پیر، 19 جنوری، 2026

آزادی کا فریب یا نگرانی کا جال؟


 

زادی کا فریب یا نگرانی کا جال؟
عالمی سیاست میں ٹیکنالوجی اب محض سہولت نہیں رہی، بلکہ طاقت کے توازن کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک غیر معمولی حکمتِ عملی کے تحت سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کو آزادی کی علامت کے بجائے نگرانی کے آلے میں تبدیل کر دیا—اور یہ تبدیلی محض تکنیکی نہیں، اسٹریٹجک تھی۔ ایران نے ایک کنٹرولڈ تجرباتی مرحلے میں روایتی انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر بند کیں، مگر اسٹارلنک کو جان بوجھ کر فعال رکھا۔ بظاہر یہ ایک خلا چھوڑنے کا اقدام تھا، مگر درحقیقت یہی خلا ڈیجیٹل سراغ رسانی کے لیے استعمال ہوا۔ جن صارفین نے اسٹارلنک کے ذریعے رابطہ قائم رکھا، وہ خود بخود ایک محدود مگر واضح ڈیجیٹل دائرے میں آ گئے—ایک ایسا دائرہ جسے مانیٹر کرنا نسبتاً آسان تھا۔اس دوران مبینہ طور پر ایران نے الیکٹرانک انٹیلی جنس، سگنل اینالیسس اور مقامی نیٹ ورک ڈیٹا کے امتزاج سے صارفین کی شناخت، لوکیشن اور رابطہ جاتی پیٹرن اخذ کیے۔ یوں اسٹارلنک، جو عام تاثر میں ریاستی نگرانی سے بچنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، خود شناخت اور گرفتاری کا ذریعہ بن گیا۔ جب یہ مرحلہ مکمل ہوا تو اگلا قدم اٹھایا گیا: اسٹارلنک کی فعالیت کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
یہ واقعہ ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے:
کیا سیٹلائٹ انٹرنیٹ واقعی ریاستی کنٹرول سے آزاد ہوتا ہے؟یا پھر یہ آزادی صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک ریاست اسے برداشت کرے؟
ایران کے اس اقدام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود غیر جانبدار نہیں ہوتی؛ اسے استعمال کرنے والی حکمتِ عملی اسے ہتھیار بھی بنا سکتی ہے اور جال بھی۔ جہاں مغربی بیانیہ اسٹارلنک کو سنسرشپ کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے، وہیں ایرانی تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ غیر ملکی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بعض حالات میں صارف کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس پیش رفت کے اثرات ایران تک محدود نہیں۔ یہ ایک سبق ہے اُن تمام معاشروں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ متبادل انٹرنیٹ خود بخود تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ریاست الیکٹرانک جنگ، سگنل انٹیلی جنس اور مقامی کنٹرول کے اوزار یکجا کر لے، تو سب سے جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک بھی نگرانی کے دائرے سے باہر نہیں رہتا۔
یوں ایران نے نہ صرف اسٹارلنک کے گرد بنے ہوئے اساطیری تصور کو توڑا، بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ آئندہ کی جنگیں صرف میزائلوں اور ڈرونز سے نہیں، بلکہ ڈیٹا، سگنلز اور صارف کی ایک کلک سے لڑی جائیں گی۔
آزادی کے نام پر فراہم کی گئی ٹیکنالوجی، اگر مقامی زمینی حقیقتوں سے ٹکرا جائے، تو آزادی نہیں—شناخت بن جاتی ہے۔

اتوار، 18 جنوری، 2026

العدید پر اطالوی طیارہ ... ایک پیغام





 العدید پر اطالوی طیارہ  ... ایک پیغام

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک بساط پر مرکزِ نگاہ ہے۔ قطر کے العدید ایئر بیس پر اطالوی فضائیہ کے طیارے کی حالیہ لینڈنگ محض ایک تکنیکی یا معمول کی فوجی سرگرمی نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آنے والے دنوں کے ممکنہ منظرنامے کی واضح علامت ہے۔

اطالوی فضائیہ کے اس طیارے کی ذمہ داریاں محض افراد کی نقل و حمل تک محدود نہیں۔ یہ طیارہ اعلیٰ عسکری و سفارتی قیادت اور اتحادی وفود کی منتقلی کا ذریعہ ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ براہِ راست میدانِ عمل کے قریب ہو رہے ہیں۔ ایسے دوروں کا مقصد اتحادیوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل کی صلاحیت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

اس سے زیادہ اہم پہلو الیکٹرانک جاسوسی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کا ہے۔ جدید دور کی جنگیں اب صرف میزائلوں اور بمبار طیاروں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ فریکوئنسیوں، سگنلز، ڈیٹا اور خاموش نگرانی کے ذریعے فیصل کن برتری حاصل کی جاتی ہے۔ اطالوی طیارے کی موجودگی اس بات کا عندیہ ہے کہ خطے میں حالات کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر حرکت کو ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

العدید ایئر بیس پر یہ طیارہ کمانڈ اینڈ کنٹرول اور خفیہ مواصلاتی نظام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جدید عسکری حکمتِ عملی میں فضائی رابطہ مراکز کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہوتی ہے، جہاں سے مختلف محاذوں پر سرگرم فورسز کو ایک ہی کمان کے تحت جوڑا جاتا ہے۔ نیٹو اور اتحادی افواج کے درمیان ہم آہنگی، اطلاعات کی فوری ترسیل اور مشترکہ ردِعمل اسی نظام کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔

یہ تمام سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب اسلامی جمہوریہ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان تناؤ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران کے اندرونی حالات، خطے میں اس کے اتحادیوں کی سرگرمیاں، اور امریکہ و یورپی ممالک کے سخت ہوتے ہوئے سفارتی و عسکری اشارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ العدید جیسے حساس فوجی اڈوں پر فورس پوزیشننگ اور احتیاطی اقدامات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

جون 2025ء کے واقعات ابھی تاریخ کا حصہ بنے ہی تھے کہ خطے میں ایک بار پھر غیر یقینی فضا گہری ہو گئی۔ العدید ایئر بیس ماضی میں بھی براہِ راست خطرات کا سامنا کر چکا ہے، اور یہی پس منظر موجودہ نقل و حرکت کو مزید معنی خیز بنا دیتا ہے۔ اٹلی کی یہ تعیناتی دراصل نیٹو کے اجتماعی دفاعی تصور کی عملی شکل ہے، جس میں ہر اتحادی اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرتا ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ ایک طیارہ کہاں اترا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں کس سمت بڑھ رہی ہیں۔ العدید پر اطالوی طیارے کی لینڈنگ ایک خاموش پیغام ہے: خطہ عالمی توجہ کے مرکز میں ہے، فیصلے تیار ہو رہے ہیں، اور آنے والے دن معمولی نہیں ہوں گے۔ ایسے میں سفارت، دانش اور تحمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے—کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ غلط اندازے پورے خطے کو دہائیوں تک عدم استحکام کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

جب جوتھائی آبادی ختم ہو گئی



نوعِ انسان کی پہلی جنگ میں آبادی کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔ یہ سانحہ ایسا تھا کہ پوری دنیا غم اور ندامت میں ڈوب گئی۔ انسانیت اپنے خالق کے حضور شرمساری سے جھک گئی۔ مارنے والے بھی اپنے عمل پر مطمئن نہ تھے؛ جو لمحاتی اشتعال تھا، وہ مستقل پچھتاوے میں بدل چکا تھا۔

یہ انسانی تاریخ کا ایک مستقل اصول ہے کہ جب ظلم کرنے والا اپنے جرم کا اعتراف کر لے، ندامت ظاہر کرے، معافی مانگے اور منصف کی دی ہوئی سزا قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے تو انصاف بھی رحمت کا پہلو اختیار کر لیتا ہے۔ اس پہلی جنگ میں منصف کوئی انسان نہیں، بلکہ خود انسان کا خالق تھا—وہی خالق جس نے انسان کو پیدا کرتے وقت فرشتوں کے اس اندیشے کو رد کر دیا تھا کہ یہ زمین میں فساد کرے گا اور ایک دوسرے کا خون بہائے گا۔

مگر وہ اندیشہ حقیقت بن چکا تھا۔ بھائی نے بھائی کا خون بہا دیا تھا۔ قابیل، ہابیل کو قتل کر کے دنیا کی پہلی جنگ کا آغاز کر چکا تھا۔ اس وقت نہ ایٹم بم تھا، نہ لشکر، مگر چار افراد پر مشتمل ایک بستی جنگ کی نذر ہو چکی تھی۔ یہ غم اور یہ ندامت ایک دن یا ایک سال نہیں، بلکہ پورے ایک سو تیس برس تک انسانیت کے دل پر سایہ فگن رہی۔

بالآخر خالق نے شیثؑ کو عطا کر کے آدمؑ کے دل کو تسلی دی۔ نہ اللہ نے قابیل سے فوری انتقام لیا، نہ آدمؑ نے اپنے لاڈلے بیٹے ہابیل کے قتل پر قابیل کی موت مانگی، اور نہ ہی ہابیل کی ماں کے دل میں بدلے کی خواہش نے جنم لیا۔ یہ واقعہ انسانیت کے لیے ایک خاموش مگر گہرا پیغام تھا: کہ معافی، صبر اور مہلت بھی عدل ہی کی ایک صورت ہیں۔


زندگی کے اصل اوزار





زندگی کے اصل اوزار
غسل خانے کا بیسن
 ٹپک رہا تھا۔ میں نے پلمبر کو بلایا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص آیا، ہاتھ میں پرانا سا ٹول بکس، چہرے پر عجیب سا اطمینان۔
وہ کام میں لگ گیا۔ رنچ ٹوٹی ہوئی تھی، آری آدھی۔ ایک لمحے کو لگا شاید یہ شخص میرے مسئلے کا حل نہیں۔ مگر دس منٹ بعد نل ٹھیک تھا، پانی بند، کام مکمل۔
میں نے اسے زیادہ 1000 کا نوٹ دیا،
“آدہے ہی کافی ہیں”
یہ جواب چونکانے والا تھا، مگر اس کی مسکراہٹ میں کوئی دکھ یا مجبوری نہیں تھی، صرف اطمینان تھا۔ اس نے بتایا کہ مقررہ حق سے زیادہ لینا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر دل کا سکون نہیں۔
میں نے اس کے اوزاروں کی طرف اشارہ کیا۔
وہ ہنسا اور بولا،
“اوزار گھس جاتے ہیں، مگر ہنر باقی رہتا ہے۔ جیسے انسان—وقت کے نشان اسے کمزور نہیں، تجربہ کار بناتے ہیں۔”
پھر اس نے ایک سادہ مگر گہری بات کہی:
“قلم مہنگا ہو یا سستا، لکھنے والا جانتا ہو تو بات کاغذ پر اتر ہی جاتی ہے۔”
اس لمحے احساس ہوا کہ اصل طاقت وسائل میں نہیں، مہارت اور اعتماد میں ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے ہنر پر یقین رکھتا ہو، وہ محدود وسائل کے باوجود راستہ بنا لیتا ہے۔
ہم اکثر بہتر اوزار، بہتر حالات اور بہتر مواقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ مگر زندگی تب آگے بڑھتی ہے جب انسان موجود وسائل کے ساتھ بہترین کام کر دکھاتا ہے۔
ٹوٹے اوزار، پُرسکون چہرہ اور مکمل کام—یہ منظر ایک خاموش پیغام چھوڑ گیا:
اگر اندر یقین اور ہاتھ میں مہارت ہو، تو کمی رکاوٹ نہیں بنتی۔
اور یہی اعتماد انسان کو آگے بڑھاتا ہے۔

اسلامی انقلاب کے بعد ایران پر پابندیاں



ایران میں 1979ء کا اسلامی انقلاب صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ اس نے عالمی طاقتوں کے مفادات، مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی ترتیب اور مغربی بالادستی کے تصور کو کھلے چیلنج میں بدل دیا۔ اسی چیلنج کے جواب میں ایران کو جن پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ محض سفارتی اقدامات نہیں تھے، بلکہ ایک طویل المدت سیاسی، معاشی اور نفسیاتی جنگ کی شکل اختیار کر گئے۔
انقلاب کے فوراً بعد ایران نے:
شاہی نظام ختم کیا
امریکی اثر و رسوخ کو مسترد کیا
اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا
اور خارجہ پالیسی کو “نہ مشرق، نہ مغرب” کے اصول پر استوار کیا
یہ سب اقدامات امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ناقابلِ قبول تھے۔ یوں پابندیوں کا پہلا باب کھلا۔
نومبر 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور یرغمالی بحران نے امریکہ کو ایران کے خلاف سخت اقدامات کا جواز فراہم کیا۔
نتیجتاً:
ایرانی اثاثے منجمد کر دیے گئے
تجارتی تعلقات معطل ہوئے
سفارتی روابط ختم کر دیے گئے
یہ پابندیاں وقتی نہیں تھیں، بلکہ ایک طویل دشمنی کی بنیاد بن گئیں۔
1980ء میں ایران–عراق جنگ نے ایران کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنہا کر دیا۔
مغربی دنیا نے عراق کو بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت دی، جبکہ ایران:
اسلحے کی پابندیوں
مالی ناکہ بندی
اور سفارتی تنہائی
کا شکار رہا۔
اس مرحلے پر پابندیاں صرف سزا نہیں، بلکہ جنگی دباؤ کا ہتھیار بن گئیں۔
وقت کے ساتھ پابندیاں ایران کی معیشت کے بنیادی ستونوں پر مرکوز ہو گئیں:
تیل کی برآمدات پر پابندیاں
ایرانی بینکوں کو عالمی مالیاتی نظام (SWIFT) سے الگ کرنا
ڈالر میں لین دین پر قدغن
غیر ملکی سرمایہ کاری پر سخت رکاوٹیں
ان پابندیوں کے باعث
مہنگائی میں شدید اضافہ
کرنسی کی قدر میں کمی
بے روزگاری اور صنعتی جمود
لیکن اس کے ساتھ ہی ایران نے داخلی خودکفالت اور متبادل تجارتی راستے بھی تلاش کیے۔
2000ء کی دہائی میں ایران کے جوہری پروگرام نے پابندیوں کو عالمی رنگ دے دیا۔
اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ نے مشترکہ طور پر:
ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندی
عسکری اور دوہری استعمال کی اشیاء پر قدغن
ایرانی شخصیات اور اداروں پر بلیک لسٹنگ
یہ پابندیاں ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے کے نام پر تھیں، مگر ایران کے نزدیک یہ سائنسی خودمختاری پر حملہ تھا۔
پابندیوں نے صرف ریاست کو نہیں، عوام کو بھی متاثر کیا:
ادویات اور طبی آلات کی قلت
تعلیمی و تحقیقی تبادلے محدود
عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مشکل
یہی وجہ ہے کہ ایران میں پابندیوں کو اجتماعی سزا کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ایرانی قیادت نے پابندیوں کے جواب میں:
“مزاحمتی معیشت” کا تصور پیش کیا
مقامی صنعتوں کو فروغ دیا
ایشیا، روس اور خطے کی طاقتوں سے روابط بڑھائے
پابندیاں، جو ایران کو جھکانے کے لیے تھیں، اس نے انہیں نظریاتی مزاحمت میں بدل دیا۔
ایران پر لگنے والی پابندیاں محض معاشی اقدامات نہیں، بلکہ:
انقلاب کو ناکام بنانے کی کوشش
علاقائی اثرورسوخ کو محدود کرنے کی حکمت عملی
اور نظریاتی ریاست کو دبانے کا ہتھیار ہیں
لیکن چار دہائیوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ:
ایران پابندیوں کے تحت کمزور نہیں ہوا، بلکہ ایک نئی شکل میں ڈھل گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ایرانی مسئلہ آج بھی عالمی سیاست کا ایک کھلا سوال ہے—جس کا حل پابندیوں سے نہیں، مکالمے سے نکلے گا۔