ہفتہ، 26 جنوری، 2019
زندگی کے لیے سات مفت مشورے

یاسر پیر زادہ
ہر نیا دن ایک نئی مصیبت کا آغاز ہوتا ہے یا رحمت کا، اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے پاس کتنی دولت ہے، مگر کیا محض دولت کا ہونا کافی ہے؟ جی نہیں، میں آپ کو اس قسم کی باتیں سنا کر بور نہیں کروں گا کہ زندگی میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں بلکہ اصل چیز انسان کا اخلاق ہے، پیسے سے خوشی نہیں خریدی جا سکتی، غریب آدمی رات سکون کی نیند سوتا ہے، امیر کو اپنی دولت کی فکر رہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ دراصل یہ افیون کی گولیاں دولت مند افراد ان لوگوں کو دیتے ہیں جو ان کی دولت سے حسد کرتے ہیں، اگر ایسی بات نہ ہوتی تو دینا کے تمام امیر لوگ سکون کی نیند کے عوض اپنی دولت کسی مطمئن غریب سے تبدیل کروا لیتے۔ کچھ باتیں البتہ امیروں، غریبوں اور سفید پوشوں کی زندگی میں مشترک ہوتی ہیں، ہر کسی کا ان سے پالا پڑتا ہے، ان باتوں کا کوئی لگا بندھا اصول نہیں، کوئی گھڑا گھڑایا حل نہیں، وقت اور تجربے کے ساتھ ہر انسان یہ باتیں سیکھتا ہے، انہیں آپ درس حیات(Life Lessons) بھی کہہ سکتے ہیں۔ کسی ہیڈ ماسٹر کی طرح آج میں نے زندگی کے یہ چنداسباق لکھے ہیں۔
پہلا سبق یہ ہے کہ صحت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، اگر آپ صحت مند ہیں تو پھر دولت بھی کمالیں گے، حاسدین سے بھی نمٹ لیں گے، زندگی کی دوڑ بھی جیت لیں گے، خوشیاں بھی سمیٹ سکیں گے، اگر صحت نہیں تو پھر یہ سب بیکار ہے، پھر عہدہ، شہرت، امارت کسی کام کے نہیں، ایک بیمار شخص کو صحت مند دنیا زہر لگتی ہے، اسے لگتا ہے جیسے ہنستے کھیلتے لوگ اس کا مذاق اڑا رہے ہوں۔ بے شک بیماری پر کسی کا زور نہیں، ہم میں سے کوئی بھی کسی وقت بیمار ہو سکتا ہے مگر صحت کا خیال رکھنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے، بداحتیاطیوں اور بدپرہیزیوں سے اجتناب ہمارے اختیار میں ہے، ہم اتنے بھی مجبور نہیں کہ آٹھ ڈبل روٹیوں والے سینڈوچ کو انکار نہ کرسکیں جو پیٹ میں جاکر سائیکل کی گدی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ رہی بات یہ کہ صحت کا خیال کیسے رکھا جائے تو اس کے لیے دنیا جہان کا مواد انٹرنیٹ پر دستیاب ہے، روزانہ دس گلاس پانی پینے سے لے کر بیس منٹ واک کرنے تک، فقط عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی میرا نئے سال کا عہد نامہ یہی ہے کہ روزانہ کم ازکم دس ہزار قدم کی ٹہل کی جائے گی، دیکھئے اس برس پورا ہوتا ہے یا نہیں، ابھی تک تو نہیں ہوا!
دوسرا سبق یہ ہے کہ زندگی آپ نے اکیلے گزارنی ہے، اس کی مشکلات کا تنہا سامنا کرنا ہے، اس کی آزمائشوں سے خود ہی نمٹنا ہے، آپ کے ماں باپ، بہن بھائی، اولاد، دوست احباب ضرور آپ کا ساتھ دیں گے مگر جو تکلیف، پریشانی یا تناؤ آپ کے حصے میں آئے گا وہ آپ ہی کو سہنا پڑے گا، یہ بات جتنی جلد سمجھ آجائے اتنا ہی اچھا ہے، اگر آپ کے دوست رشتہ دار آپ سے مخلص ہیں تو آپ ایک خوش قسمت انسان ہیں، یہ آپ کی پریشانی میں کمی کا سبب بنیں گے، ایسے لوگو ں کی فہرست بنائیں، اگر تعداد پانچ سے زیادہ نکلے تو خود کو دنیا کا سب سے دولت مند شخص سمجھیں۔ دوسرے درجے میں ان لوگوں کو رکھیں جو یوں تو آپ کے خیر خواہ ہیں مگر برے وقت میں سوائے اظہار افسوس کے کچھ نہیں کر سکتے، فی زمانہ یہ بھی غنیمت ہے کہ ہر کسی کی زندگی بہت مصروف اور کٹھن ہو چکی ہے، تیسرے درجے میں وہ لوگ آتے ہیں جو آپ سے منافقانہ تعلق رکھتے ہیں، ان سے محتاط رہیں۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ لوگوں کو اسی پیمانے پر پرکھیں جس پیمانے پر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو پرکھیں، اگر آپ کا کوئی دوست بنیادی طور پر ایک اچھا انسان ہے، آپ کا مخلص اور خیر خواہ ہے تو یہ خوبی بہت ہے، آپ کی یہ توقع نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے کپڑوں کا ذوق بھی اعلیٰ ہو، وہ ڈنر کے ادب آداب سے کسی نجیب زادے کی طرح واقف ہو اور اس کا علم و مطالعہ بھی وسیع ہو۔ ہر شخص میں ہر خوبی نہیں ہوتی بالکل اسی طر ح جس طرح ہم میں ہر خوبی نہیں۔ دنیا میں اچھے انسانوں کا قحط ہے، سو اگر آپ کو کسی اچھے انسان کی صحبت میسر ہے تو اس کا فائدہ اٹھائیں، چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے تعلق خراب نہ کریں۔ بعض اوقات آپ ہر ہاتھ ملانے والے کو اپنا اتحادی سمجھ لیتے ہیں اور ہر اجنبی کو ناقابل اعتماد، ضروری نہیں کہ ایسا ہو، لوگوں کو ان کے بلند بانگ دعوؤں کی روشنی میں نہیں بلکہ ان کے اعمال کی روشنی میں جانچیں، زندگی ہمیں اکثر حیران کرتی ہے جب ہمیں وہاں سے کمک ملتی ہے جہاں سے ہمیں ایسی کوئی امید ہی نہیں ہوتی اور وہاں سے گزند پہنچتی ہے جہاں سے نقصان کا ہم نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے،جس طرح دو لوگ ایک ہی قسم کے ماحول میں یکسر مختلف انداز میں اپنا ردعمل دیتے ہیں اسی طرح ہر شخص کا مختلف معاملات پر مختلف ردعمل ہوتا ہے، اگر ہم کسی مسئلے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں تو ضروری نہیں باقی لوگ بھی آپ ہی کے ’’لینز‘‘ سے اس مسئلے کو دیکھیں، لہٰذا لوگوں سے امید نہ رکھیں کہ وہ محض اس وجہ سے آپ سے اتفاق کر لیں گے کہ آپ درست ہیں اور وہ غلط۔ اسے چوتھا سبق سمجھیں۔ انسانوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے، کچھ لوگ بلاوجہ جھوٹ بولتے ہیں، کچھ محفل میں اہمیت حاصل کرنے کے لیے،کچھ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے، کچھ شیخی بگھارنے کے لیے، کچھ اپنے فائدے کے لیے، کچھ دوسروں کے نقصان اور بدنامی کے لیے اور کچھ محض عادتاً جھوٹ بولتے ہیں۔ لوگوں کی باتوں پر اعتبار کرنے سے پہلے ان کے دعوے کو پرکھ لیں، جن باتوں کے جھوٹ سچ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہیں بے شک نظر انداز کر دیں مگر جن باتوں کی روشنی میں آپ نے اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ کرنا ہے انہیں محض اس وجہ سے درست نہ مان لیں کہ آپ کے کسی جاننے والے نے اس بابت کوئی بیان جاری کر دیا ہے۔ کسی کے جھوٹ کی وجہ سے اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ غلط کر لینے کا پچھتاوا بہت برا ہوتا ہے، اس پچھتاوے سے بچنا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے،یہ پانچواں سبق تھا۔
زندگی میں کوئی کلین چٹ نہیں ہوتی، کوئی گارنٹی نہیں ہوتی اور کوئی ایسی ضمانت نہیں ہوتی جس کے ملنے کے بعد آپ سمجھیں کہ اب کوئی پریشانی یا تکلیف نہیں آئے گی، اب میں نے اتنی دولت کما لی ہے کہ اب کوئی ٹینشن نہیں، شاید اکا دکا لوگوں کے بارے میں یہ بات درست ہو مگر اکثریت کے بارے میں زندگی سنگدلی سے ہی کام لیتی ہے، لہٰذا یہ سوچ دماغ سے نکال دیں کہ کوئی ایسا نسخہ آپ کو مل جائے گا جس سے آپ کی زندگی کی تمام مشکلات حل ہوجائیں گی، جو انسان ہمیں آسودہ اور مطمئن نظر آتے ہیں ان کی زندگی کی تمام مشکلات حل نہیں ہوئی ہوتیں بلکہ ان میں مشکلات سے نمٹنے کی ہمت اور حوصلہ ہوتا ہے۔ سو چھٹا سبق یہی ہے کہ زندگی میں کوئی کلین چِٹ تلاش کرنے کی بجائے خود میں وہ صلاحیت پیدا کی جائے جو زندگی کی پریشانیوں سے نمٹنے میں کام آئے۔
زندگی کا ساتواں سبق پھر کبھی سہی!
دکھ اپنے قتل کا نہیں

عباس مہکری
2014ء میں اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام کیا تھا۔ جولائی کی ابتدا سے اگست کے آخر تک تقریباً 50 دنوں کے عرصے پر محیط اسرائیل کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں۔ غزہ میں اسرائیل نے فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ زمینی حملے بھی کیے۔ اس قتل عام کی پوری دنیا نے مذمت کی تھی اور اس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس دوران جو دردناک واقعات رونما ہوئے، انہیں شاید دنیا بھول چکی ہوگی لیکن اس وقت جن بچوں کے سامنے یہ واقعات رونما ہوئے، وہ آج تک نہیں بھول سکے۔ ان واقعات کا بچوں کے ذہنوں پر جو اثر ہوا، وہ آج کے فلسطین کے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ دہشت زدہ اور شدید نفسیاتی مسائل کا شکار وہی بچے جوان ہورہے ہیں۔ جن والدین نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا، وہ سینہ کوبی کرکے ماتم کرکے یا غم ہلکا کرنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کرکے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو سنبھال چکے ہیں لیکن جن بچوں نے اپنے والدین، بہن بھائیوں یا قریبی عزیز واقارب کو اپنے سامنے قتل ہوتے دیکھا، وہ نہیں سنبھل سکے ہیں۔ ان کی کربناک نفسیاتی کیفیت کو دیکھ کر ان کے اپنے یہ کہتے ہیں کہ کاش یہ بھی اس قتل عام میں مارے جاتے۔ ان 50 دنوں میں 2200 سے زائد فلسطینی قتل ہوئے، جن میں سے 500 بچے بھی شامل تھے۔ 2014ء کا المیہ ختم نہیں ہوا۔ بچوں کے ذہنوں اور آنکھوں میں وہ سارے مناظر محفوظ ہیں اور اسے اپنا ورثہ سمجھ کر اس کی حفاظت کرتے ہوئے جوان ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک تخمینہ کے مطابق 3 لاکھ سے زائد بچوں کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ راتوں کو چیخیں مار کر یہ بچے اٹھ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں ’’میں نے قتل کردیا، میں نے قتل کردیا۔ تم نے کسی کو نہیں مارا۔‘‘ اسکول کی کاپیوں پر بمباری کرتے ہوائی جہازوں، زمین پر پڑی ہوئی لاشوں کی ڈرائنگز بنی ہوئی ہیں۔ گھروں کی دیواروں پر بندوقیں لیے فوجیوں اور خون میں لت پت لاشے کی تصویریں نظر آتی ہیں، جو ان بچوں نے بنائی ہوئی ہیں۔ یہ نہ ہنستے ہیں اور نہ کسی سے بات کرتے ہیں۔ بس آسمان اور دیواروں کو تکتے رہتے ہیں۔ ان کا علاج کرنے والی ماہر نفسیات ڈاکٹر زابیہ القرا کا کہنا یہ ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان بچوں کے جسموں میں زندگی واپس لانے والی روح کیسے ڈالیں۔ طبی طور پر ہم انہیں مردہ بھی قرار نہیں دے سکتے۔
ڈاکٹر زابیہ القرا بتاسکتی ہیں کہ عمیر اور اس کی دو معصوم بہنوںکا کیا بنے گا، جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے امی، ابو اور بہن کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ ان بچوں نے جو کچھ دیکھا، اس کا تصور کرتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور دماغ سوچنا بند کردیتا ہے۔ الامان والحفیظ۔ یہ دردناک واقعہ فلسطین میں رونما نہیں ہوا بلکہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے شہر ساہیوال میں پیش آیا۔ تین معصوم بچوں کے سامنے ان کے پیاروں کو قتل کسی اور نے نہیں، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہل کاروں نے کیا، جو پنجاب پولیس کا حصہ ہے۔ اس واقعہ کو اب کوئی بھی رنگ دیا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین اور ان کی بہن کو قتل کیا گیا۔ ان بچوں کے ذہنوں پر جو اثر ہوا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں لیکن اس واقعہ نے پاکستان کے کروڑوں بچوں کو دہشت اور خوف میں مبتلا کردیا ہے۔عمیر اور اس کی دو چھوٹی بہنوں منیبہ اور جاذبہ کی آنکھوں میں جو مناظر محفوظ ہیں، انہیں کوئی جے آئی ٹی، کمیشن یا تحقیقات کے ماہرین دھندلا نہیں کرسکتے۔ یہ بچے سب جانتے ہیں کہ حقیقت میں کیا ہوا۔ کس طرح ان کے ابو خلیل، امی نبیلہ، بہن اریبا اور انکل ذیشان کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔
اس واقعہ نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کے بعد ہی ہمیں یہ احساس ہوا ہے کہ اس طرح کے بے شمار واقعات پاکستان میں پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں۔ جعلی مقابلوں میں کئی بے گناہ پاکستانی مارے گئے ہیں۔ پہلے والے واقعات کے بارے میں اب ہم نے اس لیے سوچا ہے اور زیادہ دکھی بھی ہیں کہ چھوٹے بچوں کے سامنے ایساواقعہ رونما ہوا۔ کہتے ہیں کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ وہ اپنے شہریوں کو اپنا بچہ تصور کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے، انہیں قتل نہیں کرتی۔ یہ بات اس وقت سچ ہوتی ہے، جب ریاست نو آبادی یا استعماری خصوصیات کی حامل نہ ہوا اور اس کا اپنے شہریوں یعنی بچوں سے سوتیلی ماں یا غیریت والا تعلق نہ ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت یا فلسطین میں اسرائیل اپنے نوآبادی اور استعماری عزائم کی تکمیل کے لیے قتل عام کرتے ہیں کیونکہ کشمیر یا فلسطین کے لوگوں سے ان کا اپنائیت والا کوئی رشتہ نہیں۔ امریکا اور یورپی ممالک میں بعض نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مقابلوں میں بے دردی سے مار دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے نسلی گروہوں کے لوگوں کو مارنے کا تصور ہی نہیں ہے، جنہیں ریاست اپنا تصور کرتی ہے۔ مقابلوں میں جہاں بھی بے گناہ مارے جاتے ہیں، اس کا سبب ریاست کا نوآبادی یا استعماری رویہ ہوتا ہے۔ اس سے مزید کوئی بات کہنا مناسب نہیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ ہماری فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بڑی جنگ لڑی ہے اور قربانیاں بھی دی ہیں لیکن اس طرح کے واقعات سے دہشت گردوں کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔ دہشت گرد خود لوگوں کو ماریں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر لوگ مقابلوں میں مارے جائیں، دونوں صورتوں میں ریاست پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور یہی دہشت گردوں کا مقصد ہے۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ساہیوال جیسے واقعات مسلسل کیوں رونما ہوتے ہیں۔ یہ مائنڈ سیٹ ہمارے محافظوں میں کیونکر پیدا ہوا؟ ساہیوال کے واقعہ کے بعد ہمیں ضرور غور کرنا چاہئے۔ خلیل اور ان کی اہلیہ کو بھی اپنے قتل کا اتنا دکھ نہیں ہوگا، جتنا اپنے معصوم بچوں عمیر، منیبہ اور جاذبہ کے اداس چہرے دیکھ کر ہورہا ہوگا، جن کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو قتل کردیا گیا۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)