ایران، اسرائیل اور کرد 4
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کسی روایتی جنگ کی صورت میں سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک طویل المدت اور بالواسطہ کشمکش ہے جو مختلف محاذوں، پراکسی نیٹ ورکس اور اسٹریٹیجک اتحادیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ انہی خاموش مگر فیصلہ کن محاذوں میں ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عنصر کرد فیکٹر ہے۔ کرد نہ تو اسرائیل کے فطری اتحادی ہیں اور نہ ایران کے، مگر دونوں ریاستیں انہیں اپنی اسٹریٹیجک ضرورت کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔
ایران کے نزدیک کرد مسئلہ محض ایک نسلی یا ثقافتی سوال نہیں، بلکہ یہ قومی وحدت، سرحدی سلامتی اور ریاستی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چونکہ کرد آبادی ایران، عراق، ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور مختلف کرد تحریکیں سرحد پار روابط رکھتی ہیں، اس لیے تہران کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ یا مغربی انٹیلی جنس ادارے کردوں کو ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ایران کرد جماعتوں پر سخت کنٹرول، سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مستقل موجودگی اور بعض اوقات عراق کے اندر سرحد پار کارروائیوں کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
اس کے برعکس اسرائیل کا نقطۂ نظر بالکل مختلف ہے۔ اسرائیلی پالیسی تاریخی طور پر اس حکمتِ عملی پر مبنی رہی ہے جسے
“Peripheral Doctrine”
کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی اور دشمن ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔ اس تناظر میں کرد اسرائیل کے لیے ایک ممکنہ اسٹرٹیجک اثاثہ سمجھے جاتے ہیں: وہ عرب نہیں، تاریخی طور پر ریاست سے محروم رہے ہیں، اور علاقائی تنازعات میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیل کے مفادات واضح ہیں۔ وہ ایران اور بعض عرب ریاستوں کے اندر دباؤ پیدا کرنا چاہتا ہے، انٹیلی جنس نیٹ ورکس تک رسائی کا خواہاں ہے، اور اپنے گرد ایسے غیر ریاستی دباؤ کے حلقے بنانا چاہتا ہے جو اس کے حریفوں کے لیے مستقل چیلنج بنے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اسرائیل نے عراقی کردوں سے خفیہ روابط رکھے اور 2017 میں کردستان کے ریفرنڈم کی کھل کر حمایت کی۔ تاہم یہ حمایت زیادہ اخلاقی کم اور اسٹرٹیجک نوعیت کی تھی۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرد کوئی واحد، منظم یا یکساں بلاک نہیں۔ کرد سیاست اندرونی تقسیم کا شکار رہی ہے—بارزانی اور طالبانی جیسے مختلف دھڑے، قوم پرست، بائیں بازو اور قبائلی رجحانات، سب اپنی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر کردوں کا بنیادی ہدف اپنی شناخت کا تحفظ، سیاسی خودمختاری اور ریاستی جبر سے نجات ہے۔ اسی پس منظر میں بعض کرد قیادتیں اسرائیل سے روابط کو ایک وقتی حکمتِ عملی سمجھتی ہیں، جبکہ دیگر حلقے اسے اخلاقی تضاد اور فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتے ہیں۔
اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ “کرد اسرائیل کے ایجنٹ ہیں”۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ کچھ کرد دھڑے مخصوص حالات میں اسرائیلی مفادات سے وقتی ہم آہنگی اختیار کر لیتے ہیں، جسے پوری قوم کی اجتماعی پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایران اور اسرائیل کے باہمی تصادم میں کرد کہاں کھڑے ہیں؟ ایرانی بیانیے میں کرد ایک ممکنہ بیرونی سازش کا مہرہ سمجھے جاتے ہیں، اسرائیل کو اصل دشمن قرار دیا جاتا ہے، اور کرد علاقوں کو انٹیلی جنس کی ممکنہ راہداری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی بیانیے میں کرد ایک مظلوم قوم ہیں، ایران ایک توسیع پسند ریاست، اور کردوں کی حمایت ایران پر اخلاقی اور اسٹرٹیجک دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے۔
حقیقت مگر ان دونوں بیانیوں سے زیادہ تلخ ہے۔ کرد اکثر ان دو بڑی طاقتوں کے بیچ پس جاتے ہیں۔ انہیں کہیں سے مکمل ریاستی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اور زیادہ تر صورتوں میں ان کا استعمال زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔ طاقت کی اس بساط میں وہ مہرے بن جاتے ہیں، فیصلہ ساز نہیں۔
سب سے بڑا تضاد تاریخ کا وہ تلخ موڑ ہے جہاں ایک کرد رہنما، سلطان صلاح الدین ایوبی، نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا، جبکہ آج بعض کرد دھڑے اسرائیل سے تعلقات کے باعث مسلم دنیا میں شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہی تضاد کرد سیاست کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائش ہے—اور شاید مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بھی ایک کڑا امتحان۔
