منگل، 27 جنوری، 2026

دشمنی سے محبت تک







دشمنی سے محبت تک 

یومِ حنین اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جب میدانِ جنگ صرف تلواروں سے نہیں بلکہ دلوں کے اندر بھی برپا تھا۔ اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو انسان کے باطن میں ایمان کے انقلاب کی سب سے روشن مثال بن گیا۔

شیبہ بن عثمان خود بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ کو اس دن تنہا دیکھا۔ یہ تنہائی محض ظاہری تھی، مگر شیبہ کی نگاہ میں یہی لمحہ انتقام کا سنہری موقع تھا۔ ان کے ذہن میں اپنے باپ اور چچا کی یاد تازہ ہوئی—وہ دونوں جو علیؓ اور حمزہؓ کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ دل میں دفن کی ہوئی دشمنی نے سر اٹھایا اور شیطان نے سرگوشی کی: آج بدلہ لینے کا دن ہے۔

شیبہ نے دائیں جانب سے بڑھنے کا سوچا تو عباسؓ نظر آئے—رسول ﷺ کے چچا۔ دل نے گواہی دی کہ یہ شخص آخری سانس تک ساتھ چھوڑنے والا نہیں۔ بائیں جانب سے حملے کا خیال آیا تو ابوسفیان بن حارثؓ دکھائی دیے—چچا زاد بھائی، وہ بھی وفاداری کی دیوار۔ آخر پشت سے حملہ کرنے کا ارادہ کیا، مگر جیسے ہی قریب پہنچے، اچانک ان کے اور رسول ﷺ کے درمیان آگ کے شعلے حائل ہو گئے۔ یہ شعلے تیز بھی تھے اور روشن بھی—آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے، قدموں کو جکڑ دینے والے۔

اسی لمحے وہ ہوا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے التفات فرمایا اور نام لے کر پکارا:
“اے شیبہ، میرے قریب آؤ۔”
پھر دعا فرمائی:
“اے اللہ! شیبہ سے شیطان کو دور فرما دے۔”

یہ الفاظ تلوار سے زیادہ کاٹ دار ثابت ہوئے۔ شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے آنکھ اٹھا کر حضور ﷺ کو دیکھا تو وہ مجھے اپنی آنکھوں، کانوں اور جان سے بھی زیادہ عزیز ہو گئے۔ دشمنی پگھل چکی تھی، نفرت ایمان میں بدل چکی تھی، اور انتقام محبت کے سامنے ہار چکا تھا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ صرف جسمانی جنگ نہیں لڑتے تھے، وہ دلوں کی جنگ بھی جیتتے تھے۔ آپ ﷺ کی قوت تلوار میں نہیں، دعا میں تھی۔ آپ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ یہی تھا کہ دشمنوں کو دوست، قاتلانہ ارادوں کو وفاداری، اور اندھی نفرت کو زندہ ایمان میں بدل دیتے تھے۔

شیبہ بن عثمان کا یہ بیان—جو انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ کے غلام عکرمہ کو سنایا—گواہ ہے کہ جب رحمتِ محمدی ﷺ کسی دل کو چھو لے، تو وہاں شیطان کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔

خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ



خوش فہمیاں اور بدلتا ہوا خطہ
ٹرمپ کے ذریعے ایران کو گرانے کے خواب دیکھنے والے صہیونی حلقے دراصل وہی ہیں جنہوں نے اس سے پہلے یمنی فوج کے خاتمے پر امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ یہ وہی پرانی شرط ہے، وہی پرانا اندازِ فکر اور وہی غلط اندازے—بس میدان بدل گیا ہے، کردار وہی ہیں اور انجام بھی کم و بیش وہی دکھائی دیتا ہے۔
اس وقت خواہش یہ تھی کہ یمنی فوج کو فیصلہ کن شکست دی جائے، غزہ کے حق میں یمن کی بحری عسکری کارروائیوں کو روکا جائے، باب المندب میں یمنیوں کے قائم کردہ محاصرے کو توڑا جائے، صہیونی ریاست کی گہرائی تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا خاتمہ کیا جائے، اور اس علاقائی اتحاد—جس میں امارات اور اسرائیل شامل تھے—کو گزشتہ دس برسوں کی ناکامیوں اور ذلت آمیز شکستوں کا بدلہ دلایا جائے۔ یہ صرف ایک عسکری منصوبہ نہیں تھا بلکہ ساکھ، غرور اور برتری کی بحالی کا خواب تھا۔
اسی لیے سب کی نظریں ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز تھیں۔ بائیڈن کے برعکس ٹرمپ کو ایک جری، سخت گیر اور جارح رہنما سمجھا جاتا تھا۔ بائیڈن کو برطانیہ کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف ناکام فوجی مہم پر تنقید کا سامنا رہا، جبکہ ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ آ کر طاقت کے بل پر پورا منظرنامہ بدل دے گا۔
اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ نے ایک فوجی وفد اسرائیلی نمائندوں کے ہمراہ ریاض بھیجا تاکہ سعودی اور اماراتی نظاموں کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ ابتدا میں عرب اور اسلامی عوامی رائے عامہ کا حوالہ دے کر انکار کیا گیا، کیونکہ یمنی مزاحمت کو خطے میں غیر معمولی اخلاقی اور عوامی تائید حاصل تھی۔ مگر امریکی دباؤ کے بعد ایک شرط رکھ دی گئی: اگر امریکہ ساٹھ دن کے اندر یمنی فوج کی اعلیٰ قیادت کو ختم کر دے، میزائل خطرے کو مکمل طور پر بے اثر کر دے اور یمنی عسکری صلاحیت کو مٹا دے، تو وہ باضابطہ طور پر امریکی کیمپ میں شامل ہو جائیں گے۔
ٹرمپ کی مکار اور متکبر شخصیت پر ان کا اندازہ بظاہر درست ثابت ہوا۔ چند ہی مہینوں میں اس نے یمن کے خلاف فوجی مہم دوگنی کرنے کا اعلان کیا، یمنی افواج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دھمکیاں دیں، اضافی طیارہ بردار بحری جہاز، اسٹریٹجک بمبار، ایٹمی آبدوزیں اور جدید اسٹیلتھ طیارے تعینات کر دیے۔
وہ اسلحہ میدان میں اتارا گیا جو امریکہ عموماً باقاعدہ ریاستوں اور منظم افواج کے خلاف استعمال کرتا ہے، نہ کہ ایسے ملک کے خلاف جو دس برس سے محاصرے میں ہو۔ بحرِ عرب، بحرِ احمر اور بحرِ ہند تک امریکی عسکری قوت پھیلا دی گئی، اس خوش فہمی میں کہ یمن کو کچل کر ایک فیصلہ کن فتح حاصل کر لی جائے گی اور بائیڈن کو کمزور اور ناکام ثابت کیا جا سکے گا۔
امریکی اسٹریٹجک بمبار، اسٹیلتھ طیارے اور فضائی ایندھن بردار جہاز یمن کی فضاؤں میں داخل ہوئے۔ ایٹمی آبدوزوں اور بحری بیڑوں نے ٹوماہاک میزائلوں سے شدید بمباری کی۔ زیرِ زمین اہداف کو تباہ کرنے والے دنیا کے طاقتور ترین بم یمن کے پہاڑوں اور شہروں پر برسائے گئے۔ ٹرمپ خود سوشل میڈیا پر ان مناظر کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرتا رہا۔
مگر دن گزرتے گئے اور زمینی حقیقت نہ بدلی۔ سمندر بدستور بند رہا، صہیونی ریاست کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رہے۔ اس کے برعکس امریکی افواج اس وقت ششدر رہ گئیں جب یمنی بحری اور بیلسٹک میزائلوں، اور درجنوں ڈرونز نے بحرِ عرب اور بحرِ احمر میں موجود طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ شدید بمباری کے باوجود امریکی ساختہ جدید ڈرون بڑی تعداد میں مار گرائے گئے۔
پھر یمنیوں نے ایک اور حیران کن قدم اٹھایا۔ جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کرتے ہوئے انہوں نے امریکی اسٹیلتھ بمباروں اور F-35 طیاروں کو خطرے میں ڈال دیا۔ امریکیوں کو قیمتی بمبار ہٹانا پڑے۔ بعدازاں بحریہ کے F-18 سپر ہارنیٹ طیاروں کی تباہی سامنے آئی، جسے چھپانے کے لیے کمزور اور غیر قائل وضاحتیں پیش کی گئیں۔
تقریباً پچاس دن کی شدید اور بے نتیجہ جنگ کے بعد ٹرمپ نے سلطنتِ عمان سے مداخلت کی درخواست کی۔ یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کی خواہش ظاہر کی گئی، اس شرط کے ساتھ کہ یمنی امریکی جہازوں کو نشانہ نہ بنائیں اور امریکہ بمباری روک دے۔ اس کے باوجود یمنی فوج نے صہیونی ریاست کے خلاف بحری محاصرہ اور فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔
دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز شکست کے ساتھ واپس لوٹ گئے۔ یوں دہائیوں سے قائم امریکی بحری برتری کا افسانہ ٹوٹ گیا۔ صہیونی ریاست تنہا رہ گئی، جبکہ یمنیوں نے محاصرے اور بھاری نقصانات کے باوجود آخری دم تک مزاحمت جاری رکھی۔
آج حقیقت یہ ہے کہ یمن ایک اسٹریٹجک علاقائی طاقت بن چکا ہے۔ برسوں سے لگائی گئی شرط ہار چکی ہے، اور اب یمن سے برابری اور احترام کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ہتھیار یا دباؤ ہو جو ان کے خلاف آزمایا نہ جا چکا ہو۔
سوال یہ ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین یمنیوں کو ختم نہ کر سکی تو اب ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعرے کس بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں؟ کیا ایران یمن سے بھی کمزور ہے؟ امریکہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے، مگر نہ وہ ایران کو مٹا سکے گا اور نہ اس کی حکومت گرا سکے گا۔ ایران اور وینزویلا میں وہی فرق ہے جو گرین لینڈ اور مشرقِ وسطیٰ میں ہے—جغرافیہ، تاریخ اور طاقت کے توازن کو نعروں سے نہیں بدلا جا سکتا۔

دربار کے اصول





دربار کے اصول


اگر یہ کہاوت درست ہے کہ قومیں اپنے حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتی ہیں، تو پھر یہ حقیقت بھی ماننا پڑے گی کہ کمزور ریاستوں کے حکمران ہمیشہ طاقتور ریاستوں کے اشاروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اقتدار کی اصل قوت اکثر توپ و تفنگ میں نہیں، بلکہ علامتوں کے دبیز پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ کبھی ایک خط، کبھی ایک مہر، کبھی ایک فون کال اور کبھی محض ایک نام—یہ سب بعض اوقات میزائلوں اور بموں سے زیادہ کاری ثابت ہوتے ہیں۔
تاریخ اس نفسیاتی طاقت کی گواہ ہے۔ 1709ء میں جنگِ پولتاوا میں روس کے ہاتھوں شکست کے بعد سویڈن کے بادشاہ چارلس بارہویں کی غیر موجودگی میں اندرونی قوتوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ تخت سے محروم بادشاہ فریاد لے کر عثمانی سلطان احمد ثالث کے دربار میں پہنچا۔ سلطان نے صرف ایک مختصر تحریر دی جو "سلطانی مہر "  زدہ تھی۔ اس مہرکے وقار اور رعب نے اقتدار پر قابض قوتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، مگر اقتدار کی نفسیات وہی رہیں۔ آج ترک سلطان کی جگہ امریکہ کا صدر اس مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک جملہ، ایک اشارہ، یا حتیٰ کہ خاموشی بھی دور رس نتائج پیدا کر دیتی ہے۔
 ٹرمپ کے سابقہ دور میں ، اقوام متحدہ کی قرارداوں کے برعکس  اقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت  کہا گئا تو دنیا کی  خاموشی بے خبری نہیں  بلکہ طاقتور کی ناراضگی کا اندیشہ تھا جو  داخلی انتشار، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔
اسی خوف کی جھلک ہمیں بعض ریاستوں کی خارجہ پالیسی میں اچانک موڑ، بڑے اسلحہ معاہدوں قیمتی تحائف اور نئی علاقائی صف بندیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ یورپ میں نیٹو کے معاملے پر ٹرمپ کے سخت مؤقف کے بعد کئی ممالک کا دفاعی اخراجات بڑھانے کا فیصلہ بھی کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ طاقتور  کی ناراضگی سے بچنے کی عملی تدبیر تھی۔
لاطینی امریکہ میں اقتصادی پابندیاں اور سیاسی دباؤ کئی حکومتوں کی داخلی سمت متعین کرتے رہے۔ یہی طاقت کا وہ کرشمہ ہے جس کے باعث جدید عالمی سیاست قرونِ وسطیٰ کی تمثیل سے جا ملتی ہے—فرق صرف اتنا ہے کہ آج فرمان مہر سے نہیں، ٹوئٹ سے صادر ہوتا ہے، اور دربار کی جگہ عالمی میڈیا نے لے لی ہے۔

سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت

 

جدید دور، سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن امور پر کبھی اندھا یقین سمجھا جاتا تھا، آج وہ انسانی تجربے اور مشاہدے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔

اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ایک دائیں طرف نیک اعمال لکھنے والا اور دوسرا بائیں طرف برے اعمال درج کرنے والا۔ آج سے پچاس یا سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔ لوگ بغیر کسی مادی دلیل کے اس پر یقین رکھتے تھے، کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر آج کے انسان کو اگر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالنے کی دعوت دی جائے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔

آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ انسان اب کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ڈیجیٹل سایہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے بنائے ہوئے آلات یہ سب کچھ محفوظ کر سکتے ہیں، تو پھر اللہ کے مقرر کردہ فرشتوں کا انسان کے اعمال لکھنا کیوں ناقابلِ یقین سمجھا جائے؟

یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت (AI) نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔ عدالتوں میں آج بھی آواز کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آواز بھی ایک قابلِ ریکارڈ اور قابلِ تجزیہ شے ہے۔

اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان رابطے کے لیے ترجمانوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔

اگر اس حدیث کو اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ بات ناقابلِ تصور محسوس ہوتی ہے۔ جانوروں کا انسان سے بات کرنا، یا جوتے اور ران کا خبریں دینا اُس دور کے انسان کے لیے محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

آج جانوروں پر تجربات ہو رہے ہیں جن میں ان کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔

اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ انسان کا موبائل فون، جو اکثر اس کی جیب یا ران کے قریب ہوتا ہے، اسے اس کے گھر والوں کے بارے میں پیغامات دیتا ہے، ان کی آوازیں سناتا ہے اور ان کی تصویریں دکھاتا ہے۔ یوں بظاہر بے جان اشیاء انسان سے “بات” کر رہی ہیں۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی ﷺ محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ جدید دور کے انسان کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر ان تعلیمات کا مطالعہ کرے۔

آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے خالق کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔

پیر، 26 جنوری، 2026

خوف کی سیاست



 خوف کی سیاست

عبرانی اخبار معاریو میں شائع ہونے والا حالیہ تجزیہ محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے جس میں آج صہیونی–امریکی قیادت مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ فوجی تجزیہ کار الون بن ڈیوڈ کے مطابق، ایران کے مضبوط اور غیر لچکدار موقف نے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو ایسی الجھن میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی سیدھی راہ دکھائی نہیں دیتی۔

رپورٹ کا سب سے معنی خیز پہلو وہ اعتراف ہے جس میں کہا گیا کہ امام خامنہ‌ای نے ٹرمپ کے ساتھ ایک طرح سے “ذاتی حساب” کھولتے ہوئے اس کے تکبر کو براہِ راست للکارا۔ یہ محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ وقار کی جنگ تھی۔ امریکی صدر، جو طاقت کی زبان سمجھنے اور اسی پر بات کرنے کے عادی ہیں، اس بار ایک ایسے وقار سے ٹکرا گئے جسے نہ دباؤ توڑ سکا اور نہ دھمکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ، رہبرِ ایران کے وقار کو مجروح کرنے میں ناکامی کے باعث، ذاتی اضطراب اور ذہنی بے چینی کا شکار نظر آئے۔

اسی تسلسل میں رپورٹ یہ انکشاف بھی کرتی ہے کہ ٹرمپ نے خطے کے مختلف رہنماؤں اور خصوصاً نیتن یاہو سے مشاورت کی، مگر وہاں سے جو جواب ملا وہ خود امریکی طاقت کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ “اتنی طاقت اور یہ تمام عسکری قوتیں بھی تہران میں نظام کو گرانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔” یہ جملہ دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام اور داخلی طاقت کا وہ اعتراف ہے جو برسوں کی سیاسی بیان بازی میں کبھی اس وضاحت سے سامنے نہیں آیا تھا۔

نیتن یاہو کا کردار اس پوری کہانی میں سب سے زیادہ معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہی شخص تھا جس نے ایرانی ردِعمل کے خوف سے امریکی جارحانہ رویّے کو لگام دینے کی کوشش کی۔ بظاہر “دفاع” کے نعروں کے پیچھے، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی قیادت خود جانتی ہے کہ وہ ایرانی میزائل طاقت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ یہ اعتراف اسرائیلی عسکری برتری کے دیرینہ دعووں پر ایک اور کاری ضرب ہے۔

رپورٹ میں ایران کے دو ہزار سے زائد تیار بیلسٹک میزائلوں کا ذکر محض ایک عددی حقیقت نہیں، بلکہ نفسیاتی برتری کی علامت ہے۔ جب دشمن خود یہ ماننے لگے کہ ان کے طیارے اور افواج محض “پریڈز” بن کر رہ گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا توازن میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں میں بدل چکا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “وقار کا جال” اپنی پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ طاقتور ہونے کے دعوے دار اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ایک غلط قدم پورے خطے کو ایسی آگ میں جھونک سکتا ہے جس کا انجام ان کے قابو میں نہیں ہوگا۔ معاریو کا یہ تجزیہ دراصل اسی سچ کی گواہی ہے کہ جدید سیاست میں صرف ہتھیار نہیں، وقار، استقامت اور نفسیاتی برتری بھی فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔