جمعرات، 10 جولائی، 2025

ٹرمپ کا مخالف نوجوان





زوہران ممدانی — موجودہ امریکی صدر کی آنکھ میں کھٹکنے والا نوجوان سیاستدان

آج جب دنیا بھر میں انتہا پسندی، نسل پرستی اور امیگریشن مخالف جذبات کو سیاسی طاقت حاصل ہو رہی ہے، ایسے میں نیویارک شہر سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیاستدان زوہران ممدانی ایک توانا اور جرات مند آواز کے طور پر ابھرے ہیں۔ زوہران ممدانی نہ صرف ترقی پسند سیاست کی علامت ہیں بلکہ وہ اس نظام کے خلاف کھڑے ہیں جس کی قیادت فی الوقت خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں۔

زوہران ممدانی 30 اپریل 1991 کو یوگنڈا کے شہر کمپالا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، پروفیسر محمود ممدانی، دنیا بھر میں معروف سیاسی مفکر اور اسکالر ہیں، جن کا تعلق بھارتی نژاد اسماعیلی مسلمان خاندان سے ہے۔ محمود ممدانی نے نو آبادیاتی تاریخ، افریقی سیاست اور شناخت کے موضوعات پر گہری تحقیق کی ہے اور کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

زوہران کی والدہ، میرا نائر، عالمی شہرت یافتہ بھارتی فلم ساز ہیں، جو بھارت کے صوبے اوڑیسہ کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کی فلمیں، جیسے سلام بمبئی، من سون ویڈنگ اور دی نیم سیک، نہ صرف عالمی فلمی میلوں میں سراہا جا چکی ہیں بلکہ ان میں سماجی مسائل، شناخت اور انسانیت کا درد نمایاں نظر آتا ہے۔

زوہران ممدانی نے بچپن سے ہی ایک کثیرالثقافتی اور وسیع سوچ رکھنے والے ماحول میں پرورش پائی۔ وہ مذہبی طور پر خود کو مسلمان کہتے مگرسیکولر سوچ کے حامل ہیں۔ انہیں انگریزی، ہسپانوی، اردو، ہندی اور بنگالی زبانوں پر عبور حاصل ہے، جو انہیں نیویارک جیسے کثیرالثقافتی شہر میں عوام کے قریب تر لے آتی ہے۔

2020
 میں زوہران ممدانی نے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے حلقہ 36 (آسٹوریا کوئنز) سے انتخابات میں حصہ لیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں اس وقت کی رکن اسمبلی اراویلا سیموتاس کو شکست دی۔ اراویلا کا تعلق یونانی نژاد آرتھوڈوکس عیسائی کمیونٹی سے تھا اور وہ یونانی کمیونٹی میں خاصی اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔

زوہران نے کرایہ داروں کے حقوق، سستی رہائش، مفت صحت کی سہولیات، پولیس اصلاحات اور تارکین وطن کے لیے آواز بلند کی، جس نے انہیں نوجوانوں اور ترقی پسند حلقوں میں بے حد مقبول بنا دیا۔

زوہران ممدانی کے مؤقف خاص طور پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ 
(ICE)
 کی چھاپہ مار کارروائیوں کے خلاف سخت موقف نے انہیں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آنکھ میں کھٹکنے والی شخصیت بنا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف زوہران کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انہیں کھلے عام گرفتار کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر زوہران ممدانی 
ICE
 کی کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ بنے، تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ اس دھمکی کے جواب میں زوہران نے سوشل میڈیا پر دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا:

"صدر ٹرمپ نے مجھے اس لیے گرفتار کرنے کی دھمکی دی ہے کیونکہ میں قانون توڑ رہا ہوں؟ نہیں! بلکہ اس لیے کہ میں 
ICE
 کو ہمارے شہر میں دہشت پھیلانے سے روکنے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔ ان کے بیانات نہ صرف ہماری جمہوریت پر حملہ ہیں بلکہ وہ ہر نیویارکر کے لیے انتباہ ہیں کہ اگر آپ بولیں گے تو وہ آپ کو خاموش کروانے آئیں گے۔ ہم اس دھونس کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔"

زوہران کا یہ جرات مندانہ جواب محض ایک فرد کی طرف سے نہیں بلکہ نیویارک جیسے کثیرالثقافتی شہر کی اجتماعی سوچ اور مزاحمت کی عکاسی ہے، جہاں لاکھوں تارکین وطن رہتے ہیں اور جہاں خوف کی سیاست کو کھلے عام چیلنج کیا جا رہا ہے۔

زوہران ممدانی آج صرف نیویارک کے ایک حلقے کے نمائندے نہیں، بلکہ وہ ان نوجوان ترقی پسند سیاستدانوں میں شامل ہیں جو ٹرمپ کی انتہا پسند، نسل پرست اور امیگریشن مخالف سیاست کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ان کا تعلق بائیں بازو کی اس نئی نسل سے ہے جو سرمایہ دارانہ جبر، نسل پرستی اور خوف کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔

موجودہ امریکہ جہاں صدر ٹرمپ کی پالیسیاں واضح طور پر امتیازی ہیں، وہاں زوہران ممدانی جیسے نوجوان سیاستدان ایک امید کی کرن ہیں، جو نہ صرف مظلوموں کی آواز بنے ہیں بلکہ جمہوریت، مساوات اور انسان دوستی کی جنگ میں سب سے آگے نظر آتے ہیں۔


اسرائیلی اسلحہ اور امریکہ



عنوان: امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے اسرائیلی بندوق تک


ایک عام امریکی شہری جب تنخواہ کا چیک وصول کرتا ہے، تو اسے شاید یہ گمان بھی نہیں ہوتا کہ اس کی محنت کی کمائی کا ایک حصہ کہیں مشرق وسطیٰ میں کسی F-35 طیارے، JDAM بم یا آئرن ڈوم میزائل کی صورت میں استعمال ہو رہا ہے — اور وہ بھی ایک ایسی ریاست کے لیے جو دنیا کے ایک حساس ترین خطے میں مسلسل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ جی ہاں، بات ہو رہی ہے اسرائیل کی، اور اس کی عسکری طاقت کو سہارا دینے والے سب سے بڑے عالمی مالی مددگار، یعنی امریکہ کی۔
اسرائیل کا قیام اور امریکی آشیرباد

1948
 میں اسرائیل کے قیام کے بعد ہی امریکہ نے اسے تسلیم کیا اور چند ہی برسوں میں اسے معاشی و عسکری امداد دینا شروع کر دی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ امداد ایک "تحفہ" سے بڑھ کر "معاہدہ" بن گئی — ایسا معاہدہ جو ہر امریکی حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی کا ستون بنایا۔ اندازہ کریں کہ اب تک امریکہ، اسرائیل کو تقریباً 297 سے 310 ارب ڈالر کی امداد دے چکا ہے، اور یہ رقم امریکی تاریخ کی سب سے بڑی غیر ملکی امداد بن چکی ہے۔
2016
 کا تاریخی دفاعی معاہدہ

اوباما دور میں
 2016
 میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک یادداشتِ
(MoU) 
پر دستخط ہوئے، جس کے تحت امریکہ 2028 تک ہر سال 3.8 ارب ڈالر اسرائیل کو مہیا کرے گا — جس میں 33 ارب ڈالر ہتھیاروں کے لیے اور 5 ارب میزائل ڈیفنس سسٹمز کے لیے مختص ہیں۔ یہ رقم امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے نکلتی ہے، اور براہ راست اسرائیلی وزارت دفاع کے کام آتی ہے۔
اسرائیلی اسلحے کی امریکی فیکٹری

اسرائیل آج جو جدید عسکری طاقت رکھتا ہے، اس میں امریکہ کا براہ راست کردار ہے۔
 F-35
 اسٹیلتھ طیارے، آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام، ڈیوڈز سلنگ، ایرو میزائل، 
Apache
ہیلی کاپٹرز، اور جدید بم — سب امریکی فنڈنگ سے خریدے یا تیار کیے گئے ہیں۔ صرف آئرن ڈوم کے لیے امریکہ 2.6 ارب ڈالر فراہم کر چکا ہے۔ یہی نہیں، اسرائیل کو دی جانے والی امداد میں سے 26 فیصد رقم وہ اپنے ملک میں خرچ کر سکتا ہے — جس سے اس کی دفاعی صنعت کو فروغ ملتا ہے۔
حالیہ جنگیں، فوری امداد
اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے لے کر جولائی 2025 تک، امریکہ نے اسرائیل کو ہنگامی بنیادوں پر 17.9 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی — جو تاریخ کی سب سے بڑی سالانہ رقم ہے۔ مزید برآں، وائٹ ہاوس نے 2025 میں 8 ارب ڈالر کے اضافی ہتھیاروں کی فراہمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں میزائل، توپیں، اور Hellfire
میزائل شامل تھے۔

تنقید اور سوالات
امریکی امداد پر سوال اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ پیسہ ان اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ضروریات سے چھینا جا رہا ہے جو امریکی عوام کے لیے ناگزیر ہیں۔ مزید یہ کہ یہ امداد ان جنگوں کو طاقت دیتی ہے جن میں ہزاروں معصوم فلسطینی شہری مارے جا چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور بین الاقوامی میڈیا بارہا اس پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں — مگر امریکہ کی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔
نتیجہ: بندوق اور ضمیر کا حساب

اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد، صرف ایک سفارتی یا دفاعی تعلق نہیں، بلکہ یہ اس عالمی ضمیر کا امتحان ہے جو انسانی حقوق، جمہوریت، اور انصاف کی بات کرتا ہے۔ امریکی ٹیکس دہندگان کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ ان کی محنت کی کمائی آخر کس کے ہاتھوں میں جا رہی ہے — اور کس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

یہ محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں، یہ اخلاقیات، اصولوں اور عالمی امن کی بات ہے۔ بندوق کی نالی سے نکلنے والی ہر گولی کا حساب صرف فائر کرنے والے کے ہاتھوں میں نہیں، بلکہ اس کو خریدنے والے کے ضمیر میں بھی محفوظ ہوتا ہے۔
کیا امریکی عوام کو معلوم ہے کہ ان کا پیسہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے؟
کیا کانگریس نے امداد کے اس بہاؤ پر کبھی جامع آڈٹ کرایا ہے؟
کیا کسی فلسطینی کی موت کا بوجھ امریکی ووٹر پر بھی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں ودنیا بھر میں پوچھے جا رہے ہیں


پیر، 7 جولائی، 2025

جمہوریت بہترین انتقام.




جمہوریت بہترین انتقام

بے نظیر بھٹو کا نعرہ تھا کہ "جمہوریت بہترین انتقام ہے" — اور وقت نے ثابت کیا کہ بھٹو کی بیٹی کا یہ نعرہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری سمت تھی جس نے فرد کی جگہ نظام کو طاقت دی، ذاتی انتقام کی بجائے قومی سیاست کو مضبوط کیا، اور پاکستان میں عوامی شعور کو ایک نئی جہت بخشی۔
آج جب ہم آزاد کشمیر اور پاکستان کی سیاست کا جائزہ لیتے ہیں تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس نعرے کی روح کچھ سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کی نذر ہو چکی ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف، جو ایک اصولی سیاسی تحریک کے طور پر سامنے آئی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ محض افراد کے خلاف مزاحمت میں الجھ کر رہ گئی۔
عمران خان کی گرفتاری نے پارٹی کو ذاتی انتقام کے راستے پر ڈال دیا، مگر اصولی جدوجہد کا وہ معیار نظر نہیں آیا جس سے تحریک مضبوط ہوتی۔
نتیجہ سب کے سامنے ہے — نہ پارٹی کو فائدہ ہوا، نہ عمران خان کو۔
آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبر جاوید بٹ اس وقت اسی سیاسی موقع پرستی کی جیتی جاگتی مثال بن چکے ہیں۔
کل تک عمران خان کے خود ساختہ "ٹائیگر" تھے، ان کی ہر تقریر میں عمران خان کے گن گاتے، ان کے جلسوں میں پیش پیش نظر آتے۔
مگر جب عمران خان قید ہوئے، آزمائش کا وقت آیا، تو سب سے پہلے چھلانگ لگانے والوں میں جاوید بٹ کا نام شامل ہو گیا۔
مسلم لیگ ن نے اصولی موقف اپنایا اور جاوید بٹ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، شاید ان کی ذاتی زندگی اور سیاسی داغدار ماضی کو دیکھتے ہوئے۔
آخرکار پیپلز پارٹی نے، سیاسی وزن بڑھانے کی خواہش میں، جاوید بٹ کو اپنے قافلے میں شامل کر لیا۔
پیپلز پارٹی کی قیادت کو اس فیصلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے:
کیا یاسی بوری کا وزن کھوٹے سکوں سے بڑھایا جا سکتا ہے؟
کیا ایسے متنازع افراد کی شمولیت سے عوام میں اعتماد پیدا ہوگا یا نظریاتی کارکنان بدظن ہوں گے؟
جاوید بٹ جیسے شخص کے لیے جیالوں کی جماعت میں لمبے عرصے تک قدم جمانا شاید اتنا آسان نہ ہو جتنا بظاہر لگتا ہے۔
جاوید بٹ کی سیاسی اڑان درحقیقت راولپنڈی کے سیاسی مافیا اور شیخ رشید کی سرپرستی کا نتیجہ تھی۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشست پر کامیابی میں شیخ رشید کی پسِ پردہ سپورٹ کوئی راز نہیں۔
حلقے میں ترقیاتی فنڈز کے نام پر دولت کی ریل پیل، سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال اور عوامی پیسوں سے سیاسی سرمایہ کاری ان کی پہچان بن چکی ہے۔
جاوید بٹ کا ذاتی کردار بھی عوام میں زیرِ بحث رہا ہے:
مختلف خواتین کے ساتھ مبینہ تعلقات، جو راولپنڈی اور اسلام آباد کی سیاسی و سماجی محفلوں میں زبان زدِ عام ہیں۔
ایک معروف خاتون کے ساتھ ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ جاوید بٹ نے ان تعلقات کو سیاسی مقاصد اور مالی فوائد کے لیے استعمال کیا۔
جاوید بٹ کا لندن کا "مطالعہ دورہ" درحقیقت ایک خاندانی تفریحی ٹرپ تھا، جس پر آزاد کشمیر کے خزانے سے 50 ملین روپے خرچ کیے گئے 
عوام اور اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کے باوجود نہ کوئی احتساب ہوا، نہ کوئی شرمندگی نظر آئی۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر سے مبینہ روابط
جاوید بٹ کی مہاجر حیثیت پر سوالیہ نشان تب اور گہرا ہو گیا جب ان کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مقیم افراد سے ذاتی اور مالی روابط کی خبریں منظرِ عام پر آئیں۔
سابق ڈپٹی کمشنر میرپور کی رپورٹ کے مطابق ان کی مہاجر حیثیت کا کوئی قانونی ثبوت دستیاب نہیں۔
یہ معاملہ آزاد کشمیر میں قومی سلامتی اور سیاسی شفافیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جاوید بٹ کی سیاسی کہانی درحقیقت پاکستان اور آزاد کشمیر میں جاری اس سیاسی سرکس کی عکاسی ہے جہاں:
نظریات کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔
اصول پسندی کے بجائے موقع پرستی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
عوامی پیسہ ذاتی عیاشیوں پر لٹایا جا رہا ہے۔
بدعنوانی، تعلقات اور اثر و رسوخ کے بل پر اقتدار کے سنگھاسن سجائے جا رہے ہیں۔
نتیجہ — عوامی بیداری ہی واحد امید
عوام کے پاس اب ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ شخصیات اور پارٹی جھنڈوں سے بالاتر ہو کر صرف کردار، کارکردگی اور سیاسی اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ ورنہ جاوید بٹ جیسے کردارجو کل عمران خان کے ٹائیگر بن کر عوام کو سبز باغ دکھاتے تھے ،آج کی جھنڈی تھام کر ان ہی  عوام کودوبارہ بے وقوف بنائیں گے۔

کمزور ہوتا دل…




کمزور ہوتا دل… 

کبھی دل کی کمزوری بڑھاپے کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ وقت گزرتا، جسم تھکتا، زندگی کے سفر میں الجھتے الجھتے انسان کی سانسیں مدھم ہوتیں اور پھر کہیں جا کر دل جواب دیتا تھا۔ مگر اب منظر نامہ بدل چکا ہے۔

آج وہ دن ہیں کہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے لڑکے، خوابوں کی وادیوں میں اڑان بھرنے والی لڑکیاں… اچانک دل تھامے گر رہے ہیں۔ کبھی کھیل کے میدان میں، کبھی دفتر کی کرسی پر اور کبھی راہ چلتے زندگی کا دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم سب یہ دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں… اور پھر خاموشی سے حیرت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔

کیا واقعی یہ حیرت کی بات ہے؟
یا یہ سب ہماری اپنی بے احتیاطیوں، غفلتوں اور ترجیحات کا نتیجہ ہے؟

ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں:

نیند کا وہ سکون جو فطرت نے ہماری تھکن اتارنے کے لیے عطا کیا تھا، ہم نے اسے موبائل کی روشنی اور بے حساب اسکرین ٹائم کی نذر کر دیا۔
جو خوراک ہمیں صحت دے سکتی تھی، ہم نے اسے زہریلے مصالحوں، فاسٹ فوڈ اور بازاری ذائقوں میں ڈبو دیا۔
ذہن کبھی کسی الجھن سے آزاد نہیں رہتا، ہر لمحہ اضطراب، موازنہ، حسد اور غیر ضروری فکر میں الجھا رہتا ہے۔
جسم… جو محنت اور مشقت چاہتا ہے، اسے ہم نے سہل پسندی، آرام طلبی اور بے حرکتی میں گم کر دیا۔
اور دل… وہ دل جو سکون، امید اور حوصلے کا مرکز تھا، خالی خالی سا لگتا ہے، بوجھل، بیزار اور الجھا ہوا۔

ہم نے خوشیوں کی قیمت پر دکھ خریدے، سکون کی جگہ شور خریدا، اور صحت کی جگہ بیماری کو گلے لگا لیا۔
فاسٹ فوڈ جسم کو کھا رہا ہے، سگریٹ، ویپ اور نشے کی لت روح کو جھلسا رہی ہے، اور اسٹریس دل کو دباتا چلا جا رہا ہے۔

پھر تعجب کیسا کہ دل کمزور ہو گیا؟
یہ کمزوری محض طبی نہیں، روحانی اور ذہنی کمزوری کی شکل میں پورے وجود پر چھا گئی ہے۔

دل کی دھڑکنوں کو قرار، روح کو سکون اور جسم کو تازگی تب ہی مل سکتی ہے جب انسان اپنے اندر کی خالی جگہ کو اللہ کی یاد سے بھر لے۔
کیونکہ سچ یہی ہے کہ سکون، طاقت اور قرار… بازاروں میں نہیں بکتا، سکرینز میں نہیں چھپا، اور فیشن کی چمک دمک میں نہیں ملتا… یہ صرف اس ذات کی قربت میں ملتا ہے، جو انسان کی رگِ جاں سے بھی قریب ہے۔

ہمیں خود سے، اپنی زندگی سے، اپنے رب سے ایک بار پھر تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے… کیونکہ جب دل ہی کمزور پڑ جائے… تو زندگی کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں۔



منگل، 1 جولائی، 2025

زمین پر جنت کی نشانیاں


زمین پر جنت کی نشانیاں
دلپزیر احمد جنجوعہ

انسان ہمیشہ سے جنت کے تصور میں گم رہا ہے۔ کبھی اس کی جستجو میں، کبھی اس کی تمنا میں، اور کبھی اس کے خواب آنکھوں میں سجا کر۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جنت کی چند نشانیاں تو رب نے ہماری اس زمین پر بھی بھیج دی ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انہیں پہچانیں اور ان کی قدر کریں۔

اسلامی روایات اور احادیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ بعض چیزیں جنت سے اس زمین پر نازل کی گئیں، جو آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ یہ چیزیں نہ صرف اللہ کی عظمت کی نشانیاں ہیں بلکہ ہمیں جنت کی یاد دلاتی ہیں اور اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ جنت کوئی خیالی تصور نہیں بلکہ ایک حقیقی مقام ہے۔

سب سے نمایاں نشانی حجرِ اسود ہے، جو خانہ کعبہ میں نصب ہے۔ حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حجرِ اسود جنت سے نازل ہوا تھا اور ابتدا میں وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، مگر انسانوں کے گناہوں نے اُسے کالا کر دیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک پتھر پر انسان کے گناہوں کا اثر اتنا گہرا ہو سکتا ہے، تو انسان خود گناہوں میں ڈوبا ہو تو اس کی حالت کیا ہوگی؟

دوسری بڑی نشانی کھجور کا درخت ہے، جسے نبی کریم ﷺ نے مسلمان کی مثال قرار دیا۔ کہا جاتا ہے کہ کھجور حضرت آدمؑ کی مٹی کے بقیہ حصے سے پیدا ہوئی، جو جنت کی مٹی تھی۔ اس درخت کی پائیداری، برکت اور ہر موسم میں فائدہ دینا، سب کچھ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک سچا مومن بھی معاشرے میں اسی طرح فائدہ مند اور مستقل مزاج ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر آیا ہے، جو ساتویں آسمان پر موجود ہے۔ اگرچہ زمین پر موجود بیری کے درخت کو براہِ راست جنت سے نازل ہونے والی چیز کہنا درست نہیں، لیکن اس کی نسبت ضرور جنت کی اس عظیم الشان نشانی کی طرف کی جاتی ہے۔

اسی طرح دنیا میں موجود مشک کی خوشبو کو جنت کی خوشبو سے مشابہت دی جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنتی انسانوں کا پسینہ مشک جیسا خوشبودار ہوگا۔ یوں دنیا کی یہ خوشبو جنت کی یاد دلاتی ہے۔

حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؓ کی زمین پر آمد بذاتِ خود اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی اصل ابتدا جنت سے ہوئی۔ اگر انسان اپنی اصل کو نہ بھولے تو وہ زمین پر رہ کر بھی جنت کے حصول کی تیاری کرتا رہے گا۔

آبِ زمزم، جسے دنیا کا بہترین پانی قرار دیا گیا، جنت کا پانی تو نہیں لیکن اس کی برکت اور اس میں شفا کی خاصیت ہمیں جنت کی نعمتوں کی یاد دلاتی ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں جنت کے پھلوں — جیسے انار، کھجور، انگور — کا ذکر موجود ہے، اور ان پھلوں کی موجودگی زمین پر جنت کی یادگار ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ان نشانیوں کے درمیان رہتے ہیں، مگر اکثر ان کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ حجرِ اسود کو دیکھ کر دل میں توبہ کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی، کھجور کھاتے وقت ہمیں جنت کی تمنا یاد نہیں آتی، آبِ زمزم پیتے ہوئے شفا کا یقین کمزور ہو چکا ہے۔

یہ کائنات رب کی نشانیوں سے بھری ہوئی ہے، بس آنکھِ بینا کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان نعمتوں اور نشانیوں کی قدر کریں، ان سے سبق لیں، تو زمین پر رہتے ہوئے جنت کا راستہ ہمارے لیے آسان ہو جائے گا۔

 اختتام اس دعا کے ساتھ
اللہ ہمیں جنت کی ان نشانیوں کو پہچاننے، ان کی قدر کرنے اور جنت کے حقیقی حقدار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔