پیر، 19 جنوری، 2026
آزادی کا فریب یا نگرانی کا جال؟
اتوار، 18 جنوری، 2026
العدید پر اطالوی طیارہ ... ایک پیغام
العدید پر اطالوی طیارہ ... ایک پیغام
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک بساط پر مرکزِ نگاہ ہے۔ قطر کے العدید ایئر بیس پر اطالوی فضائیہ کے طیارے کی حالیہ لینڈنگ محض ایک تکنیکی یا معمول کی فوجی سرگرمی نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آنے والے دنوں کے ممکنہ منظرنامے کی واضح علامت ہے۔
اطالوی فضائیہ کے اس طیارے کی ذمہ داریاں محض افراد کی نقل و حمل تک محدود نہیں۔ یہ طیارہ اعلیٰ عسکری و سفارتی قیادت اور اتحادی وفود کی منتقلی کا ذریعہ ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ براہِ راست میدانِ عمل کے قریب ہو رہے ہیں۔ ایسے دوروں کا مقصد اتحادیوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل کی صلاحیت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
اس سے زیادہ اہم پہلو الیکٹرانک جاسوسی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کا ہے۔ جدید دور کی جنگیں اب صرف میزائلوں اور بمبار طیاروں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ فریکوئنسیوں، سگنلز، ڈیٹا اور خاموش نگرانی کے ذریعے فیصل کن برتری حاصل کی جاتی ہے۔ اطالوی طیارے کی موجودگی اس بات کا عندیہ ہے کہ خطے میں حالات کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر حرکت کو ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
العدید ایئر بیس پر یہ طیارہ کمانڈ اینڈ کنٹرول اور خفیہ مواصلاتی نظام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جدید عسکری حکمتِ عملی میں فضائی رابطہ مراکز کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہوتی ہے، جہاں سے مختلف محاذوں پر سرگرم فورسز کو ایک ہی کمان کے تحت جوڑا جاتا ہے۔ نیٹو اور اتحادی افواج کے درمیان ہم آہنگی، اطلاعات کی فوری ترسیل اور مشترکہ ردِعمل اسی نظام کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔
یہ تمام سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب اسلامی جمہوریہ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان تناؤ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران کے اندرونی حالات، خطے میں اس کے اتحادیوں کی سرگرمیاں، اور امریکہ و یورپی ممالک کے سخت ہوتے ہوئے سفارتی و عسکری اشارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ العدید جیسے حساس فوجی اڈوں پر فورس پوزیشننگ اور احتیاطی اقدامات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جون 2025ء کے واقعات ابھی تاریخ کا حصہ بنے ہی تھے کہ خطے میں ایک بار پھر غیر یقینی فضا گہری ہو گئی۔ العدید ایئر بیس ماضی میں بھی براہِ راست خطرات کا سامنا کر چکا ہے، اور یہی پس منظر موجودہ نقل و حرکت کو مزید معنی خیز بنا دیتا ہے۔ اٹلی کی یہ تعیناتی دراصل نیٹو کے اجتماعی دفاعی تصور کی عملی شکل ہے، جس میں ہر اتحادی اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرتا ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ ایک طیارہ کہاں اترا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں کس سمت بڑھ رہی ہیں۔ العدید پر اطالوی طیارے کی لینڈنگ ایک خاموش پیغام ہے: خطہ عالمی توجہ کے مرکز میں ہے، فیصلے تیار ہو رہے ہیں، اور آنے والے دن معمولی نہیں ہوں گے۔ ایسے میں سفارت، دانش اور تحمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے—کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ غلط اندازے پورے خطے کو دہائیوں تک عدم استحکام کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
جب جوتھائی آبادی ختم ہو گئی
نوعِ انسان کی پہلی جنگ میں آبادی کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔ یہ سانحہ ایسا تھا کہ پوری دنیا غم اور ندامت میں ڈوب گئی۔ انسانیت اپنے خالق کے حضور شرمساری سے جھک گئی۔ مارنے والے بھی اپنے عمل پر مطمئن نہ تھے؛ جو لمحاتی اشتعال تھا، وہ مستقل پچھتاوے میں بدل چکا تھا۔
یہ انسانی تاریخ کا ایک مستقل اصول ہے کہ جب ظلم کرنے والا اپنے جرم کا اعتراف کر لے، ندامت ظاہر کرے، معافی مانگے اور منصف کی دی ہوئی سزا قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے تو انصاف بھی رحمت کا پہلو اختیار کر لیتا ہے۔ اس پہلی جنگ میں منصف کوئی انسان نہیں، بلکہ خود انسان کا خالق تھا—وہی خالق جس نے انسان کو پیدا کرتے وقت فرشتوں کے اس اندیشے کو رد کر دیا تھا کہ یہ زمین میں فساد کرے گا اور ایک دوسرے کا خون بہائے گا۔
مگر وہ اندیشہ حقیقت بن چکا تھا۔ بھائی نے بھائی کا خون بہا دیا تھا۔ قابیل، ہابیل کو قتل کر کے دنیا کی پہلی جنگ کا آغاز کر چکا تھا۔ اس وقت نہ ایٹم بم تھا، نہ لشکر، مگر چار افراد پر مشتمل ایک بستی جنگ کی نذر ہو چکی تھی۔ یہ غم اور یہ ندامت ایک دن یا ایک سال نہیں، بلکہ پورے ایک سو تیس برس تک انسانیت کے دل پر سایہ فگن رہی۔
بالآخر خالق نے شیثؑ کو عطا کر کے آدمؑ کے دل کو تسلی دی۔ نہ اللہ نے قابیل سے فوری انتقام لیا، نہ آدمؑ نے اپنے لاڈلے بیٹے ہابیل کے قتل پر قابیل کی موت مانگی، اور نہ ہی ہابیل کی ماں کے دل میں بدلے کی خواہش نے جنم لیا۔ یہ واقعہ انسانیت کے لیے ایک خاموش مگر گہرا پیغام تھا: کہ معافی، صبر اور مہلت بھی عدل ہی کی ایک صورت ہیں۔

