اتوار، 18 جنوری، 2026
ایرانی انقلاب 1979ء
ایران میں اسلامی انقلاب کے خاتمے کے خواہشمند
رضا پہلوی — جلاوطنی کی سیاست،
محمد رضا شاہ پہلوی
محمد رضا شاہ پہلوی — اقتدار، ترقی اور انجام
ایران کی جدید تاریخ میں اگر کسی ایک شخصیت نے ترقی، جبر، مغربی وابستگی اور عوامی بغاوت—سب کو ایک ہی عہد میں سمو دیا، تو وہ محمد رضا شاہ پہلوی ہیں۔ ان کی حکمرانی محض ایک بادشاہت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا تجربہ تھی جس نے یہ ثابت کیا کہ طاقت، دولت اور جدیدیت اگر عوامی شعور اور ثقافتی ہم آہنگی سے کٹ جائیں تو انجام انقلاب ہی ہوتا ہے۔
محمد رضا شاہ 1941ء میں اس وقت تخت پر بیٹھے جب ان کے والد رضا شاہ کو برطانیہ اور سوویت یونین نے معزول کیا۔ عمر صرف بائیس برس تھی، تجربہ محدود، اور اقتدار بکھرا ہوا۔ ابتدا میں وہ ایک کمزور شاہ تھے—پارلیمنٹ، علما، فوج اور غیر ملکی طاقتیں سب اپنی اپنی جگہ مضبوط تھیں۔ مگر 1953ء نے سب کچھ بدل دیا۔
ڈاکٹر محمد مصدق نے جب تیل کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تو یہ ایران کی خودمختاری کا اعلان تھا، مگر مغرب کے لیے خطرے کی گھنٹی۔ نتیجہ وہی نکلا جو طاقت کی سیاست میں نکلتا ہے۔ سی آئی اے اور ایم آئی سکس کے تعاون سے مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ محمد رضا شاہ واپس آئے، مگر اب وہ بادشاہ نہیں رہے تھے—وہ مطلق العنان حکمران بن چکے تھے۔
1953
ء کے بعد ایران میں ترقی ضرور ہوئی، مگر آزادی سکڑتی چلی گئی۔ شاہ نے امریکا کو اپنا سب سے بڑا اتحادی بنایا۔ جدید اسلحہ، طاقتور فوج، اور خطے میں امریکا کا نمائندہ کردار—لیکن اس سب کی قیمت ایران کے عوام نے ادا کی۔ ساواک جیسے خفیہ ادارے نے اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا۔ جیلیں، تشدد، خوف—یہ سب ریاستی نظم کا حصہ بن گئے۔
1963
ء میں شاہ نے وائٹ ریولوشن کا اعلان کیا۔ زمینوں کی تقسیم، خواتین کو ووٹ کا حق، تعلیم اور صحت کے منصوبے—کاغذ پر یہ سب ترقی پسند اقدامات تھے۔ مگر زمینی حقیقت یہ تھی کہ دیہی معاشرہ ٹوٹا، مذہبی طبقہ دیوار سے لگا، اور دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی چلی گئی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں آیت اللہ خمینی کی آواز پہلی بار عوام کے دلوں میں اتری۔
محمد رضا شاہ کی سب سے بڑی غلطی شاید یہ تھی کہ انہوں نے جدیدیت کو مغربیت سمجھ لیا۔ شاہی تقاریب، مغربی طرزِ زندگی، سیکولر قانون سازی—یہ سب ایک ایسے معاشرے پر مسلط کیا گیا جو صدیوں سے مذہب اور روایت کے ساتھ جیتا آیا تھا۔ عوام نے محسوس کیا کہ ان کی شناخت چھینی جا رہی ہے۔
تیل کی دولت بہتی رہی، مگر اس کا رخ محلات کی طرف تھا، جھونپڑیوں کی طرف نہیں۔ مہنگائی بڑھی، بے روزگاری پھیلی، اور غصہ پکنے لگا۔ 1978ء میں یہ غصہ سڑکوں پر آ گیا۔ مساجد، بازار، یونیورسٹیاں—سب ایک آواز بن گئے۔ فوج نے بھی آخرکار غیر جانبداری اختیار کر لی۔
جنوری 1979ء میں محمد رضا شاہ ایران چھوڑ گئے۔ فروری میں خمینی واپس آئے۔ تاریخ نے فیصلہ سنا دیا۔
جلاوطنی میں شاہ کو وہی ذلت ملی جو اکثر طاقتور حکمرانوں کا مقدر بنتی ہے۔ کوئی مستقل پناہ نہیں، کوئی مستقل وقار نہیں۔ 1980ء میں مصر میں ان کا انتقال ہوا—تنہا، بیمار، اور تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے۔
