ہفتہ، 24 جنوری، 2026
آسمانی آگ
جمعہ، 23 جنوری، 2026
آر سی ڈی کا تعارف
آر سی ڈی کا تعارف
RCD (Regional Cooperation for Development)
ایک علاقائی تعاون کا ادارہ تھا جو 1964ء میں پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان قائم ہوا۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے معاشی، تجارتی، ثقافتی اور سائنسی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا تھا۔
اس تنطیم کا صدر تہران، ایران میں تھا ، آر سی ڈی کا قیام سرد جنگ کے دوران ہوا، جب عالمی طاقتوں کے دباؤ اور علاقائی سیاسی چیلنجز کے پیش نظر مسلم ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت محسوس کی گئی۔
یہ اتحاد درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر قائم ہوا
تجارتی رابطے بڑھانا اور مشترکہ مارکیٹس قائم کرنا ، معاشی ترقی کے منصوبے (انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، توانائی) میں اشتراک ،ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی شعبوں میں تعلقات مضبوط کرنا
آر سی ڈی نے سیاسی میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا
پاکستان، ایران اور ترکی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ پالیسیز اپنائیں ۔تینوں ممالک نے عالمی فورمز میں ایک دوسرے کا موقف سہارا دیا ۔ اس اتحاد نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو مستحکم کیا ، یہ اثرات آج بھی خطے میں تعلقات کے حوالے سے اہم مثال کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
آر سی ڈی کا بنیادی مقصد معاشی ترقی اور تعاون تھا، جس کے اہم پہلو یہ تھے
تینوں ممالک کے درمیان اشیاء کی باہمی تجارت میں اضافہ
صنعتی، زرعی اور توانائی کے منصوبوں میں شراکت داری
سڑکیں، بندرگاہیں اور توانائی کے منصوبے
انسانی وسائل کی ترقی اور مشترکہ علمی منصوبے
یہ اقتصادی تعاون خطے میں روزگار، پیداوار اور معیشت کی مضبوطی کے لیے اہم تھا۔
آر سی ڈی نے نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی اور ثقافتی تعلقات کو بھی فروغ دیا۔ یونیورسٹیاں اور مشترکہ تحقیقی پروگرام شروع کیے گئے ۔وسیقی، ادب، زبان اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں طائفو ں کا تبادلہ شروع ہوا، وام کے درمیان سمجھ بوجھ اور اعتماد میں اضافہ ہوا ۔ اس سے تینوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات مضبوط ہوئے۔
اگرچہ آر سی ڈی نے متعدد مثبت اقدامات کیے، لیکن یہ کچھ چیلنجز بھی سامنا کرنا پڑا۔ خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے مشترکہ اقدامات میں تاخیر پیدا ہونا شروع ہوئی جس کے باعث ایران مین اسلامی انقلاب کے بعد کے بعد دوبارہ فعال کرنے میں مشکلات آئیں۔
اگر آر سی ڈی یا اس کے جدید فارم
ECO
کی روح کو فعال رکھا جائے، تو پاکستان، ایران اور ترکی کے تعلقات کے وسیع امکانات ہیں
چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں
سوال اب یہ نہیں کہ اسرائیل کس کے خلاف ہے
قہر 313
قہر 313
عالمی عسکری سیاست میں بعض ہتھیار اپنی عملی صلاحیت سے کہیں زیادہ اپنی علامتی اور نفسیاتی تاثیر کے باعث موضوعِ بحث بنتے ہیں۔ ایران کا قہر 313 بھی ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جو 2013 میں منظرِ عام پر آتے ہی دفاعی ماہرین، میڈیا اور عسکری تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ طیارہ صرف ایک ممکنہ اسٹیلتھ فائٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سوال کے طور پر سامنے آیا کہ جدید جنگ میں اصل طاقت خالص تکنیکی برتری ہے یا اس برتری کا تاثر اور بیانیہ؟
قہر 313 کو ایران نے اپنی ایوی ایشن انڈسٹریز آرگنائزیشن کے تحت ایک مقامی سطح پر تیار کردہ اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ہلکا، کم رفتار، کم ریڈار سگنیچر رکھنے والا طیارہ ہے جو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت مختصر رن ویز سے پرواز اور کم بلندی پر مؤثر آپریشن بتائی گئی، جو ایران کے جغرافیائی اور دفاعی حالات کے مطابق اہم سمجھی جاتی ہے۔
تاہم جب بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے اس طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو کئی سنگین سوالات سامنے آئے۔ پروں کا غیر متوازن سائز، کاک پٹ کی ساخت، انجن کی گنجائش اور ایرودائنامکس ایسی تھیں جو ایک مکمل اور عملی فائٹر جیٹ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دفاعی حلقوں میںقہر 313 کو ایک نمائشی ماڈل یا ابتدائی پروٹو ٹائپ قرار دیا گیا، نہ کہ ایک مکمل طور پر فعال جنگی طیارہ۔
لیکن قاہر 313 کو محض ایک ناکام یا غیر سنجیدہ منصوبہ کہہ کر رد کر دینا بھی حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ ایران کوئی ایسا ملک نہیں جو پچھلے چند برسوں سے دباؤ میں ہو؛ بلکہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے عملی طور پر ایک مسلسل حالتِ جنگ میں زندہ رہا ہے۔ براہِ راست فوجی تصادم، خفیہ جنگ، اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور ٹیکنالوجی تک محدود رسائی—یہ سب ایران کے مستقل دفاعی ماحول کا حصہ رہے ہیں۔
ان سخت حالات کے باوجود ایران نے کبھی اپنے دفاعی اور بالخصوص دفعی
دفاعی
صلاحیتوں کے حصول سے غفلت نہیں برتی۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام، اور مقامی سطح پر عسکری پیداوار—یہ سب اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ قاہر 313 بھی اسی ذہنیت کی ایک کڑی ہے، چاہے وہ عملی میدان میں مکمل کامیاب ہو یا نہ ہو۔
حالیہ برسوں میں ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ
قہر 313 کے تصور کو بغیر پائلٹ فضائی پلیٹ فارم، یعنی ڈرون ٹیکنالوجی، میں ڈھالنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اب علامتی منصوبوں کو عملی دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسی جنگوں کے تناظر میں جہاں بغیر پائلٹ نظام فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ایران کی اس دفاعی سوچ میں حالیہ برسوں میں ایک نمایاں تبدیلی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران اب یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ محض عسکری خود کفالت کافی نہیں، بلکہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات ہی اس کے دفاع کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت، ترکی کے ساتھ محتاط تعاون، پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی، اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا اعتماد—یہ سب ایران کی اسی بدلی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسی سوچ کے نتیجے میں خطے کے کئی ممالک میں ایران کے حوالے سے رویّے میں نرمی اور ہمدردی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ ایران اب صرف ایک مزاحمتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جو تصادم کے بجائے توازن، اور تنہائی کے بجائے شراکت داری کے ذریعے اپنی سلامتی یقینی بنانا چاہتی ہے۔
نتیجتاً، قاہر 313 کو ایک مکمل جنگی طیارے کے بجائے ایک اسٹریٹجک علامت کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ علامت اس امر کی نمائندگی کرتی ہے کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے، بلکہ بیانیہ، نفسیاتی دباؤ، مسلسل مزاحمت اور ٹیکنالوجی کا تاثر بھی طاقت کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
قہر 313 شاید آسمانوں میں فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکے، مگر اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران نہ سویا ہے، نہ ہتھیار ڈالے ہیں، اور نہ ہی مستقبل کی جنگ کے تقاضوں سے غافل ہے۔
