پیر، 6 اکتوبر، 2025

دو سالوں میں غزہ پر کیا بیتی




دو سالوں میں غزہ پر کیا بیتی

گزشتہ دو برس غزہ کے عوام کے لیے ایک مسلسل کرب، دکھ اور اذیت کی داستان رہے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف زمین کو کھنڈرات میں بدلا بلکہ لاکھوں بے گناہوں کی زندگیوں کو تاریکیوں میں دھکیل دیا۔ دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسے المیے کو پروان چڑھایا گیا جسے تاریخ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے طور پر یاد کرے گی۔
نسل کشی اور بے رحمانہ حملے

اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں نے غزہ کے عوام کو اجتماعی سزا دینے کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جس کا مقصد فلسطینی نسل کو مٹانا تھا۔ ہزاروں بچے اور عورتیں شہید ہوئیں، سینکڑوں خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ رہائشی علاقوں پر بمباری نے غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔
اسپتال اور طبی عملہ نشانہ

جہاں دنیا کے مہذب معاشرے میں جنگ کے دوران اسپتالوں اور طبی عملے کو محفوظ قرار دیا جاتا ہے، وہاں اسرائیل نے ان مراکز کو براہ راست نشانہ بنایا۔ آپریشن تھیٹر، ایمرجنسی وارڈ اور حتیٰ کہ نوزائیدہ بچوں کے وارڈز بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ڈاکٹرز اور نرسز کو قتل کیا گیا یا ان پر ایسا دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا نہ کرسکیں۔ ان دو برسوں میں غزہ کا صحت کا نظام مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا۔
مصنوعی قحط اور ناکہ بندی

اسرائیل نے منظم طور پر غزہ میں مصنوعی قحط پیدا کیا۔ خوراک کی ترسیل روکی گئی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آنے والی امداد کو روک کر عوام کو بھوک کے کرب میں مبتلا کیا گیا۔ بچوں کو دودھ تک دستیاب نہ رہا اور لوگ ایک روٹی کے لیے گھنٹوں لائنوں میں کھڑے رہے۔
پانی اور توانائی کی بندش

غزہ کے عوام کو پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم کیا گیا۔ پانی کی لائنیں تباہ کردی گئیں، بجلی کے پلانٹس نشانہ بنائے گئے۔ اندھیروں میں ڈوبی آبادی دو سال تک پانی کے ایک ایک قطرے اور توانائی کے ایک ایک یونٹ کو ترستی رہی۔ یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے باوجود کھلے عام ہوا۔
عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کی خاموشی

اس تمام عرصے میں اقوام متحدہ اور بڑے عالمی ادارے صرف بیانات جاری کرنے تک محدود رہے۔ نہ کوئی عملی اقدام اٹھایا گیا اور نہ ہی اسرائیل کو اس کے جرائم پر جواب دہ ٹھہرایا گیا۔ طاقتور ممالک کی سیاست نے انصاف کو پسِ پشت ڈال دیا۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں کاغذی رہ گئیں اور عالمی عدالت انصاف کی پکاروں کو نظرانداز کیا گیا۔ اس مجرمانہ خاموشی نے نہ صرف غزہ کے عوام کے زخموں کو گہرا کیا بلکہ انسانیت پر سے اعتماد بھی متزلزل کر دیا۔
انسانی استقامت کی کہانی

ان سب مظالم کے باوجود غزہ کے عوام نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے بھوک، پیاس، بیماری اور بمباری کے باوجود ہمت نہ ہاری۔ یہ دو سال فلسطینی عوام کی قربانی، استقامت اور عزم کی ایک لازوال داستان ہیں۔ وہ آج بھی دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ظلم وقتی ہے مگر آزادی کی تڑپ دائمی ہے۔

غزہ کی یہ دو سالہ کہانی انسانیت کے ضمیر پر دستک ہے۔ یہ صرف فلسطینی عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے کہ آیا وہ نسل کشی کو دیکھ کر خاموش رہتی ہے یا مظلوموں کی آواز بنتی ہے۔

اتوار، 5 اکتوبر، 2025

کیا کھویا



اسرائیل نے فلسطینیوں پر جنگ کے نام پر جو نسل کشی مسلط کر رکھی ہے ۔ دو سالوں  میں اسرائیل نے کیا کھویا 
اسرائیل نے غزہ پر مسلط کردہ جنگ میں جو نتائج سمیٹے ہیں، وہ تاریخ میں ایک عبرت بن کر رہ جائیں گے۔ طاقت کے نشے اور غرور میں ڈوبی اس ریاست نے نہ صرف اپنی فوجی اور مالی قوت کا نقصان اٹھایا بلکہ اپنی عالمی ساکھ اور داخلی وحدت بھی کھو دی۔
سب سے پہلے اسرائیل کو انسانی نقصان اٹھانا پڑا۔ سات ہزار سے زائد فوجی ہلاک ہوئے جبکہ پچیس ہزار سے زیادہ فوجی مستقل معذوری کا شکار ہو گئے۔ یہ اعداد و شمار اسرائیلی فوج کے لیے ایک ایسی شکست ہیں جسے وہ برسوں تک بھلا نہیں پائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے سینکڑوں بکتر بند گاڑیاں، بھاری اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی کھو دی، وہ ٹیکنالوجی جسے وہ خطے میں اپنی برتری کی علامت سمجھتا تھا۔
مالی طور پر بھی اسرائیل کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ بوجھ صرف فوجی اخراجات تک محدود نہیں رہا بلکہ اسرائیل کے ہزاروں گھروں کی تباہی اور معیشت کی جڑوں تک جا پہنچا۔ اس کے نتیجے میں اسرائیلی عوام پر مزید دباؤ بڑھ گیا اور داخلی استحکام ڈانواں ڈول ہو گیا۔
سیاسی اور سفارتی میدان میں بھی اسرائیل کو کاری ضرب لگی۔ عرب دنیا کے ساتھ معمول کے تعلقات کے خواب بکھر گئے، مصر اور اردن جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات متزلزل ہو گئے اور بعض عرب ریاستوں کے ساتھ قائم خفیہ اتحاد بھی دم توڑ گئے۔ دنیا بھر میں اسرائیل کی اساطیری ساکھ، کہ وہ ایک "ناقابل شکست فوج" رکھتا ہے، زمین بوس ہو گئی۔ مغربی رائے عامہ کا اعتماد بھی اسرائیل سے چھن گیا، یہاں تک کہ بین الاقوامی برادری نے بھی اس کی جارحیت پر صبر کھو دیا۔
داخلی طور پر اسرائیل شدید بحران کا شکار ہے۔ عوام نے حکومت اور بالخصوص وزیرِاعظم نتن یاہو پر اعتماد کھو دیا ہے۔ فوجی جرنیل اور اعلیٰ کمانڈر جنگ میں مارے گئے، داخلی یکجہتی پارہ پارہ ہو گئی اور معاشرتی تقسیم گہری ہو گئی۔ اسرائیل نے اپنی نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ بھی اس بے مقصد جنگ میں ضائع کر دیا۔
سب سے بڑھ کر اسرائیل نے اپنی باقی ماندہ انسانیت بھی کھو دی۔ مظلوم عوام پر بمباری، معصوم بچوں کا قتل اور انسانی اقدار کی پامالی نے اسرائیل کو دنیا کے سامنے ایک وحشی ریاست بنا کر رکھ دیا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل نے اس جنگ میں سب کچھ کھو دیا: اپنی فوجی برتری، مالی قوت، سفارتی روابط، بین الاقوامی ساکھ، داخلی استحکام اور اخلاقی وجود۔ یہ وہ شکست ہے جو صرف آج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آنے والے برسوں میں اسرائیل کی سیاست، معیشت اور معاشرت کو کھا جائے گی۔

ہفتہ، 4 اکتوبر، 2025

اسرائیل گھٹنوں کے بل




غزہ اس وقت بدترین انسانی المیے سے گزر رہا ہے۔ اسرائیلی بمباری میں معصوم بچے اور حاملہ عورتیں نشانہ بن رہی ہیں، گھر تباہ اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ تعلیمی ادارے کھنڈر بن گئے ہیں اور ہسپتالوں کو بمباری سے مٹایا جا چکا ہے۔ طبی عملے کے قتل اور ادویات کی کمی نے صورت حال کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔ غزہ کے عوام معاشی اور سماجی طور پر مکمل بربادی کے دہانے پر ہیں۔

اسرائیل نے نہ صرف یرغمالیوں کی بازیابی کے بہانے تشدد جاری رکھا بلکہ عالمی امدادی قافلوں اور کشتیوں پر بھی حملے کیے، جن کا مقصد بھوکے بچوں اور مریضوں تک خوراک و ادویات پہنچانا تھا۔ یہ اقدامات عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھے۔

عرب اور مسلم ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایک امن روڈ میپ سامنے آیا، جس میں فوری جنگ بندی، خوراک اور طبی امداد کی فراہمی اور صحت کے نظام کی بحالی شامل تھی۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اس کا اعلان کیا مگر نیتن یاہو کی ترامیم نے معاہدے کو شروع ہونے سے پہلے ہی کمزور کر دیا۔ قطر پر حملے کی دھمکی کے جواب میں ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر نے اگرچہ قطر میں موجود حماس قیادت کو وقتی تحفظ دیا، مگر اسرائیلی جارحیت کے اصل مسئلے کو حل نہ کر سکا۔

امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ پر شدید دباؤ بڑھا۔ اس کے قریبی حمایتی چارلی کرک کے قتل کو کئی حلقوں نے اسرائیلی کارستانی قرار دیا۔ اس پر مشہور اینکر ٹکر کارلسن نے دو ٹوک سوال اٹھایا: "کیا اسرائیل امریکہ کو کنٹرول کر رہا ہے؟" یہ سوال امریکی عوام کے ذہنوں میں گونج بن کر ابھرا اور ٹرمپ انتظامیہ کو دفاعی پوزیشن پر لے آیا۔

اس دوران پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا نے ایک واضح اور جرات مندانہ حکمتِ عملی اپنائی۔ ان ممالک نے عرب دنیا کے ساتھ کھڑے ہو کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا اور سلامتی کونسل میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مضبوط موقف اختیار کیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے عوامی بیان دے کر نہ صرف حالات پر گہری نظر ڈالی بلکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار کا سوال ہے۔ اس بیان نے پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر نمایاں کیا اور امن کی جستجو میں نئی توانائی پیدا کی۔

حماس نے بھی امن معاہدے کی چند شقوں پر نظرثانی کا اشارہ دیا، جسے ٹرمپ نے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ اس نے نیتن یاہو کو مزید دباؤ میں ڈال دیا کیونکہ اسرائیل کے اندر اس کی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے، کابینہ ٹوٹنے کے قریب ہے اور عدالتیں اس کے خلاف مقدمات کی تیاری کر رہی ہیں۔ یورپی ممالک بھی اس کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اپنی سیاسی بقا کے لیے وہ کبھی لبنان، کبھی ترکیہ اور کبھی ایران پر حملے کی باتیں کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی پشت پناہی کے بغیر اسرائیل زیادہ دیر اقتدار میں نہیں رہ سکتا۔

موجودہ حالات میں سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان، انڈونیشیا اور فرانس سمیت کئی ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ اگر امریکہ اپنے اندرونی دباؤ کے تحت اسرائیل کو مزید کھلی چھوٹ دینے سے پیچھے ہٹ جائے تو غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی ممکن ہے۔ یہ بحران واضح کر رہا ہے 
کہ فلسطین کے مسئلے پر عالم اسلام متحد ہو کر ایک نئے سیاسی توازن کو جنم دے سکتا ہے۔
عرب اور مالمان ممالک نے پہلی بار ایسا اتحاد دکھایا ہے جس نے سرائیل کو گھٹنوں کے بل کر دیا ہے ۔ اور اسرائیل کا ناقبل تسخیر ہونے کا پروپیگندہ بحیرہ مردار میں دفن ہو چکا ہے ۔

جنوں کے کھودے کنویں




جنات کے کھودے کنوویں

حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ آپ پر نہ صرف انسان بلکہ جنات اور دیگر مخلوقات بھی مسخر تھیں۔ ان کے دور میں عدل، فلاحِ عامہ اور معاشرتی ترقی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ ان کے حکم سے انسانوں کی بھلائی کے لیے کئی اقدامات کیے گئے جن میں پانی کی فراہمی اور زراعت کی بہتری کے لیے کنوؤں کی کھدائی بھی شامل تھی۔ یہ کھدائی عام انسانی طاقت کے بس کی بات نہ تھی، بلکہ اس میں جنات نے براہِ راست کردار ادا کیا۔

سعودی محقق ڈاکٹر فہد الغامدی اپنی کتاب تاریخ نجد و الحجاز کے آثار  میں لکھتے ہیں
"حجاز اور نجد کے بعض دیہاتوں میں ایسے کنویں موجود ہیں جن کی گہرائی اور پتھریلی ساخت انسانی محنت کے معیار سے بالا نظر آتی ہے۔ مقامی لوگ انہیں آج بھی جنات کی کارستانی قرار دیتے ہیں اور یہ روایات نبیوں کے ادوار سے جوڑی جاتی ہیں۔"

اسی طرح ڈاکٹر صالح المانع اپنے مقالے 
Arabian Wells and Mythical Narratives 
 میں بیان کرتے ہیں
"مکہ اور طائف کے نواحی دیہاتوں میں کچھ کنویں 'آبار الجن' یعنی جنات کے کنویں کہلاتے ہیں۔ یہ نام محض قصہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی یادداشت ہے جو ان تعمیرات کو ماورائی قوتوں سے جوڑتی ہے۔"

برطانوی مستشرق رچرڈ برٹن نے اپنی کتاب 
Personal Narrative of a Pilgrimage to Al-Madinah and Meccah (1855)
 میں حجاز کے انہی کنوؤں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا
"دیہات کے کچھ قدیم کنویں ایسے ہیں جنہیں مقامی لوگ جنات کے کام سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کی گہرائی اور مضبوطی کو دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ صرف انسانی قوت سے ممکن ہوئے ہوں۔"

امریکی ماہر بشریات ڈاکٹر کیتھ ہاورڈ اپنی تحقیق 
Myth and Reality in Arabian Oral Traditions (1999) 
میں لکھتے ہیں
"جنات سے منسوب کنویں محض دیومالائی کہانیاں نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ عرب معاشرے نے غیر معمولی انجینئرنگ کارناموں کو ماورائی مخلوقات کے ساتھ منسوب کر کے اپنی یادداشت میں محفوظ رکھا۔"

روایات میں بیان ہے کہ جب جنات کے سردار نے ایک بڑا کنواں کھود کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے کہا:
"اے اللہ کے برگزیدہ! ہم نے آپ کے حکم پر یہ کنواں کھودا تاکہ انسانیت پیاس سے محفوظ ہو۔"
حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا:
"یہ اللہ کی قدرت اور اس کی مخلوق کے تعاون کا مظہر ہے۔ جب انسان اور جن، اللہ کی اطاعت میں یکجا ہو جائیں تو زمین پر برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے۔"

حضرت یعقوب علیہ السلام کی حکومت صرف ایک زمینی اقتدار نہ تھی بلکہ کائنات کی مختلف مخلوقات کو ایک مقصدِ خیر کے تحت جوڑنے کی ایک روشن مثال تھی۔ سعودی اور مغربی محققین کی تحقیقات بھی اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ عرب کی سرزمین پر ایسے آثار موجود ہیں جنہیں صدیوں سے جنات کی کارستانی اور انبیاء کے حکم سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔

جمعہ، 3 اکتوبر، 2025

شادی کے ساتھ جڑی ہوئی معاشی ذمہ داریاں

 اسلامی اور معاشرتی تعلیمات میں شادی کو ایک پاکیزہ رشتہ اور ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جب لڑکا یا لڑکی 18 سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ بالغ ہوتے ہیں اور نکاح کے قابل سمجھے جاتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف بالغ ہونا کافی نہیں، شادی کے ساتھ جڑی ہوئی معاشی ذمہ داریاں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ شادی کے بعد مرد پر بیوی اور اولاد کی کفالت کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو 22 سال کی عمر تک پہنچنے والے اکثر لڑکے تعلیم یا ہنر حاصل کرنے کے مراحل میں ہوتے ہیں اور مالی طور پر کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے میں فوری شادی کر دینا نہ صرف لڑکے کے لیے بلکہ لڑکی کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتا ہے۔

غریب گھرانوں کے لڑکے جو والدین اور بہن بھائیوں کی کفالت کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے شادی کی جلدی عمر مناسب نہیں ہوتی۔ ایسے لڑکوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ پہلے اپنی آمدن مستحکم کریں اور پھر شادی کریں، جو اکثر 24 سے 26 سال کی عمر میں ممکن ہو پاتا ہے۔

پاکستان میں بدلتا ہوا رویہ

پاکستانی معاشرے میں عمومی رویہ بدل رہا ہے۔ اب نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی عملی زندگی میں قدم رکھ کر ذاتی آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ شادی شدہ زندگی میں کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب جوڑا عملی سوچ رکھنے والا ہو۔ اگر مرد کمانے والا ہو لیکن عورت بالکل انحصار کرنے والی ہو تو بعض اوقات معاشی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ مرد کے ساتھ ساتھ عورت بھی آمدنی حاصل کرنے والی ہو تاکہ دونوں مل کر زندگی کی ذمہ داریوں کو آسانی سے نبھا سکیں۔

عورت کا روزگار اور اسلامی تعلیمات

اسلامی تعلیمات اور پاکستانی معاشرے کی ضرورت کے مطابق لڑکیوں کے لیے تدریس، صحت اور آئی ٹی جیسے شعبے نہ صرف موزوں ہیں بلکہ ان میں کام کرنے والی خواتین کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک خود انحصار عورت نہ صرف اپنے شوہر کا سہارا بنتی ہے بلکہ والدین اور خاندان کے لیے بھی فخر کا باعث ہوتی ہے۔

عملی حل

  1. شادی کے فیصلے میں صرف عمر نہیں بلکہ معاشی حالات کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔

  2. لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی تعلیم اور ہنر کے ذریعے خود انحصاری کی طرف لایا جائے۔

  3. شادی کے اخراجات میں سادگی کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان جوڑے بوجھ سے آزاد رہیں۔

  4. والدین اپنے بچوں کو اس سوچ کے ساتھ تیار کریں کہ دونوں مل کر ایک کامیاب اور متوازن زندگی گزار سکیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ آج کے دور میں کامیاب ازدواجی زندگی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب شادی بالغ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی خودمختاری اور عملی منصوبہ بندی کو سامنے رکھ کر کی جائے۔