جمعہ، 9 جنوری، 2026
معجزات، ماورائے طبیعیات اور انسانی شعور
روح، موت اور بعد از حیات
روح، موت اور بعد از حیات
انسانی فکر کی تاریخ میں اگر کوئی سوال مسلسل زندہ رہا ہے تو وہ روح، موت اور بعد از حیات کا سوال ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ انسانی شعور، اخلاق اور وجودی اضطراب سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ہر تہذیب نے اپنے فکری، روحانی اور فلسفیانہ سانچوں میں ان سوالات کے جواب تلاش کیے۔ عرب دنیا اور برصغیر کے مفکرین نے اس موضوع کو الٰہی ہدایت، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی تربیت کے تناظر میں سمجھا، جبکہ مغربی فلسفہ نے اسے زیادہ تر تجربی، منطقی اور وجودی زاویے سے پرکھنے کی کوشش کی۔
اسلامی کلام اور فلسفہ میں روح کو انسان کی اصل اور غیر مادی حقیقت تصور کیا جاتا ہے۔ جسم فانی ہے، مگر روح وہ جوہر ہے جو انسانی شعور، اخلاق اور ذمہ داری کی بنیاد بنتا ہے۔ امام غزالی کے نزدیک روح جسم کی قید سے آزاد ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو نیکی، بدی، ارادہ اور اخلاقی فیصلوں کے قابل بناتی ہے۔ یہی روح ہے جو انسان کو محض حیاتیاتی وجود سے بلند کر کے اخلاقی مخلوق بناتی ہے۔ ابن عربی اس تصور کو مزید گہرائی دیتے ہیں اور روح کو الٰہی معرفت کا مرکز قرار دیتے ہیں، جہاں انسان اپنے باطن میں حقیقتِ مطلق کی جھلک پاتا ہے۔ ان کے نزدیک روح کی بیداری دراصل انسان کے اخلاقی اور روحانی ارتقا کا نقطۂ آغاز ہے۔
عرب فلسفیوں نے بھی روح کے مسئلے کو محض مذہبی عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ عقلی اور علمی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی۔ فخر الدین رازی نے روح کی وجودیت، اس کی بقا اور معاد سے اس کے تعلق کو منطقی استدلال کے ساتھ واضح کیا۔ ان کے ہاں روح کا تصور انسانی عقل کو ایک ایسے دائرے میں داخل کرتا ہے جہاں مادی قوانین اپنی حدیں ظاہر کر دیتے ہیں۔
یہی تصور ہمیں مغربی فلسفہ میں بھی مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔ ڈیکارٹ نے ذہن اور جسم کی دوئی کے ذریعے روح یا شعور کو مادے سے ممتاز کیا، جبکہ جدید فلسفۂ شعور میں یہ سوال اب بھی زندہ ہے کہ انسانی تجربہ اور شعور کو محض مادی عمل سے کیسے مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس مقام پر اسلامی اور مغربی مکالمہ ایک دوسرے کے قریب آتا دکھائی دیتا ہے، اگرچہ دونوں کی زبان اور استدلال مختلف ہے۔
موت، جو انسانی زندگی کا سب سے یقینی مگر سب سے زیادہ پراسرار مرحلہ ہے، اسلامی فکر میں محض اختتام نہیں بلکہ ایک انتقال ہے۔ جسمانی زندگی ختم ہو جاتی ہے، مگر روح باقی رہتی ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اس تصور میں موت ایک خوفناک خلا نہیں بلکہ اخلاقی جواب دہی کا دروازہ ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک موت انسانی خودی کی نفی نہیں بلکہ اس کی اگلی منزل ہے۔ وہ اسے ایک روحانی تجربہ سمجھتے ہیں جو انسان کو اس کے حقیقی مقام اور ذمہ داری کا شعور عطا کرتا ہے۔ برصغیر کے صوفیاء بھی موت کو محض جسمانی فنا نہیں مانتے بلکہ اسے روحانی کمال اور اخلاقی آزمائش کی تکمیل قرار دیتے ہیں۔
مغربی فلسفہ میں موت کا تصور زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہے۔ بعض مفکرین اسے شعور کے مکمل خاتمے کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک انسانی شعور اور ذاتی تجربات کو صرف مادی اصولوں کے ذریعے مکمل طور پر واضح نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بعد از مرگ تجربات، شعور کی بقا اور وجودی سوالات فلسفے کو ایک بار پھر ماورائے طبیعیات کی طرف لے جاتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں بعد از حیات کا تصور نہایت واضح اور اخلاقی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ تصور انسان کو یہ یقین دیتا ہے کہ زندگی بے مقصد نہیں، اور نہ ہی اخلاقی عمل بے نتیجہ۔ اعمال، نیت اور کردار کا حساب ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو اس دنیا میں ذمہ دار بناتی ہے۔ اشعری فکر میں معاد خدا کی عدل اور حکمت کا اظہار ہے، جبکہ معتزلہ کے نزدیک بعد از حیات کا تصور انسانی آزادی اور اخلاقی ذمہ داری کو معنی عطا کرتا ہے۔ برصغیر کے مفکرین، خصوصاً شاہ ولی اللہ اور اقبال، نے معاد کو روحانی تربیت اور خودی کی تکمیل کے تناظر میں بیان کیا۔ ان کے ہاں بعد از حیات محض جزا و سزا نہیں بلکہ اخلاقی شعور کی تکمیل ہے۔
عرب فلسفہ میں ابن سینا اور ابن رشد جیسے مفکرین نے روح اور معاد پر گہری بحث کی۔ ابن سینا روح کو جسم سے مستقل وجود قرار دیتے ہیں، جبکہ ابن رشد عقل اور فلسفے کے ذریعے معاد کے تصور کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اگرچہ فلسفیانہ تعبیر مختلف ہو سکتی ہے، مگر روح کی بقا اور اخلاقی جواب دہی سے انکار ممکن نہیں۔
اسلامی اور صوفیانہ روایت میں روح، موت اور بعد از حیات کا سب سے اہم پہلو اخلاقی اور روحانی تربیت ہے۔ روح انسان کی اصل پہچان ہے، موت اسے غفلت سے جھنجھوڑتی ہے، اور بعد از حیات اسے اس کے اعمال کی سچائی سے روبرو کرتی ہے۔ یہی تصورات انسان کو محض مفاد پرست وجود بننے سے روکتے ہیں اور اسے اخلاقی، ذمہ دار اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔ صوفیاء کے نزدیک اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان موت کے بعد کیا پائے گا، بلکہ یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کیسا انسان بن سکا۔
خلاصہ یہ ہے کہ روح، موت اور بعد از حیات کا مسئلہ محض مذہبی عقیدہ یا فلسفیانہ سوال نہیں، بلکہ انسانی اخلاق اور وجود کا مرکز ہے۔ عرب اور برصغیر کی فکری روایت نے ان تصورات کو انسانی تربیت اور روحانی ارتقا کے ساتھ جوڑا، جبکہ مغربی فلسفہ نے انہیں عقل، تجربے اور وجودی تجزیے کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی۔ دونوں مکالمات اس نکتے پر آ کر ملتے ہیں کہ انسان محض جسم نہیں، اور زندگی محض لمحاتی تجربہ نہیں۔ روح کی حقیقت، موت کی معنویت اور بعد از حیات کا تصور انسان کو اس کی اصل ذمہ داری اور اخلاقی مقام کا شعور عطا کرتا ہے—اور یہی شعور انسانی فکر کا سب سے بڑا حاصل ہے۔
الحاد کا بنیادی فلسفہ (21)
انکار اور اقرار کے دو فکری بیانیے
اکیسویں صدی میں مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق پر ہونے والی بحث محض عقیدے کی سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ انسان کے وجود، اخلاق اور کائنات کے مفہوم سے جڑی ایک گہری فکری کشمکش بن چکی ہے۔ اس بحث کے دو نمایاں اور متقابل مگر سنجیدہ زاویے ریچرڈ ڈاکنز کی کتاب The God Delusion اور فرانسس کولنز کی The Language of God میں سامنے آتے ہیں۔ دونوں مصنفین جدید سائنس کے نمائندہ چہرے ہیں، مگر ان کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہی فرق اس مباحثے کو محض سائنسی نہیں بلکہ فکری اور وجودی بنا دیتا ہے۔
ریچرڈ ڈاکنز، جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ممتاز ارتقائی حیاتیات دان ہیں، The God Delusion میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خدا کا تصور کسی خارجی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی انسان فطرت کی طاقتوں سے خوف زدہ تھا اور ان کی سائنسی تفہیم سے محروم تھا، اس لیے اس نے بارش، آندھی، بجلی اور بیماری جیسے مظاہر کو کسی ماورائی ہستی سے منسوب کر دیا۔ جدید سائنس نے جب ان تمام مظاہر کی مادی اور تجرباتی وضاحت پیش کر دی، تو ڈاکنز کے نزدیک خدا کو بطور وضاحتی مفروضہ باقی رکھنے کی کوئی عقلی ضرورت نہیں رہتی۔
ڈاکنز مذہب کے بنیادی دعوے پر ایک اصولی سوال اٹھاتے ہیں: اگر ہر چیز کا کوئی خالق ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ ان کے نزدیک اگر سبب و علت کا قانون کائنات پر لاگو ہوتا ہے تو خدا کو اس سے مستثنیٰ قرار دینا ایک منطقی تضاد ہے۔ چنانچہ وہ خدا کو “حتمی وضاحت” کے بجائے ایک ایسا مفروضہ سمجھتے ہیں جو سوالات حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔
اسی استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکنز قدرتی انتخاب کو تخلیق کا حقیقی متبادل قرار دیتے ہیں۔ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کے مطابق جاندار لاکھوں برسوں میں چھوٹی چھوٹی جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ یہ ایک غیر شعوری مگر مؤثر عمل ہے، جو پیچیدگی کو بغیر کسی منصوبہ ساز کے جنم دیتا ہے۔ ڈاکنز کے نزدیک یہی حقیقت اس تصور کو غیر ضروری بنا دیتی ہے کہ کائنات یا زندگی کے پیچھے کوئی شعوری ارادہ کارفرما ہے۔
اخلاقیات کے باب میں بھی ڈاکنز مذہب کو مرکزی حیثیت دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اخلاقی اقدار ارتقائی بقا کا نتیجہ ہیں؛ ہمدردی، تعاون اور انصاف جیسے رویے اس لیے فروغ پاتے ہیں کہ وہ اجتماعی زندگی کو مستحکم بناتے ہیں۔ چنانچہ اخلاق کو خدا سے جوڑنا ایک تاریخی اور نفسیاتی مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی سائنسی یا عقلی ضرورت۔
ایمان کے بارے میں ڈاکنز کا موقف سب سے زیادہ سخت ہے۔ وہ ایمان کو ایک نفسیاتی فریب قرار دیتے ہیں، ایسی ذہنی تسکین جو ثبوت کے بجائے خواہش پر قائم ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک مذہب انسان کو سوال سے روکتا ہے، جبکہ سائنس شک اور تحقیق کو علم کی بنیاد بناتی ہے۔ اسی لیے وہ مذہبی ایمان کو فکری جمود کی علامت سمجھتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں فرانسس کولنز کی The Language of God ایک بالکل مختلف مگر اتنا ہی سنجیدہ فکری زاویہ پیش کرتی ہے۔ کولنز جدید جینیات کے ممتاز سائنس دان ہیں اور ہیومن جینوم پراجیکٹ کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس اور ایمان کو باہم متصادم سمجھنا ایک غیر ضروری اور سطحی تقسیم ہے۔ ان کے نزدیک سائنس مادی حقیقت کے “کیسے” کو بیان کرتی ہے، جبکہ ایمان وجود کے “کیوں” سے تعلق رکھتا ہے۔
کولنز کے مطابق سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے پھیلی، زندگی کیسے ارتقاء پذیر ہوئی، اور دماغ کیسے کام کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ کائنات موجود ہی کیوں ہے، قوانینِ فطرت اس قدر منظم اور ریاضیاتی کیوں ہیں، اور انسان اخلاقی ذمہ داری کو محض فائدے سے بڑھ کر کیوں سمجھتا ہے۔ ان سوالات کا تعلق مابعد الطبیعی معنی سے ہے، جسے محض سائنسی تجربے کے دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
ارتقاء کے معاملے میں کولنز ڈاکنز سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے، مگر اس سے خدا کے انکار کا نتیجہ اخذ نہیں کرتے۔ وہ Theistic Evolution کا تصور پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق خدا نے زندگی کو معجزاتی وقفوں کے بجائے فطری قوانین کے ذریعے ترقی دی۔ ان کے نزدیک قدرتی انتخاب خدا کا متبادل نہیں بلکہ اس کا طریقۂ کار ہے، جس کے ذریعے تخلیق تدریجاً آگے بڑھتی ہے۔
اخلاقیات کے بارے میں کولنز ایک بنیادی نکتہ اٹھاتے ہیں۔ اگر اخلاق صرف ارتقائی بقا کا نتیجہ ہوں تو انسان بعض اعمال کو محض “غیر مفید” کے بجائے “غلط” کیوں کہتا ہے؟ وہ اخلاقی احساسِ فرض کو ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جو حیاتیاتی مفاد سے ماورا ہے اور کسی بلند تر اخلاقی منبع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کے نزدیک یہی اخلاقی قانون خدا کے وجود کی طرف ایک عقلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
کولنز اپنے ذاتی فکری سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنس نے انہیں خدا سے دور نہیں بلکہ قریب کیا۔ انسانی جینوم کی غیر معمولی پیچیدگی، فطری قوانین کا نازک توازن، اور کائنات کی ریاضیاتی ترتیب ان کے نزدیک محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ وہ خدا کو “خالی جگہوں کو پُر کرنے والا” تصور نہیں مانتے، بلکہ قوانینِ فطرت کے پیچھے کارفرما نظم اور عقل کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔
یوں The God Delusion اور The Language of God دو متوازی فکری بیانیے پیش کرتی ہیں۔ ایک سائنس کو حتمی عدالت بنا کر خدا کو غیر ضروری قرار دیتی ہے، اور دوسری سائنس کو حقیقت کی ایک سطح سمجھ کر اس کے پیچھے معنی تلاش کرتی ہے۔ فیصلہ شاید سائنس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے شعور میں ہے کہ وہ علم کو محض مادی وضاحت تک محدود رکھتا ہے یا اسے مقصد، اخلاق اور معنویت کی تلاش تک وسعت دیتا ہے۔
گمشدہ مگر کون؟
منگل، 6 جنوری، 2026
وقت اور حرکت
وقت اور حرکت: فلسفہ، سائنس اور روحانیت کا مکالمہ
یہ سوال قدیم ہے کہ آخر وقت ہے کیا؟ کیا یہ صرف حرکت کی پیمائش ہے یا اس سے کہیں بڑھ کر کوئی حقیقت رکھتا ہے؟ فلسفہ، سائنس اور روحانیت تینوں اس سوال کا جواب اپنی اپنی زبان میں دیتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر ان کے نتائج ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
فلسفہ کی دنیا میں وقت ہمیشہ محض عددی اکائی نہیں رہا۔ ارسطو نے وقت کو حرکت کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر حرکت نہ ہو تو وقت کا ادراک بھی ممکن نہیں۔ افلاطون کے نزدیک وقت ابدیت کا عکس تھا، ایک ایسی جھلک جو انسان کو ازلی حقیقت کا سراغ دیتی ہے۔ ہراکلیطس نے کائنات کو مسلسل بہاؤ میں دیکھا اور اعلان کیا کہ سب کچھ تغیر میں ہے؛ یوں وقت اور تبدیلی ایک ہی سکے کے دو رخ بن گئے۔
سینٹ آگسٹین نے وقت کو انسانی شعور کے آئینے میں دیکھا۔ ان کے مطابق ماضی یادداشت میں زندہ ہے، مستقبل توقع میں سانس لیتا ہے، اور حال ادراک کی گرفت میں ہے۔ بیسویں صدی کے فلسفی ہنری برگساں نے گھڑی کے وقت اور شعوری وقت کے فرق کو نمایاں کیا۔ ان کے نزدیک اصل وقت وہ ہے جو ہم جیتے ہیں، جو ہمارے احساسات کے ساتھ پھیلتا اور سکڑتا ہے۔ مارٹن ہائیڈیگر نے تو وقت کو انسانی وجود کی بنیاد ہی قرار دے دیا؛ ان کے نزدیک انسان وقت کے اندر نہیں بلکہ وقت کے ذریعے وجود پاتا ہے۔
یہ فلسفیانہ مکالمہ ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ وقت کوئی بے جان شے نہیں، بلکہ انسانی تجربے کے ساتھ سانس لینے والی حقیقت ہے۔
سائنس نے اس بحث کو ایک نیا موڑ دیا۔ البرٹ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت نے وقت کو مطلق تصور سے نکال کر نسبتی بنا دیا۔ اب وقت ہر ایک کے لیے یکساں نہیں رہا، بلکہ رفتار اور کششِ ثقل کے تابع ہو گیا۔ روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے والا انسان اور شدید کششِ ثقل کے قریب موجود جسم وقت کو مختلف انداز میں جیتے ہیں۔
جڑواں بھائیوں کا مشہور تجربہ—جسے Twin Paradox کہا جاتا ہے—اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حرکت وقت کی رفتار بدل دیتی ہے۔ یہی اصول GPS سیٹلائٹس میں روزانہ استعمال ہو رہا ہے، جہاں وقت کے معمولی فرق کو درست نہ کیا جائے تو پورا نظام ناکارہ ہو جائے۔
اسٹیفن ہاکنگ نے وقت کے “تیر” کو اینٹروپی سے جوڑا اور بتایا کہ کائنات میں بے ترتیبی کا بڑھنا وقت کے آگے بڑھنے کی علامت ہے۔ کارلو روویلی کے مطابق وقت کوئی آزاد وجود نہیں بلکہ واقعات اور تعلقات کا نتیجہ ہے۔ یوں جدید طبیعیات بھی اس نتیجے پر پہنچی کہ وقت جامد نہیں، بلکہ حالات کے ساتھ بدلنے والی حقیقت ہے۔
یہاں پہنچ کر انسان حیران ہوتا ہے کہ یہی بات روحانی متون میں صدیوں پہلے بیان ہو چکی تھی۔ واقعۂ معراج اس کی روشن مثال ہے، جہاں نبی اکرم ﷺ ایک ہی رات میں ایسے سفر سے گزرے جو زمینی پیمانوں سے ماورا ہے، مگر زمینی وقت میں وہی رات باقی رہی۔ قرآن میں حضرت عزیرؑ اور اصحابِ کہف کے واقعات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وقت کا تجربہ حالات اور مشیت کے مطابق بدل سکتا ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک دن انسان کے ہزار برس کے برابر ہے، اور کہیں پچاس ہزار برس کا ذکر آتا ہے۔ یہ آیات صاف بتاتی ہیں کہ وقت انسانی پیمائش کا پابند نہیں، بلکہ خالق کے اختیار میں ہے۔
معاصر مسلم مفکرین نے بھی اس موضوع کو نئے زاویوں سے دیکھا ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کے نزدیک وقت کائناتی نظم کا حصہ ہے جو خالق کے قوانین کے تحت کام کرتا ہے۔ جاوید احمد غامدی وقت کو انسانی ذمہ داری اور اخلاقی جواب دہی کے تناظر میں سمجھتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خان کے ہاں وقت شعور اور دعوت کا سرمایہ ہے، جبکہ عرب مفکرین طہٰ عبدالرّحمٰن اور عبدالکریم بکّار کے نزدیک وقت انسان کے اعمال اور معاشرتی تعمیر کا بنیادی اثاثہ ہے۔
یہ تمام زاویے ایک ہی بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ وقت صرف ناپنے کی چیز نہیں، بلکہ جینے اور سمجھنے کی حقیقت ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ اس سب کا حاصل کیا ہے؟ شاید یہ کہ انسان وقت کو مکمل طور پر قابو میں نہیں کر سکتا، مگر اس کی قدر ضرور کر سکتا ہے۔ فلسفہ ہمیں اس کا شعوری پہلو دکھاتا ہے، سائنس اس کی نسبتی ساخت واضح کرتی ہے، اور روحانیت اس کے تقدس سے آگاہ کرتی ہے۔
وقت ہمیں ہر لمحہ یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم محدود ہیں، اور ہمارا خالق لامحدود۔ یہی احساس انسان کو عاجزی، ذمہ داری اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ یوں وقت محض گزرتا نہیں، بلکہ انسان کو بناتا بھی ہے—اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔



