جمعہ، 23 جنوری، 2026
غزہ کا پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس
بدھ، 21 جنوری، 2026
ایران، اسرائیل اور کرد 4
ایران، اسرائیل اور کرد 4
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کسی روایتی جنگ کی صورت میں سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک طویل المدت اور بالواسطہ کشمکش ہے جو مختلف محاذوں، پراکسی نیٹ ورکس اور اسٹریٹیجک اتحادیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ انہی خاموش مگر فیصلہ کن محاذوں میں ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عنصر کرد فیکٹر ہے۔ کرد نہ تو اسرائیل کے فطری اتحادی ہیں اور نہ ایران کے، مگر دونوں ریاستیں انہیں اپنی اسٹریٹیجک ضرورت کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔
ایران کے نزدیک کرد مسئلہ محض ایک نسلی یا ثقافتی سوال نہیں، بلکہ یہ قومی وحدت، سرحدی سلامتی اور ریاستی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چونکہ کرد آبادی ایران، عراق، ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور مختلف کرد تحریکیں سرحد پار روابط رکھتی ہیں، اس لیے تہران کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ یا مغربی انٹیلی جنس ادارے کردوں کو ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ایران کرد جماعتوں پر سخت کنٹرول، سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مستقل موجودگی اور بعض اوقات عراق کے اندر سرحد پار کارروائیوں کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
اس کے برعکس اسرائیل کا نقطۂ نظر بالکل مختلف ہے۔ اسرائیلی پالیسی تاریخی طور پر اس حکمتِ عملی پر مبنی رہی ہے جسے
“Peripheral Doctrine”
کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی اور دشمن ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔ اس تناظر میں کرد اسرائیل کے لیے ایک ممکنہ اسٹرٹیجک اثاثہ سمجھے جاتے ہیں: وہ عرب نہیں، تاریخی طور پر ریاست سے محروم رہے ہیں، اور علاقائی تنازعات میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیل کے مفادات واضح ہیں۔ وہ ایران اور بعض عرب ریاستوں کے اندر دباؤ پیدا کرنا چاہتا ہے، انٹیلی جنس نیٹ ورکس تک رسائی کا خواہاں ہے، اور اپنے گرد ایسے غیر ریاستی دباؤ کے حلقے بنانا چاہتا ہے جو اس کے حریفوں کے لیے مستقل چیلنج بنے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اسرائیل نے عراقی کردوں سے خفیہ روابط رکھے اور 2017 میں کردستان کے ریفرنڈم کی کھل کر حمایت کی۔ تاہم یہ حمایت زیادہ اخلاقی کم اور اسٹرٹیجک نوعیت کی تھی۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرد کوئی واحد، منظم یا یکساں بلاک نہیں۔ کرد سیاست اندرونی تقسیم کا شکار رہی ہے—بارزانی اور طالبانی جیسے مختلف دھڑے، قوم پرست، بائیں بازو اور قبائلی رجحانات، سب اپنی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر کردوں کا بنیادی ہدف اپنی شناخت کا تحفظ، سیاسی خودمختاری اور ریاستی جبر سے نجات ہے۔ اسی پس منظر میں بعض کرد قیادتیں اسرائیل سے روابط کو ایک وقتی حکمتِ عملی سمجھتی ہیں، جبکہ دیگر حلقے اسے اخلاقی تضاد اور فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتے ہیں۔
اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ “کرد اسرائیل کے ایجنٹ ہیں”۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ کچھ کرد دھڑے مخصوص حالات میں اسرائیلی مفادات سے وقتی ہم آہنگی اختیار کر لیتے ہیں، جسے پوری قوم کی اجتماعی پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایران اور اسرائیل کے باہمی تصادم میں کرد کہاں کھڑے ہیں؟ ایرانی بیانیے میں کرد ایک ممکنہ بیرونی سازش کا مہرہ سمجھے جاتے ہیں، اسرائیل کو اصل دشمن قرار دیا جاتا ہے، اور کرد علاقوں کو انٹیلی جنس کی ممکنہ راہداری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی بیانیے میں کرد ایک مظلوم قوم ہیں، ایران ایک توسیع پسند ریاست، اور کردوں کی حمایت ایران پر اخلاقی اور اسٹرٹیجک دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے۔
حقیقت مگر ان دونوں بیانیوں سے زیادہ تلخ ہے۔ کرد اکثر ان دو بڑی طاقتوں کے بیچ پس جاتے ہیں۔ انہیں کہیں سے مکمل ریاستی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اور زیادہ تر صورتوں میں ان کا استعمال زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔ طاقت کی اس بساط میں وہ مہرے بن جاتے ہیں، فیصلہ ساز نہیں۔
سب سے بڑا تضاد تاریخ کا وہ تلخ موڑ ہے جہاں ایک کرد رہنما، سلطان صلاح الدین ایوبی، نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا، جبکہ آج بعض کرد دھڑے اسرائیل سے تعلقات کے باعث مسلم دنیا میں شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہی تضاد کرد سیاست کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائش ہے—اور شاید مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بھی ایک کڑا امتحان۔
کرد اور ترکیہ 3
کرد۔ایران کشیدگی (2)
کرد: کون ہیں (1)
کرد: کون ہیں (1)
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اگر سمجھنا ہو تو کرد قوم کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ کرد ایک قدیم نسلی و لسانی قوم ہیں جو بنیادی طور پر کردی زبان بولتی ہے، جو ہند۔ایرانی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ کرمانجی، سورانی اور پہلوانی جیسے لہجے اس زبان کی لسانی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ آج کرد زیادہ تر ترکی، ایران، عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں آباد ہیں، جسے مجموعی طور پر کردستان کہا جاتا ہے، مگر اس جغرافیے کے باوجود کردوں کی اپنی کوئی آزاد قومی ریاست موجود نہیں۔
آبادی کے اعتبار سے کرد دنیا کی ان بڑی قوموں میں شامل ہیں جن کا اپنا ملک نہیں۔ اندازاً تین سے چار کروڑ کرد مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی تقسیم ان کی تاریخ کا سب سے مستقل اور تکلیف دہ پہلو رہی ہے۔
تاریخی اعتبار سے بہت سے مؤرخین کردوں کو قدیم میڈیائی تہذیب کا تسلسل قرار دیتے ہیں، جو ساتویں صدی قبل مسیح میں ایران کے خطے میں ایک طاقتور سلطنت تھی۔ اسلامی دور میں کرد علاقے مختلف مسلم سلطنتوں کا حصہ بنے، اور کرد تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیت سلطان صلاح الدین ایوبی سامنے آئے۔ بارہویں صدی میں ایوبی سلطنت کا قیام اور بیت المقدس کی صلیبیوں سے آزادی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرد تاریخ محض محرومی نہیں بلکہ قیادت اور وقار کی تاریخ بھی ہے۔
سولہویں صدی کے بعد کرد علاقے عثمانی اور صفوی سلطنتوں کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ کرد سرداروں کو محدود خودمختاری تو ملی، مگر کوئی متحد قومی ریاست وجود میں نہ آ سکی۔ یہ صورتحال پہلی جنگِ عظیم کے بعد مزید پیچیدہ ہو گئی۔ معاہدۂ سیورے میں اگرچہ کرد ریاست کا امکان ظاہر کیا گیا، مگر معاہدۂ لوزان نے اس امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ یوں کرد مستقل طور پر چار ریاستوں میں تقسیم ہو گئے۔
اس کے بعد جدید کرد تاریخ بغاوتوں، ریاستی جبر، ثقافتی و لسانی پابندیوں اور خودمختاری کی تحریکوں سے عبارت رہی ہے۔ ہر ملک میں کردوں کا تجربہ مختلف رہا، مگر محرومی اور عدمِ تحفظ کا احساس تقریباً مشترک ہے۔
اسی پس منظر میں کرد۔اسرائیل تعلقات کو سمجھنا ضروری ہے، جو اکثر سادہ بیانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر اسرائیل اور بعض کرد گروہوں کے رابطے 1950 اور 1960 کی دہائی میں سامنے آئے۔ یہ روابط اسرائیل کی اس علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جسے “Peripheral Doctrine” کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی ریاستوں کے گرد غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔
اسی تناظر میں اسرائیل نے شاہِ ایران کے دور میں ایران، ترکی اور بعض کرد گروہوں سے خفیہ اور محدود نوعیت کے روابط قائم کیے۔ خصوصاً عراق میں 1960 اور 1970 کی دہائی کے دوران اسرائیل کے بعض کرد دھڑوں، خاص طور پر مصطفیٰ بارزانی کے گروپ سے تعلقات رہے، جن کی نوعیت انٹیلی جنس اور عسکری تعاون تک محدود تھی۔ ان روابط کا مقصد کسی کرد ریاست کا قیام نہیں بلکہ عراق جیسی عرب ریاست پر اسٹریٹیجک دباؤ ڈالنا تھا۔
جدید دور میں عراقی کردستان ایک نیم خودمختار خطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2017 میں جب کردستان کی آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا تو اسرائیل وہ واحد ریاست تھی جس نے کھل کر اس کی اخلاقی حمایت کی۔ اس اقدام پر عرب دنیا اور ایران میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ تاہم یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تمام کرد اسرائیل نواز نہیں، اور نہ ہی کرد سیاست یا عوام ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ بہت سے کرد گروہ فلسطینی مؤقف سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔
یہاں ایک فکری تضاد بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ایک طرف کرد خود کو ایک مظلوم اور بے ریاست قوم کے طور پر پیش کرتے ہیں، دوسری طرف اسرائیل سے تعلقات انہیں ایسے منصوبوں سے جوڑ دیتے ہیں جنہیں خطے میں توسیع پسندانہ یا استعماری تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خود کرد سیاست کے اندر بھی ان تعلقات پر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔
خلاصہ یہ کہ کرد ایک قدیم، بڑی اور باوقار قوم ہیں جن کی تاریخ جدوجہد، تقسیم اور مزاحمت سے بھری ہوئی ہے۔ اسرائیل سے ان کے تعلقات نہ تو نسلی ہیں اور نہ ہی عوامی، بلکہ مخصوص سیاسی حالات اور محدود قیادتوں کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ ان تعلقات کو پوری کرد قوم کی ترجمانی سمجھنا نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر منصفانہ۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست میں کرد مسئلہ آج بھی ایک کھلا سوال ہے—ایسا سوال جو محض طاقت نہیں بلکہ انصاف، تاریخ اور تدبر کے تقاضوں کا بھی متقاضی ہے۔
