بدھ، 31 دسمبر، 2025

نیا سال مبارک



 نیا سال مبارک 

 بچپن، جب نئے سال پر نئی جنتری آتی تھی۔ اس کے اندر درج نجومیوں کی خوشگوار پیش گوئیاں۔ بارشیں وقت پر ہوں گی، فصلیں اچھی ہوں گی، قوم ترقی کرے گی۔ ہم شوق سے پڑھتے تھے اور دل ہی دل میں خوش ہوتے تھے۔ مگر 2025 کے اختتام تک آتے آتے علمِ نجوم ہی اس صدی کی پہلی ربع میں مردود ٹھہر گیا۔ اب نہ بانس باقی رہا، نہ اس سے خوشگوار سر والی بنسری بن سکی۔ انسان اب تقدیر نہیں، دلیل مانگتا ہے۔

یہ ربع صدی دراصل رسیدوں اور ثبوتوں کا شور شور میں گذری۔ اب کسی بات پر یقین کرنا کافی نہیں رہا، ہر دعوے کے ساتھ حوالہ، ڈیٹا اور ثبوت چاہیے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ انسان اپنے خالق کو بھی دیکھنے پر اصرار نہیں کرتا، بلکہ خوردبین میں اس کے ڈی این اے کا ثبوت مانگتا ہے۔ ایمان، تجربہ بن گیا ہے اور یقین، ثبوت کا محتاج۔

 ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف نہیں بڑھا جا سکتا، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جیسے ماضی ہی میں زندہ ہیں۔ اس ربع صدی میں بنگلہ دیش اور برازیل جیسے ممالک غربت کی دلدل سے نکلتے دکھائی دیے۔ ہم جان بوجھ کر چین اور انڈونیشیا کا ذکر نہیں کر رہے، کہ وہ تو کام کے دھنی ہیں، مثالیں دینا آسان ہے، اپنانا مشکل۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا بابا بھی “کام، کام اور کام” کی دہائی دیتے دیتے فردوس میں جا بسا۔ نہ ہم نے اس کی زندگی میں اس کی بات سنی، نہ اس کے جانے کے بعد۔

اعداد و شمار بھی کبھی کبھی طنز بن جاتے ہیں۔ سال 2000 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 14 کروڑ تھی۔ 31 دسمبر 2025 کو یہ تعداد 24 کروڑ کے عدد کو عبور کر چکی۔ ہمیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہم کسی نہ کسی “فرمان” پر تو پوری دیانت سے عمل پیرا رہے ہیں۔

عالمی منظرنامہ دیکھیں تو اس ربع صدی میں ڈیڑھ ارب انسان غربت کی لکیر سے نکل کر ہموار زمین پر آ کھڑے ہوئے۔ پاکستان میں کیا ہوا، بتانے کی بات نہیں، محسوس کرنے کی ضرور ہے۔ 

اسی دوران جنریشن گیپ ایک خاموش زلزلے کی طرح بڑھتا چلا گیا۔ سوچ، زبان، ترجیحات اور اقدار — سب میں فاصلہ۔ اس کے ہمارے سماج پر کیا اثرات ہیں؟ شاید ہمارے پاس اس پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں۔ ہم فوری ردعمل کے عادی ہو چکے ہیں، گہرے سوالوں کے نہیں۔

اس ربع صدی کا سب سے بڑا واقعہ پاک بھارت عسکری ٹکراؤ تھا، جس نے چند گھنٹوں میں زمینی حقائق بدل کر رکھ دیے۔زمینی حقائق بدلنے کے مواقع ہمیں پہلے بھی ملتے رہے ہیں۔ ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا، یہ سب کے سامنے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بار کیا اس نوخیز بیج سے واقعی پودا اگے گا؟ کیا یہ سرسبز ہو کر اگلی ربع صدی تک امن، ترقی اور “جیو اور جینے دو” کا پھل دے سکے گا؟

انتظار بہت ہے، مگر ناامیدی نہیں۔ اس لیے نہیں کہ حالات روشن ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں ناامیدی سے منع کیا گیا ہے۔ شاید یہی واحد سرمایہ ہے جو اب بھی ہمارے پاس سلامت ہے۔

نیا سال مبارک — اس امید کے ساتھ کہ ہم اس بار محض کیلنڈر نہیں بدلیں گے، رویے بھی بدلیں گے۔

پیر، 29 دسمبر، 2025

کائنات کی حقیقت — خدا


 کائنات کی حقیقت — خدا
کائنات کے اس بے کنار تناظر میں، جہاں ستارے خاموش ہیں مگر روشنی بولتی ہے، جہاں رات پھیلی ہوتی ہے مگر اس کے سینے میں کہکشائیں دھڑکتی ہیں— وہیں ایک سوال صدیوں سے انسان کے دل پر دستک دیتا ہے: یہ سب کس کے اشارے پر چل رہا ہے؟
یہ سوال نہ قدیم ہے، نہ جدید؛ یہ انسان کی پیدائش کے ساتھ پیدا ہوا اور اس کے آخری سانس تک اس کے ساتھ رہتا ہے۔
اللہ— وہ ذات جسے لفظوں میں باندھنا ممکن نہیں۔
جس کا کوئی شریک نہیں، جس کی کوئی مثال نہیں، جس کا آغاز بھی نہیں، جس کا انجام بھی نہیں۔
وہی خالق ہے، وہی ربّ العالمین، وہی وہ نور ہے جس سے کائنات کا ہر ذرّہ روشن ہے۔
سورۃ الاخلاص کی چار آیات اس معرفت کو یوں بیان کرتی ہیں جیسے آسمان اپنی وسعت کو ایک بند مٹھی میں سمیٹ لے:
"اللّٰهُ أَحَدٌ… لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
"
یہ آیات نہیں، ایک دریچہ ہیں جس سے انسان کو اپنی مخلوقی حقیقت کا احساس ہوتا ہے۔
کائنات کو دیکھیں تو اُس کی تحریر کا ہر صفحہ کسی عظیم مصنف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
صبح کے آسمان میں پھٹتی ہوئی روشنی، شام کے افق پر بکھرتا ہوا گلابی سکوت، سمندر کی موجوں میں چھپا ہوا غیر مرئی ضبط، پہاڑوں کے چہروں پر کندہ ابدیت… یہ سارے منظر اپنے اندر ایک ہی آواز رکھتے ہیں:
کوئی ہے۔
سائنس کہتی ہے کہ ہر نظم کے پیچھے کوئی ذہانت ہوتی ہے۔
اور کائنات تو نظموں کا ایک ایسا ہاتھ سے لکھا ہوا دیوان ہے جس کا ہر ورق حیرت سے لبریز ہے۔
زمین کی گردش اگر لمحہ بھر سست ہو جائے تو زندگی بجھ جائے، سورج کی حرارت اگر ذرّے بھر بڑھ جائے تو زمین پگھل جائے۔
یہ سب کچھ حادثات کی بھول بھلیاں نہیں، بلکہ ایک ایسی نگہبانی میں چل رہا ہے جو مسلسل اور ابدی ہے۔
انسان کو دیکھیں—
جسم کے اندر چلنے والا خاموش کارخانہ، دل کی دھڑکن کا راز، دماغ کی برقی روشنیوں کا جال، خون کے اندر سفر کرتی زندگی…
یہ سب ایک ایسی صناعی ہے جس کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی انجینئرنگ بھی بچے کا ہنر معلوم ہوتی ہے۔
DNA 
کا کوڈ ایسے ہے جیسے ربّ نے انسان کے وجود پر اپنا دستخط کر دیا ہو۔
قرآن کہتا ہے:
"لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ"
اور انسان جب دنیا کی ہر شے کو کسی نہ کسی شے سے تشبیہ دیتا رہا، تو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ خدا کو کسی مثال کی ضرورت نہیں۔
وہ مثالوں سے پاک ہے، مگر ہر مثال اسی سے پیدا ہوتی ہے۔
جب سائنس نے فلکیات کو کھنگالا تو اسے لگا کہ وہ خدا کو چیلنج کرے گی۔
لیکن جب اس نے کائنات کا پھیلنا دریافت کیا تو یہ آیت سامنے آئی:
"وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ"
جب اس نے بگ بینگ کی گونج سنی تو قرآن نے کہا:
"رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا"
گویا علم نے جوں جوں کائنات کی پرتیں کھولیں، وہ خود گواہی دیتا چلا گیا کہ تخلیق کے پیچھے ایک ارادہ، ایک نظم، ایک مقصد موجود ہے۔
انسان کا دل بھی عجیب ہے۔
عقل لاکھ انکار کرے، مگر دل ایک لمحے کو بھی خدا سے خالی نہیں رہ سکتا۔
تنہائی میں، رات کے سناٹے میں، جب لفظ ختم ہو جاتے ہیں اور سانسیں بھی ہولے ہولے چلتی ہیں، انسان بے ساختہ کہتا ہے:
"یا اللہ…"
اور عجب سکون اترتا ہے— ایسا سکون جس کی کوئی سائنسی توجیہ نہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایمان دلیل سے آگے بڑھ کر تجربہ بن جاتا ہے۔
اللہ کو پہچاننے کے چار راستے ہیں:
کائنات، عقل، وحی اور دل۔
چاروں راستے الگ الگ دکھائی دیتے ہیں مگر سچائی تک پہنچ کر ایک ہی نقطے میں گم ہو جاتے ہیں—
خدا ہے۔
اور وہی سب کچھ چلا رہا ہے۔
جو بارش برساتا ہے وہی آنسو پونچھتا ہے۔
جو کہکشاؤں کو تھامے ہوئے ہے وہی بچے کے دل میں پہلی دھڑکن رکھتا ہے۔
جو پہاڑوں کو جمائے رکھتا ہے وہی انسان کی ہمت میں استقامت پیدا کرتا ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی علم ہے، وہی طاقت ہے، وہی رحمت ہے۔
دنیا کی سائنسی ترقی انسان کو آسمانوں تک لے گئی، مگر خدا کے دروازے تک جانے کا راستہ پھر بھی دل کے اندر سے گزرتا ہے۔
خدا کی تلاش باہر کم اور اندر زیادہ ہوتی ہے۔
آخر کار ہر نظریہ، ہر فلسفہ، ہر تجربہ ایک ہی صداقت پر ٹھہر جاتا ہے:
"اللّٰهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"
وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اور یہی کائنات کی سب سے بڑی، سب سے گہری اور سب سے روشن حقیقت ہے۔

انسانی رویّے

  انسانی  رویّے

انسانی معاشرے میں اختلاف ایک فطری حقیقت ہے، مگر اس اختلاف کا اظہار کس انداز میں کیا جاتا ہے، یہی کسی فرد اور قوم کے فکری و اخلاقی معیار کا تعین کرتا ہے۔ تاریخ اور روزمرہ زندگی دونوں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اختلاف کے جواب میں عموماً تین رویّے سامنے آتے ہیں: علمی دلائل، بدزبانی، اور جسمانی تشدد۔ یہ تینوں دراصل شعور کے مختلف درجوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
علمی دلائل اختلاف کا اعلیٰ اور مہذب طریقہ ہیں۔ اس میں انسان عقل، علم اور دلیل کے ذریعے اپنی بات پیش کرتا ہے اور دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ علمی مکالمہ سننے، سوال کرنے اور جواب دینے کا نام ہے، نہ کہ جیتنے یا نیچا دکھانے کا۔ اس رویّے میں دلیل کا وزن شخصیت پر نہیں بلکہ خیال پر ہوتا ہے۔ اسی لیے علم اور دلیل معاشروں کو جوڑتے ہیں، ادارے مضبوط کرتے ہیں اور فکری ارتقاء کا راستہ کھولتے ہیں۔ جہاں اختلاف دلیل سے کیا جائے وہاں اختلاف دشمنی میں نہیں بدلتا بلکہ سیکھنے کا موقع بن جاتا ہے۔
اس کے مقابل بدزبانی اس وقت جنم لیتی ہے جب دلیل کمزور پڑ جائے یا انسان میں صبر اور اخلاق کی کمی ہو۔ گالی، طعنہ، تضحیک اور تحقیر دراصل فکری شکست کا اعلان ہوتے ہیں۔ بدزبانی کا مقصد قائل کرنا نہیں بلکہ خاموش کرانا ہوتا ہے۔ یہ زبان کو ہتھیار بنا کر دوسرے کی عزتِ نفس کو نشانہ بناتی ہے۔ بدزبانی وقتی طور پر غصے کی تسکین تو دے سکتی ہے، مگر نہ حقیقت بدلتی ہے اور نہ دلائل۔ اس کے نتیجے میں مکالمہ ختم اور نفرت کا آغاز ہو جاتا ہے۔
تیسرا اور سب سے خطرناک رویّہ جسمانی تشدد ہے۔ جب زبان بھی ناکام ہو جائے اور دلیل کا دروازہ بند کر دیا جائے تو ہاتھ اٹھتے ہیں، لاٹھیاں چلتی ہیں اور خون بہتا ہے۔ جسمانی تشدد دراصل فکر کی موت اور اخلاق کی شکست ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ تشدد کے ذریعے وقتی طور پر خوف تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر نہ سوچ بدلی جا سکتی ہے اور نہ سچ دبایا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تشدد نے ہمیشہ ردِعمل، نفرت اور مزید بگاڑ کو جنم دیا ہے۔
ان تینوں رویّوں کا تقابلی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ علمی دلائل شعور کی بلندی، بدزبانی ذہنی کمزوری اور جسمانی تشدد اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہیں۔ جہاں علم بولتا ہے وہاں ہاتھ خاموش رہتے ہیں، اور جہاں ہاتھ بولنے لگیں وہاں عقل دفن ہو جاتی ہے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہے کہ وہاں اختلاف کو کس سطح پر نمٹایا جاتا ہے۔ اگر معاشرہ علمی دلائل کو فروغ دے تو اختلاف اصلاح بن جاتا ہے۔ اگر بدزبانی عام ہو جائے تو سماج زبانی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اگر جسمانی تشدد کو جواز مل جائے تو انسان اور انسانیت دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
آخرکار، اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کس سے اختلاف کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ **ہم اختلاف کیسے کرتے ہیں**۔ دلیل انسان کو انسان رکھتی ہے، زبان کی بدتہذیبی اسے چھوٹا کر دیتی ہے، اور تشدد اسے حیوانیت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ انتخاب ہر دور میں انسان کے ہاتھ میں رہا ہے—قلم، زبان یا لاٹھی؛ یہی انتخاب اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔

سوال کی اہمیت




سوال کی اہمیت
علم کا آغاز حیرت  سے ہوتا ہے ۔ حیرت سوال  پیدا کرتی ہے اور سوال جواب تلاش کرتا ہے۔ 
سوال اس کنجی کی مانند ہے جس کے بغیر علم کا قفل نہیں کھلتا۔ جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لیے غوطہ ضروری ہے، ویسے ہی علم تک پہنچنے کے لیے سوال کی جرات لازم ہے۔ جہاں سوال نہیں ہوتا، وہاں ذہن ٹھہر جاتا ہے اور شعور ساکت ہو جاتا ہے۔
یہ تصور کہ سوال ایمان کے خلاف ہے، خود دین کی روح کے منافی ہے۔ قرآن بار بار غور و فکر، تدبر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے—یہ سب سوال ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ انبیاءؑ کے سوال کمزوری نہیں تھے بلکہ علم اور یقین کی جستجو تھے۔ صحابہؓ نے بھی سوال کیے، اور رسولِ اکرم ﷺ نے سوال  کی کبھی حوصلہ شکنی نہیں کی ۔ 
بلکہ ایک شخص نے آ کر سوال کیا کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے خدا کہاں تھا یا پوچھا خدا کیا کر رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس سوال کا اطمینان بخش جواب دیا تھا۔ 
فلسفہ ہو یا سائنس، ہر بڑی پیش رفت کسی سوال سے شروع ہوئی۔ سقراط نے سوال اٹھا کر سوچ کو بیدار کیا، ارسطو نے سوال کر کے علم کو منظم کیا، اور مسلم مفکرین نے سوال کے ذریعے اندھیروں میں چراغ جلائے۔ ابن الہیثم کا سوال بصریات بنا، الخوارزمی کا سوال الجبرا، اور ابنِ سینا کا سوال فلسفہ و طب کی بنیاد۔
جدید سائنس بھی اسی روایت کی توسیع ہے۔ نیوٹن، گیلیلیو اور آئن اسٹائن—سب کے ہاں ایک سوال تھا جس نے کائنات کی نئی تعبیر پیش کی۔ انسان کی ہر علمی جستجو دراصل ایک سوال کی توسیع ہے۔
جس معاشرے میں سوال دبایا جائے، وہاں علم مر جاتا ہے۔ اچھا استاد وہ نہیں جو صرف جواب دے، بلکہ وہ ہے جو سوال پیدا کرے۔ سوال شعور کو حرکت دیتا ہے، اور شعور ہی علم کو زندہ رکھتا ہے
مختصر یہ کہ سوال زندہ ہے تو علم زندہ ہے؛ اور علم زندہ ہے۔
اللہ تعالی نے نبی اخرالزمان  ﷺ  پر وحی کا آغاز لفظ "اقراء" سے فرمایا تھا ۔ 

ہفتہ، 27 دسمبر، 2025

انسان اور جانور کے مابین مکالمہ




 بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔
اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ا آج سے  سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر  یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔
آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت  نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔
اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔  سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔
کبھی یہ محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
آج جانوروں کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔
اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ 
ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ 
 یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے آپ کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔

علم کا مستقبل



علم انسانی تہذیب کا بنیادی ستون ہے۔ انسانی ترقی، ایجاد، معاشرتی تنظیم اور فکری ارتقا کا ہر مرحلہ علم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ شعوری اور عقلی قوت ہے جو انسان کو سوال کرنے، دریافت کرنے اور حقیقت تک رسائی پانے کی صلاحیت دیتی ہے۔

علم کی تعریف

علم سے مراد حقیقت یا مظہر کا درست اور قابل اعتماد ادراک ہے، جو حواس، تجربہ، عقل و منطق، اور سماجی تعامل سے حاصل ہوتا ہے۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے، علم یقین ہے جو حقیقت کے مطابق ہو اور جس کی عقلی یا تجربی توجیہ موجود ہو۔

علم کی اقسام

  1. حاصل کردہ علم: مشاہدہ، تجربہ اور استدلال سے پیدا ہوتا ہے۔ سائنسی قوانین اور نظریات اس کی مثال ہیں۔ یہ علم ارتقائی، قابلِ تصحیح اور تجربے سے ثابت شدہ ہے۔

  2. عطا شدہ علم: ذہن کی بصیرت، وجدان اور تخلیقی جست سے جنم لیتا ہے۔ مثالیں: نیوٹن کا کششِ ثقل کا تصور، آئن اسٹائن کے تصوراتی تجربات۔ یہ علم تخلیق اور تخیل کی بنیاد ہے۔

علم اور انسانی آزادی

علم انسان کو فکری، سائنسی، سماجی اور معاشی آزادی دیتا ہے۔ یہ اخلاقی شعور، انصاف، مساوات اور قانون سازی کے لیے لازمی ہے۔ تخلیقی قوتیں اور سماجی ترقی علم کے بغیر ممکن نہیں۔

علم کی حدود اور مستقبل

انسانی حواس، ذہن اور زبان کے محدود دائرے علم کی حدود طے کرتے ہیں، مگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت، دماغ کی سائنسی تفہیم اور معلومات کے بڑھتے ہوئے وسائل انسانی علم کی نئی جہتیں قائم کریں گے۔

حاصل کلام

علم انسان کی بنیادی طاقت ہے۔ حاصل کردہ علم تجربے اور مشاہدے کی بنیاد ہے، جبکہ عطائی علم ذہنی بصیرت  کا آئینہ ہے۔ ان دونوں کا امتزاج ہی انسانی تہذیب، سائنسی ترقی اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ علم کے بغیر آزادی، تحقیق  اور ترقی ممکن نہیں، اور جدید دور میں یہ انسانی شعور اور سماجی استحکام کے نئے معیار قائم کرے گا۔


بدھ، 24 دسمبر، 2025



بھارت میں حال ہی میں ہونے والے ایک مناظرے میں، جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا، جاوید اختر صاحب نے حضرت عیسیٰؑ کی تاریخِ پیدائش کے دن پر سوال اٹھایا۔ ۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کے تحت یہ کالم لکھا جا رہا ہے، تاکہ جذبات کے بجائے تاریخ کی روشنی میں معاملے کو سمجھا جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ رومی سلطنت کے کسی سرکاری ریکارڈ میں حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا براہِ راست اندراج موجود نہیں، مگر پہلی صدی میں عام افراد کی ولادت کا باقاعدہ اندراج رائج ہی نہیں تھا۔ تاریخ اس طرح کے واقعات کو سیاسی حالات اور بعد کے معتبر متون کے ذریعے سمجھتی ہے، نہ کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر۔
انجیل متی اور لوقا دونوں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو بیت لحم سے جوڑتی ہیں۔ جس کو سب تسلیم کرتے ہیں
تاریخی لحاظ سے سب سے مضبوط حوالہ ہیرودیسِ اعظم ہے، جس کی وفات 4 قبل مسیح میں ثابت ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کو اسی کے دور سے جوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی پیدائش سن عیسوی کے آغاز سے پہلے ہوئی۔ اس سے اگر تاریخ پیدائش 25 دسمبر ثابت نہیں ہوتی تو کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے جو اس متفق مذہبی روائت  کی تردید کرے۔
لوقا میں مذکور مردم شماری پر اختلاف ضرور ہے، مگر اسے بنیاد بنا کرتریخ پیدائش کو متنازعہ بنانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
لہٰذا معاصر مناظرے میں اٹھایا جانے والا سوال علمی تحقیق کے سامنے ٹھہرتا نہیں۔ تاریخ کسی واقعے کو اس بنیاد پر رد نہیں کرتی کہ اس کی تاریخ کا دن معلوم نہیں، بلکہ شواہد کے مجموعی وزن سے فیصلہ کرتی ہے—اور مسیحی روایات میں 25 دسمبر تسلیم شدہ روائت ہے

ہفتہ، 20 دسمبر، 2025

"را" کی حقیقت





را" کی حقیقت"

سڈنی کا بونڈی بیچ، جہاں سمندر کی لہریں ہمیشہ آزادی اور خوشی کا پیغام دیتی ہیں، اچانک گولیوں کی آواز سے لرز اٹھا۔ حملہ ہوا، لاشیں گریں، اور آسٹریلیا جیسے محفوظ ملک میں یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں آیا: کیا یہ محض ایک جنونی فرد کی کارروائی تھی، یا اس کے پیچھے کوئی منظم، سرحد پار نیٹ ورک سرگرم تھا؟

آسٹریلین فیڈرل پولیس کی کمشنر کریسی بیریٹ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کھلے عام کہا کہ بونڈی واقعہ ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس میں چار بھارتی شہری ملوث پائے گئے ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سوال اٹھا کہ یہ واقعہ صرف سڈنی تک محدود ہے یا یہ اسی خاموش جنگ کی کڑی ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے نیٹ ورک سے جوڑی جا رہی ہے۔

قبل ازیں کینیڈا میں سکھ رہنما ہارڈیپ سنگھ نِجّار کے قتل کے بعد کینیڈین وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اس قتل کے تانے بانے بھارت کی سرکاری ایجنسی تک جا سکتے ہیں۔ امریکہ میں بھی ایک بھارتی شہری پر الزام لگا کہ وہ ایک سکھ رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، مبینہ طور پر "را" کے سابق اہلکار کی ہدایات پر۔

پاکستان کے اندر بھی صورتحال کم خطرناک نہیں۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ، بلوچستان میں بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں، اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ—ہر جگہ ایک ہی سایہ دکھائی دیتا ہے: بھارت کی ریاستی سرپرستی میں چلنے والے نیٹ ورک کی سرحد پار کارروائیاں۔

بلوچستان میں مسافر ٹرینوں کو نشانہ بنانا، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں پر حملے، اور عام شہریوں کا قتل—یہ سب وہ حربے ہیں جو کسی مقامی تحریک کے بس میں نہیں بلکہ سرکاری فنڈنگ، تربیت اور سرحد پار سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ افغانستان میں بھارتی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کا کردار برسوں سے سوالیہ نشان رہا ہے۔ یہی ماڈل بھارت نے بار بار استعمال کیا: پراکسیز بناؤ، پیسہ فراہم کرو، اور بعد میں انکار کر دو۔

بھارت کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں جرم کروایا جائے اور الزام کسی ہمسائے کے سر ڈال دیا جائے۔ کبھی پاکستان، کبھی چین، کبھی کسی داخلی گروہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی حکمت عملی کو مغربی دنیا میں بھی آزمایا گیا، مگر وہاں پہلی بار یہ کھیل الٹ پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

ایک اور خطرناک پہلو ہے: بھارتی سوشل میڈیا وار مشینری۔ یہ صرف جذباتی اکاؤنٹس کا ہجوم نہیں بلکہ ایک منظم، سرکاری نگرانی میں چلنے والا نیٹ ورک ہے۔ جعلی بیانیہ، من گھڑت ویڈیوز اور جھوٹے الزامات—یہ سب عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں جیسے ہی کوئی دہشت گردی ہوتی ہے، چند منٹوں کے اندر بھارتی سوشل میڈیا پر مکمل بیانیہ تیار ہو جاتا ہے۔

اب صورتِ حال یہاں تک آ پہنچی ہے کہ بھارتی سرکاری سرپرستی میں چلنے والا دہشت گرد نیٹ ورک صرف ہمسائیوں یا خطے کے لیے خطرہ نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ سڈنی، اوٹاوا، واشنگٹن، ڈھاکا، کوئٹہ—ہر جگہ ایک ہی نام ابھرتا ہے: "را"۔

یہ وقت ہے کہ ریاستی دہشت گردی کو ایک عالمی جرم تسلیم کیا جائے، اور "را" جیسے نیٹ ورک کے غلاف کو چاک کیا جائے۔ اگر دنیا آج بھی آنکھیں بند رکھے تو کل یہ آگ صرف پاکستان یا جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے گی۔

تاریخ گواہ ہے:
ریاستی دہشت گردی ہمیشہ آخرکار عالمی مسئلہ بن جاتی ہے۔


اسلام بمقابلہ جدید فکری بحران

جدید دنیا ایک عجیب فکری بحران سے گزر رہی ہے۔ معلومات کی فراوانی ہے مگر حکمت نایاب، آزادی کے نعرے ہیں مگر انسان اندر سے بے سمت، اور عقل کی بالادستی کا دعویٰ ہے مگر خود عقل اضطراب کا شکار ہے۔ انسان نے کائنات کو مسخر تو کر لیا ہے، مگر اپنے وجود کے سوال کا جواب کھو بیٹھا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جہاں اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک فکری متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔

جدید فکری بحران کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ علم کو اخلاق سے، عقل کو وحی سے، اور آزادی کو ذمہ داری سے الگ کر دیا گیا ہے۔ جدید انسان سب کچھ جاننا چاہتا ہے مگر یہ طے نہیں کر پایا کہ جاننے کے بعد جینا کیسے ہے۔ فلسفہ شک سکھاتا ہے، سائنس طاقت دیتی ہے، مگر یہ نہیں بتاتیں کہ اس طاقت کو کہاں اور کیوں استعمال کیا جائے۔ نتیجتاً انسان ذہنی طور پر ترقی یافتہ مگر اخلاقی طور پر منتشر نظر آتا ہے۔

اسلام اس بحران کا آغاز ہی سے مختلف زاویے سے جواب دیتا ہے۔ وہ عقل کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے وحی کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ اسلام میں عقل سوال کرتی ہے، مگر وحی سمت دیتی ہے۔ یہی توازن جدید دنیا میں مفقود ہے۔ یہاں یا تو عقل کو مطلق بنا دیا گیا ہے، یا مذہب کو عقل دشمن سمجھ کر دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اسلام اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا۔

اس فکری مکالمے کے مرکز میں رسولِ اکرم کی ذات کھڑی ہے۔ جدید دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں علم پڑھانے والے بہت ہیں مگر نمونہ بننے والے کم۔ نظریات گھڑے جاتے ہیں مگر ان پر جینے کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔ اس کے برعکس رسول اللہ کی شخصیت ایسی واحد مثال ہے جہاں تعلیم اور عمل کے درمیان کوئی خلا نہیں۔ انہوں نے جو کہا، پہلے خود کیا؛ جو سکھایا، خود جیا؛ اور جو دعوت دی، اس کی عملی تصویر بن کر دکھایا۔

افراد کی  تعلیم کچھ اور کہتی ہے، اورعمل بعض اوقات کچھ اور۔ یہی وہ نفاق ہے جو جدید انسان کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم اقدار پر لیکچر دیتے ہیں مگر خود ان کے بوجھ سے بھاگتے ہیں۔ اس کے مقابل رسول اللہ وہ واحد استاد ہیں جن کی تعلیم لفظاً، حرفاً، عملاً اور نیتاً ایک ہی حقیقت کا اظہار تھی۔ یہی چیز انہیں محض مذہبی رہنما نہیں بلکہ انسانیت کا سب سے بڑا معلم بناتی ہے۔

جدید فکری بحران کا ایک اور پہلو آزادی کا غلط تصور ہے۔ آج آزادی کو ہر حد سے بے نیاز ہو جانا سمجھا جاتا ہے، جبکہ اسلام آزادی کو شعور، اخلاق اور جواب دہی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے—ایمان لانے یا انکار کرنے کا اختیار—مگر اس اختیار کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ یہ توازن جدید فلسفہ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اسلام اور جدید دنیا کے درمیان اصل تصادم سائنس یا عقل پر نہیں، بلکہ انسان کے تصور پر ہے۔ جدید فکر انسان کو محض ایک حیاتیاتی وجود یا معاشی اکائی بنا دیتی ہے، جبکہ اسلام اسے اخلاقی، روحانی اور باشعور ہستی قرار دیتا ہے۔ یہی فرق جدید انسان کی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ وہ سب کچھ ہونے کے باوجود مطمئن نہیں، کیونکہ اس نے اپنے مقصدِ وجود کو نظرانداز کر دیا ہے۔

اسلام اس فکری بحران کا جواب کسی جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ایک زندہ نمونے کے ذریعے دیتا ہے—اور وہ نمونہ محمد ہیں۔ ان کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ علم کیسے جیا جاتا ہے، طاقت کیسے قابو میں رکھی جاتی ہے، اختلاف کیسے اخلاق کے دائرے  میں رہتا ہے، اور آزادی کیسے بندگی کے ساتھ ہم آہنگ 

کی جاتی  ہے۔ 

پروفیسر  احمد رفیق اختر کی کتاب سے ماخوذ  



کیا تاریخ خود کو دھرا رہی ہے






یہودیوں پر مظالم کے بنیادی اسباب کیا بیان کیے جاتے رہے


دوسرے مذاہب، ریاستوں اور معاشروں نے خود ان مظالم کے جواز کے طور پر کون سے دلائل پیش کیے


تاریخی طور پر ظلم کرنے والوں کی سوچ اور بیانیہ کیا تھا

یہ اضافہ کسی الزام تراشی کے بجائے تاریخی تجزیہ (historical analysis) کے اصول کے تحت کیا گیا ہے۔
یہودیوں پر مظالم کے اسباب: تاریخی تجزیہ اور ظلم کرنے والوں کا بیانیہ

یہودیوں پر ہونے والے مظالم محض اچانک نفرت یا وقتی غصے کا نتیجہ نہیں تھے، بلکہ ان کے پیچھے مذہبی تعبیرات، سیاسی ضرورتیں، معاشی مفادات اور سماجی خوف جیسے گہرے عوامل کارفرما رہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تقریباً ہر دور میں ظلم کرنے والوں نے اپنے اعمال کے لیے کوئی نہ کوئی اخلاقی، مذہبی یا سیاسی جواز پیش کیا۔
1. مذہبی تعصب اور عقائد کی غلط تعبیر

قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں عیسائی کلیساؤں کے زیرِ اثر یہ تصور عام کیا گیا کہ:

یہودی حضرت عیسیٰؑ کے قتل کے ذمہ دار ہیں


یہودی ”خدا کے نافرمان“ اور ”لعنت یافتہ قوم“ ہیں


یہودی مسیحی معاشروں کے لیے روحانی خطرہ ہیں

یہ نظریہ Church Doctrine کے ذریعے عام لوگوں میں پھیلایا گیا۔ چنانچہ جب یہودیوں پر حملے کیے گئے تو حملہ آور خود کو خدا کے غضب کا آلہ سمجھتے تھے، نہ کہ مجرم۔

➡️ Rhineland Massacres (1096) میں حملہ آور صلیبیوں کا مؤقف یہی تھا کہ


“جب تک مسیح کے قاتل زندہ ہیں، مقدس جنگ مکمل نہیں ہو سکتی۔”
2. وباؤں، آفات اور اجتماعی خوف کا الزام

جب معاشرے سائنسی شعور سے محروم تھے، تو وبائیں اور قدرتی آفات الٰہی سزا سمجھی جاتی تھیں۔

Black Death (1347–1351) کے دوران


یہودیوں پر کنوؤں میں زہر ملانے کا الزام لگایا گیا


اعترافات زبردستی تشدد کے ذریعے لیے گئے

➡️ Basel Massacre (1349) میں یہودیوں کو زندہ جلانے والوں کا مؤقف تھا کہ


“ہم شہر کو خدا کے عذاب سے پاک کر رہے ہیں۔”

یہ دراصل اجتماعی خوف (mass hysteria) کا مظہر تھا، جس میں اقلیت کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔
3. معاشی رقابت اور حسد

یہودیوں کو اکثر:

زمین رکھنے سے روکا گیا


سرکاری عہدوں سے محروم رکھا گیا

نتیجتاً وہ تجارت، مالیات اور قرض کے شعبوں تک محدود ہوئے۔

جب ریاستوں اور عوام کو:

قرض معاف کرنا ہوتا


یہودی املاک ضبط کرنی ہوتیں


یا معاشی بحران کا الزام ڈالنا ہوتا

تو یہودیوں کو نشانہ بنایا جاتا۔

➡️ 1492 Expulsion from Spain کے وقت شاہی مؤقف تھا کہ:


“یہودی سلطنت کی مذہبی و معاشی وحدت کے لیے خطرہ ہیں۔”

حقیقت میں یہ قرضوں کی معافی اور املاک پر قبضے کا ذریعہ بھی تھا۔
4. قومی شناخت اور “غیر ملکی” کا تصور

یہودی چونکہ:

اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے


الگ رسوم و رواج رکھتے


اکثریتی ثقافت میں مکمل طور پر مدغم نہیں ہوتے

اس لیے انہیں اکثر “اندرونی دشمن” (Internal Other) کہا گیا۔

➡️ جدید قوم پرست تحریکوں میں یہ دلیل دی گئی کہ:


“یہودی وفادار شہری نہیں بلکہ عالمی سازش کا حصہ ہیں۔”

یہی سوچ نازی جرمنی میں انتہائی شکل اختیار کر گئی۔
5. نازی بیانیہ: نسل، سائنس اور ریاستی پروپیگنڈا

ہولوکاسٹ کے دوران نازیوں نے ظلم کو محض نفرت نہیں بلکہ سائنسی اور ریاستی نظریے کے طور پر پیش کیا:

یہودیوں کو “کمتر نسل” قرار دیا گیا


یورپ کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا


انہیں جراثیم (parasites) سے تشبیہ دی گئی

➡️ نازی مؤقف کے مطابق:


“یہودیوں کا خاتمہ انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔”

یہ تاریخ کی بدترین مثال ہے کہ ریاستی طاقت جب تعصب سے مل جائے تو نسل کشی جنم لیتی ہے۔
6. مسلم دنیا اور جدید دور کے فسادات

کچھ جدید فسادات (جیسے Tripoli Pogrom 1967 یا Thrace Pogroms 1934) میں:

اسرائیل–عرب تنازع کو مقامی یہودیوں سے جوڑ دیا گیا


ریاستی کمزوری یا قوم پرستی نے تشدد کو ہوا دی

ظلم کرنے والوں کا بیانیہ تھا:


“یہودی دشمن ریاست کے نمائندے ہیں۔”

حالانکہ مقامی یہودی نسلوں سے ان معاشروں کا حصہ تھے۔
نتیجہ: تاریخ کا سبق

یہودیوں پر ہونے والے مظالم ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ:

تعصب ہمیشہ کسی نہ کسی اخلاقی جواز کے ساتھ آتا ہے


ظلم کرنے والا خود کو مجرم نہیں، نجات دہندہ سمجھتا ہے


جب علم، مکالمہ اور انصاف ختم ہو جائیں تو اقلیت سب سے پہلے نشانہ بنتی ہے

یہ تاریخ کسی ایک مذہب یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ انسانی کمزوریوں کے خلاف گواہی ہے۔






جمعہ، 19 دسمبر، 2025

روح بے چاری



"روح  ---"بے چاری

 انسان جب دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کوئی یادداشت نہیں ہوتی، مگر اس کے اندر ایک عجیب سی بے چینی ضرور ہوتی ہے۔ جدید نفسیات اسی بے چینی کو انسانی فطرت کا بنیادی سوال قرار دیتی ہے۔ مذہب اسے یادِ الست کہتا ہے اور نفسیات اسے innate awareness یا existential drive کا نام دیتی ہے۔ دونوں کی زبان الگ ہے، مگر اشارہ ایک ہی حقیقت کی طرف ہے۔

جدید نفسیاتی مطالعات بتاتے ہیں کہ انسان کچھ رجحانات سیکھ کر نہیں بلکہ لے کر آتا ہے۔ مثال کے طور پر خیر و شر کا ابتدائی احساس، انصاف کی جبلّت، اور کسی بالاتر معنی کی تلاش۔ یہی وجہ ہے کہ بچہ بغیر کسی تربیت کے ناانصافی پر ردِعمل دکھاتا ہے۔ یہ رویہ اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ انسانی شعور خالی تختی نہیں بلکہ ایک پہلے سے نقش شدہ ذہنی ساخت کے ساتھ وجود میں آتا ہے۔ یوں یومِ الست کا وعدہ نفسیاتی زبان میں ایک pre-conscious imprint بن جاتا ہے۔

لیکن دنیا میں آ کر انسان پر دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ ماحول، سماج اور مسلسل محرکات انسان کی اصل فطرت پر تہہ در تہہ پردے ڈال دیتے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ اسے نفس کی کشمکش کہتا ہے، کارل یونگ اسے شعور اور لاشعور کی جنگ قرار دیتا ہے، اور وجودی نفسیات اسے انسان کی “اصل سے بیگانگی” کا نام دیتی ہے۔ یوں روح بے بس نہیں ہوتی، بس مسلسل مصروف کر دی جاتی ہے۔

آج کا انسان کسل کا شکار ہے، اور یہ کسل محض جسمانی نہیں بلکہ فکری اور روحانی ہے۔ جدید نفسیات اسے mental fatigue اور existential numbness کہتی ہے۔ ہر وقت کی دوڑ، کامیابی کا دباؤ، اسکرینوں کی روشنی اور خواہشات کی بھرمار انسان کو سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اندر کی وہ آواز، جو کبھی “ألست بربکم” کا جواب تھی، مدھم پڑ جاتی ہے۔ یہ مجبوری نہیں، یہ غفلت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید نفسیاتی تھراپی بھی بالآخر انسان کو “اپنے اصل” کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتی ہے۔ mindfulness، self-awareness، اور meaning-centered therapy دراصل اسی بھولی ہوئی مرکزیت کو بحال کرنے کی مشقیں ہیں۔ مذہبی اصطلاح میں یہی عمل “ذکر” کہلاتا ہے۔ فرق صرف الفاظ کا ہے، منزل ایک ہی ہے۔

یوں دیکھا جائے تو روح دنیا میں آ کر وعدہ تو نہیں بھولتی، انسان اسے سننے کی فرصت کھو دیتا ہے۔ کسل دراصل اسی فراموشی کی علامت ہے۔ جب انسان رک کر اپنے اندر جھانکتا ہے تو جدید نفسیات اور قدیم وحی ایک ساتھ یہ گواہی دیتی ہیں کہ سچ کہیں باہر نہیں، وہ انسان کے اندر پہلے سے موجود ہے—بس دب گیا ہے، مٹا نہیں۔

اتوار، 14 دسمبر، 2025

bondi beach masscare







بانڈی بیچ سانحہ
اتوار، 14 دسمبر 2025 کی شام سڈنی کے معروف ساحل بانڈی بیچ کے قریب ایک یہودی مذہبی تہوار حنوکہ کی تقریب کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔  ۔ دو مسلح افراد نے ہجوم پر فائرنگ کی، جسے بعد ازاں آسٹریلوی حکام نے دہشت گردی قرار دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں مختلف عمروں اور پس منظر کے افراد شامل تھے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک حملہ آور کو موقع پر ہلاک کر دیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران اسلحہ اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔
 آسٹریلوی قیادت اور متعدد عالمی رہنماؤں نے حملے کی مذمت کی ۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر مختلف غیر مصدقہ دعوے اور سازشی نظریات بھی سامنے آئے، جنہیں حکام اور معتبر ذرائع نے مسترد کر دیا۔
پولیس کے مطابق نوید اکرم حملے میں ملوث دو مرکزی افراد میں سے ایک ہے، جو اس وقت حراست میں ہے۔ اس کے پس منظر،  اور محرکات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے قومیت اور دیگر حساس تفصیلات پر حتمی بیان جاری نہیں کیا۔
 اسرائیلی قیادت نے اسے یہودی برادری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اینٹی سیمیٹزم کے خلاف مؤثر اقدامات پر زور دیا، جبکہ کچھ رپورٹس میں اسے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مذہبی و نسلی نفرت کے تناظر میں دیکھا گیا۔
فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور اصل محرکات کا تعین ہونا باقی ہے۔ البتہ سوشل میڈیا پر افواہوں کی بھرمار ہے ۔۔


ہفتہ، 13 دسمبر، 2025

نوبختی خاندان

نوبختی خاندان 
ہم جب اسلامی تاریخ کے علمی خانوادوں پر نظر ڈالتے ہیں تو کچھ نام محض افراد نہیں رہتے بلکہ پورے فکری ادوار کی نمائندگی کرنے لگتے ہیں۔ نوبختی خاندان بھی انہی میں سے ایک ہے۔ یہ خاندان عباسی دور کے ابتدائی زمانے میں نہ صرف دربارِ خلافت سے وابستہ رہا بلکہ علم، عقل اور روایت کے باہمی امتزاج کی ایک روشن مثال بھی بنا۔
نوبختی خاندان کی جڑیں قبل از اسلام ایران کی علمی روایت میں ملتی ہیں۔ نوبخت بن فیروز، جو اس خاندان کے بانی سمجھے جاتے ہیں، علمِ نجوم کے ماہر تھے۔ عباسی انقلاب کے بعد جب بغداد نئی خلافت کا مرکز بنا تو نوبخت اور ان کے اہلِ خانہ کو دربار میں خاص مقام ملا۔ روایت ہے کہ بغداد شہر کی بنیاد رکھتے وقت سعد ساعت کے تعین میں نوبختی علما سے مشورہ لیا گیا۔ یہ اس زمانے کی فکری فضا کا عکس تھا، جہاں علمِ نجوم کو ریاستی منصوبہ بندی سے الگ نہیں سمجھا جاتا تھا۔
عباسی عہد کا ایک نمایاں پہلو ترجمہ اور علم کی سرپرستی تھا۔ یونانی، فارسی اور ہندی علوم کو عربی میں منتقل کرنے کی جو تحریک شروع ہوئی، نوبختی خاندان اس کے فکری ماحول کا حصہ رہا۔ اگرچہ تمام تراجم براہِ راست ان کے نام سے منسوب نہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ اس خاندان نے اس علمی فضا کو جنم دینے اور اسے فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہی وہ دور تھا جب عقل، فلسفہ اور تجربے کو دینی فکر کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں زور پکڑ رہی تھیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ نوبختی خاندان کی ایک شاخ نے علمِ کلام میں نمایاں مقام حاصل کیا، خصوصاً امامیہ شیعہ روایت کے اندر۔ ابو سهل اسماعیل بن علی النوبختی اور حسن بن موسیٰ النوبختی جیسے علما نے عقلی استدلال کو مذہبی مباحث کا حصہ بنایا۔ حسن بن موسیٰ النوبختی کی تصنیف فرق الشیعہ آج بھی شیعہ فرقوں کی تاریخ پر ایک بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں اختلاف کو محض فتنہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور فکری حقیقت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
نوبختی خاندان کا اصل امتیاز یہی تھا کہ وہ روایت اور عقل کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتا رہا۔ ان کے ہاں فلسفہ کوئی اجنبی علم نہیں تھا بلکہ ایسا ذریعہ تھا جس کے ذریعے عقائد کو بہتر طور پر سمجھا اور واضح کیا جا سکتا تھا۔ یہی طرزِ فکر بعد میں اسلامی کلام کی تشکیل میں دور رس اثرات کا باعث بنی۔
چوتھی صدی ہجری کے بعد نوبختی خاندان اجتماعی طور پر تاریخ کے منظرنامے سے پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے۔ عباسی خلافت کی کمزوری، درباری سرپرستی کا خاتمہ اور علمی مراکز کی تبدیلی نے اس خاندان کی شناخت کو منتشر کر دیا۔ مگر تاریخ کا اصول یہی ہے کہ بعض نام خاموش ہو جاتے ہیں، ان کے افکار نہیں۔ نوبختی علما کی تحریریں اور فکری اثرات بعد کے زمانوں میں مختلف صورتوں میں زندہ رہے۔
 نوبختی خاندان کا ذکر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اسلامی تہذیب کسی ایک نسل، زبان یا خطے کی پیداوار نہیں تھی۔ یہ مختلف تہذیبوں، علوم اور فکری روایتوں کے امتزاج سے بنی۔ نوبختی خاندان اسی امتزاج کی ایک علامت ہے—ایرانی دانش،عباسی سیاست اور اسلامی فکر کے درمیان ایک خاموش مگر مضبوط ربط۔

Pakistan’s Evolving Strategic Role

Pakistan’s Evolving Strategic Role

Pakistan’s international standing has risen markedly amid recent geopolitical shifts. Strategic engagements, diplomatic outreach, and participation in high‑level global forums have underscored Islamabad’s increased relevance in international affairs and attracted sustained attention from major powers. For example, Pakistan’s leadership held multiple high‑profile meetings with U.S. counterparts in 2025, drawing significant global attention to its diplomatic posture. [1]

In the context of 21st‑century great‑power rivalry, the United States, China, and Russia are actively seeking reliable partners to secure influence across the vast Eurasian landmass. Pakistan’s geographic location at the nexus of West, South, and Central Asia positions it as a crucial strategic “pivot” state in this emerging multipolar order. Its role is underscored by its access to key land and maritime routes and by its involvement in regional initiatives that intersect with great‑power strategies. [2][4]

Contrary to reductionist portrayals—such as those propagated in parts of India that dismiss Pakistan as a “failed state”—geopolitical realities reflect a more nuanced picture. Strategic utility, access, and influence often outweigh unidimensional assessments based solely on economic indicators. Contemporary global strategic assessments recognize that Pakistan’s location and relationships confer leverage, particularly as powers recalibrate their priorities in Eurasia’s complex security and economic landscape. [6][9]

Pakistan’s strategic value is multifaceted. Its landmass offers access routes to South and Central Asia and proximity to the Arabian Sea, presenting logistical and security benefits for external powers seeking regional connectivity. Initiatives such as the China‑Pakistan Economic Corridor (CPEC) enhance Pakistan’s role in China’s regional economic architecture, while Islamabad’s diplomatic outreach to the United States and Gulf states has diversified its partnerships. [4][1] This reflects Pakistan’s broader strategy of balancing relationships across multiple power centers rather than aligning solely with one bloc.

Pakistan’s active involvement in regional multilateral frameworks further amplifies its global role. By engaging with institutions that shape security and economic cooperation across Asia, Pakistan participates in evolving regional governance structures that matter to great powers and smaller states alike. [2] This engagement reinforces its identity as a stakeholder capable of contributing to regional stability and connectivity.

In conclusion, Pakistan’s emergence as a geopolitical pivot reflects substantive strategic dynamics rather than peripheral perception. Its geography, diplomatic engagements, and links to regional connectivity initiatives make it indispensable to global powers navigating the complexities of Eurasian competition. While external narratives may lag behind these developments, the international strategic community’s deepening engagement with Pakistan signals acknowledgment of its evolving role in shaping the region’s future.


References

  1. Pakistan’s leadership engagements with U.S. officials and heightened diplomatic attention in 2025. 

  2. Pakistan’s strategic geographic significance at the nexus of West, South, and Central Asia. Pakistan’s balancing of relations with major powers as part of global diplomatic strategy. 

  3. Analysis of Pakistan’s evolving role in great‑power regional strategies. [turn0search6]

  4. Commentary on Pakistan’s historic geopolitical positioning and its modern implications. 

  5. Reports on Pakistan’s global role and defense partnerships highlighting broader recognition. 


پاکستان میں استحکام


پاکستان میں استحکام

ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں تقریباً ہر قومی مسئلے کی جڑ ماضی کے کسی نہ کسی زخم میں پیوست دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام ہو، ادارہ جاتی کشمکش، عوامی بداعتمادی یا معاشرے میں پھیلتا ہوا غصہ—ہر طرف ایک ہی سوال گردش کرتا ہے کہ معاملات یہاں تک کیوں اور کیسے پہنچے۔ مسئلہ معلومات کی کمی نہیں، اصل مسئلہ اجتماعی سطح پر سچ سے گریز ہے۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں، مگر تسلیم کرنے کا حوصلہ کم ہی دکھاتے ہیں۔

ہماری قومی روایت یہ رہی ہے کہ مشکل اور غیر آرام دہ سوالات کو ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر مؤخر کر دیا جائے، اور کڑوی حقیقت کو حب الوطنی کے خلاف قرار دے دیا جائے۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ سچ بوجھ بنتا چلا گیا اور جھوٹ سہارا۔ حالانکہ قومیں سہارا لے کر نہیں، سچ کو قبول کر کے آگے بڑھتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 

Truth & Reconciliation Commission 

کی ضرورت محض ایک خیال نہیں بلکہ وقت کی ناگزیر پکار بن جاتی ہے۔

یہ کمیشن کسی فرد، جماعت یا ادارے کے خلاف انتقامی فورم نہیں ہوتا۔ اس کا بنیادی مقصد سزا دینا نہیں بلکہ سچ کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنانا، غلطیوں کے اعتراف کا راستہ ہموار کرنا، اور متاثرہ افراد کو سنا جانا ہے۔ جب ریاست خود یہ تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیتی ہے کہ ہاں، یہاں غلطیاں ہوئیں، تب ہی قوم میں یہ اعتماد جنم لیتا ہے کہ آئندہ ان غلطیوں کو دہرایا نہیں جائے گا۔

بدقسمتی سے ہم ہر بحران کا حل نئے نعروں، وقتی صف بندیوں اور عارضی مفاہمتوں میں تلاش کرتے رہے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ جب تک ماضی واضح نہیں ہوگا، حال شکوک میں گھرا رہے گا اور مستقبل خوف سے آزاد نہیں ہو سکے گا۔ ایسے میں یہ کمیشن اسی دھند کو چھانٹنے کا ایک مہذب، پُرامن اور سنجیدہ راستہ فراہم کر سکتا ہے۔

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سچ بولنے سے ریاست کمزور نہیں ہوتی بلکہ مضبوط ہوتی ہے۔ طاقت کا اصل سرچشمہ بند فائلیں اور خاموشیاں نہیں، بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب شہری دیکھتے ہیں کہ ان کے دکھ، ان کے سوال اور ان کی شکایات ریاستی سطح پر سنی جا رہی ہیں، تو قانون کی بالادستی ایک محض نعرے کے بجائے عملی حقیقت بننے لگتی ہے۔

یقیناً اس راستے میں مزاحمت ہوگی۔ طاقتور حلقے ہمیشہ سچ سے خائف رہتے ہیں، کیونکہ سچ ان کے گھڑے ہوئے بیانیوں کو چیلنج کرتا ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ جن معاشروں نے سچ کو دباکر استحکام حاصل کرنا چاہا، انہیں کبھی حقیقی اور دیرپا امن نصیب نہیں ہوا۔ وقتی خاموشی ممکن ہے، مگر پائیدار استحکام نہیں۔

اگر یہ کمیشن واقعی خودمختار ہو، اس کی تشکیل شفاف ہو، اور اس کی سفارشات محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہیں، تو یہ قدم ملک کو انتقام، نفرت اور بداعتمادی کے دائروں سے نکال سکتا ہے۔ شاید اسی عمل کے ذریعے ہم یہ سیکھ سکیں کہ قوم بننے کے لیے سب سے پہلا اور سب سے مشکل قدم خود سے سچ بولنا ہوتا ہے۔

ممکن ہے یہی وہ موڑ ہو جہاں زوال کی کہانی تھم جائے اور بہتری کی سمت سفر کا آغاز ہو۔ کیونکہ تاریخ میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے ماضی کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں—اور شاید ہمارے لیے بھی استحکام کی طرف پہلا قدم یہی ہے۔

اتوار، 7 دسمبر، 2025

کارل مارکس — پاکستانی اہلِ فکر کی نظر میں





 کارل مارکس — اہلِ فکر کی نظر میں
1. علامہ محمد اقبال
"مارکس کا دردِ انسانیت سچا ہے، مگر اس کی دنیا میں روحانی ارتقاء کا چراغ بجھا ہوا ہے۔ وہ معاشی عدل تو چاہتا ہے، مگر انسان کی باطنی پرواز کو سمجھ نہیں سکا۔ اس کا اشتراکیت مادہ پرستی کی اسیر ایک نامکمل دنیا پیش کرتی ہے۔"
2. ڈاکٹر مبشر حسن 
"مارکس نے سرمایہ دارانہ استحصال کا جو نقشہ کھینچا، پاکستان جیسے معاشروں میں وہ آج بھی جوں کا توں نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں طاقت کے تمام مراکز اسی معاشی جبر سے جنم لیتے ہیں۔"
3. ڈاکٹر پرویز ہود بھائی 
"مارکس کے معاشی تجزیے کی سائنسی گہرائی حیران کن ہے۔ تاہم انسانی آزادی، جمہوریت اور علمی تنوع کے بغیر مارکسی معاشرہ بھی جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کے نظریات اکثر جذباتی نعروں تک محدود رہے۔"
4. ڈاکٹر محمد حنیف رامے 
"مارکس کی فکر نے محکوم طبقات کو زبان دی۔ مگر پاکستان جیسے ملک میں اس کی تعبیر کو صرف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، فلسفیانہ بنیادوں پر نہیں۔"
5. احمد بشیر 
"مارکس نے انسان کے دکھ کو معاشی زاویے سے دیکھا، جو اپنی جگہ درست تھا، مگر ہمارے معاشرے میں دکھ کی تہیں کہیں زیادہ پیچیدہ اور تہذیبی ہیں۔ یہاں صرف معاشی انقلاب کافی نہیں ہوتا۔"
6. فیض احمد فیض 
"مارکس نے ظلم کی وہ شکلیں دکھائیں جو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ اس نے مزدور اور کسان کو تاریخ کا اصل ہیرو بنایا۔ ہمارے ادب میں جو انقلابی روشنی ہے، اس کی جڑیں مارکس کی فکر تک جاتی ہیں۔"
7. حبیب جالب
"مارکس نے ہمیں بتایا کہ ظلم کے سامنے خاموشی بھی جرم ہے۔ اس کے نظریات نے ہمیں طاقت کے ایوانوں سے سوال کرنے کا حوصلہ دیا۔"
8. ڈاکٹر خالد جاوید 
"مارکس نے سماجی ڈھانچے کی جو تشریح کی، وہ برِصغیر کے جاگیردارانہ نظام پر بھی پوری اترتی ہے۔ ہمارے یہاں طبقاتی تقسیم اور طاقت کا کھیل اسی کے بیان کردہ اصولوں پر چلتا ہے۔"
9. ڈاکٹر اعجاز احمد 
"مارکس کو صرف معاشیات تک محدود کرنا غلط ہے؛ وہ تاریخ، ادب، ثقافت اور سیاست سب کے اندر چھپے رشتوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اس کی تعبیرات کئی شکلیں اختیار کرتی ہیں۔"
10. عابد حسن منٹو 
"مارکس نے قانون اور انصاف کے پیچھے کارفرما طبقاتی قوتوں کو آشکار کیا۔ پاکستان کے عدالتی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اس کی فکر آج بھی ناگزیر ہے۔"
11. ڈاکٹر لئیق احمد 
"مارکس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے فکر کو عمل سے جوڑا۔ نظریہ اگر انسان کے دکھ میں کارآمد نہ ہو تو بے معنی ہے۔"
12. امجد اسلام امجد 
"مارکس کا تصورِ عدل خوبصورت ہے، مگر انسان صرف روٹی سے نہیں بنتا—وہ محبت، خوف، خواب اور روحانیت سے بھی جڑا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے ادب نے ہمیشہ مارکسزم سے زیادہ بہتر سمجھا۔"
13. ڈاکٹر مقصود علی 
"پاکستانی سماج میں سرمایہ داری اور جاگیرداری ایک ساتھ چلتی ہیں؛ مارکس کے اصولوں کا ان کے باہمی ملاپ پر اطلاق بہت اہم ہے۔ اس نے جو تضادات دکھائے وہ آج بھی موجود ہیں۔"
14. ڈاکٹر راشد شاز 
"مارکس کے سوال درست تھے، مگر اس کے جواب ادھورے۔ انسان کو بدلنے کے لیے صرف ڈھانچے نہیں، اخلاقی بنیادیں بھی درکار ہوتی ہیں۔"

سماع و وجد


 

سماع و وجد


پتھر لوہے سے ٹکراتا ہے تو آگ جنم لیتی ہے جو ان میں پہلے ہی سے پوشیدہ تھی ۔ دل میں موجود عشق جب سماع و ذکر سے ٹکراتا ہے تو وجد کی حرارت پیدا ہوتی ہے ۔ عشق نبی اور ذکر اللہ کی حرارت آگ کی مانند ہے اور اس کے شعلوں کا نام وجد و حال ہے ۔ جب عاشق حقیقی کے سامنے محبت و دوستی کا ذکرہوتا ہےتو اس کے اندر ذکر کی گرمی اسے لطف دیتی ہے جب جب ذکر بڑہتا ہے شعلہ بلند بوتا جاتا ہے ۔ کیف و سرور جب برداشت سے بڑہ جاتا ہے تو گرمی عشق بصورت وجد ظاہر ہوتی ہے ۔ دودھ کو مخصوص مقدار سے زبادہ حرارت دی جائے تو وہ ابلتا اور چھلکتا ہے ۔ فرمان نبی اکرم ہے کہ برتن سے وہی کچھ ٹپکے گا جو کچھ اس میں ہو گا ۔ عاشق کا عشق جب ابلتا اور چھلکتا ہے تواس کو وجد کا نام دیا جاتا ہے ۔ 
حضرت سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ نے ققنس نام کے ایک پرندے کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ لکڑیاں اکٹھی کر کے اپنا گھر بناتا ہے اور جب اس کا گھر مکمل ہو جاتا ہے تو وہ ان قلعہ نما گھر میں مقید ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور ذکر شروع کرتا ہے ۔ اس کے ذکر کی گرمی سے حرارت پیدا ہوتی ہے جو اس کو مست کر دیتی ہے ۔ جوں جوں کیف و مستی میں اضافہ ہوتا ہے  توں توں ذکر کی گرمی بھی بڑہتی ہے ۔ پھر اس حرارت سے آگ پیدا ہوتی ہے جو اس کے قلعے کو جلا دیتی ہے ۔ گھر کے ساتھ یہ خود بھی جل کرراکھ ہو جاتا ہے ۔ 
اس راکھ پر جب بارش برستی ہے تو اس سے انڑہ پیدا ہوتا ہے پھر اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب بچہ جوان ہو جاتا ہے تو وہ بھی اپنے باپ کی طرح لکڑیاں اکٹھی کرتا ہے اور اسی انجام سے دوچار ہوتا ہے ۔
 عاشق لوگ اپنے دل کے ہاتھوں معذور گردانے جاتے ہیں ۔ کبھی غور تو کرو محفل میں کچھ لوگ کیف و مستی کی صراحیاں پی جاتے ہیں اور وہ اپنے صحو کو قائم رکھتے ہیں اور کسی کو ذکر کے چند جام ہی بے خودی میں دھکیل دیتے ہیں ۔ اپنا اپنا ظرف ، مقام اور وقت ہوتا ہے ۔ 
سالک کا دل کھیت کی مانند ہوتا ہے ۔ کسان بیج کو مٹی میں چھپا دیتا ہے ۔ نظروں سے غائب بیچ کو موافق ماحول میں رطوبت ملتی ہے تو پودا بننا شروع ہو جاتا ہے . جس نے کسی رہنما کی سرپرتی میں راہ سلوک میں قدم رکھ لیا تو بیج اس کے دل میں پیوستہ کر دیا گیا ۔ جب اس بیج کو موافق ماحول میں روحانیت کی رطوبت ملتی ہے تو اس بیج کی بڑہوتی شروع ہو جاتی ہے ۔ 'الف۔ اللہ چنبھے دی بوٹی ' میں صاحب کلام نے اسی حقیقت کو بیان کیا ہے ۔ 
ادراک  و  ورود  دو مختلف کیفیات ہیں ۔ ایک کا تعلق کتابوں سے ہے جبکہ دوسری کا تعلق صحبت سے ہے ۔ ایک شاعر نے کہا ہے کہ پیالے سے ناپنا ایک ہنر ہے مگر کیف و مستی اور سرور پیالہ پینے کے بعد ملتا ہے ۔
 نقل ہے کہ ایک سالک بازار سے گذر رہا تھا کسی نے آواز لگائی ایک کی دس ککڑیآں ۔ سالک پر وجد طاری ہو گیا ۔ لوگوں نے کہا یہ کیسا حال ہے ۔ اس نے کہا جب دس نیک لوگوں کی قیمت ایک ہے تو گناہگار کی قیمت کیا ہو گی ۔
 کوہستانی علاقوں میں ساربان اونٹوں پر ثقیل بوجھ لاد کر انھیں 'ھدی' سناتے ہیں تو زیربار اونٹ وجد کی مستی سے بھاگ پڑتے ہیں ۔ صوت داودی وجد ہی تو پیدا کرتی تھی ۔ ذکر سے دل میں قرار اور دماغ پر خفقانی اثرات غالب ہو جانے ہیں اور جب اضطراب قوت برداشت سے باہر ہو جاتا ہے تو رسم و ادب اٹھ باتا ہے ۔ اس وقت یہ خفقانی حرکات نہ مکر ہوتا ہے نہ اچھل کود بلکہ اضطنرابی کیفیت کا عالم ہوتا ہے اور انتہائی بھاری لمحات ہوتے ہیں ۔ اگر اس کیفیت کی تشریح محال ہے تو اس کا انکار بھی ناممکن ہے ۔
 اور حرکات اگر اضطراب کے باعث ہیں تو امام غزالی کا سماع کے رقص کے بارے میں یہ قول یاد رکھنا چاہیے ' رقص کا حکم اس کے محرک پر محمول ہے اگر محرک محمرد ہے تو رقص بھی محمود ہے ' اور وجد کا سبب اگر ذکر ہے تو ذکر محمود ہی نہیں سعید پھی ہے ۔
 شیخ عبد الرحمن نے اپنی کتاب السماع میں لکھا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس تھے کہ حضرت جبریل تشریف لائے اور کہا یا رسول اللہ آپ کو بشارت ہو کہ آپ کی امت کے درویش و فقیر، امیروں کے اعتبار سے پانچ سو برس پیشتر جنت میں داخل ہوں گے ' ۔ یہ خوش خبری سن کر نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم خوش ہو گئے اور فرمایا کوئی ہے جو شعر سناے ۔ ایک بدوی نے کہا ہاں ہے یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا آو آو اس نے شعر پڑہے ۔
 ' میرے کلیجے پر محبت کے سانپ نے ڈس لیا ہے ، اس کے لیے طبیب ہے نہ کوئی جھاڑ پھونک والا ۔ مگر ہاں وہ محبوب جو مہربانی فرماے ، اس کے پاس ان کا تریاق اور منتر ہے " یہ سن کر نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تواجد فرمایا اور جتنے اصحاب وہاں موجود تھے سب وجد کرنے لگے ۔ یہاں تک کہ آپ کی رداے مبارک دوش مبارک سے گر پڑی ۔ 
جب اس حال سے فارغ ہوے معاویہ بن ابی سفیان نے کہا ۔ ' کتنی اچھی ہے آپ کی یہ بازی یا رسول اللہ ' آپ نے فرمایا ' دور ہو اے معاویہ وہ شخص کریم نہیں ہے جو دوست کا ذکر سنے اور جھوم نہ اٹھے ' پھر رسول اللہ کی ردا میارک کے چار سو ٹکڑے کر کے حاضرین میں تقسیم کر دیے گے ۔
حضرت ابو سعید ابو الخیررحمۃاللہ سے منقول ہے کہ جب فقیر ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے تو شہوت اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے ۔ جب زمین پر پاوں مارتا ہے تو پاوں سے شہوت نکل جاتی ہے ۔ جب نعرہ مارتا ہے باطن کی شہوت نکل جاتی ہے ۔ 
روایات میں ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے وعظ کے دوران کسی نے نعرہ مارا ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ آللہ تعالی نے فرمایا ۔ وہ میری محبت میں نعرہ مارتے ہیں ۔ میری محبت میں روتے چلاتے ہیں اور میرے قرب سے راحت پاتے ہیں ۔ تم ان کو مت جھڑکا کرو۔ 
جو لوگ مقام و ادب کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہیں وہ یہ حقیقت کیوں بھول حاتے ہیں کہ جب برتن کو ابالا جائے گا تو اس کا ٹپکنا لازم ہے ۔
 جہاں تک بدعت کا تعلق ہے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے جو عمل سنت کی جگہ لے وہ بدعت ہے ۔ بدعت کا ثمر یہ ہے کہ وہ سنت سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ کے بقول نماز تراویح با جماعت کی ابتداء حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے کی ۔ اس سے اہل علم کوئی سنت ٹوٹتی نہیں پاتے ۔ اصحاب رسول ، نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آمد پر کھڑے نہ ہوتے تھے مگر جب حضرت فضل دین کلیامی نے اپنے جنازے کے امام حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ کا کھڑے ہو کر استقبال کیا تھا تو کون سی سنت ٹوٹی تھی ۔
 سماع و وجد وہ پر خطر راہ ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی ۔ مگر سکر کی کیفیت سے انکار ممکن نہیں ہے ۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ قریہ بلا ہے اور امان صرف بصیر کے زیر بصارت رہنے ہی میں ممکن ہے ۔

مایوسی کا عالمی جال




 مایوسی کا عالمی جال

دنیا آج ایک ان دیکھے محاذ پر لڑ رہی ہے—ایک جنگ جو نہ توپ، نہ ٹینک، نہ سرحدوں کی ہے۔ یہ جنگ انسانی ذہن، دل اور ایمان کی ہے، اور سب سے مہلک ہتھیار مایوسی ہے۔
"اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو" — الزمر 53
 خوف کی گہری چھاؤں
عالمی میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور سیاسی بیانیے مسلسل خوف اور منفی سوچ پھیلا رہے ہیں۔
نیوروسائنس کے مطابق:
منفی خبریں
تیز رفتار اطلاعات
خوف پر مبنی بیانیے
دماغ میں ایسے کیمیکل خارج کرتے ہیں جو انسان کو مایوس، بے بس اور غیر مؤثر بنا دیتے ہیں۔
قرآن میں اس کیفیت کو ’’قنوط‘‘ اور ’’یأس‘‘ کہا گیا ہے، اور آج یہ عالمی ذہنی جنگ کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے۔
  ذہن پر حکومت
پروپیگنڈہ صرف جھوٹ نہیں، بلکہ ایک سائنس ہے، جس کے اصول یہ ہیں:
خوف پیدا کرنا: الجھا دو، ڈراؤ، بے بس کر دو۔
جھوٹ کی تکرار: بار بار دہرانے سے جھوٹ سچ لگنے لگتا ہے۔
معلومات کی بھرمار: ذہن تھک جاتا ہے، سوچنے کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔
احساسِ کمتری: سب کامیاب ہیں، ہم پیچھے ہیں۔
مسلسل بے چینی
FOMO (Fear of Missing Out) 
ایک عالمی ذہنی بیماری بن چکی ہے۔

"وہ اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں" — الصف 8
 دین، سائنس اور امید کا ملاپ
حیرت انگیز طور پر قرآن، حدیث، تصوف اور جدید نیوروسائنس سب ایک ہی بات کہتے ہیں:
ذکر اور تلاوت: دماغ کو پرسکون، دل کی دھڑکن کو متوازن اور بے چینی کم کرتے ہیں۔
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
توکل: یقین رکھنے والے افراد میں سٹریس ہارمونز 45٪ تک کم ہوتے ہیں۔
امید: ڈوپامین زندگی کا محرک ہے اور قرآن اسی امید کو ایمان کا حصہ بناتا ہے۔
 روشنی کی طرف سفر
یہ جنگ ذہن اور دل کی ہے۔ قرآن کا نسخہ واضح ہے: خوف کو رد کرو، امید اپناؤ، نور کی طرف دیکھو، اور شعور زندہ رکھو۔
"اللہ اپنا نور مکمل کر کے رہے گا" — الصف 8
دنیا جتنا بھی ظلمت بچھائے، روشنی کی راہ باقی رہے گی، اور وہی کامیاب ہوگا جو مایوسی کے جال کو پہچان لے اور امید، ایمان اور شعور کے ساتھ زندگی کی راہ پر گامزن ہو۔