منگل، 20 جنوری، 2026

اجتماعیت کہاں کھو گئی؟





 اجتماعیت کہاں کھو گئی؟

دنیا کے سب سے بڑے فرنیچر اسٹور 
IKEA
 کے بانی
 Ingvar Kamprad
 کی کہانی بظاہر ایک سرمایہ دار کی کامیابی کی داستان ہے، مگر درحقیقت یہ ایک اخلاقی سوال ہے۔ ساٹھ ارب ڈالر کی ذاتی دولت، چالیس ارب یورو سالانہ آمدنی—اور اس کے باوجود ایک سادہ زندگی، اکانومی کلاس سفر، پرانی گاڑی اور سیکنڈ ہینڈ کپڑے۔ یہ سب کچھ اس شخص کی زندگی کا حصہ رہا جو چاہتا تو شاہانہ طرزِ زندگی اپنا سکتا تھا، مگر اس نے دولت کو فرد کے بجائے اجتماع کے لیے وقف کر دیا۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے:
دولت اگر ہاتھ میں ہو تو کیا وہ لازماً طرزِ زندگی کا معیار بن جانی چاہیے؟
مذہب—خصوصاً اسلام—اس سوال کا جواب بہت واضح دیتا ہے۔ اسلام فرد کو نہیں، معاشرے کو مرکز بناتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
"كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ"
(تاکہ دولت تمہارے امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے)
— الحشر: 7
یہ آیت مذہب کی معاشی اور اخلاقی اجتماعیت کا خلاصہ ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مذہب کی نمائندگی کرنے والے بعض حلقوں میں ایک نیا کلچر جنم لے چکا ہے۔ وہ مذہبی رہنما جو منبر سے سادگی، قناعت اور زہد کے درس دیتے ہیں، خود برانڈڈ لباس، وسیع و عریض رہائش گاہیں، پرتعیش گاڑیاں اور پروٹوکول والی زندگی اختیار کر چکے ہیں۔ مذہب کی اجتماعی نصیحت اب ان کے ہاں ذاتی جواز میں بدل چکی ہے۔
کہا جاتا ہے:
“اللہ نے دیا ہے، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں۔”
مگر سوال یہ ہے کہ کیا شکر کا مفہوم صرف خرچ کرنا ہے، یا بانٹنا بھی؟
رسول اللہ کا طرزِ زندگی اس معاملے میں معیار ہے۔ آپ کے پاس اگر دولت آئی تو وہ ٹھہری نہیں۔ کبھی فاقہ آیا تو صبر کیا، کبھی مال آیا تو تقسیم کر دیا۔ حضرت عمرؓ خلیفہ تھے مگر لباس میں پیوند، حضرت علیؓ بیت المال کے چراغ میں ذاتی بات نہیں کرتے تھے، اور حضرت عثمانؓ جیسا تاجر اپنی دولت عوام کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ یہ سب مثالیں مذہب کی اجتماعی روح کی عملی تصویر ہیں۔
اس کے برعکس، آج بعض مذہبی طبقات میں دین ایک برانڈ بن چکا ہے—مہنگے ملبوسات، قیمتی گھڑیاں، سیکیورٹی اسکواڈ، اور خطابات کے نرخ۔ مسئلہ دولت نہیں، مسئلہ نمونہ 
(Example) 
ہے۔ جب مذہبی رہنما خود آسائش کو معمول بنا لیں تو عوام کے لیے صبر، قناعت اور ایثار محض خطیبانہ الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 
Ingvar Kamprad
 جیسے غیر مسلم انسان ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ اس نے نہ مذہب کا دعویٰ کیا، نہ منبر سنبھالا، مگر اپنی دولت کو انسانیت کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے اپنی اولاد کو ارب پتی بنانے کے بجائے لاکھوں خاندانوں کو جینے کا موقع دیا۔
یہ سوال اب ہمارے اجتماعی شعور سے ہے:
کیا مذہب صرف وعظ کا نام ہے، یا ذاتی مثال کا بھی تقاضا کرتا ہے؟
اگر مذہب اجتماعیت سکھاتا ہے تو اس کا پہلا امتحان وہی لوگ ہیں جو اس کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جب رہنما خود کو عوام سے الگ کر لے، تو مذہب بھی ایک طبقاتی شے بن جاتا ہے—اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دین کمزور نہیں ہوتا، بدنام ہو جاتا ہے۔
اصل عظمت اس میں نہیں کہ انسان کیا کہتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کیسا جیتا ہے۔
Ingvar Kamprad 
نے مذہب کے بغیر اجتماعیت کو سمجھ لیا—اور ہم مذہب کے ہوتے ہوئے بھی اسے بھولتے جا رہے ہیں۔






منظم جنون
یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ “کیا مغربی لبرل نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟” اس کا جواب واشنگٹن 
کے دعوؤں میں نہیں، بلکہ برسلز کی خاموشی، تذبذب اور بے بسی میں لکھا جا رہا ہے۔


واشنگٹن پوسٹ کی  رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم کو ارسال کردہ پیغام میں گرین لینڈ کو نوبل امن انعام سے جوڑ دیا۔ مفہوم یہ تھا کہ چونکہ نوبل کمیٹی نے انہیں یہ اعزاز نہیں دیا، اس لیے وہ خود کو صرف امن کے تقاضوں تک محدود رکھنے کے پابند نہیں رہے۔ یہ خارجہ پالیسی نہیں، بلکہ عالمی سیاست کا ذاتی رنجش میں تبدیل ہو جانا ہے۔ جب ریاستوں کے فیصلے انعام نہ ملنے کے غصے سے جڑ جائیں تو اسے حکمت نہیں، منظم جنون کہنا زیادہ درست ہے۔

یہاں ایک اہم اور نظرانداز کیا جانے والا پہلو بھی ہے۔ پاکستان نے غزہ میں امن کی کوششوں کے تناظر میں ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ نامزدگی اس امید پر تھی کہ عالمی سطح پر جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کی کوششوں کو سراہا جائے گا۔ مگر نوبل انعام ایک ایسی شخصیت کو دیا گیا جس کا دل تل ابیب میں اٹکا ہوا تھا اور جس کی نگاہ اصل میں امن پر نہیں بلکہ اپنے ملک کی صدارت پر مرکوز تھی۔ یوں نوبل انعام بھی اخلاقی وزن کے بجائے سیاسی سمت کا عکاس بن گیا—اور یہی وہ لمحہ تھا جب انا نے پالیسی کی جگہ لے لی۔

اسی پس منظر میں یورپ کی بے بسی سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یورپی یونین کے پاس اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کی صورت میں ایک طاقتور معاشی ہتھیار موجود ہے، جسے خود یورپی مبصرین “تجارتی بازوکا” کہتے ہیں۔ مگر یہ ہتھیار چلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ امریکہ کے خلاف اس کا استعمال یورپ کے لیے معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ یوں یورپ ایک ایسے اسلحے سے لیس ہے جو طاقتور تو ہے، مگر ناقابلِ استعمال۔ نتیجہ یہ ہے کہ یورپ دو تباہ کن راستوں کے درمیان کھڑا ہے: یا دباؤ قبول کر کے اپنی خودمختاری قربان کرے، یا مزاحمت کر کے اپنی معیشت کو بحران میں دھکیل دے۔

یہ کیفیت ہمیں وینزویلا کے انجام کی یاد دلاتی ہے، جہاں ایک ملک اس وقت عالمی بساط پر تنہا پڑ گیا جب اس کے اتحادی پیچھے ہٹ گئے۔ مگر گرین لینڈ کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ وینزویلا روس کی اتحادی تھی، جبکہ گرین لینڈ نیٹو کے دائرے میں آتی ہے۔ یہاں پسپائی کسی ایک خطے کی قربانی نہیں ہوگی، بلکہ پورے نیٹو اتحاد کی اخلاقی بنیادوں پر ضرب ہوگی۔ اگر نیٹو اپنے ہی دائرے میں شامل ایک خطے کی حفاظت نہ کر سکا تو اس کے وجود کا جواز خود سوال بن جائے گا۔

اس کے باوجود یورپ ایک خوش فہمی پر تکیہ کیے بیٹھا ہے، جسے واشنگٹن کی سیاسی لغت میں 
TACO
کہا جاتا ہے—یعنی یہ یقین کہ “ٹرمپ آخرکار پیچھے ہٹ جائے گا”۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اس بار معاملہ مختلف ہے۔ ٹرمپ داخلی دباؤ میں ہے، مقبولیت کی گراوٹ کا سامنا کر رہا ہے، اور اسے ایک بڑی علامتی فتح درکار ہے۔ گرین لینڈ اب جغرافیہ نہیں، اس کی سیاسی مردانگی اور طاقت کے اظہار کا استعارہ بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں رہا کہ مطالبہ کتنا غیر معقول ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ایک برفانی جزیرے کے لیے پورے اتحاد کو قربان کر سکتا ہے؟ موجودہ شواہد اس امکان کو رد نہیں کرتے۔

اسی دوران روس خاموشی سے اس سارے منظرنامے کو دیکھ رہا ہے اور چین گہری توجہ سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ ان دونوں کے لیے یہ کسی جنگ سے کم اہم نہیں، کیونکہ یہاں امریکہ اپنے ہی ہاتھوں اس عالمی نظام کو کمزور کر رہا ہے جسے اس نے 1945 کے بعد خود تشکیل دیا تھا۔ پیغام صاف ہے: بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرناک وہ اتحادی ہوتا ہے جو اپنی طاقت کو عقل کے بجائے انا کے تابع کر دے۔

اصل سانحہ یہ ہے کہ یورپ نے بہت دیر سے یہ حقیقت دریافت کی کہ اس نے اپنی سلامتی ایک ایسے اتحادی کے ساتھ باندھ رکھی تھی جو اپنے غرور پر قابو کھو چکا ہے۔ آنے والے دن صرف گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ “مغرب” کے تصور کی بقا یا زوال کا بھی تعین کریں گے۔ یا تو یورپ جھک جائے گا اور اتحادوں کا تصور کھوکھلا ہو جائے گا، یا وہ مزاحمت کرے گا اور خود اتحاد ٹوٹ جائیں گے۔ دونوں صورتوں میں فائدہ ماسکو اور بیجنگ کو پہنچے گا۔

شاید یہی وہ لمحہ ہے جب یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ “کیا مغربی لبرل نظام اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے؟” اس کا جواب واشنگٹن کے دعوؤں میں نہیں، بلکہ برسلز کی خاموشی، تذبذب اور بے بسی میں لکھا جا رہا ہے۔
آج کے عالمی منظرنامے کو محض سفارتی کشیدگی یا تجارتی دباؤ کا نام دینا حقیقت سے فرار ہے۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ مغربی نظام کی اندرونی شکست ہے—ایک ایسی شکست جو کسی بیرونی دشمن نے مسلط نہیں کی، بلکہ خود اسی نظام کے مرکز میں بیٹھے غرور نے جنم دی ہے۔ ریاستی مفاد، اجتماعی سلامتی اور طویل المدت حکمتِ عملی اب ذاتی انا، ضد اور انتقامی نفسیات کے تابع دکھائی دیتی ہیں۔

جب طاقت بے بسی بن جائے





جب طاقت بے بسی بن جائے
جو کچھ آج دنیا دیکھ رہی ہے، وہ نہ روایتی جنگ کا آغاز ہے اور نہ کسی منظم پسپائی کا اعلان۔ یہ دراصل ایک نایاب لمحہ ہے—وہ لمحہ جب امریکی طاقت کے گرد قائم وہم میں دراڑ پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مطلق قوت اب فیصلہ کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ واشنگٹن نے فضائی طاقت کو مسئلے کا حتمی حل سمجھا ہو، مگر اس بار منظرنامہ مختلف ہے۔ مغربی رپورٹس خود اس حقیقت کا اعتراف کر رہی ہیں کہ امریکہ ایران کے معاملے میں 1999ء کے یوگوسلاویہ ماڈل کو دہرانا چاہتا ہے۔ اُس وقت نیٹو کی فضائی بمباری نے ایک کمزور اور منقسم ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر ایران یوگوسلاویہ نہیں۔
ایران ایک منظم ریاست ہے، جس کے پاس صرف میزائل ہی نہیں بلکہ ایک غصے سے بھرا ہوا سماج، نظریاتی ڈھانچہ اور جوہری صلاحیت کے قریب پہنچتی ہوئی تکنیکی مہارت بھی موجود ہے۔ واشنگٹن اب یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ جو فضائی حملے یوگوسلاویہ کو 78 دن میں توڑ گئے تھے، وہی ایران میں 78 مہینوں پر پھیلی ایک ایسی جنگ کو جنم دے سکتے ہیں جس کا انجام کسی کے قابو میں نہ ہو۔
امریکی حکمتِ عملی کا دوسرا، اور شاید زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اب براہِ راست نظام گرانے کے بجائے ’’اندرونی تقسیم‘‘ پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کو کمزور کیا جائے، بسیج کو نشانہ بنایا جائے، مگر روایتی فوجی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ نہ کیا جائے—اس امید پر کہ کسی مرحلے پر فوج خود اقتدار سنبھال لے۔
لیکن یہاں وہ سوال کھڑا ہوتا ہے جس کا جواب امریکہ کے پاس نہیں
اگر فوج نے اقتدار سنبھال لیا… اور وہ ملک کو کنٹرول نہ کر سکی تو کیا ہو گا؟
اس سوال کے سائے میں ایک اور خوفناک حقیقت موجود ہے—جوہری خطرہ۔ مسئلہ صرف ایٹمی بم کا نہیں، بلکہ ’’کھوئے ہوئے یورینیم‘‘ کا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 400 کلوگرام ایسا یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ تکنیکی طور پر یہ مقدار چار ابتدائی نوعیت کے جوہری دھماکوں کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
اگرچہ یہ مواد بیلسٹک میزائل کے لیے موزوں نہیں، مگر امریکی اسٹریٹجک حلقوں کا اصل ڈر کچھ اور ہے
اگر یہی یورینیم کسی تیز رفتار کشتی پر رکھ کر آبنائے ہرمز میں دھماکے کے طور پر استعمال ہو جائے؟
یا کسی صحرا میں ایک ’’تجرباتی دھماکہ‘‘ کر کے پوری جنگی حکمتِ عملی کو روک دیا جائے؟
یا اس سے بھی بدتر، اگر یہ مواد کسی ایسی ملیشیا تک پہنچ جائے جس کا کوئی واضح پتہ، پرچم یا جواب دہی نہ ہو؟
یہی وہ خوف ہے جو کسی ہمہ گیر امریکی حملے کو ایک وجودی خطرے میں بدل دیتا ہے—ایک ایسا خطرہ جو فائدے سے زیادہ نقصان کا امکان رکھتا ہے۔
ادھر یورپ بھی اس بحران میں واضح طور پر بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔ گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات، یورپی ردعمل کی کمزوری، فرانس کی وقتی للکار، جرمنی کی خاموش پسپائی—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ نیٹو اب ایک مضبوط اتحاد نہیں رہا۔ وہ اب ایسی ریاستوں کا مجموعہ بن چکا ہے جو امریکی ناراضی سے خوفزدہ تو ہیں، مگر اس کے ساتھ کھڑے ہونے پر آمادہ نہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ اگر ایران پر حملے کا لمحہ آتا ہے تو امریکہ اس بار نہ کسی مضبوط اتحاد کے ساتھ ہو گا، نہ کسی عالمی اخلاقی جواز کے 
سائے میں۔
صیہونی ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہو کر 
آج واشنگٹن کے سامنے سب راستے بند گلیوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں
وسیع فضائی حملہ—جو ناقابلِ اندازہ ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
محدود کارروائی—جو کمزوری کا تاثر دے گی اور ایران کو اندر سے متحد کر دے گی۔
بالکل حملہ نہ کرنا—جو امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گا۔
یوں امریکہ اپنی ہی مختصر المدت پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہا ہے، جبکہ ایران برسوں سے غیر متناسب صلاحیتیں تعمیر کر کے اس لمحے کی تیاری کرتا رہا ہے۔
سب سے زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ شاید ہم اس وقت امریکی طاقت کے عروج کو نہیں، بلکہ اس کے انکشاف کے نقطۂ آغاز کو دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے پاس تاریخ کی سب سے بڑی فوج ہے، مگر اس کے پاس ایک سادہ سوال کا جواب نہیں:
حملے کے بعد کیا؟
ایران یہ جانتا ہے۔ یورپ اسے سمجھ چکا ہے۔ روس اور چین خاموشی سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اور دنیا ایک ایسے فیصلے کی منتظر ہے جو شاید کبھی آئے ہی نہ—کیونکہ جب ضرب فتح کی ضمانت نہ دے، تو وہ فیصلہ نہیں بلکہ جوا بن جاتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں کبھی کبھی ہچکچاہٹ، غلطی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اور شاید آنے والے دن طاقت کا نہیں، اس حقیقت کو قبول کرنے کا امتحان ہوں گے کہ
سب سے طاقتور ہونا، لازماً سب سے زیادہ مؤثر ہونا نہیں ہوتا۔

دعا کا شعور

قرآنِ مجید میں انبیاءِ کرام کی دعائیں محض ذاتی حاجات یا وقتی ضرورتوں کا اظہار نہیں بلکہ انسانی شعور، اخلاقی بلندی اور بندگی کے فہم کی اعلیٰ ترین صورت ہیں۔ یہ دعائیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ خدا سے مانگنے کا درست اسلوب کیا ہے، دکھ، خوف، امید، صبر اور یقین کو الفاظ میں کیسے ڈھالا جاتا ہے، اور یہ کہ عبادت صرف حکم مان لینے کا نام نہیں بلکہ شعوری وابستگی اور فکری سپردگی کا عمل ہے۔

انبیاء کی دعاؤں کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں شکوہ نہیں، الزام نہیں اور مطالبے کا آمرانہ لہجہ نہیں ملتا۔ وہاں اللہ کی عظمت، اس کی صفاتِ رحمت اور اپنی کمزوری کا اعتراف ہوتا ہے۔ گویا دعا ایک مکالمہ ہے جس میں انسان اپنی حد پہچانتا ہے اور خدا کی بڑائی کو تسلیم کرتا ہے۔
حضرت آدمؑ — خطا کے بعد دعا
(سورۃ الاعراف: 23)
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
یہ انسان کی تاریخ کی پہلی دعا ہے۔ یہاں نہ کسی سازش کا ذکر ہے، نہ کسی اور پر الزام، نہ اپنی خطا کے لیے کوئی جواز۔ صرف ایک سادہ مگر گہرا اعتراف: ہم نے خود پر ظلم کیا۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ توبہ دلیلوں سے نہیں، اقرار سے قبول ہوتی ہے، اور اللہ کے حضور جھکنے کا پہلا قدم اپنی ذمہ داری مان لینا ہے۔
حضرت نوحؑ — علم کی حد کا اعتراف
(سورۃ ہود: 47)
رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ…
یہ دعا اس نبی کی ہے جس نے صدیوں تبلیغ کی، طوفان دیکھا، ایک نئی انسانی ابتدا کا گواہ بنا، مگر اس کے باوجود خود کو علمِ محدود کا حامل سمجھا۔ اصل حفاظت دعا میں ہے، کیونکہ دعا انسان کو اس کی حد یاد دلاتی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ — دعا بطور ذمہ داری
(سورۃ البقرہ: 126)
رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا…
حضرت ابراہیمؑ کی دعاؤں میں ذاتی نجات سے زیادہ اجتماعی فلاح کا تصور ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی نسل کے لیے دعا کی، معاشرے کے امن کے لیے دعا کی، اور ایمان کے تسلسل کے لیے دعا کی۔ یہ دعائیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ انبیاء صرف اپنے وقت کے نہیں ہوتے، وہ آنے والی نسلوں کا بوجھ بھی اپنے دل میں رکھتے ہیں۔
حضرت یعقوبؑ — صبر کے ساتھ دعا
(سورۃ یوسف: 86)
إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ
یہ دعا شدید غم کے عالم میں کی گئی، مگر اس میں شکوہ انسانوں سے نہیں بلکہ فریاد صرف اللہ سے ہے۔ حضرت یعقوبؑ صبر کی ایک نئی تعریف پیش کرتے ہیں: صبر کا مطلب خاموش ہو جانا نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے سچ بول دینا ہے، بغیر شکایت کے، بغیر ناامیدی کے۔
حضرت ایوبؑ — دکھ کے بغیر شکوہ
(سورۃ الانبیاء: 83)
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
اس دعا میں بیماری کا ذکر ہے، مگر مدت، شدت اور تکلیف کی شکایت نہیں۔ صرف اتنا کہ مجھے دکھ پہنچا ہے، اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ یہ دعا سکھاتی ہے کہ ہر بات کہنا شکوہ نہیں ہوتا؛ جب بات اللہ کو یاد رکھ کر کہی جائے تو وہ دعا بن جاتی ہے۔
حضرت یونسؑ — تاریکی میں دعا
(سورۃ الانبیاء: 87)
لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
یہ دعا اندھیروں میں، تنہائی میں اور مکمل بے بسی کے عالم میں کی گئی۔ یہ الفاظ توحید، توبہ اور خود احتسابی کا جامع اظہار ہیں۔ یہاں نجات کی کوئی براہِ راست درخواست نہیں، بلکہ پہلے اپنی خطا کا اعتراف ہے۔
حضرت زکریاؑ — خاموش دعا
(سورۃ مریم: 3–4)
إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا
یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دعا آواز کی بلندی سے نہیں، دل کی گہرائی سے سنی جاتی ہے۔ بعض دعائیں وہ ہوتی ہیں جو زبان سے کم اور دل سے زیادہ نکلتی ہیں۔
حضرت محمد ﷺ — جامع دعا
رسولِ اکرم ﷺ کی دعاؤں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کو جوڑتی ہیں، اعتدال سکھاتی ہیں اور انسان کو اس کی حیثیت یاد دلاتی ہیں۔ قرآن کی جامع دعا:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً
(سورۃ البقرہ: 201)
یہ دعا انسان کو یک رخی نہیں بننے دیتی، نہ دنیا میں کھو جانے دیتی ہے، نہ آخرت کو نظر انداز کرنے دیتی ہے۔

انبیاء کی دعائیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ دعا مطالبہ نہیں بلکہ اعتراف ہے، دعا زبان کی نہیں بلکہ حالتِ دل کی بات ہے، اور دعا تقدیر کے خلاف کوئی بغاوت نہیں بلکہ تقدیر کا حصہ ہے۔ دعا انسان کو خدا کے قریب لانے سے پہلے، خود انسان کو انسان بناتی ہے۔
انبیاء نے ہمیں صرف دعا کے الفاظ نہیں دیے،انہوں نے ہمیں دعا کا شعور عطا کیا ہے۔



پیر، 19 جنوری، 2026

نیت کی فریکوئنسی اور اعمال کا وزن


نیت کی فریکوئنسی اور اعمال کا وزن

رسولِ اکرم کی ایک مختصر مگر غیر معمولی حدیث ہے:
"اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)
(صحیح بخاری)
ہم نے اس جملے کو زیادہ تر اخلاقی نصیحت کے طور پر سنا ، مگر شاید اس پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا کہ نیت آخر اتنی بنیادی کیوں ہے۔

انسانی عمل مادی دنیا سے تعلق رکھتا ہے—وہ دکھائی دیتا ہے، ناپا جا سکتا ہے، اور قانون کی گرفت میں آتا ہے۔ مگر نیت نہ دکھائی دیتی ہے، نہ چھوئی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے حادی ورہبر نے نیت کواہم بتایا۔ جدید سائنس بتاتی ہے کہ انسان کا دماغ مسلسل برقی لہریں پیدا کرتا ہے۔ مختلف خیالات، مختلف ذہنی کیفیتیں، مختلف فریکوئنسیز پیدا کرتی ہیں۔ یوں نیت ایک خیال نہیں رہتی، بلکہ ایک توانائیاتی کیفیت بن جاتی ہے۔
نِکولا ٹیسلا (1856-1943) کا کہنا تھا کہ اگر کائنات کو سمجھنا ہے تو اسے توانائی، فریکوئنسی اور ارتعاش کی زبان میں سمجھنا ہو گا۔ جدید فزکس اسی سمت میں بڑھ رہی ہے کہ مادہ اپنی اصل میں توانائی ہے۔ جب خیال دماغ میں برقی سرگرمی پیدا کرتا ہے تو سوال یہ نہیں رہتا کہ نیت ہے یا نہیں، بلکہ یہ بنتا ہے کہ اس کی نوعیت کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک بڑا عمل بھی اگر کھوکھلی نیت کے ساتھ ہو تو بے وزن رہ جاتا ہے۔ قرآن اسی لیے بار بار دل کا ذکر کرتا ہے، کیونکہ دل محض گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ شعور اور ارادے کا مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ اعمال سے پہلے دلوں کو دیکھتا ہے۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے ہمارے اعمال لکھتے ہیں۔ ہم نے اس تصور کو ہمیشہ کاغذ اور قلم کے ساتھ جوڑ کر دیکھا۔ مگر قرآن ایک مختلف منظرنامہ پیش کرتا ہے
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(سورۃ ق)
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
"اِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(سورۃ الجاثیہ)
یہاں "نستنسخ" محض لکھنے کا لفظ نہیں، بلکہ مکمل نقل محفوظ کرنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ گویا انسانی زندگی ایک مسلسل ریکارڈنگ ہے—آواز، حرکت اور نیت سب محفوظ ہو رہے ہیں۔
آج انسان خود ایسی دنیا میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر قدم کیمرے میں قید ہے، ہر لفظ ریکارڈ ہو سکتا ہے، اور اب تو دماغی لہروں کو بھی ڈیٹا میں بدلا جا رہا ہے۔ اگر انسان یہ سب کر سکتا ہے تو یہ تصور کوئی مشکل نہیں کہ کائنات کا خالق اس سے کہیں زیادہ مکمل نظام رکھتا ہو۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے اعمال کتنے بڑے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ان کے پیچھے نیت کی فریکوئنسی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں چھوٹا سا عمل بھی خالص نیت کے ساتھ پہاڑ بن جاتا ہے، اور بڑا کارنامہ ریا کی نذر ہو کر بے وقعت رہتا ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم حدیثِ نیت کو صرف منبر کی نصیحت نہ سمجھیں، بلکہ اسے کائنات کے ایک اصول کے طور پر پڑھیں۔ ایک ایسا اصول جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کا ہر خیال، ہر ارادہ، اور ہر نیت—کہیں نہ کہیں محفوظ ہو رہی ہے، اور ایک دن اسی کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا۔