکنی نہیں کی ۔ 
بلکہ ایک شخص نے آ کر سوال کیا کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے خدا کہاں تھا یا پوچھا خدا کیا کر رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس سوال کا اطمینان بخش جواب دیا تھا۔ 
فلسفہ ہو یا سائنس، ہر بڑی پیش رفت کسی سوال سے شروع ہوئی۔ سقراط نے سوال اٹھا کر سوچ کو بیدار کیا، ارسطو نے سوال کر کے علم کو منظم کیا، اور مسلم مفکرین نے سوال کے ذریعے اندھیروں میں چراغ جلائے۔ ابن الہیثم کا سوال بصریات بنا، الخوارزمی کا سوال الجبرا، اور ابنِ سینا کا سوال فلسفہ و طب کی بنیاد۔
جدید سائنس بھی اسی روایت کی توسیع ہے۔ نیوٹن، گیلیلیو اور آئن اسٹائن—سب کے ہاں ایک سوال تھا جس نے کائنات کی نئی تعبیر پیش کی۔ انسان کی ہر علمی جستجو دراصل ایک سوال کی توسیع ہے۔
جس معاشرے میں سوال دبایا جائے، وہاں علم مر جاتا ہے۔ اچھا استاد وہ نہیں جو صرف جواب دے، بلکہ وہ ہے جو سوال پیدا کرے۔ سوال شعور کو حرکت دیتا ہے، اور شعور ہی علم کو زندہ رکھتا ہے
مختصر یہ کہ سوال زندہ ہے تو علم زندہ ہے؛ اور علم زندہ ہے۔
اللہ تعالی نے نبی اخرالزمان  ﷺ  پر وحی کا آغاز لفظ "اقراء" سے فرمایا تھا ۔ 

ہفتہ، 27 دسمبر، 2025

انسان اور جانور کے مابین مکالمہ




 بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔
اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ا آج سے  سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر  یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔
آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت  نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔
اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔  سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔
کبھی یہ محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
آج جانوروں کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔
اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ 
ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ 
 یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے آپ کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔

علم کا مستقبل



علم انسانی تہذیب کا بنیادی ستون ہے۔ انسانی ترقی، ایجاد، معاشرتی تنظیم اور فکری ارتقا کا ہر مرحلہ علم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ شعوری اور عقلی قوت ہے جو انسان کو سوال کرنے، دریافت کرنے اور حقیقت تک رسائی پانے کی صلاحیت دیتی ہے۔

علم کی تعریف

علم سے مراد حقیقت یا مظہر کا درست اور قابل اعتماد ادراک ہے، جو حواس، تجربہ، عقل و منطق، اور سماجی تعامل سے حاصل ہوتا ہے۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے، علم یقین ہے جو حقیقت کے مطابق ہو اور جس کی عقلی یا تجربی توجیہ موجود ہو۔

علم کی اقسام

  1. حاصل کردہ علم: مشاہدہ، تجربہ اور استدلال سے پیدا ہوتا ہے۔ سائنسی قوانین اور نظریات اس کی مثال ہیں۔ یہ علم ارتقائی، قابلِ تصحیح اور تجربے سے ثابت شدہ ہے۔

  2. عطا شدہ علم: ذہن کی بصیرت، وجدان اور تخلیقی جست سے جنم لیتا ہے۔ مثالیں: نیوٹن کا کششِ ثقل کا تصور، آئن اسٹائن کے تصوراتی تجربات۔ یہ علم تخلیق اور تخیل کی بنیاد ہے۔

علم اور انسانی آزادی

علم انسان کو فکری، سائنسی، سماجی اور معاشی آزادی دیتا ہے۔ یہ اخلاقی شعور، انصاف، مساوات اور قانون سازی کے لیے لازمی ہے۔ تخلیقی قوتیں اور سماجی ترقی علم کے بغیر ممکن نہیں۔

علم کی حدود اور مستقبل

انسانی حواس، ذہن اور زبان کے محدود دائرے علم کی حدود طے کرتے ہیں، مگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت، دماغ کی سائنسی تفہیم اور معلومات کے بڑھتے ہوئے وسائل انسانی علم کی نئی جہتیں قائم کریں گے۔

حاصل کلام

علم انسان کی بنیادی طاقت ہے۔ حاصل کردہ علم تجربے اور مشاہدے کی بنیاد ہے، جبکہ عطائی علم ذہنی بصیرت  کا آئینہ ہے۔ ان دونوں کا امتزاج ہی انسانی تہذیب، سائنسی ترقی اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ علم کے بغیر آزادی، تحقیق  اور ترقی ممکن نہیں، اور جدید دور میں یہ انسانی شعور اور سماجی استحکام کے نئے معیار قائم کرے گا۔


بدھ، 24 دسمبر، 2025



بھارت میں حال ہی میں ہونے والے ایک مناظرے میں، جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا، جاوید اختر صاحب نے حضرت عیسیٰؑ کی تاریخِ پیدائش کے دن پر سوال اٹھایا۔ ۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کے تحت یہ کالم لکھا جا رہا ہے، تاکہ جذبات کے بجائے تاریخ کی روشنی میں معاملے کو سمجھا جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ رومی سلطنت کے کسی سرکاری ریکارڈ میں حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا براہِ راست اندراج موجود نہیں، مگر پہلی صدی میں عام افراد کی ولادت کا باقاعدہ اندراج رائج ہی نہیں تھا۔ تاریخ اس طرح کے واقعات کو سیاسی حالات اور بعد کے معتبر متون کے ذریعے سمجھتی ہے، نہ کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر۔
انجیل متی اور لوقا دونوں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو بیت لحم سے جوڑتی ہیں۔ جس کو سب تسلیم کرتے ہیں
تاریخی لحاظ سے سب سے مضبوط حوالہ ہیرودیسِ اعظم ہے، جس کی وفات 4 قبل مسیح میں ثابت ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو اسی کے دور سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی پیدائش سن عیسوی کے آغاز سے پہلے ہوئی۔ اس سے اگر تاریخ پیدائش 25 دسمبر ثابت نہیں ہوتی تو کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے جو اس متفق مذہبی روائت  کی تردید کرے۔
لوقا میں مذکور مردم شماری پر اختلاف ضرور ہے، مگر اسے بنیاد بنا کرتریخ پیدائش کو متنازعہ بنانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
لہٰذا معاصر مناظرے میں اٹھایا جانے والا سوال علمی تحقیق کے سامنے ٹھہرتا نہیں۔ تاریخ کسی واقعے کو اس بنیاد پر رد نہیں کرتی کہ اس کی تاریخ کا دن معلوم نہیں، بلکہ شواہد کے مجموعی وزن سے فیصلہ کرتی ہے—اور مسیحی روایات میں 25 دسمبر تسلیم شدہ روائت ہے