جمعرات، 12 جون، 2025

ایران پر اسرائیلی حملہ




13
 جون 2025 کا دن مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب بن کر ابھرا۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے بھرپور حملوں نے نہ صرف خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی، بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

ان حملوں کا کوڈ نام 
"Rising Lion"
 رکھا گیا۔ اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات، خصوصاً نطنز، کے ساتھ ساتھ عسکری اور میزائل مراکز پر فضائی حملے کیے۔ ایران کی طرف سے اس کارروائی کو "بقیہ حسرت" کا نام دیا گیا، جو اس کے شدید ردعمل کا مظہر ہے۔
اسرائیل نے صرف عمارات کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایران کی فوجی اور سائنسی قیادت کو بھی چن چن کر نشانہ بنایا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلیمی، میجر جنرل غلام علی راشد اور ممکنہ طور پر چیف آف اسٹاف محمد باقری شائد زخمی ہیں ۔ یہ وہ نام ہیں جو ایران کی عسکری حکمت عملی کا دماغ سمجھے جاتے تھے۔ خامنہ‌ای کے سینیئر مشیر علی شمخانی شدید زخمی ہو کر ہسپتال منتقل کیے گئے۔

جوہری پروگرام میں ایران کے چند بڑے دماغ بھی اس حملے کی بھینٹ چڑھ گئے۔ فریدون عباسی-داوانی جیسے معروف سائنسدان کی ہلاکت کی ریاستی میڈیا نے تصدیق کی ہے۔ شاہد بہشتی یونیورسٹی سے وابستہ محمد مهدی طهرانچی، عبدالحمید منوشہر اور احمدرضا زلفغہری جیسے پروفیسر بھی مارے گئے۔ ان کی موت ایران کے سائنسی منظرنامے میں ایک بڑا خلا چھوڑ گئی ہے۔

یہ حملے صرف فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ تہران جیسے شہری علاقوں میں بھی بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں خواتین، بچے اور عام شہری زخمی یا ہلاک ہوئے۔ زیرِ زمین جوہری مرکز نطنز میں دھماکوں نے بنیادی انفراسٹرکچر کو تہس نہس کر دیا، اور اب IAEA اس کی نگرانی کر رہی ہے۔

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ‌ای نے اعلان کیا ہے کہ ایران اس حملے کا "شدید جواب" دے گا۔ دوسری طرف امریکہ نے اسرائیلی کارروائی میں براہِ راست ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، مگر اس دعوے پر دنیا بھر میں شکوک پائے جاتے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات پہلے ہی نازک موڑ پر تھے۔ اب یہ کارروائی ان مذاکرات کو مکمل طور پر دفن کر سکتی ہے۔ اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور تمام تر فوجی یونٹس کو الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔ گویا وہ ایران کے ممکنہ جوابی حملے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیل اور ایران کی یہ سرد جنگ اب کھلے میدان میں آ چکی ہے۔ یہ صرف دو ممالک کی جنگ نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیاست اور دنیا کے ایندھن کے ذخائر پر حملہ ہے۔ جو کچھ بھی ہو، اس کے اثرات نہ صرف تہران اور تل ابیب میں بلکہ دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔

بھارتی حملہ ، پاکستانی جواب



مئی 2025، کو بھارت نے جنگ نہیں، ایک سیاسی تماشہ بنایا۔ مقصد سرحد پر کامیابی حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانا، میڈیا کی سرخیاں لینا اور اپنی عوام کو دکھانا تھا کہ وہ کچھ کر رہے ہیں۔
یہ سب ایک طے شدہ کھیل تھا — غصے اور تکبر کا مصنوعی مظاہرہ۔
بھارت کی حکمتِ عملی:
میڈیا میں سبقت حاصل کرنا
اندرونی خلفشار پر پردہ ڈالنا
پچھلی ناکامیوں کے بعد طاقت دکھانا
بھارت نے 70 سے زائد طیارے اڑا کر طاقت دکھانے کی کوشش کی۔ ڈرونز کی بڑی تعداد استعمال کی۔ لیکن یہ سب محض شور ثابت ہوا۔ کوئی بڑا ہدف حاصل نہ کیا جا سکا۔
نہ انہیں فضائی برتری ملی، نہ حیرت کا عنصر، نہ ہی واضح کامیابی۔

پاکستان نے نہ جذبات دکھائے، نہ بڑھ چڑھ کر باتیں کیں۔ ہم نے سوچ سمجھ کر، اپنے وقت پر، درست انداز میں جواب دیا۔ دشمن کی مہم کو اپنی شرائط پر سامنے لایا، تجزیہ کیا، اور خاموشی سے مؤثر حکمتِ عملی اپنائی۔

 ہماری خاموشی کمزوری نہیں تھی، بلکہ نفسیاتی برتری تھی۔ اور جب پہلی ضرب لگی، بھارت فوراً جنگ بندی کے لیے بھاگا۔

جنگ صرف میدان میں نہیں، اس بار سوشل میڈیا پر بھی لڑی گئی۔ بھارت نے جھوٹی تصاویر، فرضی کامیابیاں، اور مبالغہ آمیز دعوے پھیلائے۔
مگر دنیا نے ان کا جھوٹ پہچان لیا:
لاہور کی بندرگاہ تباہ کرنے کے دعوے مذاق بنے
"زیرو نقصان" کی باتوں پر کسی نے یقین نہ کیا
غیر ملکی ماہرین نے بھارتی بیانیہ مسترد کر دیا

اس کے برعکس پاکستان نے حقیقت پر مبنی بات کی۔ نقصان تسلیم کیا، حقائق دنیا کے سامنے رکھے، اور تمام ادارے ایک ہی مؤقف پر قائم رہے۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا نے پاکستان کی بات کو سنجیدگی سے لیا۔

ہم نے ثابت کیا 
دفاع صرف ہتھیار سے نہیں، سچائی اور حکمت سے ہوتا ہے
بھارت نے ہمیں کمزور سمجھا، مگر ہمارا صبر، حکمت اور سچائی غالب آئی۔
انہوں نے شور کیا، ہم نے جواب دیا۔
انہوں نے دکھاوا کیا، ہم نے عمل کیا۔
انہوں نے جنگ چھیڑی، ہم نے اسے ختم کیا — اپنی شرائط پر۔

تین دروازے






 تین دروازے

رومی فرمایا کرتے تھے کہ گفتگو سے پہلے اپنے الفاظ کو تین دروازوں سے گزارو۔
پہلا دروازہ سچائی کا ہے — اپنے دل سے پوچھو: کیا جو کچھ میں کہنے جا رہا ہوں وہ سچ ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہو، تب بھی زبان کو مت کھولو، بلکہ دوسرا دروازہ تلاش کرو۔

دوسرا دروازہ اہمیت کا ہے — خود سے سوال کرو: کیا یہ بات کہنا ضروری ہے؟
اگر یہ بات نہایت اہم اور مقصدی ہے، تب بھی ٹھہر جاؤ، اور تیسرے دروازے کی طرف قدم بڑھاؤ۔

تیسرا دروازہ نرمی اور مہربانی کا ہے — پھر خود سے پوچھو: کیا میرے الفاظ نرم ہیں؟ کیا میرا لہجہ مہربان ہے؟
اگر ان میں نرمی نہیں، تو خاموشی بہتر ہے — خواہ تمہاری بات سچ ہو، خواہ وہ بات جتنی بھی ضروری کیوں نہ ہو۔

کہا جاتا ہے کہ مولانا رومی کی زندگی میں یہ تینوں دروازے حضرت شمس تبریز نے کھولے تھے۔
اسی لیے، شمس سے ملاقات کے بعد رومی کی زبان سے کوئی ایسا جملہ نہ نکلا جو سچ نہ ہو، جو غیر ضروری ہو، یا جس میں نرمی کی کمی ہو۔

تبھی تو وہ مولوی روم سے مولانا روم بنے۔

روس، بھارت اور پاکستان کے تناظر میں

 

عنوان: بدلتے عالمی تعلقات: روس، بھارت اور پاکستان کے تناظر میں

تحریر: D A Janjua

ایک وقت تھا جب روس اور بھارت کے تعلقات کو "آہنی دوستی" کا نام دیا جاتا تھا۔ سرد جنگ کے دوران، بھارت نے روسی اسلحہ اور دفاعی ٹیکنالوجی پر انحصار کیا، اور روس نے ہر عالمی فورم پر بھارت کا ساتھ دیا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ تعلقات محض رسمی رہ گئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بھارت نے روسی دفاعی سازوسامان کو ترک کر کے فرانس سے 26 رافیل جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، جس کی مالیت 7.4 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت نے روسی میزائل سسٹمز کے بجائے امریکی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اب روس کا وہ پرانا دوست نہیں رہا۔

دوسری جانب، روس نے بھی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس حملے کی مذمت کی اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

جعفر ایکسپریس حملہ، جو مارچ 2025 میں بلوچستان میں پیش آیا، ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ تھا۔ اس حملے میں 64 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 18 سیکیورٹی اہلکار اور 33 حملہ آور شامل تھے۔ پاکستان نے اس حملے کے پیچھے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو ذمہ دار ٹھہرایا، اور تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ حملہ آور افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز اور بھارت میں موجود ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں تھے۔

پاکستانی حکام نے اقوام متحدہ میں بھی اس معاملے کو اٹھایا اور بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ بھارت نے ان الزامات کی تردید کی، لیکن پاکستان کے پاس موجود شواہد اس کے دعووں کی تائید کرتے ہیں۔

یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روس اور بھارت کے درمیان پرانے تعلقات میں دراڑ آ چکی ہے، اور روس اب خطے میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دے رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔

آہ ۔۔۔ سائیں لیاقت




اسلام آباد کے پمز اسپتال کے مردہ خانے میں پڑی ایک لاش، آج مری سے لے کر مظفرآباد تک ایک غیر معمولی تنازعے کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ یہ لاش ہے سائیں لیاقت نامی ایک مجذوب کی، جو برسوں تک مظفرآباد کی سڑکوں پر "پتیلا باندھ کر" گھومتا رہا، کبھی خاموش، کبھی کچھ بڑبڑاتے ہوئے۔ وہ زندہ تھا تو شاید کسی کے لیے کچھ معنی نہ رکھتا ہو، مگر آج وہ مر چکا ہے تو دو برادریاں اس کے جنازے پر قابض ہونے کو تیار بیٹھی ہیں۔

مری کی عباسی برادری دعویٰ کرتی ہے کہ سائیں لیاقت ان کا گمشدہ فرد ہے، جو 30 سال پہلے گھر سے نکلا تھا۔ دوسری جانب، مظفرآباد کے کچھ لوگ سائیں کو اپنا "فقیر" مانتے ہیں، اس کے چچا اور بھتیجے بن کر پمز پہنچتے ہیں، اور یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ سائیں کے لیے وہ پہلے ہی مزار کے مقام کا تعین کر چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایک مجذوب فقیر کی میت پر ایسا ہنگامہ کیوں؟ کیا یہ جھگڑا خونی رشتے کا ہے؟ نہیں۔ کیا یہ عقیدت کی جنگ ہے؟ شاید۔ لیکن اصل وجہ ایک ہی ہے: دولت۔

سائیں لیاقت کی لاش اب "روحانی برانڈ" بن چکی ہے، ایک ایسا برانڈ جو آنے والے دنوں میں مزار، چندہ، دکانوں کے کرائے، نذریں، اور مذہبی رسومات کی شکل میں لاکھوں روپے کما سکتا ہے۔ دونوں فریقین یہ بخوبی جانتے ہیں، اسی لیے سائیں کا جنازہ اب روحانیت سے زیادہ تجارتی کشمکش کا شکار ہے۔

پاکستان میں درباروں اور مزاروں سے جڑی معیشت کا حجم کروڑوں میں ہے۔ صرف چند مثالیں لیں:
داتا دربار لاہور کی سالانہ آمدنی تقریباً پانچ سو کروڑ روپے تک پہنچتی ہے۔
سیہون شریف کا مزار، لعل شہباز قلندر، ہر ماہ کروڑوں روپے کی نذریں سمیٹتا ہے۔
کراچی کا عبداللہ شاہ غازی مزار، پاکپتن کے بابا فرید، اور اسلام آباد کا بری امام — سبھی مزار سالانہ کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔
یہ دربار عقیدت کا مرکز ضرور ہیں، لیکن ان کے اردگرد ایک باقاعدہ معاشی نظام پنپ رہا ہے۔ مجاوروں سے لے کر نذر لینے والوں تک، ہوٹل مالکان سے لے کر عقیدت مندوں کی نیتوں پر کمائی کرنے والوں تک، سب اس نظام کا حصہ ہیں۔

سائیں لیاقت کا متوقع مزار بھی اسی ماڈل کے تحت کام کرے گا۔ نذریں، لنگر، زمینوں کی خرید و فروخت، دوکانوں کے کرائے، مذہبی تقریبات — سب کچھ ممکنہ ذرائع آمدن ہیں۔ یہ وہی "سونے کی کان" ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے اب دونوں برادریاں میدان میں ہیں۔

لیکن شاید ہم نے یہ بھلا دیا ہے کہ سائیں لیاقت نے اپنی زندگی درویشی، بےنیازی اور خاموشی میں گزاری۔ جس نے دنیا کی چمک دمک کو لات مار کر سڑک کو بستر بنایا، کیا اس کے بعد ہم اس کی قبر سے نوٹ برآمد کرنا چاہتے ہیں؟ کیا روحانیت کا مطلب یہی رہ گیا ہے کہ کسی فقیر کی قبر کو دکان بنا دیا جائے؟

سوال صرف سائیں لیاقت کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں عقیدت، احترام اور روحانیت کے نام پر ہونے والی تمام سرگرمیاں واقعی مقدس ہیں؟ یا یہ صرف ایک نیا کاروباری ماڈل ہے، جسے عوام کی سادہ دلی اور روحانی وابستگی کے کندھوں پر سوار کر کے چلا جا رہا ہے؟

سائیں لیاقت کی لاش آج کسی قبر کا انتظار نہیں کر رہی، وہ ہمیں ایک آئینہ دکھا رہی ہے۔ اور اس آئینے میں جو عکس نظر آ رہا ہے، وہ روحانیت نہیں، بلکہ روحانیت فروشی ہے۔