‏American politics لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏American politics لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 5 نومبر، 2026

امریکی سیاست میں ایک نئی تاریخ




امریکی سیاست میں ایک نئی تاریخ
ایک مسلمان، ایک تارکین وطن خاندان کا فرزند اور امریکی سینیٹ کا نیا چہرہ

امریکی سیاست میں مذہب، نسل اور خاندانی پس منظر ہمیشہ سے اہم موضوعات رہے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے امریکہ میں سیاسی نمائندگی کا تصور وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ کبھی سیاہ فام شہریوں کو سیاسی حقوق کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑی، کبھی خواتین کو انتخابی عمل میں مساوی شرکت کے لیے تحریک چلانا پڑی اور کبھی تارکین وطن کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قومی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لیے غیر معمولی محنت کرنا پڑی۔ اب اسی تاریخ میں ایک نیا باب عبدالرحمٰن ال-سید کے نام سے جڑ رہا ہے۔

عبدالرحمٰن ال-سید، جنہیں عبدال ال-سید
 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک امریکی معالج، وبائی امراض کے ماہر اور ترقی پسند سیاست دان ہیں۔ انہوں نے 3 نومبر 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں ریاست مشی گن سے امریکی سینیٹ کی نشست جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ وہ ریٹائر ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ 3 جنوری 2027ء کو عہدہ سنبھالیں گے۔ ان کی کامیابی اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان امریکی ہیں۔

عبدال ال-سید 31 اکتوبر 1984ء کو مشی گن کے شہر روچسٹر ہلز میں ایک مصری تارکین وطن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین بہتر مستقبل کی تلاش میں مصر سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مشی گن سے حیاتیات اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کی، پھر روڈز اسکالرشپ پر آکسفورڈ یونیورسٹی کے اوریل کالج سے صحت عامہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں کولمبیا یونیورسٹی سے طب کی تعلیم مکمل کی۔ ان کا علمی پس منظر اس بات کی مثال ہے کہ انہوں نے طب، تحقیق اور سماجی بہبود کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے اپنی عملی زندگی کی بنیاد رکھی۔

کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ میں وبائی امراض کے اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے انہوں نے صحت عامہ اور سماجی ناہمواری کے موضوعات پر تحقیق کی۔ ان کے سو سے زیادہ تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ تاہم ان کی اصل پہچان اس وقت سامنے آئی جب 2015ء میں انہیں ڈیٹرائٹ شہر کے محکمہ صحت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اس وقت ڈیٹرائٹ مالی بحران اور انتظامی مسائل کا شکار تھا۔ انہوں نے صحت عامہ کے شعبے میں بچوں کو مفت چشمے فراہم کرنے، اسکولوں میں سیسے کی آلودگی کے خاتمے، نشہ آور ادویات کی زائد مقدار سے ہونے والی اموات روکنے اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے جیسے منصوبوں پر کام کیا۔ ان کی کوششوں میں طبی قرضوں کے بوجھ سے پریشان شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

یہاں ایک اہم بات قابل غور ہے کہ عبدال ال-سید نے سیاست میں آنے سے پہلے عوامی خدمت کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کے نزدیک صحت محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی انصاف کا معاملہ بھی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں تو اس کے لیے بیماری محض جسمانی تکلیف نہیں رہتی بلکہ غربت اور بے بسی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

ان کا سیاسی سفر بھی خاصا دلچسپ ہے۔ 2018ء میں انہوں نے مشی گن کی گورنر شپ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں حصہ لیا۔ اگرچہ وہ کامیاب نہ ہو سکے، لیکن ان کی انتخابی مہم نے ترقی پسند سیاست کے ایک نئے چہرے کو متعارف کرایا۔ انہیں برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے ترقی پسند رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔ ان کا منشور صحت کی سہولت، صاف پانی، تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور کارپوریٹ اداروں کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے جیسے عوامی مسائل پر مبنی تھا۔ اس انتخاب میں ناکامی کے باوجود انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی بلکہ عوامی رابطوں اور سماجی خدمت کے ذریعے اپنی سیاسی شناخت مضبوط بنائی۔

2026ء کے سینیٹ انتخابات میں ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ہی کانگریس کی رکن ہیلی سٹیونز سے ہوا۔ سخت مقابلے کے بعد انہوں نے پرائمری انتخاب جیت لیا۔ جنرل الیکشن میں ان کے مدمقابل ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز تھے۔ انتخابی نتائج میں عبدال ال-سید کو تقریباً 52.4 فیصد اور ان کے مخالف کو 45.6 فیصد ووٹ ملے۔ اس کامیابی کے ساتھ انہوں نے نہ صرف اپنی جماعت میں ترقی پسند سیاست کے لیے جگہ بنائی بلکہ امریکی سینیٹ میں مذہبی نمائندگی کی تاریخ بھی بدل دی۔

ان کے سیاسی منشور کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حکومت کی کامیابی کا پیمانہ محض معاشی ترقی یا قومی دولت میں اضافہ نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں بہتری ہونا چاہیے۔ وہ "صحت کی سہولیات سب کے لیے"

 کے حامی ہیں، جس کے تحت ہر شہری کو آمدنی اور ملازمت کی حیثیت سے قطع نظر صحت کی سہولت فراہم کی جائے۔ وہ انتہائی امیر افراد پر ویلتھ ٹیکس عائد کرنے، انتخابی مہمات کی سرکاری مالی معاونت اور سیاست میں کارپوریٹ سرمایہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔

ان کا ایک اہم مطالبہ امریکی سینیٹ میں فلی بسٹر
 (Filibuster)
 کے خاتمے سے متعلق ہے۔ فلی بسٹر ایسا پارلیمانی طریقہ ہے جس کے ذریعے سینیٹ میں اقلیتی جماعت کسی قانون پر بحث ختم ہونے اور ووٹنگ کی طرف پیش رفت کو روک سکتی ہے۔ عام قانون سازی میں بحث ختم کرنے کے لیے عموماً 60 سینیٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس طرح اگر حکمران جماعت کے پاس 51 یا 55 نشستیں بھی ہوں تو بعض قوانین منظور کرانا مشکل ہو سکتا ہے۔ فلی بسٹر کے حامی اسے اقلیت کے حقوق اور اتفاق رائے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ مخالفین کے نزدیک یہ منتخب اکثریت کی قانون سازی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ عبدال ال-سید اس طریقہ کار کو ختم کرنے کے حامی ہیں تاکہ منتخب حکومت اپنے انتخابی وعدوں کو عملی شکل دے سکے۔

مشرق وسطیٰ اور غزہ کا مسئلہ بھی ان کی سیاست کا نمایاں حصہ رہا ہے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد جاری رکھنے کی پالیسی پر تنقید کی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ اس موقف نے انہیں ترقی پسند حلقوں اور فلسطینی حقوق کے حامیوں میں نمایاں کیا، تاہم امریکی سیاست میں اسرائیل سے متعلق پالیسی کے باعث انہیں اختلاف اور تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

عبدال ال-سید کی کامیابی کا ایک اور اہم پہلو ان کی مسلم شناخت ہے۔ امریکہ میں مسلمان شہریوں کی تعداد اور سماجی کردار میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، لیکن قومی سیاست کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں ان کی نمائندگی محدود رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کے مذہبی پس منظر کو بھی موضوع بنایا گیا اور بعض مخالف حلقوں (بشمول صدر ٹرمپ)نے ان کی شناخت پر سوالات اٹھائے۔ اس کے باوجود ان کا انتخاب اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ امریکی شہری کسی امیدوار کو اس کی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم، سیاسی سوچ، عوامی خدمات اور انتخابی منشور کی بنیاد پر بھی منتخب کر سکتے ہیں۔

تاہم اس کامیابی کو امریکی معاشرے میں مذہبی تعصب کے مکمل خاتمے کی علامت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ایک انتخابی کامیابی پورے معاشرے کے رویوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اس کے باوجود یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی نمائندگی کے دروازے پہلے کی نسبت زیادہ متنوع ہو رہے ہیں اور تارکین وطن خاندانوں سے تعلق رکھنے والی نئی نسل قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

اب عبدال ال-سید کے سامنے اصل امتحان شروع ہوگا۔ امریکی سینیٹ میں 100 ارکان ہوتے ہیں اور وہاں کسی سیاسی منشور کو قانون سازی میں تبدیل کرنے کے لیے محض عوامی مقبولیت کافی نہیں ہوتی۔ جماعتی اختلافات، پارلیمانی قواعد، کارپوریٹ لابنگ اور سیاسی مفادات کے درمیان انہیں اپنے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

ان کی کامیابی میں ایک تارکین وطن خاندان کی نسلوں کی محنت، تعلیم کی قوت، عوامی خدمت اور جمہوری عمل میں شرکت کی اہمیت بھی پوشیدہ ہے۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کی اصل خوبصورتی صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کو فیصلہ سازی کے عمل میں نمائندگی مل سکے۔

بالآخر کسی بھی جمہوریت کی عظمت کا تعین اس بات سے نہیں ہوتا کہ اس کے ایوانوں میں کون سے خاندان، نسل یا مذہب کے لوگ بیٹھے ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ ان ایوانوں میں بیٹھنے والے عوام کی زندگی کتنی بہتر بناتے ہیں۔ عبدال ال-سید نے امریکی سیاست کے دروازے پر ایک نئی دستک دی ہے۔ اب تاریخ یہ فیصلہ ان کے انتخابی منشور سے نہیں بلکہ ان کی عملی کارکردگی سے کرے گی۔