بدھ، 21 جنوری، 2026

کرد اور ترکیہ 3


کرد اور ترکیہ 3
کرد اور ترکیہ کے درمیان کشیدگی جدید مشرقِ وسطیٰ کے ان پیچیدہ تنازعات میں شمار ہوتی ہے جنہیں محض سیکیورٹی مسئلہ قرار دے کر سمجھنا ممکن نہیں۔ یہ تنازع دراصل قوم، شناخت، ریاستی نظریے اور طاقت کے استعمال کے درمیان ایک گہرے تصادم کی علامت ہے، جس کی جڑیں خود ترک جمہوریہ کی قومی تشکیل میں پیوست ہیں۔
ترکی کی کل آبادی کا اندازاً پندرہ سے بیس فیصد حصہ کردوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر جنوب مشرقی اناطولیہ، دیاربکر، وان، حکاری اور ماردین جیسے علاقوں میں آباد ہیں۔ کردی زبان، خصوصاً کرمانجی لہجہ، ترکی میں سب سے زیادہ بولی جانے والی اقلیتی زبان ہے۔ اس کے باوجود طویل عرصے تک ریاستی سطح پر اس زبان اور اس سے جڑی شناخت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
1923 میں قائم ہونے والی ترک جمہوریہ کی بنیاد ایک سخت قوم پرستانہ اور وحدانی نظریے پر رکھی گئی، جس کا نعرہ تھا: ایک قوم، ایک زبان، ایک پرچم۔ ترک ہونا شہری شناخت کی بنیادی شرط قرار پایا، جبکہ کردوں کو سرکاری بیانیے میں اکثر “پہاڑی ترک” کہا گیا۔ کردی زبان، ثقافت اور حتیٰ کہ ناموں تک پر پابندیاں لگیں، اور کرد شناخت کا عملاً انکار کیا گیا۔ یہی وہ ریاستی رویہ تھا جس نے آنے والی دہائیوں میں مزاحمت اور بغاوت کی بنیاد رکھی۔
1920 اور 1930 کی دہائی میں کئی کرد بغاوتیں ہوئیں، جن میں 1925 کی شیخ سعید بغاوت نمایاں تھی، جس میں مذہبی اور قومی دونوں عناصر شامل تھے، مگر اسے سخت فوجی کارروائی کے ذریعے کچل دیا گیا۔ اسی طرح 1937–38 میں درسیم آپریشن نے کرد۔ترک تعلقات پر گہرے اور دیرپا زخم چھوڑے، جہاں ہزاروں کرد، خصوصاً علوی آبادی، ہلاک ہوئی۔ یہ واقعات آج بھی ترکی کی اجتماعی یادداشت میں ایک متنازع اور حساس باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس تاریخی پس منظر میں 1978 میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کا قیام عمل میں آیا۔ عبداللہ اوجالان کی قیادت میں بننے والی اس تنظیم نے ابتدا میں مارکسزم۔لینن ازم سے متاثر نظریات اپنائے، بعد ازاں “ڈیموکریٹک کنفیڈرلزم” کا تصور پیش کیا۔ 1984 کے بعد PKK نے ترکی کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اب تک چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں فوجی اہلکار، عام شہری اور جنگجو شامل ہیں۔ ترک ریاست PKK کو ایک دہشت گرد تنظیم اور قومی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ قرار دیتی ہے۔
ریاستی ردِعمل کے طور پر کرد علاقوں میں طویل عرصے تک ایمرجنسی قوانین نافذ رہے، وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کیے گئے، جبری نقل مکانی ہوئی اور اظہار و زبان پر سخت پابندیاں لگائی گئیں۔ ان اقدامات پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا تنقید کی، مگر سیکیورٹی بیانیہ غالب رہا۔
2000 کے بعد، خصوصاً اردوان کے ابتدائی دور میں، یورپی یونین میں شمولیت کے تناظر میں محدود اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ کردی زبان پر بعض پابندیاں نرم ہوئیں، کرد میڈیا اور تعلیم کے لیے محدود گنجائش پیدا کی گئی۔ 2013 سے 2015 کے درمیان حکومت اور PKK کے درمیان ایک امن عمل بھی شروع ہوا، جس سے مسئلے کے سیاسی حل کی امید بندھی، مگر یہ عمل جلد ہی ناکام ہو گیا۔
2015 کے بعد صورتحال دوبارہ شدید عسکری تصادم کی طرف لوٹ گئی۔ کرد شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، اور کرد نواز سیاسی جماعت HDP کو سخت کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں سیاسی راستہ مزید محدود ہو گیا۔
اس کشیدگی کو شام کی خانہ جنگی نے ایک نئی علاقائی جہت دے دی۔ شام میں کرد ملیشیا
YPG کے ابھرنے کو ترکی PKK کی توسیع سمجھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے YPG کی حمایت نے ترکی۔امریکہ تعلقات کو بھی متاثر کیا، جبکہ ترکی نے شام میں متعدد فوجی آپریشن کر کے کسی بھی کرد خودمختار پٹی کے قیام کو روکنے کی کوشش کی۔
اصل مسئلہ درحقیقت نظریاتی ہے۔ ترک ریاست وحدانی قومی ریاست، سیکیورٹی کو اولین ترجیح اور علاقائی سالمیت کے تصور پر قائم ہے، جبکہ کرد مؤقف کثیرالقومی شناخت، سیاسی شرکت اور خودمختاری کے مطالبے کے گرد گھومتا ہے۔ اسی بنیادی اختلاف نے اس تنازع کو طویل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ ترکی میں کرد مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ ایک طرح سے منجمد ہو چکا ہے۔

کرد۔ایران کشیدگی (2)



کرد۔ایران کشیدگی (2)

ایران اور کردوں کے درمیان کشیدگی کو محض کسی حالیہ سیاسی یا سیکورٹی مسئلے تک محدود کرنا زمینی حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہوگا۔ درحقیقت یہ کشیدگی ایک صدی پر محیط تاریخی، نسلی، ریاستی اور نظریاتی تضادات کا نتیجہ ہے، جو وقت کے ساتھ مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ ایرانی ریاست کا مرکزی، وحدانی اور فارسی محور قومی تصور اور کردوں کی الگ ثقافتی و لسانی شناخت—یہی وہ بنیادی تصادم ہے جس نے اس تعلق کو مسلسل تناؤ میں رکھا ہے۔

ایران کی کل آبادی کا تقریباً آٹھ سے دس فیصد کردوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر کردستان، کرمانشاہ، ایلام اور مغربی آذربائیجان کے صوبوں میں آباد ہیں۔ ان علاقوں میں رہنے والے کرد خود کو تاریخی طور پر ایک الگ قوم سمجھتے ہیں، مگر ایرانی ریاست نے ہمیشہ قومی وحدت کو مرکزیت اور یکسانیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔ اس تضاد میں ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ ایرانی کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، جبکہ ایران ایک شیعہ اکثریتی ریاست ہے۔ یہ فرق کشیدگی کو محض نسلی نہیں بلکہ مسلکی اور نظریاتی سطح پر بھی حساس بنا دیتا ہے۔

تاریخی طور پر اس کشیدگی کی جڑیں رضا شاہ کے دور تک جاتی ہیں، جب ایران کو ایک مضبوط مرکزی قوم پرستانہ ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس عمل میں علاقائی شناختوں کو دبایا گیا، کردی زبان اور ثقافت پر پابندیاں لگیں، اور قبائلی خودمختاری کو ختم کر دیا گیا۔ یہی وہ دور تھا جب کردوں میں یہ احساس گہرا ہونا شروع ہوا کہ ریاست ان کی شناخت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کرد۔ایران تعلقات کا ایک فیصلہ کن اور علامتی لمحہ جمہوریہ مہاباد تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد شمال مغربی ایران میں کردوں نے ایک مختصر مدت کے لیے خودمختار ریاست قائم کی، جس کے صدر قاضی محمد تھے اور جسے سوویت یونین کی وقتی حمایت حاصل تھی۔ جیسے ہی سوویت افواج نے ایران سے انخلا کیا، ایرانی فوج نے مہاباد پر قبضہ کر لیا اور قاضی محمد کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ واقعہ آج بھی ایرانی کردوں کے اجتماعی شعور میں مظلومیت اور وعدہ خلافی کی ایک گہری علامت کے طور پر زندہ ہے۔

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کردوں میں یہ امید پیدا ہوئی کہ نئی اسلامی حکومت نسلی اور مذہبی تنوع کو تسلیم کرے گی اور علاقائی خودمختاری پر بات چیت کا آغاز ہوگا۔ مگر یہ امید جلد ہی مایوسی میں بدل گئی۔ آیت اللہ خمینی نے کرد خودمختاری کے مطالبات کو اسلامی وحدت کے خلاف بغاوت قرار دیا، کرد علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے، اور ہزاروں افراد ہلاک یا گرفتار ہوئے۔ یوں انقلاب، جو نجات کی علامت سمجھا جا رہا تھا، کردوں کے لیے مزید ریاستی جبر کی صورت اختیار کر گیا۔

وقت کے ساتھ ایران میں مختلف کرد سیاسی و مسلح تنظیمیں سامنے آئیں۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران نے بائیں بازو کے قوم پرستانہ نظریات کے تحت مسلح جدوجہد بھی کی اور مذاکرات کی کوششیں بھی، جو اکثر ناکام رہیں۔ کوملہ جیسی تنظیموں نے سماجی انصاف اور خودمختاری کا مطالبہ کیا، مگر انہیں بھی شدید ریاستی کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد کے برسوں میں
 PJAK 
جیسی تنظیمیں سامنے آئیں، جنہیں ایران( پی کے کے ) سے منسلک قرار دے کر دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے، اور سرحدی علاقوں میں جھڑپیں جاری رہتی ہیں۔

مذہبی پہلو اس کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگرچہ ایرانی آئین سنی اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے، مگر عملی طور پر اعلیٰ ریاستی مناصب تک ان کی رسائی محدود ہے، مذہبی اداروں پر کڑی نگرانی رہتی ہے اور سیاسی شکوک و شبہات برقرار رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں نسلی محرومی اور مسلکی احساسِ بیگانگی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔

ایرانی ریاست اپنے سیکورٹی بیانیے میں کرد تحریکوں کو اکثر بیرونی سازش، اسرائیل اور امریکہ کے اثر و رسوخ، اور علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔ اسی بیانیے کے تحت سرحدی علاقوں میں سخت فوجی کنٹرول، کرد کارکنوں کی گرفتاریاں اور بعض اوقات عراقی سرزمین پر کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔

دلچسپ اور متنازع پہلو یہ ہے کہ ایران نے ماضی میں صدام حسین کے خلاف عراقی کردوں کی حمایت کی، مگر اپنے ہاں کرد خودمختاری کے کسی تصور کو قبول نہیں کیا۔ یہ دوہرا معیار ایرانی کردوں کے نزدیک ریاستی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔

آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ کرد۔ایران کشیدگی مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کر سکی، مگر یہ ایک دبی ہوئی آگ کی مانند ہے۔ مسلح جدوجہد کم ضرور ہوئی ہے، مگر ختم نہیں ہوئی۔ سیاسی حقوق، ثقافتی آزادی اور شناخت کے مطالبات بدستور موجود ہیں، جبکہ ریاستی سطح پر سخت سیکورٹی کنٹرول برقرار ہے۔ یہ کشیدگی وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی ہے اور خطے کے مجموعی عدم استحکام میں اپنا حصہ ڈالتی رہتی ہے۔


کرد: کون ہیں (1)



کرد: کون ہیں (1)

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اگر سمجھنا ہو تو کرد قوم کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ کرد ایک قدیم نسلی و لسانی قوم ہیں جو بنیادی طور پر کردی زبان بولتی ہے، جو ہند۔ایرانی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ کرمانجی، سورانی اور پہلوانی جیسے لہجے اس زبان کی لسانی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ آج کرد زیادہ تر ترکی، ایران، عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں آباد ہیں، جسے مجموعی طور پر کردستان کہا جاتا ہے، مگر اس جغرافیے کے باوجود کردوں کی اپنی کوئی آزاد قومی ریاست موجود نہیں۔

آبادی کے اعتبار سے کرد دنیا کی ان بڑی قوموں میں شامل ہیں جن کا اپنا ملک نہیں۔ اندازاً تین سے چار کروڑ کرد مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی تقسیم ان کی تاریخ کا سب سے مستقل اور تکلیف دہ پہلو رہی ہے۔

تاریخی اعتبار سے بہت سے مؤرخین کردوں کو قدیم میڈیائی تہذیب کا تسلسل قرار دیتے ہیں، جو ساتویں صدی قبل مسیح میں ایران کے خطے میں ایک طاقتور سلطنت تھی۔ اسلامی دور میں کرد علاقے مختلف مسلم سلطنتوں کا حصہ بنے، اور کرد تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیت سلطان صلاح الدین ایوبی سامنے آئے۔ بارہویں صدی میں ایوبی سلطنت کا قیام اور بیت المقدس کی صلیبیوں سے آزادی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرد تاریخ محض محرومی نہیں بلکہ قیادت اور وقار کی تاریخ بھی ہے۔

سولہویں صدی کے بعد کرد علاقے عثمانی اور صفوی سلطنتوں کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ کرد سرداروں کو محدود خودمختاری تو ملی، مگر کوئی متحد قومی ریاست وجود میں نہ آ سکی۔ یہ صورتحال پہلی جنگِ عظیم کے بعد مزید پیچیدہ ہو گئی۔ معاہدۂ سیورے میں اگرچہ کرد ریاست کا امکان ظاہر کیا گیا، مگر معاہدۂ لوزان نے اس امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ یوں کرد مستقل طور پر چار ریاستوں میں تقسیم ہو گئے۔

اس کے بعد جدید کرد تاریخ بغاوتوں، ریاستی جبر، ثقافتی و لسانی پابندیوں اور خودمختاری کی تحریکوں سے عبارت رہی ہے۔ ہر ملک میں کردوں کا تجربہ مختلف رہا، مگر محرومی اور عدمِ تحفظ کا احساس تقریباً مشترک ہے۔

اسی پس منظر میں کرد۔اسرائیل تعلقات کو سمجھنا ضروری ہے، جو اکثر سادہ بیانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر اسرائیل اور بعض کرد گروہوں کے رابطے 1950 اور 1960 کی دہائی میں سامنے آئے۔ یہ روابط اسرائیل کی اس علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جسے “Peripheral Doctrine” کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی ریاستوں کے گرد غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔

اسی تناظر میں اسرائیل نے شاہِ ایران کے دور میں ایران، ترکی اور بعض کرد گروہوں سے خفیہ اور محدود نوعیت کے روابط قائم کیے۔ خصوصاً عراق میں 1960 اور 1970 کی دہائی کے دوران اسرائیل کے بعض کرد دھڑوں، خاص طور پر مصطفیٰ بارزانی کے گروپ سے تعلقات رہے، جن کی نوعیت انٹیلی جنس اور عسکری تعاون تک محدود تھی۔ ان روابط کا مقصد کسی کرد ریاست کا قیام نہیں بلکہ عراق جیسی عرب ریاست پر اسٹریٹیجک دباؤ ڈالنا تھا۔

جدید دور میں عراقی کردستان ایک نیم خودمختار خطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2017 میں جب کردستان کی آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا تو اسرائیل وہ واحد ریاست تھی جس نے کھل کر اس کی اخلاقی حمایت کی۔ اس اقدام پر عرب دنیا اور ایران میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ تاہم یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تمام کرد اسرائیل نواز نہیں، اور نہ ہی کرد سیاست یا عوام ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ بہت سے کرد گروہ فلسطینی مؤقف سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔

یہاں ایک فکری تضاد بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ایک طرف کرد خود کو ایک مظلوم اور بے ریاست قوم کے طور پر پیش کرتے ہیں، دوسری طرف اسرائیل سے تعلقات انہیں ایسے منصوبوں سے جوڑ دیتے ہیں جنہیں خطے میں توسیع پسندانہ یا استعماری تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خود کرد سیاست کے اندر بھی ان تعلقات پر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔

خلاصہ یہ کہ کرد ایک قدیم، بڑی اور باوقار قوم ہیں جن کی تاریخ جدوجہد، تقسیم اور مزاحمت سے بھری ہوئی ہے۔ اسرائیل سے ان کے تعلقات نہ تو نسلی ہیں اور نہ ہی عوامی، بلکہ مخصوص سیاسی حالات اور محدود قیادتوں کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ ان تعلقات کو پوری کرد قوم کی ترجمانی سمجھنا نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر منصفانہ۔

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست میں کرد مسئلہ آج بھی ایک کھلا سوال ہے—ایسا سوال جو محض طاقت نہیں بلکہ انصاف، تاریخ اور تدبر کے تقاضوں کا بھی متقاضی ہے۔

منگل، 20 جنوری، 2026

اجتماعیت کہاں کھو گئی؟





 اجتماعیت کہاں کھو گئی؟

دنیا کے سب سے بڑے فرنیچر اسٹور 
IKEA
 کے بانی
 Ingvar Kamprad
 کی کہانی بظاہر ایک سرمایہ دار کی کامیابی کی داستان ہے، مگر درحقیقت یہ ایک اخلاقی سوال ہے۔ ساٹھ ارب ڈالر کی ذاتی دولت، چالیس ارب یورو سالانہ آمدنی—اور اس کے باوجود ایک سادہ زندگی، اکانومی کلاس سفر، پرانی گاڑی اور سیکنڈ ہینڈ کپڑے۔ یہ سب کچھ اس شخص کی زندگی کا حصہ رہا جو چاہتا تو شاہانہ طرزِ زندگی اپنا سکتا تھا، مگر اس نے دولت کو فرد کے بجائے اجتماع کے لیے وقف کر دیا۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے:
دولت اگر ہاتھ میں ہو تو کیا وہ لازماً طرزِ زندگی کا معیار بن جانی چاہیے؟
مذہب—خصوصاً اسلام—اس سوال کا جواب بہت واضح دیتا ہے۔ اسلام فرد کو نہیں، معاشرے کو مرکز بناتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
"كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ"
(تاکہ دولت تمہارے امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے)
— الحشر: 7
یہ آیت مذہب کی معاشی اور اخلاقی اجتماعیت کا خلاصہ ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مذہب کی نمائندگی کرنے والے بعض حلقوں میں ایک نیا کلچر جنم لے چکا ہے۔ وہ مذہبی رہنما جو منبر سے سادگی، قناعت اور زہد کے درس دیتے ہیں، خود برانڈڈ لباس، وسیع و عریض رہائش گاہیں، پرتعیش گاڑیاں اور پروٹوکول والی زندگی اختیار کر چکے ہیں۔ مذہب کی اجتماعی نصیحت اب ان کے ہاں ذاتی جواز میں بدل چکی ہے۔
کہا جاتا ہے:
“اللہ نے دیا ہے، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں۔”
مگر سوال یہ ہے کہ کیا شکر کا مفہوم صرف خرچ کرنا ہے، یا بانٹنا بھی؟
رسول اللہ کا طرزِ زندگی اس معاملے میں معیار ہے۔ آپ کے پاس اگر دولت آئی تو وہ ٹھہری نہیں۔ کبھی فاقہ آیا تو صبر کیا، کبھی مال آیا تو تقسیم کر دیا۔ حضرت عمرؓ خلیفہ تھے مگر لباس میں پیوند، حضرت علیؓ بیت المال کے چراغ میں ذاتی بات نہیں کرتے تھے، اور حضرت عثمانؓ جیسا تاجر اپنی دولت عوام کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ یہ سب مثالیں مذہب کی اجتماعی روح کی عملی تصویر ہیں۔
اس کے برعکس، آج بعض مذہبی طبقات میں دین ایک برانڈ بن چکا ہے—مہنگے ملبوسات، قیمتی گھڑیاں، سیکیورٹی اسکواڈ، اور خطابات کے نرخ۔ مسئلہ دولت نہیں، مسئلہ نمونہ 
(Example) 
ہے۔ جب مذہبی رہنما خود آسائش کو معمول بنا لیں تو عوام کے لیے صبر، قناعت اور ایثار محض خطیبانہ الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 
Ingvar Kamprad
 جیسے غیر مسلم انسان ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ اس نے نہ مذہب کا دعویٰ کیا، نہ منبر سنبھالا، مگر اپنی دولت کو انسانیت کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے اپنی اولاد کو ارب پتی بنانے کے بجائے لاکھوں خاندانوں کو جینے کا موقع دیا۔
یہ سوال اب ہمارے اجتماعی شعور سے ہے:
کیا مذہب صرف وعظ کا نام ہے، یا ذاتی مثال کا بھی تقاضا کرتا ہے؟
اگر مذہب اجتماعیت سکھاتا ہے تو اس کا پہلا امتحان وہی لوگ ہیں جو اس کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جب رہنما خود کو عوام سے الگ کر لے، تو مذہب بھی ایک طبقاتی شے بن جاتا ہے—اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دین کمزور نہیں ہوتا، بدنام ہو جاتا ہے۔
اصل عظمت اس میں نہیں کہ انسان کیا کہتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کیسا جیتا ہے۔
Ingvar Kamprad 
نے مذہب کے بغیر اجتماعیت کو سمجھ لیا—اور ہم مذہب کے ہوتے ہوئے بھی اسے بھولتے جا رہے ہیں۔






منظم جنون
یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ “کیا مغربی لبرل نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟” اس کا جواب واشنگٹن 
کے دعوؤں میں نہیں، بلکہ برسلز کی خاموشی، تذبذب اور بے بسی میں لکھا جا رہا ہے۔


واشنگٹن پوسٹ کی  رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم کو ارسال کردہ پیغام میں گرین لینڈ کو نوبل امن انعام سے جوڑ دیا۔ مفہوم یہ تھا کہ چونکہ نوبل کمیٹی نے انہیں یہ اعزاز نہیں دیا، اس لیے وہ خود کو صرف امن کے تقاضوں تک محدود رکھنے کے پابند نہیں رہے۔ یہ خارجہ پالیسی نہیں، بلکہ عالمی سیاست کا ذاتی رنجش میں تبدیل ہو جانا ہے۔ جب ریاستوں کے فیصلے انعام نہ ملنے کے غصے سے جڑ جائیں تو اسے حکمت نہیں، منظم جنون کہنا زیادہ درست ہے۔

یہاں ایک اہم اور نظرانداز کیا جانے والا پہلو بھی ہے۔ پاکستان نے غزہ میں امن کی کوششوں کے تناظر میں ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ نامزدگی اس امید پر تھی کہ عالمی سطح پر جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کی کوششوں کو سراہا جائے گا۔ مگر نوبل انعام ایک ایسی شخصیت کو دیا گیا جس کا دل تل ابیب میں اٹکا ہوا تھا اور جس کی نگاہ اصل میں امن پر نہیں بلکہ اپنے ملک کی صدارت پر مرکوز تھی۔ یوں نوبل انعام بھی اخلاقی وزن کے بجائے سیاسی سمت کا عکاس بن گیا—اور یہی وہ لمحہ تھا جب انا نے پالیسی کی جگہ لے لی۔

اسی پس منظر میں یورپ کی بے بسی سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یورپی یونین کے پاس اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کی صورت میں ایک طاقتور معاشی ہتھیار موجود ہے، جسے خود یورپی مبصرین “تجارتی بازوکا” کہتے ہیں۔ مگر یہ ہتھیار چلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ امریکہ کے خلاف اس کا استعمال یورپ کے لیے معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ یوں یورپ ایک ایسے اسلحے سے لیس ہے جو طاقتور تو ہے، مگر ناقابلِ استعمال۔ نتیجہ یہ ہے کہ یورپ دو تباہ کن راستوں کے درمیان کھڑا ہے: یا دباؤ قبول کر کے اپنی خودمختاری قربان کرے، یا مزاحمت کر کے اپنی معیشت کو بحران میں دھکیل دے۔

یہ کیفیت ہمیں وینزویلا کے انجام کی یاد دلاتی ہے، جہاں ایک ملک اس وقت عالمی بساط پر تنہا پڑ گیا جب اس کے اتحادی پیچھے ہٹ گئے۔ مگر گرین لینڈ کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ وینزویلا روس کی اتحادی تھی، جبکہ گرین لینڈ نیٹو کے دائرے میں آتی ہے۔ یہاں پسپائی کسی ایک خطے کی قربانی نہیں ہوگی، بلکہ پورے نیٹو اتحاد کی اخلاقی بنیادوں پر ضرب ہوگی۔ اگر نیٹو اپنے ہی دائرے میں شامل ایک خطے کی حفاظت نہ کر سکا تو اس کے وجود کا جواز خود سوال بن جائے گا۔

اس کے باوجود یورپ ایک خوش فہمی پر تکیہ کیے بیٹھا ہے، جسے واشنگٹن کی سیاسی لغت میں 
TACO
کہا جاتا ہے—یعنی یہ یقین کہ “ٹرمپ آخرکار پیچھے ہٹ جائے گا”۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اس بار معاملہ مختلف ہے۔ ٹرمپ داخلی دباؤ میں ہے، مقبولیت کی گراوٹ کا سامنا کر رہا ہے، اور اسے ایک بڑی علامتی فتح درکار ہے۔ گرین لینڈ اب جغرافیہ نہیں، اس کی سیاسی مردانگی اور طاقت کے اظہار کا استعارہ بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں رہا کہ مطالبہ کتنا غیر معقول ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایک برفانی جزیرے کے لیے پورے اتحاد کو قربان کر سکتا ہے؟ موجودہ شواہد اس امکان کو رد نہیں کرتے۔

اسی دوران روس خاموشی سے اس سارے منظرنامے کو دیکھ رہا ہے اور چین گہری توجہ سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ ان دونوں کے لیے یہ کسی جنگ سے کم اہم نہیں، کیونکہ یہاں امریکہ اپنے ہی ہاتھوں اس عالمی نظام کو کمزور کر رہا ہے جسے اس نے 1945 کے بعد خود تشکیل دیا تھا۔ پیغام صاف ہے: بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرناک وہ اتحادی ہوتا ہے جو اپنی طاقت کو عقل کے بجائے انا کے تابع کر دے۔

اصل سانحہ یہ ہے کہ یورپ نے بہت دیر سے یہ حقیقت دریافت کی کہ اس نے اپنی سلامتی ایک ایسے اتحادی کے ساتھ باندھ رکھی تھی جو اپنے غرور پر قابو کھو چکا ہے۔ آنے والے دن صرف گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ “مغرب” کے تصور کی بقا یا زوال کا بھی تعین کریں گے۔ یا تو یورپ جھک جائے گا اور اتحادوں کا تصور کھوکھلا ہو جائے گا، یا وہ مزاحمت کرے گا اور خود اتحاد ٹوٹ جائیں گے۔ دونوں صورتوں میں فائدہ ماسکو اور بیجنگ کو پہنچے گا۔

شاید یہی وہ لمحہ ہے جب یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ “کیا مغربی لبرل نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟” اس کا جواب واشنگٹن کے دعوؤں میں نہیں، بلکہ برسلز کی خاموشی، تذبذب اور بے بسی میں لکھا جا رہا ہے۔
آج کے عالمی منظرنامے کو محض سفارتی کشیدگی یا تجارتی دباؤ کا نام دینا حقیقت سے فرار ہے۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ مغربی نظام کی اندرونی شکست ہے—ایک ایسی شکست جو کسی بیرونی دشمن نے مسلط نہیں کی، بلکہ خود اسی نظام کے مرکز میں بیٹھے غرور نے جنم دی ہے۔ ریاستی مفاد، اجتماعی سلامتی اور طویل المدت حکمتِ عملی اب ذاتی انا، ضد اور انتقامی نفسیات کے تابع دکھائی دیتی ہیں۔