ہفتہ، 24 جنوری، 2026

آسمانی آگ



آسمانی آگ
مارچ 1945 کی وہ رات انسانی تاریخ کے سب سے ہولناک ابواب میں سے ایک ہے، مگر اسے شاذ ہی وہ توجہ دی جاتی ہے جو اس کی سنگینی کا تقاضا کرتی ہے۔ 334 امریکی بمبار طیاروں نے صرف ایک رات میں ٹوکیو پر 1665 ٹن آتش گیر بم برسائے۔ گنجان آباد شہر، جہاں زیادہ تر مکانات لکڑی سے بنے تھے، لمحوں میں ایک دہکتی ہوئی بھٹی میں بدل گیا۔ آگ اس شدت سے پھیلی کہ ایک لاکھ سے زائد انسان جل کر مر گئے اور دس لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو گئے۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ آسمان سے برسنے والی ایسی آگ تھی جس نے پورے شہر کو اجتماعی قبر میں تبدیل کر دیا۔  جانی نقصان کے اعتبار سے یہ تباہی  ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ بڑی تھی۔
ٹوکیو کا یہ واقعہ کوئی استثنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے سلسلے کی کڑی تھا جس میں جدید جنگ نے شہری آبادی کو براہِ راست ہدف بنانا معمول بنا لیا۔ اس سے قبل جرمنی کے شہر ڈریسڈن پر اتحادی بمباری نے ہزاروں شہریوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ ہیمبرگ میں فائر اسٹورم نے پورے محلّے صفحۂ ہستی سے مٹا دیے، جبکہ برطانیہ کا شہر کوونٹری بھی آسمان سے برسنے والی آگ کی علامت بن گیا۔ ان تمام واقعات میں ایک قدرِ مشترک نمایاں ہے: جنگ کا میدان سپاہیوں سے نکل کر عام انسانوں کے گھروں تک آ چکا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد بھی یہ روایت ختم نہیں ہوئی، بلکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید مہلک ہو گئی۔ کوریا کی جنگ میں امریکی بمباری نے شمالی کوریا کے شہروں کو اس حد تک تباہ کیا کہ بعد میں خود امریکی تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا کہ وہاں کھڑا رہنے کے قابل شاید ہی کوئی بڑا شہر بچا ہو۔ ویتنام میں نیپام بموں نے جنگل ہی نہیں، دیہات اور انسانوں کے جسم تک جلا ڈالے۔ آسمان سے گرنے والی آگ نے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے درمیان کوئی فرق نہ کیا۔
یہی منظر عراق میں دہرایا گیا۔ بغداد پر بمباری، فلوجہ میں آگ اور دھماکوں کا طوفان، اور بعد ازاں افغانستان میں فضائی حملے—سب نے یہ ثابت کیا کہ جدید جنگ میں طاقتور ریاستیں اپنے دشمن کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو سزا دیتی ہیں۔ لیبیا، شام اور یمن میں بھی اتحادی فضائی کارروائیاں شہروں کو ملبے کے ڈھیر میں بدلتی رہیں، اور ہر بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ نشانہ صرف عسکری اہداف تھے، حالانکہ زمین پر جلتے ہوئے گھر اور لاشیں ایک مختلف کہانی سناتی رہیں۔
اسی سلسلے کی  سب سے دردناک مثال فلسطین، بالخصوص غزہ ہے۔ غزہ ایک محصور خطہ ہے، جہاں نہ پناہ گاہیں ہیں نہ فرار کے راستے۔ یہاں آسمان سے برسنے والی آگ جدید بموں، میزائلوں اور فاسفورس جیسی ہتھیاروں کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔ رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول اور پناہ گزین کیمپ اس آگ سے محفوظ نہیں رہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹوکیو میں آگ ایک رات میں برسی، جبکہ غزہ میں یہ آگ وقفوں وقفوں سے برس رہی ہے، مگر اس کا مقصد وہی ہے: اجتماعی خوف، اجتماعی سزا اور اجتماعی تباہی۔
ان تمام مثالوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ آسمان سے آگ برسانا کسی ایک جنگ یا ایک دور کا مسئلہ نہیں، بلکہ طاقت کے اس تصور کا اظہار ہے جس میں اخلاق، قانون اور انسانیت ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ٹوکیو سے لے کر ڈریسڈن، ویتنام سے لے کر بغداد، اور بغداد سے لے کر غزہ تک، آگ کا رنگ بدلتا رہا مگر جلنے والے انسان وہی رہے—عام شہری۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ فاتحین کی زبان میں یہ سب “ضروری جنگی اقدامات” کہلاتا ہے، جبکہ متاثرین کے لیے یہ زندگی بھر کا زخم بن جاتا ہے۔ ٹوکیو کی آگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب جنگ آسمان سے لڑی جائے تو زمین پر بسنے والے انسان صرف اعداد و شمار بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور غزہ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ یہ تاریخ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نئے نام اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ آج بھی دہرائی جا رہی ہے۔

جمعہ، 23 جنوری، 2026

آر سی ڈی کا تعارف



آر سی ڈی کا تعارف

RCD (Regional Cooperation for Development)
ایک علاقائی تعاون کا ادارہ تھا جو 1964ء میں پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان قائم ہوا۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے معاشی، تجارتی، ثقافتی اور سائنسی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا تھا۔
اس تنطیم کا صدر تہران، ایران میں تھا ، آر سی ڈی کا قیام سرد جنگ کے دوران ہوا، جب عالمی طاقتوں کے دباؤ اور علاقائی سیاسی چیلنجز کے پیش نظر مسلم ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت محسوس کی گئی۔
یہ اتحاد درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر قائم ہوا
تجارتی رابطے بڑھانا اور مشترکہ مارکیٹس قائم کرنا ، معاشی ترقی کے منصوبے (انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، توانائی) میں اشتراک ،ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی شعبوں میں تعلقات مضبوط کرنا
آر سی ڈی نے سیاسی میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا
پاکستان، ایران اور ترکی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ پالیسیز اپنائیں ۔تینوں ممالک نے عالمی فورمز میں ایک دوسرے کا موقف سہارا دیا ۔ اس اتحاد نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو مستحکم کیا ، یہ اثرات آج بھی خطے میں تعلقات کے حوالے سے اہم مثال کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
آر سی ڈی کا بنیادی مقصد معاشی ترقی اور تعاون تھا، جس کے اہم پہلو یہ تھے
تینوں ممالک کے درمیان اشیاء کی باہمی تجارت میں اضافہ
صنعتی، زرعی اور توانائی کے منصوبوں میں شراکت داری
سڑکیں، بندرگاہیں اور توانائی کے منصوبے
انسانی وسائل کی ترقی اور مشترکہ علمی منصوبے
یہ اقتصادی تعاون خطے میں روزگار، پیداوار اور معیشت کی مضبوطی کے لیے اہم تھا۔
آر سی ڈی نے نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی اور ثقافتی تعلقات کو بھی فروغ دیا۔ یونیورسٹیاں اور مشترکہ تحقیقی پروگرام شروع کیے گئے ۔وسیقی، ادب، زبان اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں طائفو ں کا تبادلہ شروع ہوا، وام کے درمیان سمجھ بوجھ اور اعتماد میں اضافہ ہوا ۔ اس سے تینوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات مضبوط ہوئے۔
اگرچہ آر سی ڈی نے متعدد مثبت اقدامات کیے، لیکن یہ کچھ چیلنجز بھی سامنا کرنا پڑا۔ خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے مشترکہ اقدامات میں تاخیر پیدا ہونا شروع ہوئی جس کے باعث ایران مین اسلامی انقلاب کے بعد کے بعد دوبارہ فعال کرنے میں مشکلات آئیں۔
اگر آر سی ڈی یا اس کے جدید فارم
ECO
کی روح کو فعال رکھا جائے، تو پاکستان، ایران اور ترکی کے تعلقات کے وسیع امکانات ہیں

چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں




چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں 
عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے روایتی توازن تیزی سے بدل رہے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ نے جس یک قطبی عالمی نظام کو قائم رکھا، اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ عالمی فیصلہ سازی کا مرکز واشنگٹن ہی رہے۔ مگر چین کے معاشی، سفارتی اور عسکری عروج نے اس تصور کو عملاً چیلنج کر دیا ہے۔ آج دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں دراصل اسی کثیر قطبی نظام کی تشکیل کو تیز کر رہی ہیں، جسے روکنا امریکی پالیسی کا اصل ہدف تھا۔
امریکہ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی پر پابندیاں، سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی محدود کرنے اور انڈو پیسیفک میں عسکری اتحادوں کے قیام جیسے اقدامات کیے۔ کواڈ اور آکس جیسے اتحاد چین کے گرد اسٹریٹجک دباؤ بڑھانے کی علامت ہیں۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی چین کو محدود کرنے کے لیے تھی، مگر اس کے نتائج عالمی سطح پر ایک مختلف سمت میں سامنے آ رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں وہ ممالک بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو کبھی امریکی موقف کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ آسٹریلیا، جو چند سال قبل چین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے تھا، اب اپنے تعلقات کو دوبارہ متوازن اور فعال بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے چین کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط کی بحالی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ محض امریکی دباؤ کی بنیاد پر کسی بڑی عالمی طاقت سے مستقل لاتعلقی ممکن نہیں۔
اسی طرح برطانیہ کے وزیرِ اعظم کا دورۂ چین غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دورے کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کو اس کے ’’سنہری دور‘‘ (Golden Era) کی طرف دوبارہ لے جانا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یورپی طاقتیں بھی اب چین کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے امریکی تصور سے فاصلہ اختیار کر رہی ہیں اور اپنے معاشی و اسٹریٹجک مفادات کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھ رہی ہیں۔
چین نے امریکی دباؤ کے جواب میں اپنی عالمی حکمتِ عملی کو مزید وسعت دی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے چین نے ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں متبادل اتحاد اور شراکتیں قائم کیں۔ روس، ایران اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب کسی ایک طاقت کے اشاروں پر چلنے کو تیار نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کی چین مخالف پالیسیوں نے صرف چین کو نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی یہ احساس دلایا ہے کہ یک قطبی نظام میں ان کی خودمختاری کس قدر محدود ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتیں اب متوازن خارجہ پالیسی، کثیر جہتی تعلقات اور متبادل مالی و تجارتی نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت، ڈالر کی بالادستی پر سوالات، اور نئی معاشی شراکتیں اسی بدلتی سوچ کا اظہار ہیں۔
یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بجائے ایک نئے عالمی توازن کو جنم دے رہی ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں طاقت، اثر و رسوخ اور فیصلے کسی ایک دارالحکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مختلف مراکز میں تقسیم ہوں گے۔ بظاہر امریکہ جس کثیر قطبی عالمی نظام کو روکنا چاہتا تھا، آج وہی نظام تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے—اور اس کی رفتار کو خود امریکی پالیسیاں ہی مزید تیز کر رہی ہیں۔

سوال اب یہ نہیں کہ اسرائیل کس کے خلاف ہے




 اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک راستے کہاں بچتے ہیں؟
عالمی سیاست میں بعض امکانات محض مفروضے نہیں ہوتے بلکہ آنے والے بحرانوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان پر مشتمل ابھرتا ہوا اتحاد—جسے پہلے ہی عسکری، معاشی اور ایٹمی وزن حاصل ہے—اس میں ایران بھی شامل ہو جائے، اور چین اس پورے بلاک کو سفارتی، معاشی اور تکنیکی سرپرستی فراہم کرے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقت کے توازن میں ایک تاریخی زلزلہ ہوگا۔ ایسے منظرنامے میں سب سے زیادہ دباؤ جس ریاست پر پڑے گا، وہ اسرائیل ہے۔
یہ اتحاد محض چار مسلم ممالک کا مجموعہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ جغرافیائی تسلسل، توانائی کے وسائل، آبنائے ہرمز سے بحیرۂ روم تک اثرورسوخ، اور ایٹمی صلاحیت کے امتزاج کے ساتھ ایک ایسا بلاک بن جائے گا جو امریکی بعد از انخلا دور میں خطے کی نئی حقیقت کو متعین کرے گا۔ چین کی حمایت اس بلاک کو محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر تحفظ فراہم کرے گی، خاص طور پر سلامتی کونسل، عالمی تجارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ اسرائیل کو مسئلہ ہوگا یا نہیں—سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس بچے گا کیا؟

اسرائیل کا سب سے واضح راستہ یہ ہوگا کہ وہ چین کے ساتھ ہر قسم کی معاشی، تکنیکی اور سفارتی قربت ترک کر کے خود کو مکمل طور پر امریکی بلاک میں ضم کر دے۔ اس کا مطلب ہوگا:
چینی سرمایہ کاری کا خاتمہ
ایشیائی منڈیوں سے محدود رسائی
یورپی خودمختار پالیسیوں سے بڑھتا ہوا فاصلہ
یہ راستہ اسرائیل کو عسکری تحفظ تو فراہم کرے گا، مگر معاشی اور سفارتی تنہائی کی قیمت پر۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں امریکا واحد فیصلہ ساز نہیں رہا، یہ آپشن طویل مدت میں کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب اس پر گھیراؤ تنگ ہوتا ہے تو وہ پیشگی عسکری کارروائی کو ایک آپشن کے طور پر دیکھتا ہے—چاہے وہ ایران ہو، لبنان ہو یا غزہ۔
لیکن اس نئے بلاک کی موجودگی میں یہ راستہ انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ:
ایران کی شمولیت کا مطلب براہِ راست جوابی صلاحیت
ترکی اور پاکستان کی عسکری گہرائی
ایسی کسی مہم جوئی کا نتیجہ محدود جنگ نہیں بلکہ وسیع علاقائی تصادم ہو سکتا ہے، جس کے نتائج اسرائیل کے لیے ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔
ایک کمزور مگر حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل:
فلسطین کے معاملے میں حقیقی سیاسی رعایت دے
عرب اور مسلم دنیا سے تصادم کی پالیسی ترک کرے
خود کو ایک توسیع پسند ریاست کے بجائے ایک نارمل علاقائی ریاست کے طور پر پیش کرے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کی داخلی سیاست، نظریاتی ساخت اور طاقتور دائیں بازو کی قیادت اس راستے کو عملی طور پر تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔
چوتھا آپشن: یورپ اور ایشیا میں متبادل اتحاد
اسرائیل کوشش کر سکتا ہے کہ:
یورپی یونین کے ساتھ تعلقات گہرے کرے
بھارت، جاپان اور بعض افریقی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹجک روابط بڑھائے
مگر چین کی غیر موجودگی اور مسلم بلاک کی جغرافیائی برتری کے سامنے یہ اتحاد توازن قائم کرنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔
اگر ایران اس اتحاد میں شامل ہو جاتا ہے اور چین اس کا محافظ بن جاتا ہے، تو اسرائیل پہلی بار صرف عسکری خطرے میں نہیں بلکہ اسٹریٹجک گھٹن (Strategic Suffocation) کا شکار ہوگا۔ نہ وہ آزادانہ جنگ چھیڑ سکے گا، نہ بیک وقت امریکا اور چین کے ساتھ کھیل جاری رکھ سکے گا، اور نہ ہی معاشی وسعت کے پرانے راستے کھلے رہیں گے۔
صدر شی جن پنگ کا پیغام اس منظرنامے میں اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے:
نئی دنیا میں دو کشتیوں پر سوار رہنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
اسرائیل کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ وہ کس کے خلاف ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہ سکتا ہے—اور کس قیمت پر۔


قہر 313

قہر 313

عالمی عسکری سیاست میں بعض ہتھیار اپنی عملی صلاحیت سے کہیں زیادہ اپنی علامتی اور نفسیاتی تاثیر کے باعث موضوعِ بحث بنتے ہیں۔ ایران کا قہر 313 بھی ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جو 2013 میں منظرِ عام پر آتے ہی دفاعی ماہرین، میڈیا اور عسکری تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ طیارہ صرف ایک ممکنہ اسٹیلتھ فائٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سوال کے طور پر سامنے آیا کہ جدید جنگ میں اصل طاقت خالص تکنیکی برتری ہے یا اس برتری کا تاثر اور بیانیہ؟

قہر 313 کو ایران نے اپنی ایوی ایشن انڈسٹریز آرگنائزیشن کے تحت ایک مقامی سطح پر تیار کردہ اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ہلکا، کم رفتار، کم ریڈار سگنیچر رکھنے والا طیارہ ہے جو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت مختصر رن ویز سے پرواز اور کم بلندی پر مؤثر آپریشن بتائی گئی، جو ایران کے جغرافیائی اور دفاعی حالات کے مطابق اہم سمجھی جاتی ہے۔

تاہم جب بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے اس طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو کئی سنگین سوالات سامنے آئے۔ پروں کا غیر متوازن سائز، کاک پٹ کی ساخت، انجن کی گنجائش اور ایرودائنامکس ایسی تھیں جو ایک مکمل اور عملی فائٹر جیٹ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دفاعی حلقوں میںقہر 313 کو ایک نمائشی ماڈل یا ابتدائی پروٹو ٹائپ قرار دیا گیا، نہ کہ ایک مکمل طور پر فعال جنگی طیارہ۔

لیکن قاہر 313 کو محض ایک ناکام یا غیر سنجیدہ منصوبہ کہہ کر رد کر دینا بھی حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ ایران کوئی ایسا ملک نہیں جو پچھلے چند برسوں سے دباؤ میں ہو؛ بلکہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے عملی طور پر ایک مسلسل حالتِ جنگ میں زندہ رہا ہے۔ براہِ راست فوجی تصادم، خفیہ جنگ، اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور ٹیکنالوجی تک محدود رسائی—یہ سب ایران کے مستقل دفاعی ماحول کا حصہ رہے ہیں۔

ان سخت حالات کے باوجود ایران نے کبھی اپنے دفاعی اور بالخصوص دفعی 

دفاعی

صلاحیتوں کے حصول سے غفلت نہیں برتی۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام، اور مقامی سطح پر عسکری پیداوار—یہ سب اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ قاہر 313 بھی اسی ذہنیت کی ایک کڑی ہے، چاہے وہ عملی میدان میں مکمل کامیاب ہو یا نہ ہو۔

حالیہ برسوں میں ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ

قہر 313 کے تصور کو بغیر پائلٹ فضائی پلیٹ فارم، یعنی ڈرون ٹیکنالوجی، میں ڈھالنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اب علامتی منصوبوں کو عملی دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسی جنگوں کے تناظر میں جہاں بغیر پائلٹ نظام فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران کی اس دفاعی سوچ میں حالیہ برسوں میں ایک نمایاں تبدیلی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران اب یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ محض عسکری خود کفالت کافی نہیں، بلکہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات ہی اس کے دفاع کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت، ترکی کے ساتھ محتاط تعاون، پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی، اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا اعتماد—یہ سب ایران کی اسی بدلی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسی سوچ کے نتیجے میں خطے کے کئی ممالک میں ایران کے حوالے سے رویّے میں نرمی اور ہمدردی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ ایران اب صرف ایک مزاحمتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جو تصادم کے بجائے توازن، اور تنہائی کے بجائے شراکت داری کے ذریعے اپنی سلامتی یقینی بنانا چاہتی ہے۔

نتیجتاً، قاہر 313 کو ایک مکمل جنگی طیارے کے بجائے ایک اسٹریٹجک علامت کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ علامت اس امر کی نمائندگی کرتی ہے کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے، بلکہ بیانیہ، نفسیاتی دباؤ، مسلسل مزاحمت اور ٹیکنالوجی کا تاثر بھی طاقت کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
قہر 313 شاید آسمانوں میں فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکے، مگر اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران نہ سویا ہے، نہ ہتھیار ڈالے ہیں، اور نہ ہی مستقبل کی جنگ کے تقاضوں سے غافل ہے۔