اتوار، 8 جون، 2025

ریاستوں مین بکھرتا بھارت



 پاکستان سے حالیہ جنگی محاذ پر شکست نے نہ صرف عالمی منظرنامے پر بھارت کی گرفت کو ڈھیلا کیا، بلکہ اس کے اندرونی ڈھانچے کو بھی لرزا کر رکھ دیا ہے۔
سب سے پہلے منی پور نے آواز اٹھائی — اور اب وہ آواز بھارت کے مشرق سے مغرب تک گونجنے لگی ہے۔
منی پور، جسے 1949 میں بھارت میں ضم کیا گیا، برسوں سے اندرونی خلفشار اور نسلی تنازعات کا شکار رہا ہے۔ 2023 میں شروع ہونے والے  فسادات، نہ صرف خون ریزی کا باعث بنے بلکہ وفاقی حکومت کی ناکامی کو بھی بے نقاب کر گئے۔
علیحدگی کی پہلی کھلی صدا کوکی برادری کی طرف سے آئی۔ انہوں نے "الگ انتظامیہ" کا مطالبہ کیا اور یہ پیغام دیا کہ اب مشترکہ ریاست کا تصور ان کے لیے ناقابلِ قبول ہو چکا ہے۔
پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت داخلی طور پر کمزور پڑ چکی ہے۔ سیکیورٹی ادارے داخلی احتجاجوں سے پریشان، اور عوام مہنگائی و بے روزگاری کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔ ایسے میں پنجاب، آسام، ناگالینڈ اور یہاں تک کہ تمل ناڈو میں بھی علاقائی قوم پرستی کی ہوا تیز ہو گئی ہے۔
تجزیہ کار انورادھا اوینام 
(The Diplomat) 
لکھتی ہیں:
"منی پور کی شورش دراصل دہلی کے ساتھ اعتماد کے ٹوٹنے کا نتیجہ ہے۔ جب حکومت عوام کی فریاد نہ سنے، تو راستہ صرف دو ہی رہ جاتے ہیں: خاموشی یا بغاوت۔"
پنجاب میں خالصتان تحریک کی بازگشت دوبارہ سنائی دینے لگی ہے۔ سوشل میڈیا پر خالصتانی پرچم، جلسے اور بیرونِ ملک کی سرگرمیاں ایک نئے دور کی پیش گوئی کر رہی ہیں۔ ریاستی حکومتیں ان آوازوں کو دبانے لی کوشش تو کر رہی ہیں، مگر سکھوں  کے ذخم گہرے ہیں اور اس جنگ نے ان کے زخم مزید گہرے کر دیے ہیں ۔ ان پر اب مرکزی حکومت نے اعتبار کرنا بھی چھوڑ دیا ہے ۔  
شمال مشرقی بھارت کی چھوٹی ریاستیں عرصہ دراز سے علیحدہ شناخت اور خودمختاری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جنگلوں میں سرگرم شورش پسند گروپوں نے اب کھلے عام بھارت سے آزادی کی بات شروع کر دی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے مطابق:
"شمال مشرق کے 70 سے زائد گروہ اب بھی فعال ہیں اور مرکز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ منی پور ان کے لیے ایک مثال بنتا جا رہا ہے۔"
ہندوستان ایک کثیرالثقافتی ملک ہے۔ اگر اس کی سیاست "ایک قوم، ایک مذہب، ایک زبان" کے نظریے پر چلتی رہی، تو منی پور صرف آغاز ہوگا۔ ہر وہ خطہ جہاں اپنی شناخت موجود ہے، وہ آزاد ہونا چاہے گا۔
اس وقت منی پور اپنی آزادی کی منزل کے بیت قریب ہے ۔ اگر منی پور بھارت سے آزادی حاصل کرنے میں 
کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر
پنجاب 
آسام اوربنگال کی علیحدگی کو روکنا ممکن نہیں رہے گا/

گورا قبرستان



Commonwealth war graves Commision

نے اپنی ویب سائت پر 4 نومبر 2022 کو ایک تصویر شائع کی تھی جس میں ایک برطانوی سپاہی کی باقیات کو ، اس کی موت کے 105 سال برطانیہ کے ایک قبرستان میں دفناتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ زندہ قومیں اپنے مرنے والے جانثاروں کو بھولتی ہیں نہ ان کی قبروں کو ویران ہونے دیتی ہیں ۔اس کا ثبوت راولپنڈی کے سی ایم ایچ ہسپتال کے ایمرجنسی گیٹ کے سامنے ، ہارلے سٹریٹ کے علاقے میں گورا قبرستان ہے ۔جس میں برطانوی بری فوج اور فضائیہ کے اس علاقے مین جنگ کا ایندھن بننے والے فوجی دفن ہیں ۔

دنیا بھر مین عسکری خدمات دیتے ہوئے جان بحق ہونے والوں کی قبروں اور قبرستانوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک ادارہ بنا ہوا ہے جس کا نام کامن ویلتھ گریوز کمیشن ہے ۔ ہارلے سٹریٹ کے علاقے میں موجود گورا قبرستان اسی ادارے کی زیر نگرانی ہے ۔ اس قبرستان میں جنگ ؑ عظیم اول کے 257 اور جنگ ؑعظیم دوئم کے 101 لوگ کو قبریں ہیں حالانکہ قبروں کی مجموعی تعداد 357

ہے اس کی وجہ ہے کہ ایک شخص جس کا نام ارتھر کنراڈ گرٹس تھا کی قبر کی نشاندہی نہیں ہو سکی ہے ۔




رینڈ کارپوریشن کا تعارف




رینڈ کارپوریشن کا تعارف
رینڈ کارپوریشن
(RAND Corporation)
ایک امریکی غیر منافع بخش تھنک ٹینک
(Think Tank)
ہے، جو دنیا بھر میں پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں مدد دینے کے لیے تحقیق اور تجزیہ فراہم کرتا ہے۔ اس کا قیام 1948 میں ہوا، اور اس کا مرکزی دفتر سانتا مونیکا، کیلیفورنیا میں واقع ہے۔
"RAND"
کا مطلب ہے:
Research ANd Development
(تحقیق اور ترقی)
ابتدائی طور پر یہ ادارہ امریکی فضائیہ کے لیے عسکری تحقیق کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس نے اپنی تحقیق کے دائرہ کار کو دیگر شعبوں میں بھی وسیع کر لیا۔
رینڈ کارپوریشن کے مقاصد
رینڈ کارپوریشن کا مقصد دنیا بھر میں بہتر اور مؤثر پالیسی سازی کو فروغ دینا ہے۔ اس کا بنیادی نعرہ ہے:
"Objective Analysis, Effective Solutions"
یعنی "غیر جانب دار تجزیہ اور مؤثر حل"
اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
عسکری حکمت عملی اور دفاعی تحقیق
امریکی افواج اور اتحادیوں کے لیے دفاعی منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی میں مدد فراہم کرنا۔
عوامی پالیسی سازی میں رہنمائی
صحت، تعلیم، معیشت، انفراسٹرکچر، اور ماحولیات جیسے شعبوں میں پالیسی مشورے دینا۔
سائبر سیکیورٹی اور دہشت گردی پر تحقیق
دہشت گردی کی وجوہات، عالمی سلامتی، اور سائبر خطرات پر تجزیے کرنا۔
سائنسی اور سماجی ترقی میں کردار
سائنسی تحقیق کے ذریعے انسانی فلاح و بہبود کو فروغ دینا۔
اس کے پیچھے کون لوگ ہیں؟
. امریکی حکومت
رینڈ کا آغاز امریکی حکومت (بالخصوص امریکی فضائیہ) کی مالی مدد سے ہوا۔ آج بھی امریکی حکومت اس کا بڑا مالیاتی سرپرست ہے، خاص طور پر پینٹاگون، CIA، اور دیگر دفاعی ادارے۔
نجی ادارے اور فاؤنڈیشنز
فورڈ فاؤنڈیشن (Ford Foundation)
کارنیگی کارپوریشن (Carnegie Corporation)
گیٹس فاؤنڈیشن (Bill & Melinda Gates Foundation)
یہ تنظیمیں رینڈ کی مختلف تحقیقی پراجیکٹس کو مالی معاونت فراہم کرتی ہیں۔
اکیڈمک اور ماہرین
رینڈ میں کام کرنے والے ماہرین کا تعلق مختلف شعبوں جیسے کہ:
سابقہ فوجی جنرل
پالیسی ماہرین
سائنسدان
ماہرینِ معیشت
ڈاکٹرز
سماجی سائنسدان
وغیرہ سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ غیر جانب دار تجزیے کے دعوے سے تحقیقی کام کرتے ہیں۔
تنقید اور شفافیت کے سوالات
اگرچہ رینڈ کارپوریشن خود کو غیر سیاسی اور غیر جانب دار ادارہ قرار دیتی ہے، لیکن بعض ناقدین کے مطابق:
یہ ادارہ امریکی مفادات کی ترجمانی کرتا ہے۔
اس کی ریسرچ اکثر امریکی خارجہ پالیسی کے جواز کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
بہت سے تحقیقی پراجیکٹس صرف مغربی نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔
دلچسپ حقیقت
رینڈ کی تحقیقات نے "ڈیٹرینس تھیوری"
(deterrence theory)
اور "گیم تھیوری" کو فروغ دیا، جو سرد جنگ کے دوران امریکہ کی ایٹمی پالیسی کا حصہ بنے۔

پاکستان میں رینڈ کارپوریشن کے کام کرنے والے ادارے
پاکستان میں رینڈ کارپوریشن کے ساتھ مختلف مقامی ادارے کام کرتے ہیں تاکہ ان کی تحقیقی پالیسیوں اور منصوبوں کو عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔ ان اداروں میں شامل ہیں:
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (PILDAT)
آئی آر ایس (Institute of Regional Studies)
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز (PIPS)
قومی تحقیقاتی ادارے (NIP)
یہ ادارے رینڈ کی تحقیقی رپورٹس کی بنیاد پر پاکستانی سیاست، معیشت، اور سیکیورٹی کے حوالے سے تجزیہ اور پالیسی مشورے فراہم کرتے ہیں۔

رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ
"Civil Democratic Islam: Partners, Resources, and Strategies"
(2003)
میں اسلامی دنیا کے مختلف مکاتبِ فکر کا تجزیہ کرتے ہوئے، مغربی ممالک کو ان گروہوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جو جمہوری اقدار کے حامی ہیں۔ اس رپورٹ کی مصنفہ چیریل بینارڈ ہیں، جو ایک امریکی-آسٹریائی سماجی سائنسدان اور مصنفہ ہیں۔
رپورٹ کا خلاصہ
رپورٹ میں اسلام کے اندر مختلف گروہوں کو ان کے نظریات کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا ہے:​
قدامت پسند (Fundamentalists): یہ گروہ اسلامی قوانین کی سختی سے پابندی کرتا ہے اور جدیدیت کو مسترد کرتا ہے۔​
روایتی (Traditionalists): یہ گروہ قدامت پسندوں اور جدیدیت پسندوں کے درمیان معتدل موقف رکھتا ہے۔​
جدیدیت پسند (Modernists): یہ گروہ اسلام کی جدید تشریحات کا حامی ہے اور جدید علوم اور جمہوری اقدار کو قبول کرتا ہے۔​
سیکولر (Secularists): یہ گروہ مذہب کو سیاست سے جدا رکھنے کا حامی ہے اور ریاست کے سیکولر ہونے کی وکالت کرتا ہے۔​
رپورٹ میں مغربی پالیسی سازوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جدیدیت پسندوں اور سیکولر گروہوں کی حمایت کریں تاکہ اسلامی دنیا میں جمہوری اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔ ​

صیہونت اور ہندوتو




دنیا کے نقشے پر دو خطے ایسے ہیں جہاں ریاستی بیانیہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، مگر متاثرہ عوام اسے اپنی بقا کی جنگ کہتے ہیں۔ ایک طرف ہے مقبوضہ کشمیر، دوسری جانب غزہ کا محصور علاقہ۔ دونوں جگہوں پر مظلوموں کے خلاف طاقت کا استعمال ہو رہا ہے، اور ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کارروائیوں میں بھارت اور اسرائیل کے کردار میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے۔

1992 میں بھارت اور اسرائیل نے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بھارت جو کہ ایک عرصے تک فلسطینیوں کا حامی رہا، بدلتے عالمی حالات میں اسرائیل کی طرف جھکنے لگا۔ آج دونوں ممالک نہ صرف دفاعی بلکہ تکنیکی، زرعی اور انٹیلیجنس معاملات میں قریبی شراکت دار بن چکے ہیں۔

کارگل جنگ (1999) ہو یا حالیہ سرحدی کشیدگیاں، اسرائیلی ہتھیار، ڈرونز اور نگرانی کے نظام بھارت کی افواج کے لیے ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ بھارتی فورسز کو اسرائیلی ماہرین سے انسداد دہشت گردی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ بارڈر مینجمنٹ، سیٹلائٹ سسٹمز، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کا سامان، سب اسرائیل سے حاصل کیا جاتا ہے۔

دونوں ممالک اپنے آپ کو اسلامی شدت پسندی کا نشانہ قرار دیتے ہیں اور "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے بیانیے کو عالمی سطح پر فروغ دیتے ہیں۔ بھارت کشمیر میں پاکستان پر الزام لگاتا ہے، جبکہ اسرائیل حماس کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ دونوں جگہ ریاستی بیانیہ ایک جیسا ہے: "ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں۔"

غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں، جن میں اسکول، اسپتال اور رہائشی عمارتیں نشانہ بنتی ہیں، عالمی برادری میں بارہا زیرِ بحث آ چکی ہیں۔ اسی طرح کشمیر میں بھی گھروں کی تلاشی، انٹرنیٹ کی بندش، اور عام شہریوں کی ہلاکتیں معمول بن چکی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک پر مغرب خاموشی اختیار کرتا ہے، دوسرے پر کبھی کبھی بیانات جاری ہو جاتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت اور اسرائیل جدید ٹیکنالوجی کے پردے میں انسانیت سوز مظالم چھپاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف اسرائیل خود کو واحد جمہوری ملک کہتا ہے، وہیں بھارت سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار ہے۔ مگر دونوں جگہ جمہوریت صرف اکثریت کے لیے ہے، اقلیت کے لیے کریک ڈاؤن۔

نریندر مودی کے دور میں بھارت نے اسرائیل سے تعلقات مزید مضبوط کیے، حتیٰ کہ فلسطین کے حق میں بیان دینا بھی کم کر دیا۔ دوسری جانب اسرائیل نے کبھی کشمیر پر تنقید نہیں کی، بلکہ بھارت کے اقدامات کو "دہشت گردی کے خلاف دفاعی ردِعمل" قرار دیا۔

یہ سوال اب زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کیا بھارت اور اسرائیل کا یہ اشتراک صرف دفاعی اور تکنیکی ہے؟ یا یہ ایک نیا عالمی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہے جس میں ریاستی طاقت کو ہر صورت میں جائز قرار دیا جائے؟

غزہ اور کشمیر کے مظلوموں کے لیے یہ تعاون "دہشت گردی کے خلاف جنگ" نہیں بلکہ ایک مشترکہ جبر کی علامت بن چکا ہے۔


دودھ سے گولی تک




کبھی گائے دودھ دیتی تھی، آج گولیاں دیتی ہے۔ کبھی گائے کا تقدس ماں کے رتبے تک محدود تھا، آج وہ مسلمانوں پر موت کا پروانہ بن چکی ہے — کہیں دادری میں اخلاق مارا جاتا ہے، کہیں فلسطین میں مسجد اقصیٰ کے گرد سرخ گائیں گردش کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے: یہ تقدس کب زہر بن گیا؟ اور کیسے ہنود و یہود نے اس "مقدس جانور" کو مسلمانوں کے خلاف اتحاد کی بنیاد بنا دیا؟
بھارت میں گائے کو "گاؤ ماتا" کہا جاتا ہے۔ رگ وید سے لے کر منوسمرتی تک ہندو مت کی کتب گائے کو دھرتی کی ماں، رزق کی دیوی، اور امن کی علامت قرار دیتی ہیں۔ مگر جب بی جے پی نے اقتدار سنبھالا تو یہی گائے امن کی جگہ نفرت کی علامت بن گئی۔ اخلاق احمد ہو، پہلو خان ہو، یا جنید — سب کے قاتل یہی گائے کے رکھوالے تھے۔
کشمیر میں تو حد ہی ہو گئی: عید پر قربانی کرنے کی کوشش پر گھروں پر چھاپے، مسجدوں کے سامنے گاؤ رکشکوں کی پہرہ داری، اور گوشت کھانے پر دہشت گردی کے الزامات۔
اب آ جائیے فلسطین کی طرف۔ وہاں بھی ایک گائے کا ذکر ہو رہا ہے — سرخ گائے، یعنی "Red Heifer"۔ یہ وہی گائے ہے جسے یہودی عقیدے میں پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کتابِ گنتی کے مطابق اس گائے کی راکھ سے طہارت حاصل کی جاتی تھی۔
مگر بات یہیں نہیں رکی۔ صہیونی گروہوں نے اعلان کیا کہ مسجد اقصیٰ کے مقام پر تیسرا ہیکل بنانے سے پہلے سرخ گائے کی قربانی ضروری ہے۔ چنانچہ امریکہ سے پانچ سرخ گائیں منگوائی گئیں، اور انہیں اسرائیل لا کر خاص مقام پر رکھا گیا۔
یہ ایک مذہبی حربہ نہیں، ایک سیاسی تلوار ہے — جس کا ہدف صرف مسجد اقصیٰ نہیں، بلکہ پورا فلسطین ہے۔
 افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل ان معاملات میں ایک دوسرے کے اتنے قریب آ چکے ہیں کہ ان کا اتحاد صرف دفاعی نہیں، نظریاتی ہو چکا ہے۔ دونوں ریاستوں کا ہدف مسلم اکثریتی علاقے — کشمیر اور فلسطین — اور دونوں نے اپنے اپنے مقدس بیانیے — گائے اور ہیکل — کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ہتھیار میں بدل دیا ہے۔
گزشتہ برس ایک کشمیری نوجوان نے کہا:
"بھارت کہتا ہے کہ یہ گائے مقدس ہے، ہم کہتے ہیں کہ ہماری جان بھی مقدس ہے، مگر گائے بچ جاتی ہے اور ہم مر جاتے ہیں۔"
یہی آواز فلسطین کے ایک بچے کی زبانی بھی سنی جا سکتی ہے:
"یہ سرخ گائے جب بھی شہر میں آتی ہے، ہمیں لگتا ہے ہماری مسجد کی چھت ہٹائی جائے گی۔"
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہندو قوم پرستی اور صہیونی تحریک دونوں نے اپنے مذہب کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا؟ یا یہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے؟ اگر ہم تاریخ پڑھیں، سیاست سمجھیں، اور آج کے عالمی اتحاد و معاہدات کا تجزیہ کریں، تو ہمیں یہ واضح نظر آتا ہے کہ گائے اب صرف جانور نہیں — یہ ایک نظریاتی بارود ہے جس کے ایک سرے پر بھارت، دوسرے پر اسرائیل، اور درمیان میں صرف مسلمان۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم "مقدس" اور "مسلح" کے فرق کو سمجھیں۔ گائے کو مذہب کا تقدس تو مل سکتا ہے، مگکسی انسان کا خون بہانے کا جواز نہیں۔۔۔ 
کشمیر میں نہ فلسطین میں