اتوار، 22 مارچ، 2026

توانائی ہی طاقت ہے



BTC pipe line

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی صرف میزائل یا فوجی نقل و حرکت تک محدود نہیں رہی۔ اصل محاذ آج توانائی کے بہاؤ اور ان کے راستوں پر کنٹرول کا ہے، اور اس میں سب سے اہم کردار ادا کر رہی ہے باکو-تبلیسی-جےہان (بی ٹی سی) پائپ لائن۔

یہ پائپ لائن آذربائیجان کے تیل کو جارجیا کے راستے ترکی کے ساحلی شہر جےہان تک پہنچاتی ہے۔ بظاہر ایک اقتصادی منصوبہ، مگر حقیقت میں یہ خطے کی طاقت کا توازن بدل دینے والی حکمت عملی کی راہداری ہے۔

یہ راہداری روس اور ایران کو بائی پاس کرتی ہے اور عالمی منڈیوں تک تیل پہنچاتی ہے۔ یہاں توانائی صرف تجارت کا ذریعہ نہیں، بلکہ اسٹریٹیجک ہتھیار بھی بن چکی ہے۔ ترکی اس راہداری کے ذریعے توانائی کا مرکز بن چکا ہے، آذربائیجان اپنی برآمدات سے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، اور اسرائیل کو جےہان بندرگاہ کے ذریعے بالواسطہ توانائی حاصل ہوتی ہے۔

اس نظام کے پیچھے ایک مثلثِ مفادات کام کر رہی ہے: آذربائیجان توانائی کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، ترکی جغرافیائی اہمیت حاصل کر رہا ہے، اور اسرائیل محفوظ توانائی کی رسائی حاصل کر رہا ہے۔ یہ تعلقات نظریات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقت پسندی کی سیاست پر استوار ہیں۔

بی ٹی سی پائپ لائن صرف تیل کی ترسیل کا راستہ نہیں، بلکہ ممکنہ اسٹریٹیجک ہدف بھی ہے۔ اگر یہاں خلل آئے تو عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، یورپ اور ایشیا کی سپلائی متاثر ہوگی اور خطے میں کشیدگی بڑھ جائے گی۔

دنیا کی بڑی جنگیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ کچھ جنگیں پائپ لائنوں، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں میں خاموش مگر فیصلہ کن طریقے سے جاری رہتی ہیں۔ باکو-تبلیسی-جےہان پائپ لائن بھی اسی خاموش محاذ کا حصہ ہے۔ مستقبل کا سوال یہ نہیں ہوگا کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ توانائی کہاں سے گزر رہی ہے۔


وسوسہ کیا ہے؟



وسوسہ کیا ہے؟
انسانی دل کوئی سادہ وجود نہیں، بلکہ ایک ایسا میدانِ کارزار ہے جہاں ہر لمحہ خیر و شر، یقین و شک، اور نور و تاریکی کے درمیان ایک خاموش جنگ جاری رہتی ہے۔ اسی جنگ کا ایک نہایت باریک مگر مہلک ہتھیار وسوسہ ہے—ایک ایسا خیال جو بظاہر معمولی ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ انسان کے ایمان، عمل اور سوچ کو کھوکھلا کرنے لگتا ہے۔
وسوسہ دراصل وہ غیر مرئی سرگوشی ہے جو انسان کے دل میں داخل ہو کر اسے بے یقینی، خوف، مایوسی اور گناہ کی طرف مائل کرتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ شیطانی القا ہوتا ہے، جس کا بنیادی مقصد انسان کو اس کے رب سے دور کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں شیطان کو "وسوسہ انداز" کہا گیا ہے—وہ جو دلوں میں خاموشی سے شک کے بیج بوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وسوسہ ہمیشہ برائی کے واضح چہرے کے ساتھ نہیں آتا۔ بعض اوقات یہ نیکی کے پردے میں بھی چھپ جاتا ہے۔ عبادت کے دوران بار بار یہ خیال آنا کہ شاید وضو درست نہیں ہوا، یا نماز میں کوئی غلطی ہو گئی—یہ بھی وسوسہ ہی کی ایک شکل ہے۔ اسی طرح یہ احساس کہ "میری دعائیں قبول نہیں ہوتیں" یا "اللہ شاید مجھ سے ناراض ہے"—یہ سب وہ نفسیاتی جال ہیں جو انسان کو مایوسی کی طرف دھکیلتے ہیں۔
وسوسے کی کئی صورتیں ہیں۔ کبھی یہ عقیدے پر حملہ کرتا ہے اور اللہ کی ذات یا فیصلوں پر شک پیدا کرتا ہے۔ کبھی عبادات کو مشکوک بنا دیتا ہے، اور کبھی انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ اس کی نیکیاں بے معنی ہیں۔ سب سے خطرناک صورت وہ ہے جب برائی کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جائے، اور انسان اسے جائز سمجھنے لگے۔
ایسے میں ایک پراثر روایت رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ایک شخص کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرتا تھا۔ اس کی زبان ہر وقت "اللہ، اللہ" سے تر رہتی تھی۔ ایک دن اس کے دل میں خیال آیا: "میں اتنا ذکر کرتا ہوں، مگر کیا کبھی اللہ نے مجھے جواب دیا؟" یہ وسوسہ اس کے دل میں جڑ پکڑ گیا، یہاں تک کہ اس کے ذکر میں کمی آنے لگی۔
پھر ایک رات اس نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا، جو اسے یہ حقیقت سمجھا رہے تھے: "اے بندے! تیرا اللہ کو یاد کرنا ہی دراصل اللہ کی طرف سے جواب ہے۔ اگر وہ تجھے یاد نہ کرنا چاہتا، تو تجھے ذکر کی توفیق ہی نہ دیتا۔"
یہ پیغام ایک سادہ مگر گہری حقیقت کو آشکار کرتا ہے—**ذکر کی توفیق خود اللہ کی طرف سے جواب ہے۔ انسان کا اللہ کی طرف متوجہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ نے اسے اپنی طرف بلایا ہے۔
صوفیاء اسی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں: "تمہارا اللہ کو تلاش کرنا، دراصل اللہ کا تمہیں تلاش کرنا ہے۔"
اسی تناظر میں حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ دل میں نیکی کی خواہش کا پیدا ہونا دراصل اللہ کی طرف سے بلانے کی ایک صورت ہے۔ جبکہ حضرت علی کا قول بھی اس پہلو کو واضح کرتا ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے ٹوٹے ہوئے ارادوں کے ذریعے اللہ کو پہچانتا ہے—کیونکہ وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
وسوسے کا مقابلہ محض جذباتی نہیں بلکہ عملی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ ذکرِ الٰہی دل کو مضبوط کرتا ہے، علم انسان کو فکری استحکام دیتا ہے، نیک صحبت سکون بخشتی ہے، اور اللہ پر یقین وسوسوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ دعا بھی ایک طاقتور ہتھیار ہے—خاص طور پر شیطانی وسوسوں سے پناہ مانگنا۔
حقیقت یہ ہے کہ وسوسہ انسانی زندگی کا ایک لازمی امتحان ہے، مگر یہ ناقابلِ شکست نہیں۔ یہ صرف ایک خیال ہے، حقیقت نہیں۔ اصل حقیقت انسان کا یقین، اس کا تعلقِ الٰہی اور اس کا باطن ہے۔
جب کبھی دل میں یہ خیال ابھرے کہ "میری دعا سنی نہیں جا رہی" یا "اللہ مجھ سے دور ہے"، تو اس حکایت کو یاد رکھنا چاہیے:
"تمہارا اللہ کو یاد کرنا ہی اللہ کی طرف سے جواب ہے۔"

ایک ندی کی کہانی





 ایک ندی کی کہانی

راولپنڈی کی پہچان کبھی اس کی گلیاں، بازار اور لوگ نہیں تھے، بلکہ اس کے بیچوں بیچ بہنے والا نالہ لئی تھا۔ یہ وہی نالہ ہے جو آج بدبو، گندگی اور خوف کی علامت بن چکا ہے، مگر ایک وقت تھا جب یہی پانی زندگی، خوبصورتی اور سکون کا استعارہ تھا۔

یہ ندی مارگلہ پہاڑیاں کی گود سے نکلتی تھی۔ بارشوں کا پانی، چشموں کی روانی، اور قدرتی بہاؤ مل کر اسے ایک شفاف دھار میں بدل دیتے تھے۔ یہ بہتی ہوئی لکیر صرف پانی نہیں تھی، بلکہ اس شہر کی سانس تھی۔ لوگ اس کا پانی پیتے تھے، اس میں مچھلیاں پکڑتے تھے، اور اس کے کنارے زندگی آباد تھی۔

پھر وقت بدلا۔ شہر پھیلنے لگا۔ آبادی بڑھی، مگر سوچ سکڑ گئی۔ نالہ لئی، جو کبھی قدرتی نعمت تھا، آہستہ آہستہ انسانی لاپرواہی کا شکار ہونے لگا۔ گھروں کا گندا پانی، فیکٹریوں کا زہر، اور بے ہنگم تعمیرات—سب کچھ اسی کے حوالے کر دیا گیا۔

یوں ایک ندی کو نالہ بنا دیا گیا۔

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، بلکہ دہائیوں کی غفلت کا نتیجہ تھی۔ 1947 کے بعد جب راولپنڈی نے تیزی سے ترقی کی، تو کسی نے یہ نہ سوچا کہ اس ترقی کی قیمت کیا ہوگی۔ سیوریج کے نظام ناکافی رہے، تجاوزات بڑھتی گئیں، اور نالہ لئی کا قدرتی راستہ تنگ ہوتا گیا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ یہ نالہ صرف گندگی کا راستہ نہیں، بلکہ خطرے کی علامت بھی ہے۔ مون سون آتے ہی اس کا پانی بپھر جاتا ہے۔ مارگلہ پہاڑیاں سے آنے والا تیز بہاؤ جب شہر کی تنگ گزرگاہوں میں داخل ہوتا ہے تو سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ 2001 اور 2010 کے سیلاب اس بات کے گواہ ہیں کہ فطرت کو نظرانداز کرنے کی قیمت کتنی بھاری ہوتی ہے۔

یہ نالہ آگے جا کر دریائے سواں میں شامل ہوتا ہے، اور یوں آلودگی کا یہ سفر مزید پھیلتا ہوا دریائے سندھ تک جا پہنچتا ہے۔ یعنی ایک شہر کی غفلت پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔

یہ کہانی صرف ایک نالے کی نہیں، بلکہ ہمارے رویوں کی ہے۔ ہم نے قدرت کو استعمال کیا، مگر اس کی حفاظت نہ کی۔ ہم نے ترقی تو کی، مگر توازن کھو دیا۔

سوال یہ نہیں کہ نالہ لئی کیوں بگڑا، سوال یہ ہے کہ ہم کب سدھریں گے؟

دنیا کے کئی شہر اپنے مردہ دریاؤں کو دوبارہ زندہ کر چکے ہیں۔ اگر ارادہ ہو، منصوبہ بندی ہو، اور نیت درست ہو، تو نالہ لئی بھی دوبارہ ایک زندہ ندی بن سکتا ہے۔

ورنہ یہ نالہ ہمیں ہر سال، ہر بارش میں، یہی یاد دلاتا رہے گا کہ انسان جب فطرت سے لڑتا ہے تو آخرکار ہارتا وہ خود ہی ہے۔

جمعہ، 20 مارچ، 2026

یہ جنگ سرحدوں کی نہیں، توانائی کے نقشے کی ہے


 یہ جنگ سرحدوں کی نہیں، توانائی کے نقشے کی ہے

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ کے دہانے پر کھڑا ہے، مگر اس بار کہانی صرف میزائلوں اور فضائی حملوں کی نہیں۔ اس جنگ کے پیچھے ایک گہرا، خاموش اور زیادہ خطرناک ایجنڈا کارفرما ہے—طاقت، توازن اور توانائی کا کنٹرول۔

اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کو محض ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسٹریٹیجک منصوبے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

اسرائیل کا پہلا ہدف واضح ہے: ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت کو اس حد تک محدود کر دیا جائے کہ وہ آئندہ کسی بڑے خطرے کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اس کے لیے نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنانا، میزائل اور ڈرون پروگرام کو کمزور کرنا، اور خطے میں موجود اس کے اتحادی نیٹ ورک—جیسے حزب اللہ—کو محدود کرنا ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اسے سادہ الفاظ میں ایک پیشگی روک تھام کہا جا سکتا ہے۔

مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

دوسرا بڑا ہدف علاقائی طاقت کے توازن کو بدلنا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا اثر کم ہو اور اس کی جگہ ایک نیا سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل پائے، جس میں خلیجی ممالک اور دیگر اتحادی اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یہ دراصل خطے کی ازسرِنو تشکیل

 (regional re-engineering) 

کی ایک کوشش ہے—خاموش مگر دور رس اثرات رکھنے والی۔

تیسرا عنصر ہے ڈیٹرنس—یعنی ایسا خوف پیدا کرنا کہ آئندہ کوئی ریاست یا گروہ اسرائیل کو چیلنج کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔ حالیہ برسوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد اسرائیل ایک واضح پیغام دینا چاہتا ہے: جواب سخت ہوگا، فوری ہوگا، اور فیصلہ کن ہوگا۔

لیکن اس پوری تصویر کا سب سے اہم، اور شاید سب سے کم زیرِ بحث پہلو ہے—توانائی۔

بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیانات میں تیل اور توانائی کا ذکر محض معاشی گفتگو نہیں، بلکہ ایک واضح جغرافیائی اشارہ 

(geostrategic signal)

 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل جنگ صرف زمین پر نہیں، بلکہ ان راستوں پر ہے جہاں سے دنیا کی معیشت کو توانائی ملتی ہے۔

اگر ایران مضبوط رہتا ہے تو وہ آبنائے ہرمز اور دیگر توانائی روٹس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے عالمی طاقتیں بھی پریشان ہوتی ہیں۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ توانائی کا بہاؤ اس کے مخالف کے کنٹرول میں ہو۔

اسی لیے متبادل راستے، جیسے باکو-تبلیسی-جےہان پائپ لائن، غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ جب خلیجی سپلائی خطرے میں ہو، تو یہی راہداری عالمی توانائی کے توازن کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ تیل کا ذکر دراصل عالمی بیانیے کو متاثر کرنے کی کوشش بھی ہے—دنیا کو یہ باور کروانا کہ یہ جنگ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں، بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔ یوں مغربی دنیا کو اس بیانیے کے ساتھ کھڑا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اب ایک اہم سوال: کیا اسرائیل واقعی مکمل جنگ چاہتا ہے؟

حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

یہ کہنا کہ اسرائیل صرف جنگ کا خواہاں ہے، ایک سادہ اور سطحی تجزیہ ہوگا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اسرائیل ایک کنٹرولڈ تصادم چاہتا ہے—ایسا تصادم جس میں ایران کمزور ہو جائے، مگر عالمی نظام مکمل طور پر نہ بکھرے۔ اس حکمت عملی کو عسکری اصطلاح میں 

“escalation dominance” 

کہا جاتا ہے۔

مگر ہر حکمت عملی کے اپنے خطرات ہوتے ہیں۔

اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، سپلائی چین متاثر ہوگی، اور عالمی معیشت دباؤ میں آ جائے گی۔ یہ وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل نقصان وہیں سے شروع ہوتا ہے۔

آخرکار، اس پوری صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے

اسرائیل کا ہدف ایران کو اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ وہ نہ عسکری خطرہ رہے، نہ توانائی کے عالمی نقشے پر اثر انداز ہو سکے۔

اور نیتن یاہو کا تیل سے متعلق بیان ہمیں یہ سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ

یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں، بلکہ توانائی کے عالمی نقشے کی جنگ ہے۔

جنگ، معیشت اور انسانیت کا خسارہ





 جنگ، معیشت اور انسانیت کا خسارہ

دنیا ایک بار پھر اس مقام پر کھڑی ہے جہاں سفارت کاری کی میزیں بھی بچھی ہوئی ہیں اور جنگی طیارے بھی فضا میں گشت کر رہے ہیں۔ جینیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات نے وقتی طور پر یہ امید ضرور پیدا کی تھی کہ شاید ایک نیا معاہدہ جنم لے گا، جیسا کہ ماضی میں 2015 کے جوہری معاہدے کی صورت میں ہوا تھا۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا تھا، اور عالمی طاقتیں ایک ممکنہ تصادم کو روکنے کے قریب نظر آ رہی تھیں۔

مگر جون 2025 میں، انہی مذاکرات کے دوران، ایران پر حملہ ہوا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب بات چیت کے ساتھ ساتھ طاقت کا استعمال کیا گیا ہو، مگر اس بار اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں اعتماد ایک نایاب شے بن چکا ہے۔

پھر 28 فروردی 2026 کا واقعہ—ایک ایسا موڑ جس نے اس تنازعے کو مکمل جنگی کیفیت میں بدل دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کو ابتدائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، اور اس کے بعد متبادل قیادت کو بھی ختم کرنے کی مسلسل کوششیں جاری رہیں۔ یہ حکمت عملی کسی ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

مگر ایران نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ اس نے جواب دیا—مسلسل اور شدید۔ امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس ردعمل نے یہ واضح کیا کہ ریاستیں صرف قیادت سے نہیں بلکہ اجتماعی ارادے سے چلتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس مزاحمت کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ یوٹیوبرز اور تجزیہ کار اسے استقامت اور حوصلے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ مگر اس بیانیے کے پیچھے ایک حقیقت ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے—اور وہ ہے معیشت، اور اس سے جڑی عوام کی زندگی۔

ایران ایک طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی میں اضافہ، بے روزگاری، اور بنیادی اشیاء کی قلت—یہ سب عوامل پہلے ہی عوام کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ اب جنگی اخراجات، سپلائی لائنز کی رکاوٹ، اور عالمی تنہائی اس دباؤ کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔

یہاں ایک اور بڑی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جس پر کم بات ہو رہی ہے:

ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا مجموعی طور پر معاشی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ توانائی کے وسائل—تیل اور گیس—صرف متحارب ممالک کا مسئلہ نہیں رہتے۔ ان کی کمیابی پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت ہل جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ، صنعت، خوراک—سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔

اس کے باوجود، امن کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے والے ممالک کی تعداد نہایت کم دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر ممالک ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہیں—"دیکھو اور انتظار کرو"۔ نہ کھل کر مداخلت، نہ مؤثر ثالثی، بس حالات کا مشاہدہ۔

یہ خاموشی بھی ایک طرح کا کردار ہے—اور بعض اوقات یہ کردار بھی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔

جنگ کا دائرہ جب وسیع ہوتا ہے تو اس کا نقصان سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ انسانیت اس کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتی ہے۔ بچے، عام شہری، کمزور طبقات—یہ سب اس آگ میں جھلس جاتے ہیں جسے سیاسی اور عسکری فیصلے بھڑکاتے ہیں۔

ایسے میں ایک تلخ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ دنیا میں کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو کشیدگی کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں اپنا فائدہ دیکھتی ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کے حوالے سے یہ نقطہ نظر سامنے آتا ہے کہ وہ خطے میں مسلسل دباؤ اور تصادم کی کیفیت کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ تاثر درست ہو یا مبالغہ، مگر اس کی موجودگی خود عالمی بے اعتمادی کی علامت ہے۔

اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ کون جیت رہا ہے اور کون ہار رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس سب میں ہار کون رہا ہے؟

اور جواب ہے: انسانیت۔

جنگیں وقتی فتح دے سکتی ہیں، مگر طویل المدت میں وہ معیشتوں کو کھوکھلا، معاشروں کو تقسیم، اور انسان کو بے بس کر دیتی ہیں۔ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ امن کی ضرورت ہے، مگر افسوس کہ امن کی آوازیں کمزور اور جنگ کا شور زیادہ بلند ہے۔

اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو شاید کل سوال یہ نہ ہو کہ جنگ کس نے جیتی،
بلکہ یہ ہو کہ انسانیت نے کیا کھو دیا۔