اتوار، 9 اگست، 2026
اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے
جارج سینٹیان تیری آواز مکے مدینے
ہرمز: ایران کے دروازے سے دنیا کی معیشت تک
جمعہ، 31 جولائی، 2026
خواب سے اہم نسبت رسول کی حفاظت
نسبتِ رسول ﷺ کی حفاظت
خواب انسانی وجود کی وہ پراسرار سرحد ہے جہاں بیداری کے قوانین کچھ دیر کے لیے معطل دکھائی دیتے ہیں۔ جسم بستر پر ہوتا ہے اور شعور کبھی ماضی میں اتر جاتا ہے، کبھی ایسے لوگوں سے ملا دیتا ہے جو دنیا میں نہیں رہے، کبھی فاصلے مٹا دیتا ہے اور کبھی ایسی چیز دکھا دیتا ہے جس کا بیداری میں کوئی ظاہری امکان نظر نہیں آتا۔ اسی لیے خواب کو محض ذہنی انتشار کہہ کر نظر انداز کردینا انسانی تجربے کی ایک بڑی حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔
اسلام نے بھی خواب کو معمولی نہیں سمجھا۔ قرآنِ مجید میں حضرت یوسفؑ، حضرت ابراہیمؑ اور عزیزِ مصر کے خواب محفوظ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی رؤیائے صالحہ کی اہمیت بیان فرمائی۔ مگر خواب کی اصل حساسیت وہاں شروع ہوتی ہے جہاں خواب دیکھنے والا یہ کہتا ہے
’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔‘‘
یہ بظاہر ایک شخص کا ذاتی تجربہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی نسبت جڑ جاتی ہے جس کی حفاظت اسلامی تہذیب میں ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتی رہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔‘‘
صحیح بخاری کی یہ روایت رؤیتِ نبوی ﷺ کی خصوصی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا دعویٰ کرنے والا شخص خواب میں سنی ہوئی ہر بات کو بیداری میں حدیثِ نبوی قرار دے سکتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق ہے
رؤیت ایک شخصی تجربہ ہے؛ نسبتِ رسول ﷺ ایک دینی دعویٰ ہے۔
اور اسی فرق نے اسلامی علمی روایت میں احتیاط کو جنم دیا۔
نسبتِ رسول ﷺ معمولی نسبت نہیں
مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے منسوب اقوال کو اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ حدیث کی حفاظت ایک مستقل علمی فن بن گئی۔ محدثین نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ روایت اچھی اور بامعنی ہے یا نہیں؛ انہوں نے پوچھا: راوی کون ہے؟ کس سے روایت کرتا ہے؟ دونوں کی ملاقات ہوئی؟ راوی کا حافظہ کیسا تھا؟ اس کی دیانت کیا تھی؟ روایت کی دوسری اسناد کیا کہتی ہیں؟ متن دوسری روایات سے متصادم تو نہیں؟
یہاں تک کہ راویوں کی پیدائش و وفات، سفر، اساتذہ، شاگرد اور ملاقاتوں تک کا حساب رکھا گیا۔
یہ شک نہیں تھا؛ یہ نسبت کی حفاظت تھی۔
اور یہی اصول خواب پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
ایک شخص کہتا ہے، ’’میں نے خواب دیکھا۔‘‘ یہ اس کا تجربہ ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔‘‘ اب نسبت پیدا ہوگئی۔ پھر اگر وہ کہے، ’’رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا‘‘ تو بات مزید حساس ہوگئی، کیونکہ اب خواب ایک قولِ رسول ﷺ کی نسبت بن چکا ہے۔
یہیں سے سوال شروع ہوتا ہے: خواب کا ماخذ کیا ہے؟ روایت کب کی ہے؟ راوی کون ہے؟ کیا کوئی خارجی نشانی ہے؟ کوئی گواہ ہے؟ کیا اس کا کوئی مادی اثر بیداری میں ظاہر ہوا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا بیان کردہ بات قرآن و سنت کے خلاف تو نہیں؟
خوابوں کی تمام حکایات ایک درجے کی نہیں
صوفیانہ تذکروں اور کتبِ مناقب میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق خوابوں کے کئی واقعات ملتے ہیں، مگر انہیں ایک ہی درجے میں رکھنا علمی احتیاط کے خلاف ہوگا۔
ایک قسم وہ ہے جس میں خواب میں ملنے والی مادی چیز بیداری میں بھی موجود پائی گئی۔
ابو الخیر الأقطع کے بارے میں روایت ہے کہ شدید فاقے کے زمانے میں خواب میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں روٹی عطا فرمائی۔ انہوں نے نصف کھائی اور بیدار ہوئے تو باقی نصف روٹی ہاتھ میں موجود تھی۔ اسی نوعیت کی حکایات ابن الجلاد اور محمد بن العلاء سے بھی منسوب ہیں۔
یہ واقعات اس لیے غیر معمولی ہیں کہ یہاں خواب اور بیداری کے درمیان محض معنوی تعلق نہیں، بلکہ مادی شے کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری قسم میں خواب میں ملنے والی چیز بیداری میں اسی جنس یا تعداد کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ سُدیر الصیرفی سے منسوب روایت میں خواب میں آٹھ رطب ملنے اور اگلے دن امام جعفر صادقؓ کے ہاں آٹھ رطب ملنے کا ذکر ہے۔ یہاں خواب کے وہی رطب بیداری میں آنے کا دعویٰ نہیں، بلکہ عدد اور جنس کی مطابقت ہے۔
ابو حبیب النباجی سے منسوب اٹھارہ کھجوروں کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے،
تیسری قسم میں خواب کی مادی چیز بیداری میں نہیں ملتی، لیکن خواب کے بعد جسمانی اثر ظاہر ہوتا ہے۔
قصیدۂ بردہ کے شاعر محمد بن سعید البوصیری کے بارے میں مشہور مناقبی روایت ہے کہ بیماری کے زمانے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدح میں قصیدہ لکھا۔ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی، آپ ﷺ نے ان کے چہرے پر دستِ مبارک پھیرا اور اپنی بردہ ان پر ڈال دی۔ بیدار ہوئے تو شفا پاچکے تھے۔
سعد الدین الفارقی سے منسوب روایت میں بھی خواب، بردہ اور آنکھوں کی شفا کا ذکر ملتا ہے۔
ان دونوں حضرات کاخعاب کے بعد صحت مند ہو جانا ۔ ان کے خواب کے نظر انے والے نتائج ہیں
ایک اور قسم میں خواب کا حسی اثر بیان ہوتا ہے، مثلاً کھجور کھانے کے خواب کے بعد بیداری میں اس کا ذائقہ محسوس ہونا۔ ایسی روایات میں مادی ثبوت اور مضبوط خارجی شہادت نہ ہونے کے باعث زیادہ احتیاط ضروری ہے۔
یوں خوابوں کے یہ واقعات چار سطحوں پر آتے ہیں:
مادی چیز کا بیداری میں موجود ہونا،
جنس یا تعداد کی مماثلت،
خواب کے بعد جسمانی اثر،
اور محض حسی مماثلت۔
ان سب کو ایک ہی درجہ دینا درست نہیں۔
نشانی خواب کو کہاں لے جاتی ہے؟
یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔
’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا‘‘ ایک شخص کا بیان ہے۔
لیکن اگر خواب کے بعد کوئی ایسی چیز سامنے آئے جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ سکیں تو معاملے میں ایک خارجی قرینہ پیدا ہوجاتا ہے۔
ابو الخیر الأقطع کے ہاتھ میں روٹی، بعض روایات میں درہم کا بیداری میں موجود ہونا، سُدیر کے واقعے میں آٹھ رطب کی مطابقت اور بوصیری کے واقعے میں بیماری کے بعد شفا اسی لیے اہم ہیں کہ روایت نگار خواب کو کسی خارجی اثر کے ساتھ جوڑتا ہے۔
لیکن یہاں بھی ایک بنیادی اصول فراموش نہیں ہونا چاہیے:
نشانی روایت کو حیرت انگیز بناتی ہے؛ سند اسے تاریخی بناتی ہے۔
اور اگر کوئی خارجی واقعہ متعدد افراد نے دیکھا بھی ہو تو وہ صرف دعوے کے لیے ایک اضافی قرینہ پیدا کرتا ہے۔
اسلامی تہذیب نے رسول اللہ ﷺ کی نسبت کی حفاظت صرف حدیث میں نہیں کی۔ سیرت، شمائل، مناقب، کرامات اور خوابوں کے تذکروں میں بھی اہلِ علم نے ماخذ، زمانہ، راوی، سند، متن اور قرائن کو اہمیت دی۔
یقیناً حدیث، منقبت اور خواب ایک ہی درجے کے مصادر نہیں۔ حدیث کی حجیت اور خواب کی شخصی یا مناقبی حیثیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک اخلاقی اصول مشترک ہے:
رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی بات منسوب ہو تو اسے بے احتیاطی سے آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔
یہاں شاید سب سے اہم بات یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنا خود ایک دعویٰ ہوسکتا ہے، مگر آپ ﷺ کی طرف کسی بات کو منسوب کرنا ایک امانت ہے۔
اسی لیے اہلِ علم کسی خواب کو سن کر صرف یہ نہیں پوچھتے کہ ’’خواب کتنا خوبصورت تھا؟‘‘ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا ماخذ ہے، کیا قرینہ ہے، کوئی خارجی اثر ہے یا نہیں، کوئی گواہ ہے یا نہیں، اور بیان کردہ بات قرآن و سنت کے معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔
یہ حیل و حجت نہیں۔
یہ ادبِ نسبت ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی طرف منسوب ہر بات فوراً قبول کرلی جائے؛ محبت کا بلند تر تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے نام سے کوئی ایسی بات آگے نہ بڑھے جو ثابت نہ ہو۔
خواب اپنی جگہ ایک راز ہے، روحانی تجربہ ہے، کبھی بشارت ہے اور کبھی انسان کے باطن کی ایک پراسرار کیفیت۔ لیکن نسبتِ رسول ﷺ ایک مقدس امانت ہے۔
اور امانت کا سب سے پہلا حق یہی ہے کہ اسے محبت سے قبول کرنے سے پہلے تحقیق سے محفوظ کیا جائے۔
جمعہ، 17 جولائی، 2026
تین چہرے ایک کہانی
تین چہرے، ایک کہانی
سیاست بھی کبھی کبھی فلم کی طرح ہوتی ہے۔ اس میں کردار بدلتے رہتے ہیں، مناظر تبدیل ہوتے ہیں، لیکن کہانی کے کچھ بنیادی عناصر ہمیشہ موجود رہتے ہیں: عوام کی امیدیں، تبدیلی کے خواب، طاقت کی کشمکش اور ایک ایسا مرکزی کردار جو پورے منظرنامے پر چھا جائے۔ اکیسویں صدی کی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ، عمران خان اور نریندر مودی ایسی ہی تین شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ممالک میں سیاست کے روایتی انداز کو بدلنے کی کوشش کی۔
یہ تینوں رہنما مختلف ملکوں، مختلف ثقافتوں اور مختلف سیاسی روایات سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی سیاسی کہانی میں کچھ مشترک پہلو ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب نے اپنی سیاست کو ایک مضبوط شخصی شناخت کے ساتھ آگے بڑھایا اور اپنے حامیوں کے لیے محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک امید، ایک علامت اور ایک تحریک کی شکل اختیار کی۔
ٹرمپ کی سیاست کا مرکزی کردار خود ٹرمپ کی شخصیت رہی۔ انہوں نے امریکی سیاست میں ایک ایسا انداز متعارف کرایا جس میں روایتی سیاسی زبان کے بجائے براہِ راست گفتگو، سخت مؤقف اور جذباتی اپیل نمایاں تھی۔ انہوں نے واشنگٹن کے پرانے سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کا بیانیہ اختیار کیا اور خود کو عام امریکی شہری کی آواز کے طور پر پیش کیا۔
عمران خان کی سیاسی کہانی بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد اقتدار تک پہنچنے کی داستان ہے۔ کرکٹ کے میدان سے سیاست کے ایوانوں تک ان کا سفر غیر معمولی رہا۔ انہوں نے اپنی سیاست کو تبدیلی، احتساب اور خود مختاری کے نعروں سے جوڑا۔ ان کے حامیوں کے نزدیک وہ پرانے سیاسی نظام کے مقابل ایک نئی امید تھے، جبکہ ناقدین ان کے سیاسی انداز کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔
نریندر مودی نے بھی بھارتی سیاست میں ایک مضبوط شخصی قیادت کا تصور پیش کیا۔ ایک عام پس منظر سے سیاسی سفر شروع کر کے وہ ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچے۔ ان کی سیاست میں ترقی، قومی شناخت اور مضبوط قیادت کے تصورات نمایاں رہے۔ انہوں نے جدید ذرائع ابلاغ اور عوامی رابطے کے نئے طریقوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
ان تینوں رہنماؤں کی ایک بڑی مشترک خصوصیت عوام سے براہِ راست تعلق قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے روایتی سیاسی ذرائع کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا، بڑے جلسوں اور عوامی خطابات کو اپنی سیاسی طاقت بنایا۔ آج کی دنیا میں جہاں ایک پیغام چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، ان رہنماؤں نے اس تبدیلی کو سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔
ان کی سیاست میں ایک اور مماثلت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو روایتی سیاسی طبقے سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے امریکی سیاسی اشرافیہ پر تنقید کی، عمران خان نے پاکستان کے روایتی سیاسی خاندانوں کو چیلنج کیا، جبکہ مودی نے بھارت میں ایک نئے سیاسی تصور اور مضبوط قیادت کا بیانیہ پیش کیا۔
لیکن ہر بڑی کہانی کی طرح اس کہانی میں بھی اختلافات اور تنقید کے پہلو موجود ہیں۔ مخالفین کے مطابق شخصی سیاست کبھی کبھی اداروں اور اجتماعی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ حامیوں کے نزدیک مضبوط شخصیت ہی بڑے فیصلے کرنے اور تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹرمپ، عمران خان اور مودی کی سیاست کا موازنہ دراصل تین افراد کا نہیں بلکہ جدید سیاسی دور کا مطالعہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں نظریات کے ساتھ شخصیت بھی سیاست کا طاقتور ذریعہ بن چکی ہے، جہاں جلسوں کے ساتھ سوشل میڈیا بھی میدانِ سیاست ہے، اور جہاں ایک رہنما کی آواز لاکھوں لوگوں کے جذبات کی ترجمانی بن سکتی ہے۔
تاریخ ان تینوں رہنماؤں کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں کرے گی کہ وہ کتنے مقبول تھے، بلکہ اس بنیاد پر بھی کرے گی کہ انہوں نے اپنے ممالک، اداروں اور معاشروں پر کیا اثرات چھوڑے۔ کیونکہ سیاست کے اس بڑے پردے پر کردار آتے جاتے رہتے ہیں، مگر کہانی کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہتے ہیں۔
