منگل، 28 اکتوبر، 2025

مثبت اور منفی سوچ





مثبت اور منفی سوچ

“انسان اپنی سوچ کا عکس بن کر جیتا ہے؛
روشنی ذہن میں ہو تو اندھیرا بھی راستہ بن جاتا ہے۔”


زندگی میں محرومیاں ہوں یا آسائشیں، دونوں انسان کے اندر ایک خاص ذہنی زاویہ پیدا کرتی ہیں — ایک ایسا مائنڈسیٹ جو وقت کے ساتھ اُس کی پہچان بن جاتا ہے۔ دولت، شہرت اور آرام اگرچہ زندگی کو سہولت دے سکتے ہیں، مگر سکون اور وقار کا تعلق ہمیشہ سوچ کے معیار سے ہوتا ہے۔

ہم روز دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص مال و دولت میں ڈوبا ہوا ہے مگر دل کے سکون سے محروم ہے، اور کوئی تنگدست اپنی خودداری کے باعث بادشاہوں کی طرح جیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل دولت مثبت سوچ ہے، اور اصل غربت منفی سوچ۔

مثبت سوچ انسان کو حالات سے اوپر اٹھا دیتی ہے۔ وہ رکاوٹ کو سبق سمجھتا ہے، اور محرومی کو تربیت۔ وہ جانتا ہے کہ زندگی کا ہر موڑ ایک نیا پیغام رکھتا ہے۔ یہی سوچ اُسے مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کی روشنی دکھاتی ہے۔

اس کے برعکس، منفی سوچ انسان کو آسائشوں کے باوجود قید کر دیتی ہے۔ وہ ہر نعمت میں کمی ڈھونڈتا ہے، ہر خوشی میں اندیشہ۔ مایوسی، شک اور خوف اس کے ذہن پر قابض رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی ہی سوچ کا غلام بن جاتا ہے۔

اصل غلامی جسم کی نہیں، ذہن کی ہوتی ہے۔
جو اپنے مائنڈسیٹ کا غلام بن جائے، وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ مگر جو اپنی سوچ کا مالک ہو جائے، وہ محرومی میں بھی مطمئن رہتا ہے۔

زندگی دراصل وہی دکھاتی ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر نگاہ میں روشنی ہو تو اندھیرا بھی جمال بن جاتا ہے، اور اگر نظر میں منفی سوچ چھا جائے تو روشنی بھی بوجھ لگتی ہے۔

لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا سوچتے ہیں۔
کیونکہ انسان اپنی سوچ کے رنگ میں ڈھل کر جیتا ہے —
اور جو اپنی سوچ کو سنوار لے، وہی دراصل زندگی جیتا ہے۔
سدا مثبت سوچیں اور خوش رہیں۔۔۔
دعا گو
دلپزیرجنجوعہ


اتوار، 26 اکتوبر، 2025

غزہ: امن کی تلاش یا طاقت کی آزمائش



 غزہ: امن کی تلاش یا طاقت کی آزمائش

 امریکہ نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نئی بساط بچھانے کی کوشش کی ہے۔ اس بار عنوان ہے: غزہ کے لیے بین الاقوامی سیکیورٹی فورس 
ISF) 
 ایک ایسا منصوبہ جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن فارمولے کا مرکزی ستون بتایا جا رہا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ ’’کئی ممالک‘‘ نے اس فورس میں شمولیت کی پیش کش کی ہے، مگر ساتھ ہی شرط عائد کی گئی ہے کہ اس میں صرف وہی ممالک شامل ہوں گے جن پر اسرائیل کو اعتماد ہو۔ یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اپنے اندر پوری سیاست سمیٹے ہوئے ہے۔ گویا امن کا پیغام بھی اسی دروازے سے گزرے گا جس کی چابی اسرائیل کے پاس ہے۔
 وزیرِ خارجہ کے مطابق اس منصوبے پر مذاکرات جاری ہیں اور اسے جلد عملی شکل دینے کا ارادہ ہے۔ تاہم انہوں نے خود اعتراف کیا کہ جب تک حماس کے ساتھ کسی درجے کی مفاہمت نہیں ہوتی، اس فورس کی تعیناتی ایک خواب ہی رہے گی۔  وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فورس کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے کہ  غزہ ایک غیر مسلح خطہ بن جائے جہاں کوئی گروہ اسرائیل یا اپنی ہی عوام کے لیے خطرہ نہ بنے۔ ٹرمپ پلان کے مطابق حماس کا غیر مسلح ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، اور اگر اس نے اسلحہ چھوڑنے سے انکار کیا تو ’’معاہدے کی خلاف ورزی‘‘ سمجھا جائے گا — جسے، ان کے الفاظ میں، ’’نافذ‘‘ کرنا پڑے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ’’نافذ کرنے‘‘ والا مرحلہ کس کے ہاتھ میں ہوگا؟ اسی ضمن میں 
ISF
 کی ساخت سامنے آتی ہے۔ منصوبے کے تحت یہ فورس ایک کثیرالملکی امن مشن ہوگی، جس کے ساتھ ایک مقامی تربیت یافتہ پولیس فورس بھی ہوگی۔ مقصد ہے ایک ایسا غیر مسلح اور دہشت گردی سے پاک غزہ قائم کرنا جہاں حالات مستحکم ہوں، اور اسرائیلی افواج کو بتدریج واپس بلایا جا سکے۔ فورس کے فرائض میں سرحدوں کی نگرانی، انسدادِ دہشت گردی، انسانی امداد کا تحفظ اور فلسطینی پولیس کی معاونت شامل ہوں گے۔ 
جب حالات معمول پر آئیں گے، اسرائیلی افواج مرحلہ وار واپسی کریں گی — لیکن تب تک ایک سیکیورٹی پٹی برقرار رکھی جائے گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کئی ممالک نے فورس میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے مصر، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، آذربائیجان، آسٹریلیا، ملائیشیا، کینیڈا، فرانس، اور قبرص ان میں شامل بتائے جاتے ہیں۔ مگر اسرائیلی وزیرِاعظم نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ترکیکی فوج کو غزہ میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے بعد خبریں آئیں کہ آذری اور انڈونیشی افواج کو مرکزی کردار دیا جا سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ یہ منظرنامہ بتاتا ہے کہ امن کی راہ پر چلنا ابھی آسان نہیں۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ خود بھی مانتے ہیں کہ ’’مشکلات ضرور آئیں گی، مگر ہمیں اس منصوبے کو کامیاب بنانا ہے۔‘‘ لیکن سوال یہی ہے کہ کیا یہ فورس واقعی امن لائے گی یا ایک نئے سیاسی معاہدے کی پیش بندی ثابت ہوگی؟
 غزہ کے زخم ابھی تازہ ہیں، اور ہر نئی ’’بین الاقوامی فورس‘‘ کے ساتھ وہاں کے عوام کو یہ اندیشہ ضرور ستاتا ہے کہ کہیں ان کے امن کا سودا کسی اور کی شرائط پر تو نہیں ہو رہا۔ 
 "غزہ کا امن اب طاقت کے توازن سے مشروط ہو چکا ہے۔"


ہفتہ، 25 اکتوبر، 2025

مفت دوائیں

مفت  دوائیں

جب انسان بیمار ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کے ذہن میں دوا، ڈاکٹر اور اسپتال کا خیال آتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، جبکہ معالجوں اور اسپتالوں کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں لمبی قطاریں، فائلوں کا بوجھ، اور گھنٹوں کی انتظارگاہیں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ علاج آج بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ بعض اوقات مریض علاج کے انتظار میں ہی مزید بیمار ہو جاتا ہے۔

 البتہ زندگی میں کچھ ایسی "دوائیں" بھی ہیں جن پر کوئی خرچ نہیں آتا، پھر بھی وہ انسان کے جسم و روح دونوں کے لیے شفا بن جاتی ہیں۔ یہ وہ مفت کی دوائیں ہیں جنہیں اکثر ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 

ورزش — جسم و دل کی تندرستی
 ورزش سب سے آسان اور مؤثر دوا ہے۔ یہ نہ صرف جسم کو متحرک رکھتی ہے بلکہ دل و دماغ کو بھی تازگی بخشتی ہے۔ روزانہ چند منٹ کی چہل قدمی، ہلکی پھلکی ورزش یا سانسوں کی مشقیں انسان کے جسم میں نئی توانائی پیدا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر اکثر کہتے ہیں کہ "حرکت میں برکت ہے"۔ ورزش دراصل جسم کے نظام کو قدرتی طور پر متوازن رکھتی ہے اور بہت سی بیماریوں کو آنے سے پہلے روک دیتی ہے۔ 

مسکراہٹ — خوشی کا راز
 ایک سادہ سی مسکراہٹ بھی دوا ہے۔ جب آپ مسکراتے ہیں تو دماغ میں خوشی کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ کم کرتے ہیں۔ ایک مسکراہٹ نہ صرف آپ کے لیے بلکہ آپ کے آس پاس کے لوگوں کے لیے بھی راحت کا باعث بنتی ہے۔ کسی بیمار چہرے پر مسکراہٹ واپس لانا دراصل اس کے دکھ کا نصف علاج ہے۔ گہری 

نیند — جسم و روح کا آرام
 ایک اور مفت مگر قیمتی دوا نیند ہے۔ مناسب اور گہری نیند جسم کو آرام دیتی ہے، ذہن کو سکون بخشتی ہے، اور روزمرہ کی تھکن دور کرتی ہے۔ بے خوابی نہ صرف اعصاب کو کمزور کرتی ہے بلکہ کئی ذہنی و جسمانی امراض کی جڑ بھی بن جاتی ہے۔ لہٰذا وقت پر سونا، پر سکون ماحول میں نیند لینا خود ایک شفا ہے۔ 

گھر والوں کے ساتھ کھانا — محبت کا ذائقہ
 اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت اب کم ہوتی جا رہی ہے، مگر یہ بھی ایک دوا ہے۔ جب آپ اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں تو اس لمحے کی محبت، گفتگو، اور قربت انسان کو اندر سے مضبوط کرتی ہے۔ یہ تعلقات کو گہرا اور دلوں کو قریب کرتی ہے۔ 

پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا — روح کی غذا
 انسان صرف جسم نہیں، احساسات اور جذبات کا مجموعہ بھی ہے۔ اپنے دوستوں، بچوں، والدین یا شریکِ حیات کے ساتھ وقت گزارنا دل کو خوشی دیتا ہے، ذہنی دباؤ کم کرتا ہے، اور زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔ محبت، خلوص، اور قربت ایسی دوائیں ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں۔ 

 دیکھا جائے تو زندگی میں ایسی بہت سی دوائیں موجود ہیں جنہیں ہم مفت میں حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے نہ ڈاکٹر کی پرچی چاہیے، نہ لمبی قطاریں، نہ مہنگی فیسیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان مفت دواؤں کی قدر کریں اور انہیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ ورزش، مسکراہٹ، نیند، خاندانی محبت، اور اچھا وقت  یہ سب قدرت کی طرف سے ہمیں عطا کردہ وہ نعمتیں ہیں جو ہمارے جسم و روح کو تندرست رکھتی ہیں۔ اگر ہم ان پر عمل کریں تو شاید اسپتالوں کی قطاریں چھوٹی ہو جائیں اور دلوں کی مسکراہٹیں بڑھ جائیں۔ 

منگل، 21 اکتوبر، 2025

روح، نفس جسم



 انسان صدیوں سے یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ زندگی کے اندر وہ کون سی قوت ہے جو مردہ مادے میں حرکت پیدا کر دیتی ہے؟ وہ کون سی روشنی ہے جو جسم کو احساس، سوچ اور شعور عطا کرتی ہے؟ مذہب اسے "روح" کہتا ہے، سائنس اسے "زندگی کی توانائی" کہہ کر خاموش ہو جاتی ہے، اور فلسفہ اسے ایک ماورائی حقیقت قرار دیتا ہے۔ لیکن قرآن مجید اس سوال کا ایک مختلف، متوازن اور پر سکون جواب دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
 "وہ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے، اور تمہیں علم میں سے بہت کم دیا گیا ہے۔" (الاسراء: 85)
 یہ آیت نہ صرف انسان کی محدود عقل کو یاد دلاتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ روح کوئی مادی چیز نہیں — یہ ایک "امرِ الٰہی" ہے، یعنی وہ قوت جو صرف اللہ کے حکم سے کام کرتی ہے۔ روح کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ قرآن اسے ہمیشہ زندگی کے آغاز، یعنی "حیات" سے جوڑتا ہے۔ جب آدمؑ کو مٹی سے بنایا گیا تو اللہ نے فرمایا: 
 "جب میں اسے درست کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم سب سجدہ کرو۔" (الحجر: 29)
 یہ "نفخِ روح" دراصل وہ لمحہ ہے جب ایک جامد جسم زندہ وجود میں بدل گیا — یہی لمحہ انسانیت کی ابتدا ہے۔ 
 دوسری طرف قرآن "نفس" کا ذکر اس وقت کرتا ہے جب انسان اپنی ذات، اپنی خواہشات، اپنے ارادوں اور اپنے
 ضمیر سے جڑا ہوتا ہے۔ کبھی یہ نفس 
"برائی پر اکسانے والا"
ہوتا ہے — "إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ" (یوسف: 53)،
 کبھی وہ "ملامت کرنے والا ضمیر" بنتا ہے — "النَّفْسِ اللَّوَّامَةِ" (القیامہ: 2)،
 اور کبھی وہ سکون کی معراج پر جا پہنچتا ہے — "يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ" (الفجر: 27)۔ 
 یوں "روح" اور "نفس" ایک ہی وجود کے دو پہلو ہیں: روح وہ قوت ہے جو ہمیں زندگی دیتی ہے، اور نفس وہ مرکز ہے جو طے کرتا ہے کہ ہم اس زندگی کو کیسے گزاریں گے۔ روح آسمان سے آئی روشنی ہے، نفس زمین پر جلتی ہوئی وہ شمع ہے جو کبھی طوفان میں بجھ جاتی ہے، کبھی صبر سے مضبوط ہو جاتی ہے۔ فلاسفہ نے اس کو اپنے انداز میں سمجھنے کی کوشش کی۔
 ابن سینا نے کہا، "روح جسم سے الگ ایک لطیف جوہر ہے جو اس سے جڑا تو ہے مگر اس میں قید نہیں۔" 
 امام غزالی نے فرمایا، "روح ملکوتی ہے اور نفس حیوانی۔ جب نفس کو پاک کیا جائے تو وہ روح کے تابع ہو جاتا ہے۔" 
 صوفیاء کے نزدیک روح خدا کی طرف سے آنے والی روشنی ہے، اور نفس اس روشنی کا انسانی عکس — اگر عکس صاف ہو تو روشنی واضح دکھائی دیتی ہے۔ قرآن ان دونوں میں توازن سکھاتا ہے۔ نہ روح کو سمجھنے میں غلو کی اجازت دیتا ہے، نہ نفس کی خواہشات کے پیچھے اندھی تقلید کی۔ یہی وہ توازن ہے جو اسلام کو نہ صرف مذہب بلکہ ایک مکمل فکری نظام بناتا ہے۔
 آج جب دنیا سائنسی ترقی کے باوجود "انسانی شعور" کی اصل کو نہیں سمجھ سکی، تو قرآن کا یہ پیغام اور بھی واضح ہو جاتا ہے:
 انسان کا جسم مٹی سے بنا ہے، مگر اس کی اصل شناخت اُس "امرِ الٰہی" سے ہے جو اسے زندگی دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے کہا — "روح میرے رب کے حکم سے ہے" — تاکہ انسان یاد رکھے کہ وہ مٹی کا بھی ہے اور نور کا بھی۔ روح کے بغیر انسان جسم ہے، مگر نفس کے بغیر وہ شعور نہیں۔ روح زندگی دیتی ہے، نفس سمت۔ دونوں کا امتزاج ہی "انسان" کہلاتا ہے — ایک ایسا وجود جو زمین پر چلتا ہے مگر اس کی جڑیں آسمان میں پیوست ہیں۔

دو حکمران، حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کی کہانی



دو حکمران، حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کی کہانی

تاریخِ انسانیت کے اوراق پر کچھ نام ایسے ہیں جن کی حکمرانی صرف زمین پر نہیں بلکہ دلوں اور ذہنوں پر بھی چھائی رہی۔ انہی میں سے دو درخشاں نام ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس — دو مختلف دنیاؤں کے حکمران، مگر ایمان کی ایک ہی روشنی میں جڑے ہوئے۔

نبوت اور بادشاہت کا حسین امتزاج
حضرت سلیمانؑ کو اللہ نے ایسی بادشاہت عطا کی جو کسی اور کو نہ ملی۔
ان کے تابع جنات، پرندے، ہوائیں اور انسان سب تھے۔
ان کی سلطنت بیت المقدس سے لے کر شام، اردن، عراق اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔
یہ حکومت صرف طاقت کی نہیں بلکہ عدل، علم اور روحانیت کی بنیاد پر قائم تھی۔
وہ نہ صرف ایک نبی تھے بلکہ ایک فلسفی بادشاہ بھی — جن کی عدالت میں مخلوقات کی زبانیں سمجھی جاتی تھیں۔

یمن کی رانی — عقل و حکمت کی علامت
ادھر عرب کے جنوبی خطے یمن میں قومِ سبا کی حاکم ملکہ بلقیس تھیں۔
ان کا نام دولت، نظم و نسق، اور تعمیر و تجارت کا استعارہ تھا۔
ان کے دور میں سدّ مآرب تعمیر ہوا — ایک عظیم ڈیم جس نے ان کے ملک کو زراعت اور خوشحالی میں بے مثال بنا دیا۔
ان کی سلطنت حجاز سے بحرِ عرب، اور حبشہ سے عمان تک پھیلی ہوئی تھی۔
عورت کی قیادت میں ایک کامیاب، منظم اور ترقی یافتہ ریاست — یہ خود تاریخ کا انوکھا باب تھا۔

شورائی نظام — جمہوریت کی ابتدائی شکل
بلقیس کی حکومت مطلق العنان بادشاہت نہیں تھی۔
وہ فیصلوں میں درباریوں سے مشورہ کرتی تھیں۔
قرآنِ مجید سورۃ النمل میں ان کے الفاظ ہیں:
“اے سردارو! میرے معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی کام کا فیصلہ تمہارے مشورے کے بغیر نہیں کرتی۔”
یہ جملہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی حکومت شورائی نظام پر قائم تھی
ایک ایسا نظام جو آج کی جمہوریت کے اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔
طاقت کے بجائے عقل، اور تلوار کے بجائے تدبر — یہی ان کی سیاست کی بنیاد تھی۔

 سورج  پرستی سے ربّ تک کا سفر
قرآن بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے لشکر کا پرندہ ہدہد جب سبا کی خبر لایا تو بتایا کہ وہاں کی قوم سورج کی پوجا کرتی ہے۔
حضرت سلیمانؑ نے بلقیس کو ایک خط لکھا — ایمان کی دعوت کے ساتھ۔
انہوں نے جواب میں نہ غرور دکھایا، نہ انکار کیا۔
بلکہ مشورہ کیا، سوچا، اور آخرکار خود بیت المقدس حاضر ہوئیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں عقل نے ایمان سے ملاقات کی۔

شیشے کا محل — بصیرت کی کرن
قرآن کے مطابق جب بلقیس حضرت سلیمانؑ کے شیشے کے فرش والے محل میں داخل ہوئیں،
تو اسے پانی سمجھ کر اپنی پنڈلیاں اٹھا لیں۔
اس لمحے ان پر حقیقت آشکار ہوئی،
اور ان کے دل سے غرور کی چادر ہٹ گئی۔
انہوں نے کہا:
“میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اور اب میں سلیمان کے ساتھ ربّ العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔”
(سورۃ النمل: 44)
یہ اعلان صرف ایک ایمان کا اقرار نہیں تھا، بلکہ ایک عقلی انقلاب تھا 
جہاں سورج پرست عقل، توحید کی روشنی میں منور ہو گئی۔

سلیمانؑ اور بلقیس — ایک روحانی رشتہ
قرآن میں ان کی شادی کا صریح ذکر نہیں،
مگر کئی اسلامی اور حبشی روایات کے مطابق حضرت سلیمانؑ نے بلقیس سے نکاح فرمایا۔
بعض روایات کے مطابق وہ کچھ عرصہ بیت المقدس میں رہیں،
پھر واپس یمن گئیں اور ایمان کی روشنی پھیلانے میں مصروف ہو گئیں۔
حبشہ کے شاہی خاندان نے خود کو انہی کی نسل سے منسوب کیا 
ایک نسبت جو آج بھی روحانی فخر کا نشان ہے۔

مذہبی، سیاسی اور انسانی سبق
حضرت سلیمانؑ اور بلقیس کی داستان مذہب، سیاست اور انسانیت کے ملاپ کی روشن مثال ہے۔
سلیمانؑ کی حکومت یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت جب وحی کے تابع ہو تو عدل قائم ہوتا ہے۔
اور بلقیس کی حکمرانی یہ سکھاتی ہے کہ عقل، علم اور مشاورت اقتدار سے زیادہ مضبوط بنیاد رکھتے ہیں۔
یہ دونوں شخصیات اپنے عہد سے آگے کی سوچ رکھنے والے حکمران تھے 
جنہوں نے روحانیت کو سیاست کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا۔

حکومت مٹ جاتی ہے پالیسی یاد رہتی ہے
وقت کی گرد نے سلیمانؑ اور بلقیس کی سلطنتوں کے آثار مٹا دیے،
مگر ان کی دانائی اور ایمان آج بھی زندہ ہیں۔
یہی اس کہانی کا اصل پیغام ہے 
ہر حکومت مٹ جاتی ہے، مگر عدل، عقل اور ایمان ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
 “اقتدار کی اصل بنیاد ایمان اور بصیرت ہے، نہ کہ تخت و تاج”