پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بعض سیاست دان عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض طاقت کے مراکز کے قریب ہونے کو اپنی سیاسی قوت سمجھتے ہیں۔ پہلے طبقے کو ووٹ، جلسوں اور عوامی حمایت سے اپنی حیثیت منوانا پڑتی ہے، جبکہ دوسرے طبقے کی سیاست کا نمایاں حوالہ ان کے روابط، دعوے اور مقتدر حلقوں تک رسائی ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کردار بدلتے رہتے ہیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ پاکستان میں اصل سیاسی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں یا اقتدار کے پسِ پردہ موجود قوتیں؟
پیر پگاڑا مرحوم مردان علی شاہ، شیخ رشید احمد اور فیصل ووڈا تین مختلف مزاجوں کے سیاست دان ہیں، لیکن ان کے سیاسی تذکروں میں طاقت کے مراکز سے قربت کا حوالہ نمایاں رہا ہے۔ پیر پگاڑا کی سیاست کا اپنا تاریخی پس منظر تھا۔ ان کی شخصیت، خاندانی روایت اور سیاسی روابط ایک مخصوص تاریخی ماحول میں پروان چڑھے۔ شیخ رشید نے بھی ایک زمانے میں فوجی قیادت سے قربت کے حوالے سے اپنی سیاسی شناخت بنائی، تاہم جب انہوں نے خود کو فوج کا نمائندہ قرار دینے کا دعویٰ کیا تو ان کے بقول فوجی ہیڈکوارٹر کے دروازے ان پر بند ہو گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے قریب ہونے کا تاثر اور طاقت کی حقیقی نمائندگی دو الگ باتیں ہیں۔
فیصل ووڈا صاحب کا معاملہ بھی اسی تناظر میں قابلِ غور ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ اٹھا کر لانے کے واقعے نے انہیں خاصی شہرت دی۔ اب ان کی پریس کانفرنس میں نظام کو ”ری بوٹ“ کرنے کی بات سامنے آئی تو سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ بوٹ سے شہرت حاصل کرنے والے سیاست دان کا ری بوٹ کی اصطلاح استعمال کرنا اپنی جگہ دلچسپ ہے، لیکن اصل سوال الفاظ کے انتخاب کا نہیں، اس سیاسی طرزِ عمل کا ہے جس میں بعض شخصیات اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے خود کو طاقت کے مراکز سے قریب دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔
فیصل ووڈا صاحب کی حالیہ گفتگو کے حوالے سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ جب ملک میں پارلیمان، حکومت، صدرِ مملکت اور متعلقہ ریاستی ادارے موجود ہیں تو نظام کی تبدیلی یا کسی غیر معمولی انتظامی اقدام کے بارے میں سیاسی اعلان کرنے کی ضرورت اور اختیار کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ اگر کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کا معاملہ ہو تو اس کے لیے آئینی طریقۂ کار موجود ہے۔ پارلیمان، وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت کے اپنے اپنے آئینی کردار ہیں۔ متعلقہ فیصلے انہی اداروں کے مقررہ دائرۂ اختیار میں ہونے چاہئیں، نہ کہ کسی غیر سرکاری سیاسی اعلان سے ان کی جگہ لی جا سکتی ہے۔
ریاستی نظام کسی ٹی وی پروگرام، پریس کانفرنس یا کسی ایک شخصیت کے بیان سے نہیں چلتا۔ اس کے لیے آئین، قانون اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی پابندی ضروری ہے۔ اگر کسی سیاسی رہنما کے پاس کوئی مستند اطلاع ہے تو اسے مناسب فورم پر پیش کرنا چاہیے، اور اگر وہ کسی ممکنہ تبدیلی کا محض تاثر دے رہا ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اس کی بات کی بنیاد کیا ہے۔ سیاست میں مبہم اشارے بعض اوقات شہ سرخیاں تو بن جاتے ہیں، لیکن ان سے عوام کے ذہنوں میں غیر ضروری قیاس آرائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس طرزِ سیاست کے مقابلے میں عوامی مقبولیت کی ایک دوسری روایت بھی موجود ہے۔ حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان مختلف ادوار اور مختلف سیاسی نظریات کے نمائندے ہیں، مگر ان سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر براہِ راست عوامی حمایت کو اپنی سیاست کا اہم ستون بنایا۔ ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان کے نام عوامی جلسوں، انتخابی معرکوں، سیاسی تحریکوں اور اجتماعی یادداشت کا حصہ بنے۔
عوامی مقبولیت بھی کسی رہنما کو ہر غلطی سے مبرا نہیں کرتی، جس طرح مقتدر حلقوں سے قربت کسی سیاست دان کی ہر بات کو غلط ثابت نہیں کرتی۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ کون آئینی حدود کا احترام کرتا ہے، کون عوام کے مسائل حل کرتا ہے، کون اپنے فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور کون سیاست کو محض ذاتی تشہیر کا ذریعہ بناتا ہے۔
آج عمران خان اور شہباز شریف دو مختلف سیاسی راستوں کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے بیانیے اور عوامی حمایت کے ذریعے روایتی سیاسی بندوبست کو چیلنج کیا، لیکن ان کی سیاست کے ساتھ تنازعات، قانونی مقدمات اور سزاؤں کا باب بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مقدمات اور سزاؤں کے بارے میں سیاسی و قانونی اختلافات اپنی جگہ، تاہم کسی بھی رہنما کی تاریخ مرتب کرتے وقت اس کی مقبولیت کے ساتھ اس کے فیصلوں اور ان کے نتائج کا جائزہ لینا بھی ضروری ہو گا۔
دوسری طرف شہباز شریف کی شناخت انتظامی سرگرمی، منصوبوں کی رفتار اور عملی حکمتِ عملی سے وابستہ رہی ہے۔ ان کے حامی ان کی انتظامی صلاحیت کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کے طرزِ حکمرانی اور سیاسی فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بین الاقوامی شخصیات کی جانب سے تعریف کسی رہنما کے لیے سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن ملکی سیاست میں اس کی اصل قدر کا تعین عوامی فلاح، معاشی بہتری، حکمرانی کے معیار اور اداروں کی مضبوطی سے ہونا چاہیے۔
ان دونوں رہنماؤں کے بارے میں تاریخ کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ یہ فیصلہ محض نعروں، جلسوں، پریس کانفرنسوں یا بیرونی شخصیات کی تحسین سے نہیں ہو گا۔ وقت کے ساتھ یہ دیکھا جائے گا کہ کس نے ملک کو کیا دیا، کس نے اداروں کو کتنا مضبوط کیا اور کس کی سیاست نے عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کی۔
فیصل ووڈا صاحب کے لیے بھی اس بحث میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔ سیاست میں کسی طاقتور شخصیت کے قریب ہونے کا تاثر وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتا ہے، مگر مستقل سیاسی شناخت کے لیے اپنا موقف، عوامی اعتماد اور عملی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ شیخ رشید کے سیاسی تجربے سے سبق لینے کا مشورہ دینے والے ان کے دشمن نہیں، بلکہ ممکن ہے وہ انہیں اس راستے کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہتے ہوں جس میں سیاسی حیثیت اپنے دعووں کے بجائے دوسروں کی طاقت سے اخذ کی جاتی ہے۔
نظام کو ری بوٹ کرنے کی بات کرنا آسان ہے، لیکن کسی نظام کو بہتر بنانا محض ایک اصطلاح دہرانے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے آئینی بالادستی، شفاف طرزِ حکمرانی، جواب دہی اور عوامی اعتماد ضروری ہیں۔ کمپیوٹر کا نظام خراب ہو تو بٹن دبا کر دوبارہ چلایا جا سکتا ہے، مگر ریاست کا نظام محض ری بوٹ سے درست نہیں ہوتا؛ اس کی خرابیوں کی تشخیص، ذمہ داروں کا تعین اور اصلاح کی سنجیدہ کوشش درکار ہوتی ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے : سیاست میں کامیابی طاقت کے قریب ہونے میں ہے یا عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں؟ شاید وقتی اقتدار کے لیے پہلی راہ زیادہ آسان دکھائی دے، لیکن دیرپا سیاسی شناخت کے لیے دوسری راہ زیادہ پائیدار ہے۔ بوٹ سے شہرت حاصل کی جا سکتی ہے، ری بوٹ کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے، مگر تاریخ میں وہی سیاست دان زندہ رہتے ہیں جن کی پہچان کسی طاقتور دروازے تک رسائی نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد اور اپنے عمل سے قائم ہوتی ہے۔
