جمعہ، 9 جنوری، 2026

معجزات، ماورائے طبیعیات اور انسانی شعور



معجزات، ماورائے طبیعیات اور انسانی شعور
معجزات اور ماورائے طبیعیات کا سوال محض یہ نہیں کہ کوئی غیر معمولی واقعہ ممکن ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات انسان کے شعور، اخلاق اور روحانی تشکیل میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ مذہبی فکر میں معجزہ کسی تماشے یا حیرت انگیز مظہر کا نام نہیں، بلکہ ایک گہرا معنوی واقعہ ہے جو انسان کو حقیقتِ اعلیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس مغربی فلسفہ نے معجزات کو زیادہ تر قدرتی قوانین، تجرباتی مشاہدے اور عقلی معیار کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی۔
اسلامی کلام کے مطابق معجزہ خدا کی قدرت کا اظہار اور نبوت کی صداقت کی علامت ہوتا ہے۔ اس کا مقصد محض عقل کو حیران کرنا نہیں بلکہ دل اور شعور کو بیدار کرنا ہے۔ معجزہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کائنات محض خودکار نظام نہیں بلکہ ایک بامقصد اخلاقی و روحانی ترتیب رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلامی روایت میں معجزات کو ہدایت، اخلاقی ذمہ داری اور فکری بیداری سے جوڑا گیا ہے۔
اسلامی مفکرین کے نزدیک معجزات انسانی تاریخ میں اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب عقل اپنی حدوں کو پہنچ چکی ہوتی ہے اور انسان کو کسی بلند تر حقیقت کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس تناظر میں معجزہ عقل کی نفی نہیں بلکہ اس کی توسیع ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ حقیقت صرف وہ نہیں جو آنکھ دیکھ لے یا تجربہ ثابت کر دے، بلکہ وہ بھی ہے جو اخلاقی اور روحانی سطح پر انسان کو بدل دے۔
اس تصور کے بالمقابل مغربی فلسفہ، خصوصاً جدید دور میں، معجزات کے بارے میں زیادہ محتاط بلکہ شکوک آمیز رہا ہے۔ یہاں معجزے کو قدرتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا گیا اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر کائنات قوانین کے تحت چل رہی ہے تو ان قوانین سے انحراف کیسے ممکن ہے۔ اس نقطۂ نظر میں انسانی تجربے اور سائنسی مشاہدے کو حتمی معیار مانا گیا، جس کے نتیجے میں معجزات کو یا تو انسانی غلط فہمی، روایت یا نفسیاتی رجحان قرار دیا گیا۔
تاہم مغربی فکر بھی مکمل طور پر یک رُخی نہیں۔ بعض مفکرین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اگر خدا کا تصور اخلاقی اور بامقصد ہے تو پھر معجزات کو محض قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور معنوی مداخلت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس زاویے سے معجزہ انسان کو اخلاقی بیداری، ذمہ داری اور روحانی سمت عطا کرتا ہے، نہ کہ صرف حیرت۔
عرب دنیا کے مفکرین نے معجزات اور ماورائے طبیعیات کو زیادہ گہرے روحانی تناظر میں دیکھا۔ ان کے نزدیک معجزہ انسان کی داخلی کیفیت میں تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسے حقیقت کے باطنی پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے۔ یہاں معجزہ ایک ایسا تجربہ ہے جو انسان کو اس کی محدودیت کا احساس دلاتا ہے اور اسے غرورِ عقل سے نکال کر معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ انسانی عقل اگرچہ اہم ہے، مگر وہ تمام حقائق کا احاطہ نہیں کر سکتی، اسی لیے ماورائے طبیعیات انسانی شعور کے لیے ایک ناگزیر میدان بن جاتی ہے۔
برصغیر کی فکری روایت میں معجزات کو اخلاقی اور روحانی تربیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا گیا۔ یہاں معجزہ نہ صرف نبوت کی دلیل ہے بلکہ انسان کے اخلاقی رویے کو سنوارنے کا ذریعہ بھی ہے۔ برصغیر کے علماء اور صوفیاء نے اس بات پر زور دیا کہ معجزات انسان کو عمل، کردار اور نیت کی اصلاح کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر کوئی معجزہ انسان کو اخلاقی طور پر بہتر نہ بنائے تو وہ محض ایک واقعہ رہ جاتا ہے، ہدایت نہیں بنتا۔
علامہ اقبال کے ہاں معجزات کا تصور خاص طور پر علامتی اور فکری ہے۔ ان کے نزدیک معجزہ انسانی شعور کو جھنجھوڑتا ہے، اسے جمود سے نکالتا ہے اور ایک نئی فکری اور اخلاقی حرکت پیدا کرتا ہے۔ معجزہ یہاں خارجی مظہر سے زیادہ داخلی انقلاب کی علامت بن جاتا ہے، جو انسان کو اپنی خودی، ذمہ داری اور مقصد سے روشناس کراتا ہے۔
ماورائے طبیعیات اس پورے مکالمے کی بنیاد ہے۔ اسلامی فکر میں ماورائے طبیعیات خدا، روح، آخرت اور اخلاقی جواب دہی جیسے تصورات کو مربوط کرتی ہے۔ اس کا مقصد محض نظری بحث نہیں بلکہ انسان کو ایک بامقصد زندگی کی طرف رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ عرب اور برصغیر کے مفکرین نے ماورائے طبیعیات کو روحانی بصیرت اور تزکیۂ نفس کے ساتھ جوڑا، جبکہ مغربی فلسفہ میں اسے وجود، شعور اور عقل کے مسئلے کے طور پر دیکھا گیا۔ دونوں زاویے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ موضوع محض مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ گہرا فکری سوال ہے۔
اسلامی اور صوفیانہ روایت میں معجزات کا سب سے اہم پہلو ان کا اخلاقی اثر ہے۔ معجزات انسان کے دل میں خوفِ خدا، محبت، شکرگزاری اور عاجزی پیدا کرتے ہیں۔ وہ انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل کامیابی طاقت یا علم میں نہیں بلکہ اخلاقی کمال اور روحانی بصیرت میں ہے۔ صوفیاء کے نزدیک سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ انسان کا دل بدل جائے، اس کی نیت صاف ہو جائے اور اس کا کردار بہتر ہو جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ معجزات اور ماورائے طبیعیات کو اگر صرف قدرتی قوانین کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ بحث ادھوری رہتی ہے۔ اسلامی، عرب اور برصغیر کی فکری روایت انہیں انسانی اخلاقی اور روحانی سفر کے سنگِ میل کے طور پر دیکھتی ہے، جبکہ مغربی فلسفہ انہیں عقلی اور تجربی معیار پر پرکھتا ہے۔ دونوں مکالمات بالآخر اس نکتے پر آ کر ملتے ہیں کہ انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی اس پوری بحث کا اصل محور ہے۔ یوں معجزات محض حیرت نہیں بلکہ انسان کی معرفت، ذمہ داری اور روحانی بلوغت کا دروازہ بن جاتے ہیں۔

روح، موت اور بعد از حیات


 

روح، موت اور بعد از حیات

انسانی فکر کی تاریخ میں اگر کوئی سوال مسلسل زندہ رہا ہے تو وہ روح، موت اور بعد از حیات کا سوال ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ انسانی شعور، اخلاق اور وجودی اضطراب سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ہر تہذیب نے اپنے فکری، روحانی اور فلسفیانہ سانچوں میں ان سوالات کے جواب تلاش کیے۔ عرب دنیا اور برصغیر کے مفکرین نے اس موضوع کو الٰہی ہدایت، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی تربیت کے تناظر میں سمجھا، جبکہ مغربی فلسفہ نے اسے زیادہ تر تجربی، منطقی اور وجودی زاویے سے پرکھنے کی کوشش کی۔

اسلامی کلام اور فلسفہ میں روح کو انسان کی اصل اور غیر مادی حقیقت تصور کیا جاتا ہے۔ جسم فانی ہے، مگر روح وہ جوہر ہے جو انسانی شعور، اخلاق اور ذمہ داری کی بنیاد بنتا ہے۔ امام غزالی کے نزدیک روح جسم کی قید سے آزاد ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو نیکی، بدی، ارادہ اور اخلاقی فیصلوں کے قابل بناتی ہے۔ یہی روح ہے جو انسان کو محض حیاتیاتی وجود سے بلند کر کے اخلاقی مخلوق بناتی ہے۔ ابن عربی اس تصور کو مزید گہرائی دیتے ہیں اور روح کو الٰہی معرفت کا مرکز قرار دیتے ہیں، جہاں انسان اپنے باطن میں حقیقتِ مطلق کی جھلک پاتا ہے۔ ان کے نزدیک روح کی بیداری دراصل انسان کے اخلاقی اور روحانی ارتقا کا نقطۂ آغاز ہے۔

عرب فلسفیوں نے بھی روح کے مسئلے کو محض مذہبی عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ عقلی اور علمی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی۔ فخر الدین رازی نے روح کی وجودیت، اس کی بقا اور معاد سے اس کے تعلق کو منطقی استدلال کے ساتھ واضح کیا۔ ان کے ہاں روح کا تصور انسانی عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتا ہے جہاں مادی قوانین اپنی حدیں ظاہر کر دیتے ہیں۔

یہی تصور ہمیں مغربی فلسفہ میں بھی مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔ ڈیکارٹ نے ذہن اور جسم کی دوئی کے ذریعے روح یا شعور کو مادے سے ممتاز کیا، جبکہ جدید فلسفۂ شعور میں یہ سوال اب بھی زندہ ہے کہ انسانی تجربہ اور شعور کو محض مادی عمل سے کیسے مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس مقام پر اسلامی اور مغربی مکالمہ ایک دوسرے کے قریب آتا دکھائی دیتا ہے، اگرچہ دونوں کی زبان اور استدلال مختلف ہے۔

موت، جو انسانی زندگی کا سب سے یقینی مگر سب سے زیادہ پراسرار مرحلہ ہے، اسلامی فکر میں محض اختتام نہیں بلکہ ایک انتقال ہے۔ جسمانی زندگی ختم ہو جاتی ہے، مگر روح باقی رہتی ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اس تصور میں موت ایک خوفناک خلا نہیں بلکہ اخلاقی جواب دہی کا دروازہ ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک موت انسانی خودی کی نفی نہیں بلکہ اس کی اگلی منزل ہے۔ وہ اسے ایک روحانی تجربہ سمجھتے ہیں جو انسان کو اس کے حقیقی مقام اور ذمہ داری کا شعور عطا کرتا ہے۔ برصغیر کے صوفیاء بھی موت کو محض جسمانی فنا نہیں مانتے بلکہ اسے روحانی کمال اور اخلاقی آزمائش کی تکمیل قرار دیتے ہیں۔

مغربی فلسفہ میں موت کا تصور زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہے۔ بعض مفکرین اسے شعور کے مکمل خاتمے کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک انسانی شعور اور ذاتی تجربات کو صرف مادی اصولوں کے ذریعے مکمل طور پر واضح نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بعد از مرگ تجربات، شعور کی بقا اور وجودی سوالات فلسفے کو ایک بار پھر ماورائے طبیعیات کی طرف لے جاتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں بعد از حیات کا تصور نہایت واضح اور اخلاقی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ تصور انسان کو یہ یقین دیتا ہے کہ زندگی بے مقصد نہیں، اور نہ ہی اخلاقی عمل بے نتیجہ۔ اعمال، نیت اور کردار کا حساب ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو اس دنیا میں ذمہ دار بناتی ہے۔ اشعری فکر میں معاد خدا کی عدل اور حکمت کا اظہار ہے، جبکہ معتزلہ کے نزدیک بعد از حیات کا تصور انسانی آزادی اور اخلاقی ذمہ داری کو معنی عطا کرتا ہے۔ برصغیر کے مفکرین، خصوصاً شاہ ولی اللہ اور اقبال، نے معاد کو روحانی تربیت اور خودی کی تکمیل کے تناظر میں بیان کیا۔ ان کے ہاں بعد از حیات محض جزا و سزا نہیں بلکہ اخلاقی شعور کی تکمیل ہے۔

عرب فلسفہ میں ابن سینا اور ابن رشد جیسے مفکرین نے روح اور معاد پر گہری بحث کی۔ ابن سینا روح کو جسم سے مستقل وجود قرار دیتے ہیں، جبکہ ابن رشد عقل اور فلسفے کے ذریعے معاد کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اگرچہ فلسفیانہ تعبیر مختلف ہو سکتی ہے، مگر روح کی بقا اور اخلاقی جواب دہی سے انکار ممکن نہیں۔

اسلامی اور صوفیانہ روایت میں روح، موت اور بعد از حیات کا سب سے اہم پہلو اخلاقی اور روحانی تربیت ہے۔ روح انسان کی اصل پہچان ہے، موت اسے غفلت سے جھنجھوڑتی ہے، اور بعد از حیات اسے اس کے اعمال کی سچائی سے روبرو کرتی ہے۔ یہی تصورات انسان کو محض مفاد پرست وجود بننے سے روکتے ہیں اور اسے اخلاقی، ذمہ دار اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ صوفیاء کے نزدیک اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان موت کے بعد کیا پائے گا، بلکہ یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کیسا انسان بن سکا۔

خلاصہ یہ ہے کہ روح، موت اور بعد از حیات کا مسئلہ محض مذہبی عقیدہ یا فلسفیانہ سوال نہیں، بلکہ انسانی اخلاق اور وجود کا مرکز ہے۔ عرب اور برصغیر کی فکری روایت نے ان تصورات کو انسانی تربیت اور روحانی ارتقا کے ساتھ جوڑا، جبکہ مغربی فلسفہ نے انہیں عقل، تجربے اور وجودی تجزیے کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی۔ دونوں مکالمات اس نکتے پر آ کر ملتے ہیں کہ انسان محض جسم نہیں، اور زندگی محض لمحاتی تجربہ نہیں۔ روح کی حقیقت، موت کی معنویت اور بعد از حیات کا تصور انسان کو اس کی اصل ذمہ داری اور اخلاقی مقام کا شعور عطا کرتا ہے—اور یہی شعور انسانی فکر کا سب سے بڑا حاصل ہے۔

الحاد کا بنیادی فلسفہ (21)



انکار اور اقرار کے دو فکری بیانیے

اکیسویں صدی میں مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق پر ہونے والی بحث محض عقیدے کی سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ انسان کے وجود، اخلاق اور کائنات کے مفہوم سے جڑی ایک گہری فکری کشمکش بن چکی ہے۔ اس بحث کے دو نمایاں اور متقابل مگر سنجیدہ زاویے ریچرڈ ڈاکنز کی کتاب The God Delusion اور فرانسس کولنز کی The Language of God میں سامنے آتے ہیں۔ دونوں مصنفین جدید سائنس کے نمائندہ چہرے ہیں، مگر ان کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہی فرق اس مباحثے کو محض سائنسی نہیں بلکہ فکری اور وجودی بنا دیتا ہے۔

ریچرڈ ڈاکنز، جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ممتاز ارتقائی حیاتیات دان ہیں، The God Delusion میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خدا کا تصور کسی خارجی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی انسان فطرت کی طاقتوں سے خوف زدہ تھا اور ان کی سائنسی تفہیم سے محروم تھا، اس لیے اس نے بارش، آندھی، بجلی اور بیماری جیسے مظاہر کو کسی ماورائی ہستی سے منسوب کر دیا۔ جدید سائنس نے جب ان تمام مظاہر کی مادی اور تجرباتی وضاحت پیش کر دی، تو ڈاکنز کے نزدیک خدا کو بطور وضاحتی مفروضہ باقی رکھنے کی کوئی عقلی ضرورت نہیں رہتی۔

ڈاکنز مذہب کے بنیادی دعوے پر ایک اصولی سوال اٹھاتے ہیں: اگر ہر چیز کا کوئی خالق ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ ان کے نزدیک اگر سبب و علت کا قانون کائنات پر لاگو ہوتا ہے تو خدا کو اس سے مستثنیٰ قرار دینا ایک منطقی تضاد ہے۔ چنانچہ وہ خدا کو “حتمی وضاحت” کے بجائے ایک ایسا مفروضہ سمجھتے ہیں جو سوالات حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔

اسی استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکنز قدرتی انتخاب کو تخلیق کا حقیقی متبادل قرار دیتے ہیں۔ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کے مطابق جاندار لاکھوں برسوں میں چھوٹی چھوٹی جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ یہ ایک غیر شعوری مگر مؤثر عمل ہے، جو پیچیدگی کو بغیر کسی منصوبہ ساز کے جنم دیتا ہے۔ ڈاکنز کے نزدیک یہی حقیقت اس تصور کو غیر ضروری بنا دیتی ہے کہ کائنات یا زندگی کے پیچھے کوئی شعوری ارادہ کارفرما ہے۔

اخلاقیات کے باب میں بھی ڈاکنز مذہب کو مرکزی حیثیت دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اخلاقی اقدار ارتقائی بقا کا نتیجہ ہیں؛ ہمدردی، تعاون اور انصاف جیسے رویے اس لیے فروغ پاتے ہیں کہ وہ اجتماعی زندگی کو مستحکم بناتے ہیں۔ چنانچہ اخلاق کو خدا سے جوڑنا ایک تاریخی اور نفسیاتی مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی سائنسی یا عقلی ضرورت۔

ایمان کے بارے میں ڈاکنز کا موقف سب سے زیادہ سخت ہے۔ وہ ایمان کو ایک نفسیاتی فریب قرار دیتے ہیں، ایسی ذہنی تسکین جو ثبوت کے بجائے خواہش پر قائم ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک مذہب انسان کو سوال سے روکتا ہے، جبکہ سائنس شک اور تحقیق کو علم کی بنیاد بناتی ہے۔ اسی لیے وہ مذہبی ایمان کو فکری جمود کی علامت سمجھتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں فرانسس کولنز کی The Language of God ایک بالکل مختلف مگر اتنا ہی سنجیدہ فکری زاویہ پیش کرتی ہے۔ کولنز جدید جینیات کے ممتاز سائنس دان ہیں اور ہیومن جینوم پراجیکٹ کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس اور ایمان کو باہم متصادم سمجھنا ایک غیر ضروری اور سطحی تقسیم ہے۔ ان کے نزدیک سائنس مادی حقیقت کے “کیسے” کو بیان کرتی ہے، جبکہ ایمان وجود کے “کیوں” سے تعلق رکھتا ہے۔

کولنز کے مطابق سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے پھیلی، زندگی کیسے ارتقاء پذیر ہوئی، اور دماغ کیسے کام کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ کائنات موجود ہی کیوں ہے، قوانینِ فطرت اس قدر منظم اور ریاضیاتی کیوں ہیں، اور انسان اخلاقی ذمہ داری کو محض فائدے سے بڑھ کر کیوں سمجھتا ہے۔ ان سوالات کا تعلق مابعد الطبیعی معنی سے ہے، جسے محض سائنسی تجربے کے دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

ارتقاء کے معاملے میں کولنز ڈاکنز سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے، مگر اس سے خدا کے انکار کا نتیجہ اخذ نہیں کرتے۔ وہ Theistic Evolution کا تصور پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق خدا نے زندگی کو معجزاتی وقفوں کے بجائے فطری قوانین کے ذریعے ترقی دی۔ ان کے نزدیک قدرتی انتخاب خدا کا متبادل نہیں بلکہ اس کا طریقۂ کار ہے، جس کے ذریعے تخلیق تدریجاً آگے بڑھتی ہے۔

اخلاقیات کے بارے میں کولنز ایک بنیادی نکتہ اٹھاتے ہیں۔ اگر اخلاق صرف ارتقائی بقا کا نتیجہ ہوں تو انسان بعض اعمال کو محض “غیر مفید” کے بجائے “غلط” کیوں کہتا ہے؟ وہ اخلاقی احساسِ فرض کو ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جو حیاتیاتی مفاد سے ماورا ہے اور کسی بلند تر اخلاقی منبع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کے نزدیک یہی اخلاقی قانون خدا کے وجود کی طرف ایک عقلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

کولنز اپنے ذاتی فکری سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنس نے انہیں خدا سے دور نہیں بلکہ قریب کیا۔ انسانی جینوم کی غیر معمولی پیچیدگی، فطری قوانین کا نازک توازن، اور کائنات کی ریاضیاتی ترتیب ان کے نزدیک محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ وہ خدا کو “خالی جگہوں کو پُر کرنے والا” تصور نہیں مانتے، بلکہ قوانینِ فطرت کے پیچھے کارفرما نظم اور عقل کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔

یوں The God Delusion اور The Language of God دو متوازی فکری بیانیے پیش کرتی ہیں۔ ایک سائنس کو حتمی عدالت بنا کر خدا کو غیر ضروری قرار دیتی ہے، اور دوسری سائنس کو حقیقت کی ایک سطح سمجھ کر اس کے پیچھے معنی تلاش کرتی ہے۔ فیصلہ شاید سائنس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے شعور میں ہے کہ وہ علم کو محض مادی وضاحت تک محدود رکھتا ہے یا اسے مقصد، اخلاق اور معنویت کی تلاش تک وسعت دیتا ہے۔

گمشدہ مگر کون؟



گمشدہ مگر کون؟
دنیا کے شور، مشینی زندگی کی تیز رفتاری اور مادیت کے ہجوم میں اگر کوئی شے واقعی کھو گئی ہے تو وہ انسان خود ہے۔
خدا نہیں کھویا — خدا تو اپنی جگہ، اپنی شانِ وجود اور اپنے نظام میں قائم و دائم ہے۔ گم اگر کوئی ہے تو وہ انسان کی بصیرت، انسان کا شعور، اور انسان کا باطن ہے۔
خدا نہ آسمانوں سے غائب ہوا، نہ زمین سے۔ وہ آج بھی "نظامِ کائنات" کی ہر دھڑکن میں بولتا ہے، ہر ذرے میں ظاہر ہے، اور ہر دل کے اندر کسی نہ کسی لمحے اپنی موجودگی کا احساس جگاتا ہے۔
لیکن انسان — جسے اس وجود کے راز سمجھنے کی اہلیت دی گئی تھی — اپنی خواہشوں، مفاد پرستی، اور نفس کے اندھیروں میں اپنا راستہ بھول گیا۔
گمشدگی کی اصل:
انسان کی گمشدگی اس کے ظاہری وجود میں نہیں، بلکہ اس کی روح میں ہے۔
وہ زمین پر آباد ہے مگر دل میں ویران۔
اس کے پاس علم ہے مگر عرفان نہیں،
ٹیکنالوجی ہے مگر تسکین نہیں،
آزادی ہے مگر امن نہیں۔
یہ وہی انسان ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا:
"اور ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے سب سے پست حالت میں لوٹا دیا — مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔"
(سورۃ التین: 4–5)
یعنی خدا نے انسان کو اپنے قریب ہونے کی صلاحیت دی تھی، مگر جب اس نے خدا کو بھلا دیا تو خود کو بھی بھلا بیٹھا۔
قرآن کا ارشاد ہے:
"اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو ان کا آپ بھلا دیا۔"
(سورۃ الحشر: 19)
یہ آیت گویا انسان کی گمشدگی کا خلاصہ ہے — خدا کو بھلانے کا انجام یہ ہے کہ انسان خود کو کھو بیٹھتا ہے۔
خدا گم نہیں ہوا:
خدا نہ وقت کے بدلنے سے بدلتا ہے، نہ تہذیبوں کے زوال سے چھپتا ہے۔
وہ تو ہر علم، ہر وجود، اور ہر شعور کی بنیاد ہے۔
انسان جب اپنی اندرونی آواز، اپنی فطرت کی سچائی، اور اپنی روح کے نور سے رشتہ توڑ دیتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ خدا کہیں کھو گیا ہے۔
حالانکہ خدا ہمیشہ سے ہے —
"وہ اول ہے اور آخر، ظاہر ہے اور باطن، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔"
(سورۃ الحدید: 3)
مسئلہ یہ نہیں کہ خدا کہاں ہے،
مسئلہ یہ ہے کہ انسان کہاں ہے؟
وہ اپنے آپ سے کتنا دور جا چکا ہے؟
روحانی و فکری خلا:
جدید انسان نے خلا ناپ لیے، کہکشاؤں کی پیمائش کر لی،
مگر اپنے اندر کے خلا کو پر نہ کر سکا۔
اس نے زمین پر جنتیں بنائیں مگر دل میں جہنم بسایا۔
سائنس نے اسے پر لگا دیے، مگر ضمیر کے پنجرے میں قید کر دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ انسان باہر سے کامیاب مگر اندر سے خالی ہے۔
یہی وہ گمشدگی ہے — خدا کی نہیں، انسان کی۔
واپسی کا راستہ:
انسان کا اصل سفر باہر نہیں، اندر کی طرف ہے۔
خدا کہیں باہر نہیں چھپا، وہ ہر دل کے اندر ہے۔
قرآن نے فرمایا:
"اور ہم اس سے زیادہ قریب ہیں جتنا اس کی شہ رگ۔"
(سورۃ ق: 16)
لہٰذا، خدا تک پہنچنے کے لیے کسی فلکی دوربین کی ضرورت نہیں،
بس دل کے زنگ کو صاف کرنا ہے۔
خدا کو پانے کا مطلب کسی نئے وجود کو ڈھونڈنا نہیں،
بلکہ اپنے کھوئے ہوئے انسان کو پانا ہے۔
اختتامیہ:
خدا کبھی گم نہیں ہوتا،
وہ تو ہر لمحہ ہماری سانسوں میں بولتا ہے، ہماری دھڑکنوں میں دھڑکتا ہے۔
گم اگر کوئی ہے تو انسان — جو خدا کو چھوڑ کر اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا میں کھو گیا ہے۔
خدا کو ڈھونڈنے سے پہلے انسان کو خود کو ڈھونڈنا ہوگا،
کیونکہ جب انسان خود کو پا لیتا ہے، وہ خدا کو پا لیتا ہے۔ 

منگل، 6 جنوری، 2026

وقت اور حرکت




وقت اور حرکت: فلسفہ، سائنس اور روحانیت کا مکالمہ


یہ سوال قدیم ہے کہ آخر وقت ہے کیا؟ کیا یہ صرف حرکت کی پیمائش ہے یا اس سے کہیں بڑھ کر کوئی حقیقت رکھتا ہے؟ فلسفہ، سائنس اور روحانیت تینوں اس سوال کا جواب اپنی اپنی زبان میں دیتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر ان کے نتائج ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

فلسفہ کی دنیا میں وقت ہمیشہ محض عددی اکائی نہیں رہا۔ ارسطو نے وقت کو حرکت کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر حرکت نہ ہو تو وقت کا ادراک بھی ممکن نہیں۔ افلاطون کے نزدیک وقت ابدیت کا عکس تھا، ایک ایسی جھلک جو انسان کو ازلی حقیقت کا سراغ دیتی ہے۔ ہراکلیطس نے کائنات کو مسلسل بہاؤ میں دیکھا اور اعلان کیا کہ سب کچھ تغیر میں ہے؛ یوں وقت اور تبدیلی ایک ہی سکے کے دو رخ بن گئے۔

 سینٹ آگسٹین نے وقت کو انسانی شعور کے آئینے میں دیکھا۔ ان کے مطابق ماضی یادداشت میں زندہ ہے، مستقبل توقع میں سانس لیتا ہے، اور حال ادراک کی گرفت میں ہے۔ بیسویں صدی کے فلسفی ہنری برگساں نے گھڑی کے وقت اور شعوری وقت کے فرق کو نمایاں کیا۔ ان کے نزدیک اصل وقت وہ ہے جو ہم جیتے ہیں، جو ہمارے احساسات کے ساتھ پھیلتا اور سکڑتا ہے۔ مارٹن ہائیڈیگر نے تو وقت کو انسانی وجود کی بنیاد ہی قرار دے دیا؛ ان کے نزدیک انسان وقت کے اندر نہیں بلکہ وقت کے ذریعے وجود پاتا ہے۔

یہ فلسفیانہ مکالمہ ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ وقت کوئی بے جان شے نہیں، بلکہ انسانی تجربے کے ساتھ سانس لینے والی حقیقت ہے۔

 سائنس نے اس بحث کو ایک نیا موڑ دیا۔ البرٹ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت نے وقت کو مطلق تصور سے نکال کر نسبتی بنا دیا۔ اب وقت ہر ایک کے لیے یکساں نہیں رہا، بلکہ رفتار اور کششِ ثقل کے تابع ہو گیا۔ روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے والا انسان اور شدید کششِ ثقل کے قریب موجود جسم وقت کو مختلف انداز میں جیتے ہیں۔
جڑواں بھائیوں کا مشہور تجربہ—جسے Twin Paradox کہا جاتا ہے—اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حرکت وقت کی رفتار بدل دیتی ہے۔ یہی اصول GPS سیٹلائٹس میں روزانہ استعمال ہو رہا ہے، جہاں وقت کے معمولی فرق کو درست نہ کیا جائے تو پورا نظام ناکارہ ہو جائے۔

اسٹیفن ہاکنگ نے وقت کے “تیر” کو اینٹروپی سے جوڑا اور بتایا کہ کائنات میں بے ترتیبی کا بڑھنا وقت کے آگے بڑھنے کی علامت ہے۔ کارلو روویلی کے مطابق وقت کوئی آزاد وجود نہیں بلکہ واقعات اور تعلقات کا نتیجہ ہے۔ یوں جدید طبیعیات بھی اس نتیجے پر پہنچی کہ وقت جامد نہیں، بلکہ حالات کے ساتھ بدلنے والی حقیقت ہے۔

یہاں پہنچ کر انسان حیران ہوتا ہے کہ یہی بات روحانی متون میں صدیوں پہلے بیان ہو چکی تھی۔ واقعۂ معراج اس کی روشن مثال ہے، جہاں نبی اکرم ﷺ ایک ہی رات میں ایسے سفر سے گزرے جو زمینی پیمانوں سے ماورا ہے، مگر زمینی وقت میں وہی رات باقی رہی۔ قرآن میں حضرت عزیرؑ اور اصحابِ کہف کے واقعات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وقت کا تجربہ حالات اور مشیت کے مطابق بدل سکتا ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک دن انسان کے ہزار برس کے برابر ہے، اور کہیں پچاس ہزار برس کا ذکر آتا ہے۔ یہ آیات صاف بتاتی ہیں کہ وقت انسانی پیمائش کا پابند نہیں، بلکہ خالق کے اختیار میں ہے۔

معاصر مسلم مفکرین نے بھی اس موضوع کو نئے زاویوں سے دیکھا ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کے نزدیک وقت کائناتی نظم کا حصہ ہے جو خالق کے قوانین کے تحت کام کرتا ہے۔ جاوید احمد غامدی وقت کو انسانی ذمہ داری اور اخلاقی جواب دہی کے تناظر میں سمجھتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خان کے ہاں وقت شعور اور دعوت کا سرمایہ ہے، جبکہ عرب مفکرین طہٰ عبدالرّحمٰن اور عبدالکریم بکّار کے نزدیک وقت انسان کے اعمال اور معاشرتی تعمیر کا بنیادی اثاثہ ہے۔

یہ تمام زاویے ایک ہی بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ وقت صرف ناپنے کی چیز نہیں، بلکہ جینے اور سمجھنے کی حقیقت ہے۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ اس سب کا حاصل کیا ہے؟ شاید یہ کہ انسان وقت کو مکمل طور پر قابو میں نہیں کر سکتا، مگر اس کی قدر ضرور کر سکتا ہے۔ فلسفہ ہمیں اس کا شعوری پہلو دکھاتا ہے، سائنس اس کی نسبتی ساخت واضح کرتی ہے، اور روحانیت اس کے تقدس سے آگاہ کرتی ہے۔
وقت ہمیں ہر لمحہ یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم محدود ہیں، اور ہمارا خالق لامحدود۔ یہی احساس انسان کو عاجزی، ذمہ داری اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ یوں وقت محض گزرتا نہیں، بلکہ انسان کو بناتا بھی ہے—اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔