جمعہ، 23 جنوری، 2026

چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں




چین کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں 
عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے روایتی توازن تیزی سے بدل رہے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ نے جس یک قطبی عالمی نظام کو قائم رکھا، اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ عالمی فیصلہ سازی کا مرکز واشنگٹن ہی رہے۔ مگر چین کے معاشی، سفارتی اور عسکری عروج نے اس تصور کو عملاً چیلنج کر دیا ہے۔ آج دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں دراصل اسی کثیر قطبی نظام کی تشکیل کو تیز کر رہی ہیں، جسے روکنا امریکی پالیسی کا اصل ہدف تھا۔
امریکہ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی پر پابندیاں، سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی محدود کرنے اور انڈو پیسیفک میں عسکری اتحادوں کے قیام جیسے اقدامات کیے۔ کواڈ اور آکس جیسے اتحاد چین کے گرد اسٹریٹجک دباؤ بڑھانے کی علامت ہیں۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی چین کو محدود کرنے کے لیے تھی، مگر اس کے نتائج عالمی سطح پر ایک مختلف سمت میں سامنے آ رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں وہ ممالک بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو کبھی امریکی موقف کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ آسٹریلیا، جو چند سال قبل چین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے تھا، اب اپنے تعلقات کو دوبارہ متوازن اور فعال بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے چین کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط کی بحالی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ محض امریکی دباؤ کی بنیاد پر کسی بڑی عالمی طاقت سے مستقل لاتعلقی ممکن نہیں۔
اسی طرح برطانیہ کے وزیرِ اعظم کا دورۂ چین غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دورے کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کو اس کے ’’سنہری دور‘‘ (Golden Era) کی طرف دوبارہ لے جانا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یورپی طاقتیں بھی اب چین کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے امریکی تصور سے فاصلہ اختیار کر رہی ہیں اور اپنے معاشی و اسٹریٹجک مفادات کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھ رہی ہیں۔
چین نے امریکی دباؤ کے جواب میں اپنی عالمی حکمتِ عملی کو مزید وسعت دی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے چین نے ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں متبادل اتحاد اور شراکتیں قائم کیں۔ روس، ایران اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اب کسی ایک طاقت کے اشاروں پر چلنے کو تیار نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کی چین مخالف پالیسیوں نے صرف چین کو نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی یہ احساس دلایا ہے کہ یک قطبی نظام میں ان کی خودمختاری کس قدر محدود ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتیں اب متوازن خارجہ پالیسی، کثیر جہتی تعلقات اور متبادل مالی و تجارتی نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت، ڈالر کی بالادستی پر سوالات، اور نئی معاشی شراکتیں اسی بدلتی سوچ کا اظہار ہیں۔
یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چین کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بجائے ایک نئے عالمی توازن کو جنم دے رہی ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں طاقت، اثر و رسوخ اور فیصلے کسی ایک دارالحکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مختلف مراکز میں تقسیم ہوں گے۔ بظاہر امریکہ جس کثیر قطبی عالمی نظام کو روکنا چاہتا تھا، آج وہی نظام تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے—اور اس کی رفتار کو خود امریکی پالیسیاں ہی مزید تیز کر رہی ہیں۔

سوال اب یہ نہیں کہ اسرائیل کس کے خلاف ہے




 اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک راستے کہاں بچتے ہیں؟
عالمی سیاست میں بعض امکانات محض مفروضے نہیں ہوتے بلکہ آنے والے بحرانوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان پر مشتمل ابھرتا ہوا اتحاد—جسے پہلے ہی عسکری، معاشی اور ایٹمی وزن حاصل ہے—اس میں ایران بھی شامل ہو جائے، اور چین اس پورے بلاک کو سفارتی، معاشی اور تکنیکی سرپرستی فراہم کرے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقت کے توازن میں ایک تاریخی زلزلہ ہوگا۔ ایسے منظرنامے میں سب سے زیادہ دباؤ جس ریاست پر پڑے گا، وہ اسرائیل ہے۔
یہ اتحاد محض چار مسلم ممالک کا مجموعہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ جغرافیائی تسلسل، توانائی کے وسائل، آبنائے ہرمز سے بحیرۂ روم تک اثرورسوخ، اور ایٹمی صلاحیت کے امتزاج کے ساتھ ایک ایسا بلاک بن جائے گا جو امریکی بعد از انخلا دور میں خطے کی نئی حقیقت کو متعین کرے گا۔ چین کی حمایت اس بلاک کو محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر تحفظ فراہم کرے گی، خاص طور پر سلامتی کونسل، عالمی تجارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ اسرائیل کو مسئلہ ہوگا یا نہیں—سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس بچے گا کیا؟

اسرائیل کا سب سے واضح راستہ یہ ہوگا کہ وہ چین کے ساتھ ہر قسم کی معاشی، تکنیکی اور سفارتی قربت ترک کر کے خود کو مکمل طور پر امریکی بلاک میں ضم کر دے۔ اس کا مطلب ہوگا:
چینی سرمایہ کاری کا خاتمہ
ایشیائی منڈیوں سے محدود رسائی
یورپی خودمختار پالیسیوں سے بڑھتا ہوا فاصلہ
یہ راستہ اسرائیل کو عسکری تحفظ تو فراہم کرے گا، مگر معاشی اور سفارتی تنہائی کی قیمت پر۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں امریکا واحد فیصلہ ساز نہیں رہا، یہ آپشن طویل مدت میں کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب اس پر گھیراؤ تنگ ہوتا ہے تو وہ پیشگی عسکری کارروائی کو ایک آپشن کے طور پر دیکھتا ہے—چاہے وہ ایران ہو، لبنان ہو یا غزہ۔
لیکن اس نئے بلاک کی موجودگی میں یہ راستہ انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ:
ایران کی شمولیت کا مطلب براہِ راست جوابی صلاحیت
ترکی اور پاکستان کی عسکری گہرائی
ایسی کسی مہم جوئی کا نتیجہ محدود جنگ نہیں بلکہ وسیع علاقائی تصادم ہو سکتا ہے، جس کے نتائج اسرائیل کے لیے ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔
ایک کمزور مگر حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل:
فلسطین کے معاملے میں حقیقی سیاسی رعایت دے
عرب اور مسلم دنیا سے تصادم کی پالیسی ترک کرے
خود کو ایک توسیع پسند ریاست کے بجائے ایک نارمل علاقائی ریاست کے طور پر پیش کرے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کی داخلی سیاست، نظریاتی ساخت اور طاقتور دائیں بازو کی قیادت اس راستے کو عملی طور پر تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔
چوتھا آپشن: یورپ اور ایشیا میں متبادل اتحاد
اسرائیل کوشش کر سکتا ہے کہ:
یورپی یونین کے ساتھ تعلقات گہرے کرے
بھارت، جاپان اور بعض افریقی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹجک روابط بڑھائے
مگر چین کی غیر موجودگی اور مسلم بلاک کی جغرافیائی برتری کے سامنے یہ اتحاد توازن قائم کرنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔
اگر ایران اس اتحاد میں شامل ہو جاتا ہے اور چین اس کا محافظ بن جاتا ہے، تو اسرائیل پہلی بار صرف عسکری خطرے میں نہیں بلکہ اسٹریٹجک گھٹن (Strategic Suffocation) کا شکار ہوگا۔ نہ وہ آزادانہ جنگ چھیڑ سکے گا، نہ بیک وقت امریکا اور چین کے ساتھ کھیل جاری رکھ سکے گا، اور نہ ہی معاشی وسعت کے پرانے راستے کھلے رہیں گے۔
صدر شی جن پنگ کا پیغام اس منظرنامے میں اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے:
نئی دنیا میں دو کشتیوں پر سوار رہنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
اسرائیل کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ وہ کس کے خلاف ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہ سکتا ہے—اور کس قیمت پر۔


قہر 313

قہر 313

عالمی عسکری سیاست میں بعض ہتھیار اپنی عملی صلاحیت سے کہیں زیادہ اپنی علامتی اور نفسیاتی تاثیر کے باعث موضوعِ بحث بنتے ہیں۔ ایران کا قہر 313 بھی ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جو 2013 میں منظرِ عام پر آتے ہی دفاعی ماہرین، میڈیا اور عسکری تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ طیارہ صرف ایک ممکنہ اسٹیلتھ فائٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سوال کے طور پر سامنے آیا کہ جدید جنگ میں اصل طاقت خالص تکنیکی برتری ہے یا اس برتری کا تاثر اور بیانیہ؟

قہر 313 کو ایران نے اپنی ایوی ایشن انڈسٹریز آرگنائزیشن کے تحت ایک مقامی سطح پر تیار کردہ اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ہلکا، کم رفتار، کم ریڈار سگنیچر رکھنے والا طیارہ ہے جو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت مختصر رن ویز سے پرواز اور کم بلندی پر مؤثر آپریشن بتائی گئی، جو ایران کے جغرافیائی اور دفاعی حالات کے مطابق اہم سمجھی جاتی ہے۔

تاہم جب بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے اس طیارے کے ڈیزائن اور تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو کئی سنگین سوالات سامنے آئے۔ پروں کا غیر متوازن سائز، کاک پٹ کی ساخت، انجن کی گنجائش اور ایرودائنامکس ایسی تھیں جو ایک مکمل اور عملی فائٹر جیٹ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دفاعی حلقوں میںقہر 313 کو ایک نمائشی ماڈل یا ابتدائی پروٹو ٹائپ قرار دیا گیا، نہ کہ ایک مکمل طور پر فعال جنگی طیارہ۔

لیکن قاہر 313 کو محض ایک ناکام یا غیر سنجیدہ منصوبہ کہہ کر رد کر دینا بھی حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ ایران کوئی ایسا ملک نہیں جو پچھلے چند برسوں سے دباؤ میں ہو؛ بلکہ وہ گزشتہ پچاس برسوں سے عملی طور پر ایک مسلسل حالتِ جنگ میں زندہ رہا ہے۔ براہِ راست فوجی تصادم، خفیہ جنگ، اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور ٹیکنالوجی تک محدود رسائی—یہ سب ایران کے مستقل دفاعی ماحول کا حصہ رہے ہیں۔

ان سخت حالات کے باوجود ایران نے کبھی اپنے دفاعی اور بالخصوص دفعی 

دفاعی

صلاحیتوں کے حصول سے غفلت نہیں برتی۔ بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام، اور مقامی سطح پر عسکری پیداوار—یہ سب اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ قاہر 313 بھی اسی ذہنیت کی ایک کڑی ہے، چاہے وہ عملی میدان میں مکمل کامیاب ہو یا نہ ہو۔

حالیہ برسوں میں ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ

قہر 313 کے تصور کو بغیر پائلٹ فضائی پلیٹ فارم، یعنی ڈرون ٹیکنالوجی، میں ڈھالنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اب علامتی منصوبوں کو عملی دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسی جنگوں کے تناظر میں جہاں بغیر پائلٹ نظام فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران کی اس دفاعی سوچ میں حالیہ برسوں میں ایک نمایاں تبدیلی بھی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران اب یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ محض عسکری خود کفالت کافی نہیں، بلکہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات ہی اس کے دفاع کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت، ترکی کے ساتھ محتاط تعاون، پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی، اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا اعتماد—یہ سب ایران کی اسی بدلی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسی سوچ کے نتیجے میں خطے کے کئی ممالک میں ایران کے حوالے سے رویّے میں نرمی اور ہمدردی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ ایران اب صرف ایک مزاحمتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جو تصادم کے بجائے توازن، اور تنہائی کے بجائے شراکت داری کے ذریعے اپنی سلامتی یقینی بنانا چاہتی ہے۔

نتیجتاً، قاہر 313 کو ایک مکمل جنگی طیارے کے بجائے ایک اسٹریٹجک علامت کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ علامت اس امر کی نمائندگی کرتی ہے کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار فیصلہ کن نہیں ہوتے، بلکہ بیانیہ، نفسیاتی دباؤ، مسلسل مزاحمت اور ٹیکنالوجی کا تاثر بھی طاقت کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
قہر 313 شاید آسمانوں میں فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکے، مگر اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران نہ سویا ہے، نہ ہتھیار ڈالے ہیں، اور نہ ہی مستقبل کی جنگ کے تقاضوں سے غافل ہے۔


غزہ کا پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس





غزہ کا  پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس 
 غزہ  پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، 
غزہ میں حالیہ تباہ کن جنگ کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد امن، نظم و نسق اور استحکام کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔ اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت دو اہم ڈھانچے سامنے آئے ہیں: غزہ پیس بورڈ اور بین الاقوامی استحکامی فورس۔ اگرچہ یہ دونوں ادارے ایک ہی مقصد، یعنی غزہ میں پائیدار امن و استحکام، کے لیے قائم کیے گئے ہیں، مگر ان کی نوعیت، دائرۂ کار اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔
غزہ پیس بورڈ دراصل ایک بین الاقوامی انتظامی اور سفارتی ادارہ ہے، جس کا بنیادی کام غزہ کے بعد از جنگ سیاسی، انتظامی اور معاشی مستقبل کی نگرانی کرنا ہے۔ اس بورڈ کی ذمہ داریوں میں غزہ کے عبوری حکومتی ڈھانچے کی تشکیل، تعمیرِ نو کے منصوبوں کی منصوبہ بندی، عالمی مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی تنظیم، اور مختلف بین الاقوامی فریقوں کے درمیان رابطہ کاری شامل ہے۔ یہ ادارہ براہِ راست کسی عسکری کارروائی میں شامل نہیں بلکہ اس کا کردار پالیسی سازی، حکمرانی اور ترقیاتی سمت کے تعین تک محدود ہے۔ غیر معمولی طور پر اس بورڈ کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کر رہے ہیں، جس کے باعث اسے روایتی اقوامِ متحدہ کے اداروں سے ہٹ کر ایک طاقتور اور متنازعہ پلیٹ فارم سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس، بین الاقوامی استحکامی فورس 
ایک خالصتاً سکیورٹی اور عسکری نوعیت کا انتظام ہے۔ یہ فورس اقوامِ متحدہ کی منظوری کے ساتھ مختلف ممالک کے فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ہوگی، جس کا مقصد غزہ میں زمینی سطح پر امن و امان قائم رکھنا ہے۔ اس کے دائرۂ کار میں جنگ بندی کی نگرانی، غیر قانونی اسلحے کا خاتمہ، سرحدی اور حساس علاقوں کی نگرانی، اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنا شامل ہے۔ سادہ الفاظ میں، جہاں پیس بورڈ غزہ کے سیاسی و انتظامی مستقبل کا خاکہ تیار کرتا ہے، وہیں استحکامی فورس اس خاکے کو عملی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
یوں یہ کہنا درست ہوگا کہ غزہ پیس بورڈ دماغ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکامی فورس زمین پر موجود بازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایک کی کامیابی دوسرے کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر انتظامی فیصلوں کو زمینی تحفظ حاصل نہ ہو تو وہ محض کاغذی منصوبے رہ جاتے ہیں، اور اگر عسکری استحکام کے پیچھے واضح سیاسی و ترقیاتی وژن نہ ہو تو وہ دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو پاتا۔
غزہ کے مستقبل کا انحصار اسی نازک توازن پر ہے کہ آیا یہ دونوں ادارے واقعی غیر جانبداری، شفافیت اور مقامی آبادی کے مفادات کو سامنے رکھ کر کام کر پاتے ہیں یا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کا رخ متعین کرے گا۔

بدھ، 21 جنوری، 2026

ایران، اسرائیل اور کرد 4





ایران، اسرائیل اور کرد 4

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کسی روایتی جنگ کی صورت میں سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک طویل المدت اور بالواسطہ کشمکش ہے جو مختلف محاذوں، پراکسی نیٹ ورکس اور اسٹریٹیجک اتحادیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ انہی خاموش مگر فیصلہ کن محاذوں میں ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عنصر کرد فیکٹر ہے۔ کرد نہ تو اسرائیل کے فطری اتحادی ہیں اور نہ ایران کے، مگر دونوں ریاستیں انہیں اپنی اسٹریٹیجک ضرورت کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔

ایران کے نزدیک کرد مسئلہ محض ایک نسلی یا ثقافتی سوال نہیں، بلکہ یہ قومی وحدت، سرحدی سلامتی اور ریاستی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چونکہ کرد آبادی ایران، عراق، ترکی اور شام کے سرحدی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور مختلف کرد تحریکیں سرحد پار روابط رکھتی ہیں، اس لیے تہران کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ یا مغربی انٹیلی جنس ادارے کردوں کو ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ایران کرد جماعتوں پر سخت کنٹرول، سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مستقل موجودگی اور بعض اوقات عراق کے اندر سرحد پار کارروائیوں کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

اس کے برعکس اسرائیل کا نقطۂ نظر بالکل مختلف ہے۔ اسرائیلی پالیسی تاریخی طور پر اس حکمتِ عملی پر مبنی رہی ہے جسے

 “Peripheral Doctrine”

 کہا جاتا ہے، یعنی عرب اکثریتی اور دشمن ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے غیر عرب اقوام اور اقلیتوں سے تعلقات استوار کرنا۔ اس تناظر میں کرد اسرائیل کے لیے ایک ممکنہ اسٹرٹیجک اثاثہ سمجھے جاتے ہیں: وہ عرب نہیں، تاریخی طور پر ریاست سے محروم رہے ہیں، اور علاقائی تنازعات میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل کے مفادات واضح ہیں۔ وہ ایران اور بعض عرب ریاستوں کے اندر دباؤ پیدا کرنا چاہتا ہے، انٹیلی جنس نیٹ ورکس تک رسائی کا خواہاں ہے، اور اپنے گرد ایسے غیر ریاستی دباؤ کے حلقے بنانا چاہتا ہے جو اس کے حریفوں کے لیے مستقل چیلنج بنے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اسرائیل نے عراقی کردوں سے خفیہ روابط رکھے اور 2017 میں کردستان کے ریفرنڈم کی کھل کر حمایت کی۔ تاہم یہ حمایت زیادہ اخلاقی کم اور اسٹرٹیجک نوعیت کی تھی۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرد کوئی واحد، منظم یا یکساں بلاک نہیں۔ کرد سیاست اندرونی تقسیم کا شکار رہی ہے—بارزانی اور طالبانی جیسے مختلف دھڑے، قوم پرست، بائیں بازو اور قبائلی رجحانات، سب اپنی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر کردوں کا بنیادی ہدف اپنی شناخت کا تحفظ، سیاسی خودمختاری اور ریاستی جبر سے نجات ہے۔ اسی پس منظر میں بعض کرد قیادتیں اسرائیل سے روابط کو ایک وقتی حکمتِ عملی سمجھتی ہیں، جبکہ دیگر حلقے اسے اخلاقی تضاد اور فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتے ہیں۔

اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ “کرد اسرائیل کے ایجنٹ ہیں”۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ کچھ کرد دھڑے مخصوص حالات میں اسرائیلی مفادات سے وقتی ہم آہنگی اختیار کر لیتے ہیں، جسے پوری قوم کی اجتماعی پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایران اور اسرائیل کے باہمی تصادم میں کرد کہاں کھڑے ہیں؟ ایرانی بیانیے میں کرد ایک ممکنہ بیرونی سازش کا مہرہ سمجھے جاتے ہیں، اسرائیل کو اصل دشمن قرار دیا جاتا ہے، اور کرد علاقوں کو انٹیلی جنس کی ممکنہ راہداری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیلی بیانیے میں کرد ایک مظلوم قوم ہیں، ایران ایک توسیع پسند ریاست، اور کردوں کی حمایت ایران پر اخلاقی اور اسٹرٹیجک دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے۔

حقیقت مگر ان دونوں بیانیوں سے زیادہ تلخ ہے۔ کرد اکثر ان دو بڑی طاقتوں کے بیچ پس جاتے ہیں۔ انہیں کہیں سے مکمل ریاستی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اور زیادہ تر صورتوں میں ان کا استعمال زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔ طاقت کی اس بساط میں وہ مہرے بن جاتے ہیں، فیصلہ ساز نہیں۔

سب سے بڑا تضاد تاریخ کا وہ تلخ موڑ ہے جہاں ایک کرد رہنما، سلطان صلاح الدین ایوبی، نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا، جبکہ آج بعض کرد دھڑے اسرائیل سے تعلقات کے باعث مسلم دنیا میں شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہی تضاد کرد سیاست کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائش ہے—اور شاید مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا بھی ایک کڑا امتحان۔