جمعہ، 30 جنوری، 2026

ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال



 ابراہیم لنکن کی  واپسی کا سوال

امریکی بحری بیڑا، جسے دنیا کا سب سے قدیم اور طاقتور بحری بیڑا سمجھا جاتا ہے، بمشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس موجودگی کو کبھی عالمی امن، کبھی بحری تجارت کے تحفظ اور کبھی خطے کے استحکام کا نام دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پہرے کے پیچھے تیل، اثر و رسوخ اور عالمی بالادستی کی وہی پرانی جنگ چھپی ہوئی ہے۔ اسی طاقت کی سب سے نمایاں علامت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن ہے، جو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ امریکی عسکری غرور اور ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

جب ابراہیم لنکن جیسے جہاز مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ صرف اسلحہ نہیں لاتے، بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی اب بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری موجودگی دراصل اس یقین کی علامت رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شہ رگ—تیل—پر کنٹرول برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔

لیکن آج کا مشرقِ وسطیٰ وہ نہیں رہا جو ماضی میں تھا۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور وہ قوتیں جو کبھی دفاعی پوزیشن میں تھیں، اب کھلے عام مزاحمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کا وہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں کہا گیا: “ہم تیار ہیں، اور ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔” یہ محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

دنیا حیرت اور خوف کے امتزاج میں یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ انگلی کس بندوق کے ٹرگر پر ہے؟ کیا یہ عام اسلحہ ہے، یا پھر وہ بندوق ہے جس میں پہلے ہی “نیوکلیائی گولی” بھری جا چکی ہے؟ اگرچہ اس سوال کا براہِ راست جواب کسی کے پاس نہیں، مگر حالات، بیانات اور زمینی حقائق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار معاملہ معمول کا نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بندوق عام نہیں ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی طاقتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی رویے میں بھی ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتا تھا، آج سفارت کاری، ثالثی اور “ڈی ایسکلیشن” کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب کسی کھلے تصادم کے بجائے واپسی کا ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے—ایسا راستہ جس میں نہ شکست کا اعتراف ہو اور نہ ہی طاقت کے تصور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔

اگر ابراہیم لنکن جیسے طیارہ بردار جہاز کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا ہوا تو یہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ امریکی بالادستی کے بیانیے پر کاری ضرب ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے، تو زوال کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔

یوں ابراہیم لنکن کی کہانی اب صرف امریکی فخر کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ اس عالمی سوال کی علامت بن چکی ہے کہ کیا طاقت کے سائے میں دنیا کو ہمیشہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی اس حقیقت کو آشکار کرنے جا رہی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی، بروقت اور باعزت واپسی ہوتی ہے۔

بدھ، 28 جنوری، 2026

جنگ یا سیاسی زلزلہ



 اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان عسکری تصادم نہیں ہوگا، بلکہ ایک سیاسی زلزلہ ہوگا جس

 کے جھٹکے پورے خطے اور عالمی نظامِ معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس جنگ میں پہلا نشانہ محاذ نہیں، بلکہ وہ توانائی کا نظام ہوگا جس پر جدید دنیا کی سیاست اور معیشت کھڑی ہے۔ تیل یہاں جنس نہیں رہے گا، بلکہ فیصلہ کن ہتھیار بن جائے گا۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں منظر ایران کی سرحدوں سے کہیں آگے پھیلا ہوا ہوگا۔ خلیجِ فارس میں آبنائے ہرمز پر صرف کشیدگی کی خبر ہی عالمی منڈیوں کو لرزا دے گی۔ جہازوں کی انشورنس مہنگی ہو جائے گی، سپلائی سست پڑ جائے گی اور قیمتیں کسی میزائل کے بغیر آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ باب المندب میں یمنی دباؤ سمندری تجارت کو ایک اور محاذ پر الجھا دے گا، جہاں گولی چلائے بغیر راستے بند ہونے لگیں گے۔

اردن میں منظر مختلف مگر اتنا ہی سنگین ہوگا۔ عقبہ بندرگاہ پر ہر کنٹینر ایک سوال بن جائے گا اور ہر ریفائنری ایک سیاسی پیغام۔ ایک کمزور معیشت پر دباؤ دراصل واشنگٹن کے لیے یہ اعلان ہوگا کہ جنگ کو “کنٹرولڈ” رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

متحدہ عرب امارات میں جنگ کی آواز دھماکوں سے نہیں بلکہ اسکرینوں پر نظر آئے گی۔ فجیرہ اور جبلِ علی میں ٹینکرز رکے کھڑے ہوں گے، سرمایہ دارانہ اعتماد متزلزل ہوگا اور عالمی منڈیاں خوف میں مبتلا ہوں گی۔ یہاں ایک دھمکی بھی حملے کے برابر اثر رکھتی ہے۔

قفقاز میں آذربائیجان کا منظر خاموش مگر خطرناک ہوگا۔ باکو–تبلیسی–جےحان پائپ لائن پر ہر سینسر، ہر والو سیاسی دباؤ کا مرکز بن جائے گا۔ یورپ کو پیغام ملے گا کہ یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ کی نہیں، بلکہ اس کی توانائی سلامتی کی بھی جنگ ہے۔

بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی ایک علامت سے سوال بن جائے گی۔ اگر یہاں عدم استحکام پیدا ہوا تو خلیج میں امریکی کنٹرول کا تصور کمزور پڑ جائے گا، اور یہی سب سے بڑا سیاسی نقصان ہوگا۔

اور اسرائیل میں منظر سب سے زیادہ نازک ہوگا۔ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے گرد حفاظتی اقدامات بڑھیں گے، پانی ذخیرہ کیا جائے گا اور شہری زندگی غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو جائے گی۔ یہاں جنگ کا مطلب صرف میزائل نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا بحران ہوگا۔

یہی وہ لمحہ ہوگا جب واضح ہو جائے گا کہ تیل میزائل سے زیادہ خطرناک کیوں ہے۔ میزائل ایک شہر کو نشانہ بناتا ہے، مگر توانائی پوری دنیا کو یرغمال بنا لیتی ہے۔ منڈیاں خوف سے چلتی ہیں اور اس جنگ میں خوف کا نام ہے: توانائی کی عدمِ استحکام۔

اگر ایران کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ براہِ راست محاذ سے زیادہ ان جگہوں کو نشانہ بنائے گا جہاں دشمن کی سیاسی اور معاشی سانس چلتی ہے۔ اس کے لیے قبضہ ضروری نہیں، صرف اعتماد توڑنا کافی ہوگا۔

یہ جنگ دارالحکومتوں کی فتح و شکست کا معاملہ نہیں ہوگی، بلکہ تیل کی راہوں، سمندری گذرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر سیاسی غلبے کی جنگ ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جو ان راستوں کو کنٹرول کرتا ہے، وہی جنگ ہی نہیں، دنیا کی سیاست کی رفتار بھی طے کرتا ہے۔

کھیل ختم



کھیل ختم
جب سیاسی دباؤ معمول بن جائے، معاشی راستے بند کیے جائیں،
اور سماجی سطح پر کسی قوم کو مسلسل غیر متعلق ثابت کیا جائے—
تو مایوسی پیدا ہونا فطری ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہی مایوسی جب شعور میں بدلتی ہے تو خاموشی نہیں رہتی، وہ فیصلہ بن جاتی ہے۔
آج عالمی منظرنامہ اسی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
طاقت، قانون اور انسانی حقوق کے نام پر قائم نظام
اپنی اخلاقی بنیاد کھو چکا ہے۔
یورپی یونین کا امریکہ کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدوں کو معطل کرنا
اس بات کا عندیہ ہے کہ عالمی سیاست اب یکطرفہ فیصلوں کو پہلے کی طرح قبول نہیں کر رہی۔
اسی بکھرتے نظام کی سب سے نمایاں مثال اقوامِ متحدہ کی غیر فعالیت ہے۔ فلسطین کے معاملے پر درجنوں قراردادیں موجود ہیں، کشمیر کا مسئلہ بھی دہائیوں سے اسی سرد خانے میں پڑا ہے۔ یہی بے عملی مظلوم اقوام کو
متبادل راستے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
جب ظلم مستقل صورت اختیار کرے تو ردِعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ فلسطین کے امن پسند اور نہتے عوام اسی ردِعمل کی علامت ہیں۔ وہ عسکری لحاظ سے کمزور ہیں، مگر انکار کی قوت رکھتے ہیں—
اور تاریخ میں اکثر یہی قوت طاقت کے توازن کو بدل دیتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح میں شام، لبنان، لیبیا اور عراق کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایک ایک خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا، اور باقی اقوام یہ سمجھتی رہیں کہ خاموش رہ کر خود کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ خاموشی تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔
برسوں سے پاکستان کو براہِ راست اور بالواسطہ جارحیت کا سامنا ہے۔
سرحدی کشیدگی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، سفارتی دباؤ، اور داخلی عدم استحکام کو ہوا دینے کی کوششیں—یہ سب ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیںجس کے ذریعے ایک ریاست کو کمزور رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔
یہ صورتِ حال بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ مظلوم اقوام کو درپیش چیلنج علاقائی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔
یمن اور شام جیسے محاذوں پر غیر متوازن جنگ کے باوجود مزاحمت کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہو سکا۔ یہ محض عسکری کامیابیاں نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ فیصلہ کن عنصر ہتھیار نہیں، بلکہ ارادہ ہوتا ہے۔
اسی اصول کو 1987 کے سعودی واقعے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سال سعودی عرب نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے
ایسٹ ونڈ میزائل ریاض کے جنوب میں نصب ہوئے اور اسرائیل نے ان پر حملے پر غور شروع ہوا۔ مگر سعودی قیادت کے غیر مبہم مؤقف اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر گیا۔
جب ریاستیں خوف کے بجائے کر گذرنے کا ارادہ کر لیں تو طاقت کا رخ بدل جاتا ہے۔ پاکستان کا معرکہ حق اس کی عملی مثال ہے
غزہ کے امن پسند اور نہتے لوگوں نے ،چال قائم کی اور آج ایران دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتوں کے سامنے ڈٹا ہوا ہے ۔ اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ مزید خاموش رہنے کو اپنی موت کے برابر سمجھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ راستہ کتنا مشکل ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے علاوہ کوئی راستہ باقی رہ گیا تھا؟
آخر میں ایک بات واضح رہنی چاہیے: مایوسی سے منع کیا گیا ہے۔مایوسی جمود پیدا کرتی ہے، جبکہ امید حرکت کو جنم دیتی ہے۔آج جو تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں وہ کسی فوری فتح کا اعلان نہیں، مگر یہ ضرور بتاتی ہیں کہ سمت درست ہو چکی ہے۔
پر امید رہیں—اب منزل زیادہ دور نہیں ہے۔

منگل، 27 جنوری، 2026

دشمنی سے محبت تک







دشمنی سے محبت تک 

یومِ حنین اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جب میدانِ جنگ صرف تلواروں سے نہیں بلکہ دلوں کے اندر بھی برپا تھا۔ اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو انسان کے باطن میں ایمان کے انقلاب کی سب سے روشن مثال بن گیا۔

شیبہ بن عثمان خود بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ کو اس دن تنہا دیکھا۔ یہ تنہائی محض ظاہری تھی، مگر شیبہ کی نگاہ میں یہی لمحہ انتقام کا سنہری موقع تھا۔ ان کے ذہن میں اپنے باپ اور چچا کی یاد تازہ ہوئی—وہ دونوں جو علیؓ اور حمزہؓ کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ دل میں دفن کی ہوئی دشمنی نے سر اٹھایا اور شیطان نے سرگوشی کی: آج بدلہ لینے کا دن ہے۔

شیبہ نے دائیں جانب سے بڑھنے کا سوچا تو عباسؓ نظر آئے—رسول ﷺ کے چچا۔ دل نے گواہی دی کہ یہ شخص آخری سانس تک ساتھ چھوڑنے والا نہیں۔ بائیں جانب سے حملے کا خیال آیا تو ابوسفیان بن حارثؓ دکھائی دیے—چچا زاد بھائی، وہ بھی وفاداری کی دیوار۔ آخر پشت سے حملہ کرنے کا ارادہ کیا، مگر جیسے ہی قریب پہنچے، اچانک ان کے اور رسول ﷺ کے درمیان آگ کے شعلے حائل ہو گئے۔ یہ شعلے تیز بھی تھے اور روشن بھی—آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے، قدموں کو جکڑ دینے والے۔

اسی لمحے وہ ہوا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے التفات فرمایا اور نام لے کر پکارا:
“اے شیبہ، میرے قریب آؤ۔”
پھر دعا فرمائی:
“اے اللہ! شیبہ سے شیطان کو دور فرما دے۔”

یہ الفاظ تلوار سے زیادہ کاٹ دار ثابت ہوئے۔ شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے آنکھ اٹھا کر حضور ﷺ کو دیکھا تو وہ مجھے اپنی آنکھوں، کانوں اور جان سے بھی زیادہ عزیز ہو گئے۔ دشمنی پگھل چکی تھی، نفرت ایمان میں بدل چکی تھی، اور انتقام محبت کے سامنے ہار چکا تھا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ صرف جسمانی جنگ نہیں لڑتے تھے، وہ دلوں کی جنگ بھی جیتتے تھے۔ آپ ﷺ کی قوت تلوار میں نہیں، دعا میں تھی۔ آپ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ یہی تھا کہ دشمنوں کو دوست، قاتلانہ ارادوں کو وفاداری، اور اندھی نفرت کو زندہ ایمان میں بدل دیتے تھے۔

شیبہ بن عثمان کا یہ بیان—جو انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ کے غلام عکرمہ کو سنایا—گواہ ہے کہ جب رحمتِ محمدی ﷺ کسی دل کو چھو لے، تو وہاں شیطان کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔

خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ



خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ
ٹرمپ کے ذریعے ایران کو گرانے کے خواب دیکھنے والے صہیونی حلقے دراصل وہی ہیں جنہوں نے اس سے پہلے یمنی فوج کے خاتمے پر امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ یہ وہی پرانی شرط ہے، وہی پرانا اندازِ فکر اور وہی غلط اندازے—بس میدان بدل گیا ہے، کردار وہی ہیں اور انجام بھی کم و بیش وہی دکھائی دیتا ہے۔
اس وقت خواہش یہ تھی کہ یمنی فوج کو فیصلہ کن شکست دی جائے، غزہ کے حق میں یمن کی بحری عسکری کارروائیوں کو روکا جائے، باب المندب میں یمنیوں کے قائم کردہ محاصرے کو توڑا جائے، صہیونی ریاست کی گہرائی تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا خاتمہ کیا جائے، اور اس علاقائی اتحاد—جس میں امارات اور اسرائیل شامل تھے—کو گزشتہ دس برسوں کی ناکامیوں اور ذلت آمیز شکستوں کا بدلہ دلایا جائے۔ یہ صرف ایک عسکری منصوبہ نہیں تھا بلکہ ساکھ، غرور اور برتری کی بحالی کا خواب تھا۔
اسی لیے سب کی نظریں ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز تھیں۔ بائیڈن کے برعکس ٹرمپ کو ایک جری، سخت گیر اور جارح رہنما سمجھا جاتا تھا۔ بائیڈن کو برطانیہ کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف ناکام فوجی مہم پر تنقید کا سامنا رہا، جبکہ ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ آ کر طاقت کے بل پر پورا منظرنامہ بدل دے گا۔
اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ نے ایک فوجی وفد اسرائیلی نمائندوں کے ہمراہ ریاض بھیجا تاکہ سعودی اور اماراتی نظاموں کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ ابتدا میں عرب اور اسلامی عوامی رائے عامہ کا حوالہ دے کر انکار کیا گیا، کیونکہ یمنی مزاحمت کو خطے میں غیر معمولی اخلاقی اور عوامی تائید حاصل تھی۔ مگر امریکی دباؤ کے بعد ایک شرط رکھ دی گئی: اگر امریکہ ساٹھ دن کے اندر یمنی فوج کی اعلیٰ قیادت کو ختم کر دے، میزائل خطرے کو مکمل طور پر بے اثر کر دے اور یمنی عسکری صلاحیت کو مٹا دے، تو وہ باضابطہ طور پر امریکی کیمپ میں شامل ہو جائیں گے۔
ٹرمپ کی مکار اور متکبر شخصیت پر ان کا اندازہ بظاہر درست ثابت ہوا۔ چند ہی مہینوں میں اس نے یمن کے خلاف فوجی مہم دوگنی کرنے کا اعلان کیا، یمنی افواج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دھمکیاں دیں، اضافی طیارہ بردار بحری جہاز، اسٹریٹجک بمبار، ایٹمی آبدوزیں اور جدید اسٹیلتھ طیارے تعینات کر دیے۔
وہ اسلحہ میدان میں اتارا گیا جو امریکہ عموماً باقاعدہ ریاستوں اور منظم افواج کے خلاف استعمال کرتا ہے، نہ کہ ایسے ملک کے خلاف جو دس برس سے محاصرے میں ہو۔ بحرِ عرب، بحرِ احمر اور بحرِ ہند تک امریکی عسکری قوت پھیلا دی گئی، اس خوش فہمی میں کہ یمن کو کچل کر ایک فیصلہ کن فتح حاصل کر لی جائے گی اور بائیڈن کو کمزور اور ناکام ثابت کیا جا سکے گا۔
امریکی اسٹریٹجک بمبار، اسٹیلتھ طیارے اور فضائی ایندھن بردار جہاز یمن کی فضاؤں میں داخل ہوئے۔ ایٹمی آبدوزوں اور بحری بیڑوں نے ٹوماہاک میزائلوں سے شدید بمباری کی۔ زیرِ زمین اہداف کو تباہ کرنے والے دنیا کے طاقتور ترین بم یمن کے پہاڑوں اور شہروں پر برسائے گئے۔ ٹرمپ خود سوشل میڈیا پر ان مناظر کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرتا رہا۔
مگر دن گزرتے گئے اور زمینی حقیقت نہ بدلی۔ سمندر بدستور بند رہا، صہیونی ریاست کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رہے۔ اس کے برعکس امریکی افواج اس وقت ششدر رہ گئیں جب یمنی بحری اور بیلسٹک میزائلوں، اور درجنوں ڈرونز نے بحرِ عرب اور بحرِ احمر میں موجود طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ شدید بمباری کے باوجود امریکی ساختہ جدید ڈرون بڑی تعداد میں مار گرائے گئے۔
پھر یمنیوں نے ایک اور حیران کن قدم اٹھایا۔ جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کرتے ہوئے انہوں نے امریکی اسٹیلتھ بمباروں اور F-35 طیاروں کو خطرے میں ڈال دیا۔ امریکیوں کو قیمتی بمبار ہٹانا پڑے۔ بعدازاں بحریہ کے F-18 سپر ہارنیٹ طیاروں کی تباہی سامنے آئی، جسے چھپانے کے لیے کمزور اور غیر قائل وضاحتیں پیش کی گئیں۔
تقریباً پچاس دن کی شدید اور بے نتیجہ جنگ کے بعد ٹرمپ نے سلطنتِ عمان سے مداخلت کی درخواست کی۔ یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کی خواہش ظاہر کی گئی، اس شرط کے ساتھ کہ یمنی امریکی جہازوں کو نشانہ نہ بنائیں اور امریکہ بمباری روک دے۔ اس کے باوجود یمنی فوج نے صہیونی ریاست کے خلاف بحری محاصرہ اور فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔
دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز شکست کے ساتھ واپس لوٹ گئے۔ یوں دہائیوں سے قائم امریکی بحری برتری کا افسانہ ٹوٹ گیا۔ صہیونی ریاست تنہا رہ گئی، جبکہ یمنیوں نے محاصرے اور بھاری نقصانات کے باوجود آخری دم تک مزاحمت جاری رکھی۔
آج حقیقت یہ ہے کہ یمن ایک اسٹریٹجک علاقائی طاقت بن چکا ہے۔ برسوں سے لگائی گئی شرط ہار چکی ہے، اور اب یمن سے برابری اور احترام کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ہتھیار یا دباؤ ہو جو ان کے خلاف آزمایا نہ جا چکا ہو۔
سوال یہ ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین یمنیوں کو ختم نہ کر سکی تو اب ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعرے کس بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں؟ کیا ایران یمن سے بھی کمزور ہے؟ امریکہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے، مگر نہ وہ ایران کو مٹا سکے گا اور نہ اس کی حکومت گرا سکے گا۔ ایران اور وینزویلا میں وہی فرق ہے جو گرین لینڈ اور مشرقِ وسطیٰ میں ہے—جغرافیہ، تاریخ اور طاقت کے توازن کو نعروں سے نہیں بدلا جا سکتا۔