غدار، استعمار لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
غدار، استعمار لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 17 اگست، 2026

پاکستان اور پاکستانی



پاکستان اور پاکستانی

 استعمار صرف وہ نظام نہیں جو کسی قوم کی زمین پر قبضہ کر لے، اس کے وسائل پر اختیار حاصل کرے اور اس کے سیاسی فیصلوں کو اپنی مرضی کے تابع بنا دے۔ استعمار کی زیادہ خطرناک شکل وہ ہے جو انسان کے ذہن میں گھر کر اسے یہ یقین دلا دے کہ طاقتور کی مرضی ہی حقیقت ہے، اس کے مفادات ہی عالمی مفاد ہیں اور کمزور قوم کے لیے آزادی سے زیادہ ضروری طاقتور کی خوشنودی ہے۔ زمین کی غلامی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ذہن کی غلامی نسلوں تک باقی رہ سکتی ہے۔

ہم پاکستان میں اس کیفیت کی مختلف صورتیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، پاکستان کے بارے میں اس انداز سے سوچتا اور گفتگو کرتا ہے جس میں اپنے ملک کی کمزوریوں کا ادراک تو نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کی خودمختاری، قومی مفاد اور آزاد فیصلوں پر اعتماد کم دکھائی دیتا ہے۔ بعض لوگ پاکستان کے دوست ممالک کے بارے میں بھی شکوک پیدا کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ عالمی سیاست میں پاکستان کے لیے کوئی آزاد راستہ موجود نہیں؛ اسے بہرحال مغربی طاقتوں کے ساتھ چلنا ہوگا، ان کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی اور قومی مفاد بھی اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب طاقتور دنیا کے مفادات سے ہم آہنگ رہا جائے۔

یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے۔ دنیا کے کسی ملک سے دوستی، اقتصادی تعاون، سفارتی تعلق یا دفاعی شراکت داری کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک کبھی ہمارے مفادات سے مختلف موقف رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی مغربی ملک سے تعلقات رکھنا بھی بذاتِ خود استعمار کی حمایت نہیں۔ خارجہ پالیسی جذبات نہیں، مفادات، حالات اور توازن کا علم ہے۔ ایک خوددار ریاست دشمنی کو اصول اور دوستی کو عقیدہ نہیں بناتی؛ وہ ہر تعلق کو اپنے قومی مفاد کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دوستی اور تابع داری کے درمیان فرق مٹنے لگے۔

فکری غلامی کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ طاقتور ملک جو کرے، اسے "حقیقت پسندانہ سیاست" کہا جاتا ہے، اور کمزور ملک اگر اپنے مفاد کے لیے کوئی مختلف راستہ اختیار کرے تو اسے غیر حقیقت پسندانہ، جذباتی یا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ یوں طاقت صرف سیاسی اثر نہیں رہتی بلکہ ایک فکری معیار بن جاتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس گویا دلیل بھی ہے۔

استعمار کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبضہ صرف توپ اور بندوق سے نہیں کیا جاتا۔ زبان، تعلیم، تہذیب، ادارے، تجارت اور اطلاعات بھی طاقت کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کے بعد بھی اس کے بعض ذہنی اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔ ایک سابق نوآبادیاتی معاشرے میں کبھی کبھی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو اپنے ہی معاشرے کو کمتر، اس کی تہذیب کو پسماندہ اور اس کے سیاسی شعور کو ناقص سمجھتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے فیصلوں کو زیادہ معقول اور مہذب تصور کرتا ہے۔

یہ کیفیت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے بہت سے سابق نوآبادیاتی معاشروں نے آزادی کے بعد یہی سوال اٹھایا کہ سیاسی آزادی حاصل ہو جانے کے باوجود ذہنی آزادی کیسے حاصل کی جائے۔

لیکن یہاں ایک اور خطرہ بھی ہے۔ فکری آزادی کے نام پر ہر مغربی تصور کو مسترد کرنا بھی فکری غلامی ہی کی ایک دوسری صورت بن سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے درست سمجھے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ مرعوبیت کا شکار ہے؛ اور اگر دوسرا ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے غلط قرار دے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ بھی آزاد ذہن کا مالک نہیں۔ آزاد ذہن نہ مرعوب ہوتا ہے نہ متعصب۔ وہ دلیل سنتا ہے، مفاد کو پہچانتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔

پاکستان کو بھی اسی بالغ فکری رویے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی ایک عالمی طاقت کے مفاد کا دوسرا نام نہیں۔ امریکہ سے تعلق ہو، چین سے تعاون ہو، عرب دنیا سے شراکت ہو، یورپ سے تجارت ہو یا کسی دوسرے ملک سے سفارتی قربت—ہر تعلق کا جائزہ پاکستان کی سلامتی، معیشت، خودمختاری اور طویل المدت قومی مفاد کے حوالے سے ہونا چاہیے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دانشور، صحافی، سیاست دان اور تعلیمی ادارے ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھائیں: ہم دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسروں کی عینک سے؟

یہ سوال کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ سوال ہماری اپنی فکری خودمختاری کے حق میں ہے۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا لازماً فکری آزادی کی ضمانت نہیں۔ ایک شخص کئی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھ سکتا ہے، دنیا کے بڑے شہروں میں رہ سکتا ہے، عالمی اداروں میں کام کر سکتا ہے، متعدد زبانیں بول سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی سیاسی بصیرت کسی طاقتور مرکز کے بیانیے کی محتاج ہو سکتی ہے۔ علم انسان کو آزاد بھی کر سکتا ہے اور اگر تنقیدی شعور نہ ہو تو اسے کسی نئے فکری سانچے کا اسیر بھی بنا سکتا ہے۔

اسی طرح مراعات یافتہ طبقے کا مسئلہ بھی صرف دولت یا عہدہ نہیں۔ جب کسی طبقے کے معاشی، سماجی یا پیشہ ورانہ مفادات کسی خاص عالمی نظام سے گہرا تعلق پیدا کر لیں تو بعض اوقات وہ غیر شعوری طور پر اسی نظام کو "قدرتی" اور اس سے باہر کے راستوں کو "غیر ممکن" سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں سے فکری وابستگی آہستہ آہستہ مفاداتی وابستگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مگر ہمیں اس بحث میں احتیاط بھی لازم ہے۔ ہر وہ پاکستانی جو مغربی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، مغربی اداروں میں کام کرتا ہے یا پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے استعمار کا نمائندہ قرار دینا انصاف نہیں۔ ریاستوں کی پالیسیوں پر تنقید حب الوطنی کے خلاف نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شدید تنقید ہی اصلاح کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی درست سمجھی جائے؛ بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے ملک کی خامیوں کو دیکھنے کی اخلاقی جرأت بھی رکھتا ہو۔

اصل امتحان یہ ہے کہ تنقید کا مقصد کیا ہے، معیار کیا ہے اور وفاداری کس کے ساتھ ہے۔

اگر کوئی شخص پاکستان کی ہر کمزوری کو صرف پاکستان کی فطری ناکامی سمجھتا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی مداخلت، تاریخی استعماری ورثے اور بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن کو نظرانداز کرتا ہے، تو اس کی تصویر نامکمل ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا پاکستان کی ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف بیرونی دنیا کو قرار دیتا ہے اور اپنی داخلی کمزوریوں، بدانتظامی، کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور علمی پسماندگی کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے، تو اس کی تصویر بھی ادھوری ہے۔

قومی شعور کا تقاضا دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہے۔

استعمار کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار صرف نعرہ نہیں، علم ہے۔ معاشی خودکفالت، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، آزاد میڈیا، ذمہ دار سیاست، قانون کی حکمرانی اور شہری شعور کسی بھی قوم کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ جو قوم اندر سے کمزور ہو، وہ باہر سے آزادی کا دعویٰ تو کر سکتی ہے مگر اپنے فیصلوں کو طویل عرصے تک آزاد نہیں رکھ سکتی۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سکھانا کہ فلاں ملک ہمارا مستقل دشمن ہے اور فلاں ملک ہمارا مستقل دوست۔ اسے یہ سکھانا چاہیے کہ ریاستوں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ مگر اس اصول کو بھی محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ فکری تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کو دنیا سے کٹنا نہیں، دنیا کو سمجھنا سکھانا ہے؛ مغرب سے نفرت نہیں، مغرب کے تجربے کا تنقیدی مطالعہ سکھانا ہے؛ مشرق پر اندھا فخر نہیں، اپنی تہذیبی قوت اور کمزوری دونوں کا شعور دینا ہے۔ ہمیں دوسروں کی ترقی سے حسد نہیں، اس سے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔

فکری آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ کھڑے ہوں مگر اپنے قدموں پر۔

قومیں صرف اس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب ان کے جھنڈے آزاد فضا میں لہراتے ہیں۔ وہ اس وقت حقیقی آزادی حاصل کرتی ہیں جب ان کے فیصلے خوف کے بجائے شعور سے، مرعوبیت کے بجائے دلیل سے اور دوسروں کی خواہش کے بجائے اپنے اجتماعی مفاد سے کیے جاتے ہیں۔

استعمار کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو اپنے سامنے جھکا دے؛ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ محکوم قوم کو یہ یقین دلا دے کہ جھکنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

اور شاید ہماری اصل جدوجہد یہی ہونی چاہیے کہ اس یقین کو توڑا جائے۔

پاکستان کو دنیا سے دشمنی نہیں چاہیے، اسے فکری خودمختاری چاہیے۔ اسے تنہائی نہیں، متوازن تعلقات چاہیے۔ اسے نعروں کی خودداری نہیں، علم، معیشت، اداروں اور کردار کی خودداری چاہیے۔ کیونکہ جس دن ایک قوم اپنے مفاد کو خود سمجھنے، اپنی غلطیوں کو خود تسلیم کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو جائے، اس دن استعمار کی بہت سی زنجیریں خود بخود بے معنی ہو جاتی ہیں۔

آزادی کا آخری مورچہ سرحد پر نہیں، انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔