جمعہ، 23 جنوری، 2026

غزہ کا پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس





غزہ کا  پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس 
 غزہ  پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، 
غزہ میں حالیہ تباہ کن جنگ کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد امن، نظم و نسق اور استحکام کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔ اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت دو اہم ڈھانچے سامنے آئے ہیں: غزہ پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس۔ اگرچہ یہ دونوں ادارے ایک ہی مقصد، یعنی غزہ میں پائیدار امن و استحکام، کے لیے قائم کیے گئے ہیں، مگر ان کی نوعیت، دائرۂ کار اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔
غزہ پیس بورڈ دراصل ایک بین الاقوامی انتظامی اور سفارتی ادارہ ہے، جس کا بنیادی کام غزہ کے بعد از جنگ سیاسی، انتظامی اور معاشی مستقبل کی نگرانی کرنا ہے۔ اس بورڈ کی ذمہ داریوں میں غزہ کے عبوری حکومتی ڈھانچے کی تشکیل، تعمیرِ نو کے منصوبوں کی منصوبہ بندی، عالمی مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی تنظیم، اور مختلف بین الاقوامی فریقوں کے درمیان رابطہ کاری شامل ہے۔ یہ ادارہ براہِ راست کسی عسکری کارروائی میں شامل نہیں بلکہ اس کا کردار پالیسی سازی، حکمرانی اور ترقیاتی سمت کے تعین تک محدود ہے۔ غیر معمولی طور پر اس بورڈ کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کر رہے ہیں، جس کے باعث اسے روایتی اقوامِ متحدہ کے اداروں سے ہٹ کر ایک طاقتور اور متنازعہ پلیٹ فارم سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس، بین الاقوامی استحکامی فورس 
ایک خالصتاً سکیورٹی اور عسکری نوعیت کا انتظام ہے۔ یہ فورس اقوامِ متحدہ کی منظوری کے ساتھ مختلف ممالک کے فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جس کا مقصد غزہ میں زمینی سطح پر امن و امان قائم رکھنا ہے۔ اس کے دائرۂ کار میں جنگ بندی کی نگرانی، غیر قانونی اسلحے کا خاتمہ، سرحدی اور حساس علاقوں کی نگرانی، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنا شامل ہے۔ سادہ الفاظ میں، جہاں پیس بورڈ غزہ کے سیاسی و انتظامی مستقبل کا خاکہ تیار کرتا ہے، وہیں استحکامی فورس اس خاکے کو عملی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
یوں یہ کہنا درست ہوگا کہ غزہ پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایک کی کامیابی دوسرے کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر انتظامی فیصلوں کو زمینی تحفظ حاصل نہ ہو تو وہ محض کاغذی منصوبے رہ جاتے ہیں، اور اگر عسکری استحکام کے پیچھے واضح سیاسی و ترقیاتی وژن نہ ہو تو وہ دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو پاتا۔
غزہ کے مستقبل کا انحصار اسی نازک توازن پر ہے کہ آیا یہ دونوں ادارے واقعی غیر جانبداری، شفافیت اور مقامی آبادی کے مفادات کو سامنے رکھ کر کام کر پاتے ہیں یا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کا رخ متعین کرے گا۔

بدھ، 21 جنوری، 2026

ایران، اسرائیل اور کرد 4





ایران، اسرائیل اور کرد 4

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کسی روایتی جنگ کی صورت میں سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک طویل المدت اور بالواسطہ کشمکش ہے جو مختلف محاذوں، پراکسی نیٹ ورکس اور اسٹریٹیجک اتحادیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ انہی خاموش مگر فیصلہ کن محاذوں میں ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عنصر کرد فیکٹر ہے۔ کرد نہ تو اسرائیل کے فطری اتحادی ہیں اور نہ ایران کے، مگر دونوں ریاستیں انہیں اپنی اسٹریٹیجک ضرورت کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔

ایران کے نزدیک کرد مسئلہ محض ایک نسلی یا ثقافتی سوال نہیں، بلکہ یہ قومی وحدت، سرحدی سلامتی اور ریاستی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چونکہ کرد آبادی ایران، عراق، ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور مختلف کرد تحریکیں سرحد پار روابط رکھتی ہیں، اس لیے تہران کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ یا مغربی انٹیلی جنس ادارے کردوں کو ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ایران کرد جماعتوں پر سخت کنٹرول، سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مستقل موجودگی اور بعض اوقات عراق کے اندر سرحد پار کارروائیوں کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

اس کے برعکس اسرائیل کا نقطۂ نظر بالکل مختلف ہے۔ اسرائیلی پالیسی تاریخی طور پر اس حکمتِ عملی پر مبنی رہی ہے جسے

 “Peripheral Doctrine”

 کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی اور دشمن ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔ اس تناظر میں کرد اسرائیل کے لیے ایک ممکنہ اسٹرٹیجک اثاثہ سمجھے جاتے ہیں: وہ عرب نہیں، تاریخی طور پر ریاست سے محروم رہے ہیں، اور علاقائی تنازعات میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل کے مفادات واضح ہیں۔ وہ ایران اور بعض عرب ریاستوں کے اندر دباؤ پیدا کرنا چاہتا ہے، انٹیلی جنس نیٹ ورکس تک رسائی کا خواہاں ہے، اور اپنے گرد ایسے غیر ریاستی دباؤ کے حلقے بنانا چاہتا ہے جو اس کے حریفوں کے لیے مستقل چیلنج بنے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اسرائیل نے عراقی کردوں سے خفیہ روابط رکھے اور 2017 میں کردستان کے ریفرنڈم کی کھل کر حمایت کی۔ تاہم یہ حمایت زیادہ اخلاقی کم اور اسٹرٹیجک نوعیت کی تھی۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرد کوئی واحد، منظم یا یکساں بلاک نہیں۔ کرد سیاست اندرونی تقسیم کا شکار رہی ہے—بارزانی اور طالبانی جیسے مختلف دھڑے، قوم پرست، بائیں بازو اور قبائلی رجحانات، سب اپنی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر کردوں کا بنیادی ہدف اپنی شناخت کا تحفظ، سیاسی خودمختاری اور ریاستی جبر سے نجات ہے۔ اسی پس منظر میں بعض کرد قیادتیں اسرائیل سے روابط کو ایک وقتی حکمتِ عملی سمجھتی ہیں، جبکہ دیگر حلقے اسے اخلاقی تضاد اور فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتے ہیں۔

اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ “کرد اسرائیل کے ایجنٹ ہیں”۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ کچھ کرد دھڑے مخصوص حالات میں اسرائیلی مفادات سے وقتی ہم آہنگی اختیار کر لیتے ہیں، جسے پوری قوم کی اجتماعی پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایران اور اسرائیل کے باہمی تصادم میں کرد کہاں کھڑے ہیں؟ ایرانی بیانیے میں کرد ایک ممکنہ بیرونی سازش کا مہرہ سمجھے جاتے ہیں، اسرائیل کو اصل دشمن قرار دیا جاتا ہے، اور کرد علاقوں کو انٹیلی جنس کی ممکنہ راہداری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی بیانیے میں کرد ایک مظلوم قوم ہیں، ایران ایک توسیع پسند ریاست، اور کردوں کی حمایت ایران پر اخلاقی اور اسٹرٹیجک دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے۔

حقیقت مگر ان دونوں بیانیوں سے زیادہ تلخ ہے۔ کرد اکثر ان دو بڑی طاقتوں کے بیچ پس جاتے ہیں۔ انہیں کہیں سے مکمل ریاستی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اور زیادہ تر صورتوں میں ان کا استعمال زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔ طاقت کی اس بساط میں وہ مہرے بن جاتے ہیں، فیصلہ ساز نہیں۔

سب سے بڑا تضاد تاریخ کا وہ تلخ موڑ ہے جہاں ایک کرد رہنما، سلطان صلاح الدین ایوبی، نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا، جبکہ آج بعض کرد دھڑے اسرائیل سے تعلقات کے باعث مسلم دنیا میں شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہی تضاد کرد سیاست کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائش ہے—اور شاید مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بھی ایک کڑا امتحان۔


کرد اور ترکیہ 3


کرد اور ترکیہ 3
کرد اور ترکیہ کے درمیان کشیدگی جدید مشرقِ وسطیٰ کے ان پیچیدہ تنازعات میں شمار ہوتی ہے جنہیں محض سیکیورٹی مسئلہ قرار دے کر سمجھنا ممکن نہیں۔ یہ تنازع دراصل قوم، شناخت، ریاستی نظریے اور طاقت کے استعمال کے درمیان ایک گہرے تصادم کی علامت ہے، جس کی جڑیں خود ترک جمہوریہ کی قومی تشکیل میں پیوست ہیں۔
ترکی کی کل آبادی کا اندازاً پندرہ سے بیس فیصد حصہ کردوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر جنوب مشرقی اناطولیہ، دیاربکر، وان، حکاری اور ماردین جیسے علاقوں میں آباد ہیں۔ کردی زبان، خصوصاً کرمانجی لہجہ، ترکی میں سب سے زیادہ بولی جانے والی اقلیتی زبان ہے۔ اس کے باوجود طویل عرصے تک ریاستی سطح پر اس زبان اور اس سے جڑی شناخت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
1923 میں قائم ہونے والی ترک جمہوریہ کی بنیاد ایک سخت قوم پرستانہ اور وحدانی نظریے پر رکھی گئی، جس کا نعرہ تھا: ایک قوم، ایک زبان، ایک پرچم۔ ترک ہونا شہری شناخت کی بنیادی شرط قرار پایا، جبکہ کردوں کو سرکاری بیانیے میں اکثر “پہاڑی ترک” کہا گیا۔ کردی زبان، ثقافت اور حتیٰ کہ ناموں تک پر پابندیاں لگیں، اور کرد شناخت کا عملاً انکار کیا گیا۔ یہی وہ ریاستی رویہ تھا جس نے آنے والی دہائیوں میں مزاحمت اور بغاوت کی بنیاد رکھی۔
1920 اور 1930 کی دہائی میں کئی کرد بغاوتیں ہوئیں، جن میں 1925 کی شیخ سعید بغاوت نمایاں تھی، جس میں مذہبی اور قومی دونوں عناصر شامل تھے، مگر اسے سخت فوجی کارروائی کے ذریعے کچل دیا گیا۔ اسی طرح 1937–38 میں درسیم آپریشن نے کرد۔ترک تعلقات پر گہرے اور دیرپا زخم چھوڑے، جہاں ہزاروں کرد، خصوصاً علوی آبادی، ہلاک ہوئی۔ یہ واقعات آج بھی ترکی کی اجتماعی یادداشت میں ایک متنازع اور حساس باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس تاریخی پس منظر میں 1978 میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کا قیام عمل میں آیا۔ عبداللہ اوجالان کی قیادت میں بننے والی اس تنظیم نے ابتدا میں مارکسزم۔لینن ازم سے متاثر نظریات اپنائے، بعد ازاں “ڈیموکریٹک کنفیڈرلزم” کا تصور پیش کیا۔ 1984 کے بعد PKK نے ترکی کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اب تک چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں فوجی اہلکار، عام شہری اور جنگجو شامل ہیں۔ ترک ریاست PKK کو ایک دہشت گرد تنظیم اور قومی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ قرار دیتی ہے۔
ریاستی ردِعمل کے طور پر کرد علاقوں میں طویل عرصے تک ایمرجنسی قوانین نافذ رہے، وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کیے گئے، جبری نقل مکانی ہوئی اور اظہار و زبان پر سخت پابندیاں لگائی گئیں۔ ان اقدامات پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا تنقید کی، مگر سیکیورٹی بیانیہ غالب رہا۔
2000 کے بعد، خصوصاً اردوان کے ابتدائی دور میں، یورپی یونین میں شمولیت کے تناظر میں محدود اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ کردی زبان پر بعض پابندیاں نرم ہوئیں، کرد میڈیا اور تعلیم کے لیے محدود گنجائش پیدا کی گئی۔ 2013 سے 2015 کے درمیان حکومت اور PKK کے درمیان ایک امن عمل بھی شروع ہوا، جس سے مسئلے کے سیاسی حل کی امید بندھی، مگر یہ عمل جلد ہی ناکام ہو گیا۔
2015 کے بعد صورتحال دوبارہ شدید عسکری تصادم کی طرف لوٹ گئی۔ کرد شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، اور کرد نواز سیاسی جماعت HDP کو سخت کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں سیاسی راستہ مزید محدود ہو گیا۔
اس کشیدگی کو شام کی خانہ جنگی نے ایک نئی علاقائی جہت دے دی۔ شام میں کرد ملیشیا
YPG کے ابھرنے کو ترکی PKK کی توسیع سمجھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے YPG کی حمایت نے ترکی۔امریکہ تعلقات کو بھی متاثر کیا، جبکہ ترکی نے شام میں متعدد فوجی آپریشن کر کے کسی بھی کرد خودمختار پٹی کے قیام کو روکنے کی کوشش کی۔
اصل مسئلہ درحقیقت نظریاتی ہے۔ ترک ریاست وحدانی قومی ریاست، سیکیورٹی کو اولین ترجیح اور علاقائی سالمیت کے تصور پر قائم ہے، جبکہ کرد مؤقف کثیرالقومی شناخت، سیاسی شرکت اور خودمختاری کے مطالبے کے گرد گھومتا ہے۔ اسی بنیادی اختلاف نے اس تنازع کو طویل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ ترکی میں کرد مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ ایک طرح سے منجمد ہو چکا ہے۔

کرد۔ایران کشیدگی (2)



کرد۔ایران کشیدگی (2)

ایران اور کردوں کے درمیان کشیدگی کو محض کسی حالیہ سیاسی یا سیکورٹی مسئلے تک محدود کرنا زمینی حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہوگا۔ درحقیقت یہ کشیدگی ایک صدی پر محیط تاریخی، نسلی، ریاستی اور نظریاتی تضادات کا نتیجہ ہے، جو وقت کے ساتھ مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ ایرانی ریاست کا مرکزی، وحدانی اور فارسی محور قومی تصور اور کردوں کی الگ ثقافتی و لسانی شناخت—یہی وہ بنیادی تصادم ہے جس نے اس تعلق کو مسلسل تناؤ میں رکھا ہے۔

ایران کی کل آبادی کا تقریباً آٹھ سے دس فیصد کردوں پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر کردستان، کرمانشاہ، ایلام اور مغربی آذربائیجان کے صوبوں میں آباد ہیں۔ ان علاقوں میں رہنے والے کرد خود کو تاریخی طور پر ایک الگ قوم سمجھتے ہیں، مگر ایرانی ریاست نے ہمیشہ قومی وحدت کو مرکزیت اور یکسانیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔ اس تضاد میں ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ ایرانی کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، جبکہ ایران ایک شیعہ اکثریتی ریاست ہے۔ یہ فرق کشیدگی کو محض نسلی نہیں بلکہ مسلکی اور نظریاتی سطح پر بھی حساس بنا دیتا ہے۔

تاریخی طور پر اس کشیدگی کی جڑیں رضا شاہ کے دور تک جاتی ہیں، جب ایران کو ایک مضبوط مرکزی قوم پرستانہ ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس عمل میں علاقائی شناختوں کو دبایا گیا، کردی زبان اور ثقافت پر پابندیاں لگیں، اور قبائلی خودمختاری کو ختم کر دیا گیا۔ یہی وہ دور تھا جب کردوں میں یہ احساس گہرا ہونا شروع ہوا کہ ریاست ان کی شناخت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کرد۔ایران تعلقات کا ایک فیصلہ کن اور علامتی لمحہ جمہوریہ مہاباد تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد شمال مغربی ایران میں کردوں نے ایک مختصر مدت کے لیے خودمختار ریاست قائم کی، جس کے صدر قاضی محمد تھے اور جسے سوویت یونین کی وقتی حمایت حاصل تھی۔ جیسے ہی سوویت افواج نے ایران سے انخلا کیا، ایرانی فوج نے مہاباد پر قبضہ کر لیا اور قاضی محمد کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ واقعہ آج بھی ایرانی کردوں کے اجتماعی شعور میں مظلومیت اور وعدہ خلافی کی ایک گہری علامت کے طور پر زندہ ہے۔

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کردوں میں یہ امید پیدا ہوئی کہ نئی اسلامی حکومت نسلی اور مذہبی تنوع کو تسلیم کرے گی اور علاقائی خودمختاری پر بات چیت کا آغاز ہوگا۔ مگر یہ امید جلد ہی مایوسی میں بدل گئی۔ آیت اللہ خمینی نے کرد خودمختاری کے مطالبات کو اسلامی وحدت کے خلاف بغاوت قرار دیا، کرد علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے، اور ہزاروں افراد ہلاک یا گرفتار ہوئے۔ یوں انقلاب، جو نجات کی علامت سمجھا جا رہا تھا، کردوں کے لیے مزید ریاستی جبر کی صورت اختیار کر گیا۔

وقت کے ساتھ ایران میں مختلف کرد سیاسی و مسلح تنظیمیں سامنے آئیں۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران نے بائیں بازو کے قوم پرستانہ نظریات کے تحت مسلح جدوجہد بھی کی اور مذاکرات کی کوششیں بھی، جو اکثر ناکام رہیں۔ کوملہ جیسی تنظیموں نے سماجی انصاف اور خودمختاری کا مطالبہ کیا، مگر انہیں بھی شدید ریاستی کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد کے برسوں میں
 PJAK 
جیسی تنظیمیں سامنے آئیں، جنہیں ایران( پی کے کے ) سے منسلک قرار دے کر دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے، اور سرحدی علاقوں میں جھڑپیں جاری رہتی ہیں۔

مذہبی پہلو اس کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگرچہ ایرانی آئین سنی اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے، مگر عملی طور پر اعلیٰ ریاستی مناصب تک ان کی رسائی محدود ہے، مذہبی اداروں پر کڑی نگرانی رہتی ہے اور سیاسی شکوک و شبہات برقرار رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں نسلی محرومی اور مسلکی احساسِ بیگانگی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔

ایرانی ریاست اپنے سیکورٹی بیانیے میں کرد تحریکوں کو اکثر بیرونی سازش، اسرائیل اور امریکہ کے اثر و رسوخ، اور علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔ اسی بیانیے کے تحت سرحدی علاقوں میں سخت فوجی کنٹرول، کرد کارکنوں کی گرفتاریاں اور بعض اوقات عراقی سرزمین پر کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔

دلچسپ اور متنازع پہلو یہ ہے کہ ایران نے ماضی میں صدام حسین کے خلاف عراقی کردوں کی حمایت کی، مگر اپنے ہاں کرد خودمختاری کے کسی تصور کو قبول نہیں کیا۔ یہ دوہرا معیار ایرانی کردوں کے نزدیک ریاستی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔

آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ کرد۔ایران کشیدگی مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کر سکی، مگر یہ ایک دبی ہوئی آگ کی مانند ہے۔ مسلح جدوجہد کم ضرور ہوئی ہے، مگر ختم نہیں ہوئی۔ سیاسی حقوق، ثقافتی آزادی اور شناخت کے مطالبات بدستور موجود ہیں، جبکہ ریاستی سطح پر سخت سیکورٹی کنٹرول برقرار ہے۔ یہ کشیدگی وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی ہے اور خطے کے مجموعی عدم استحکام میں اپنا حصہ ڈالتی رہتی ہے۔


کرد: کون ہیں (1)



کرد: کون ہیں (1)

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اگر سمجھنا ہو تو کرد قوم کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ کرد ایک قدیم نسلی و لسانی قوم ہیں جو بنیادی طور پر کردی زبان بولتی ہے، جو ہند۔ایرانی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ کرمانجی، سورانی اور پہلوانی جیسے لہجے اس زبان کی لسانی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ آج کرد زیادہ تر ترکی، ایران، عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں آباد ہیں، جسے مجموعی طور پر کردستان کہا جاتا ہے، مگر اس جغرافیے کے باوجود کردوں کی اپنی کوئی آزاد قومی ریاست موجود نہیں۔

آبادی کے اعتبار سے کرد دنیا کی ان بڑی قوموں میں شامل ہیں جن کا اپنا ملک نہیں۔ اندازاً تین سے چار کروڑ کرد مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی تقسیم ان کی تاریخ کا سب سے مستقل اور تکلیف دہ پہلو رہی ہے۔

تاریخی اعتبار سے بہت سے مؤرخین کردوں کو قدیم میڈیائی تہذیب کا تسلسل قرار دیتے ہیں، جو ساتویں صدی قبل مسیح میں ایران کے خطے میں ایک طاقتور سلطنت تھی۔ اسلامی دور میں کرد علاقے مختلف مسلم سلطنتوں کا حصہ بنے، اور کرد تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیت سلطان صلاح الدین ایوبی سامنے آئے۔ بارہویں صدی میں ایوبی سلطنت کا قیام اور بیت المقدس کی صلیبیوں سے آزادی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرد تاریخ محض محرومی نہیں بلکہ قیادت اور وقار کی تاریخ بھی ہے۔

سولہویں صدی کے بعد کرد علاقے عثمانی اور صفوی سلطنتوں کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ کرد سرداروں کو محدود خودمختاری تو ملی، مگر کوئی متحد قومی ریاست وجود میں نہ آ سکی۔ یہ صورتحال پہلی جنگِ عظیم کے بعد مزید پیچیدہ ہو گئی۔ معاہدۂ سیورے میں اگرچہ کرد ریاست کا امکان ظاہر کیا گیا، مگر معاہدۂ لوزان نے اس امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ یوں کرد مستقل طور پر چار ریاستوں میں تقسیم ہو گئے۔

اس کے بعد جدید کرد تاریخ بغاوتوں، ریاستی جبر، ثقافتی و لسانی پابندیوں اور خودمختاری کی تحریکوں سے عبارت رہی ہے۔ ہر ملک میں کردوں کا تجربہ مختلف رہا، مگر محرومی اور عدمِ تحفظ کا احساس تقریباً مشترک ہے۔

اسی پس منظر میں کرد۔اسرائیل تعلقات کو سمجھنا ضروری ہے، جو اکثر سادہ بیانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر اسرائیل اور بعض کرد گروہوں کے رابطے 1950 اور 1960 کی دہائی میں سامنے آئے۔ یہ روابط اسرائیل کی اس علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جسے “Peripheral Doctrine” کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی ریاستوں کے گرد غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔

اسی تناظر میں اسرائیل نے شاہِ ایران کے دور میں ایران، ترکی اور بعض کرد گروہوں سے خفیہ اور محدود نوعیت کے روابط قائم کیے۔ خصوصاً عراق میں 1960 اور 1970 کی دہائی کے دوران اسرائیل کے بعض کرد دھڑوں، خاص طور پر مصطفیٰ بارزانی کے گروپ سے تعلقات رہے، جن کی نوعیت انٹیلی جنس اور عسکری تعاون تک محدود تھی۔ ان روابط کا مقصد کسی کرد ریاست کا قیام نہیں بلکہ عراق جیسی عرب ریاست پر اسٹریٹیجک دباؤ ڈالنا تھا۔

جدید دور میں عراقی کردستان ایک نیم خودمختار خطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2017 میں جب کردستان کی آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا تو اسرائیل وہ واحد ریاست تھی جس نے کھل کر اس کی اخلاقی حمایت کی۔ اس اقدام پر عرب دنیا اور ایران میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ تاہم یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ تمام کرد اسرائیل نواز نہیں، اور نہ ہی کرد سیاست یا عوام ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ بہت سے کرد گروہ فلسطینی مؤقف سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔

یہاں ایک فکری تضاد بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ایک طرف کرد خود کو ایک مظلوم اور بے ریاست قوم کے طور پر پیش کرتے ہیں، دوسری طرف اسرائیل سے تعلقات انہیں ایسے منصوبوں سے جوڑ دیتے ہیں جنہیں خطے میں توسیع پسندانہ یا استعماری تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خود کرد سیاست کے اندر بھی ان تعلقات پر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔

خلاصہ یہ کہ کرد ایک قدیم، بڑی اور باوقار قوم ہیں جن کی تاریخ جدوجہد، تقسیم اور مزاحمت سے بھری ہوئی ہے۔ اسرائیل سے ان کے تعلقات نہ تو نسلی ہیں اور نہ ہی عوامی، بلکہ مخصوص سیاسی حالات اور محدود قیادتوں کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ ان تعلقات کو پوری کرد قوم کی ترجمانی سمجھنا نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر منصفانہ۔

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست میں کرد مسئلہ آج بھی ایک کھلا سوال ہے—ایسا سوال جو محض طاقت نہیں بلکہ انصاف، تاریخ اور تدبر کے تقاضوں کا بھی متقاضی ہے۔