جمعہ، 9 جنوری، 2026

الحاد کا بنیادی فلسفہ (21)



انکار اور اقرار کے دو فکری بیانیے

اکیسویں صدی میں مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق پر ہونے والی بحث محض عقیدے کی سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ انسان کے وجود، اخلاق اور کائنات کے مفہوم سے جڑی ایک گہری فکری کشمکش بن چکی ہے۔ اس بحث کے دو نمایاں اور متقابل مگر سنجیدہ زاویے ریچرڈ ڈاکنز کی کتاب The God Delusion اور فرانسس کولنز کی The Language of God میں سامنے آتے ہیں۔ دونوں مصنفین جدید سائنس کے نمائندہ چہرے ہیں، مگر ان کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہی فرق اس مباحثے کو محض سائنسی نہیں بلکہ فکری اور وجودی بنا دیتا ہے۔

ریچرڈ ڈاکنز، جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ممتاز ارتقائی حیاتیات دان ہیں، The God Delusion میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ خدا کا تصور کسی خارجی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی انسان فطرت کی طاقتوں سے خوف زدہ تھا اور ان کی سائنسی تفہیم سے محروم تھا، اس لیے اس نے بارش، آندھی، بجلی اور بیماری جیسے مظاہر کو کسی ماورائی ہستی سے منسوب کر دیا۔ جدید سائنس نے جب ان تمام مظاہر کی مادی اور تجرباتی وضاحت پیش کر دی، تو ڈاکنز کے نزدیک خدا کو بطور وضاحتی مفروضہ باقی رکھنے کی کوئی عقلی ضرورت نہیں رہتی۔

ڈاکنز مذہب کے بنیادی دعوے پر ایک اصولی سوال اٹھاتے ہیں: اگر ہر چیز کا کوئی خالق ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ ان کے نزدیک اگر سبب و علت کا قانون کائنات پر لاگو ہوتا ہے تو خدا کو اس سے مستثنیٰ قرار دینا ایک منطقی تضاد ہے۔ چنانچہ وہ خدا کو “حتمی وضاحت” کے بجائے ایک ایسا مفروضہ سمجھتے ہیں جو سوالات حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔

اسی استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکنز قدرتی انتخاب کو تخلیق کا حقیقی متبادل قرار دیتے ہیں۔ ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کے مطابق جاندار لاکھوں برسوں میں چھوٹی چھوٹی جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ یہ ایک غیر شعوری مگر مؤثر عمل ہے، جو پیچیدگی کو بغیر کسی منصوبہ ساز کے جنم دیتا ہے۔ ڈاکنز کے نزدیک یہی حقیقت اس تصور کو غیر ضروری بنا دیتی ہے کہ کائنات یا زندگی کے پیچھے کوئی شعوری ارادہ کارفرما ہے۔

اخلاقیات کے باب میں بھی ڈاکنز مذہب کو مرکزی حیثیت دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اخلاقی اقدار ارتقائی بقا کا نتیجہ ہیں؛ ہمدردی، تعاون اور انصاف جیسے رویے اس لیے فروغ پاتے ہیں کہ وہ اجتماعی زندگی کو مستحکم بناتے ہیں۔ چنانچہ اخلاق کو خدا سے جوڑنا ایک تاریخی اور نفسیاتی مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی سائنسی یا عقلی ضرورت۔

ایمان کے بارے میں ڈاکنز کا موقف سب سے زیادہ سخت ہے۔ وہ ایمان کو ایک نفسیاتی فریب قرار دیتے ہیں، ایسی ذہنی تسکین جو ثبوت کے بجائے خواہش پر قائم ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک مذہب انسان کو سوال سے روکتا ہے، جبکہ سائنس شک اور تحقیق کو علم کی بنیاد بناتی ہے۔ اسی لیے وہ مذہبی ایمان کو فکری جمود کی علامت سمجھتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں فرانسس کولنز کی The Language of God ایک بالکل مختلف مگر اتنا ہی سنجیدہ فکری زاویہ پیش کرتی ہے۔ کولنز جدید جینیات کے ممتاز سائنس دان ہیں اور ہیومن جینوم پراجیکٹ کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس اور ایمان کو باہم متصادم سمجھنا ایک غیر ضروری اور سطحی تقسیم ہے۔ ان کے نزدیک سائنس مادی حقیقت کے “کیسے” کو بیان کرتی ہے، جبکہ ایمان وجود کے “کیوں” سے تعلق رکھتا ہے۔

کولنز کے مطابق سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے پھیلی، زندگی کیسے ارتقاء پذیر ہوئی، اور دماغ کیسے کام کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ کائنات موجود ہی کیوں ہے، قوانینِ فطرت اس قدر منظم اور ریاضیاتی کیوں ہیں، اور انسان اخلاقی ذمہ داری کو محض فائدے سے بڑھ کر کیوں سمجھتا ہے۔ ان سوالات کا تعلق مابعد الطبیعی معنی سے ہے، جسے محض سائنسی تجربے کے دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

ارتقاء کے معاملے میں کولنز ڈاکنز سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے، مگر اس سے خدا کے انکار کا نتیجہ اخذ نہیں کرتے۔ وہ Theistic Evolution کا تصور پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق خدا نے زندگی کو معجزاتی وقفوں کے بجائے فطری قوانین کے ذریعے ترقی دی۔ ان کے نزدیک قدرتی انتخاب خدا کا متبادل نہیں بلکہ اس کا طریقۂ کار ہے، جس کے ذریعے تخلیق تدریجاً آگے بڑھتی ہے۔

اخلاقیات کے بارے میں کولنز ایک بنیادی نکتہ اٹھاتے ہیں۔ اگر اخلاق صرف ارتقائی بقا کا نتیجہ ہوں تو انسان بعض اعمال کو محض “غیر مفید” کے بجائے “غلط” کیوں کہتا ہے؟ وہ اخلاقی احساسِ فرض کو ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جو حیاتیاتی مفاد سے ماورا ہے اور کسی بلند تر اخلاقی منبع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کے نزدیک یہی اخلاقی قانون خدا کے وجود کی طرف ایک عقلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

کولنز اپنے ذاتی فکری سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنس نے انہیں خدا سے دور نہیں بلکہ قریب کیا۔ انسانی جینوم کی غیر معمولی پیچیدگی، فطری قوانین کا نازک توازن، اور کائنات کی ریاضیاتی ترتیب ان کے نزدیک محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ وہ خدا کو “خالی جگہوں کو پُر کرنے والا” تصور نہیں مانتے، بلکہ قوانینِ فطرت کے پیچھے کارفرما نظم اور عقل کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔

یوں The God Delusion اور The Language of God دو متوازی فکری بیانیے پیش کرتی ہیں۔ ایک سائنس کو حتمی عدالت بنا کر خدا کو غیر ضروری قرار دیتی ہے، اور دوسری سائنس کو حقیقت کی ایک سطح سمجھ کر اس کے پیچھے معنی تلاش کرتی ہے۔ فیصلہ شاید سائنس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے شعور میں ہے کہ وہ علم کو محض مادی وضاحت تک محدود رکھتا ہے یا اسے مقصد، اخلاق اور معنویت کی تلاش تک وسعت دیتا ہے۔

گمشدہ مگر کون؟



گمشدہ مگر کون؟
دنیا کے شور، مشینی زندگی کی تیز رفتاری اور مادیت کے ہجوم میں اگر کوئی شے واقعی کھو گئی ہے تو وہ انسان خود ہے۔
خدا نہیں کھویا — خدا تو اپنی جگہ، اپنی شانِ وجود اور اپنے نظام میں قائم و دائم ہے۔ گم اگر کوئی ہے تو وہ انسان کی بصیرت، انسان کا شعور، اور انسان کا باطن ہے۔
خدا نہ آسمانوں سے غائب ہوا، نہ زمین سے۔ وہ آج بھی "نظامِ کائنات" کی ہر دھڑکن میں بولتا ہے، ہر ذرے میں ظاہر ہے، اور ہر دل کے اندر کسی نہ کسی لمحے اپنی موجودگی کا احساس جگاتا ہے۔
لیکن انسان — جسے اس وجود کے راز سمجھنے کی اہلیت دی گئی تھی — اپنی خواہشوں، مفاد پرستی، اور نفس کے اندھیروں میں اپنا راستہ بھول گیا۔
گمشدگی کی اصل:
انسان کی گمشدگی اس کے ظاہری وجود میں نہیں، بلکہ اس کی روح میں ہے۔
وہ زمین پر آباد ہے مگر دل میں ویران۔
اس کے پاس علم ہے مگر عرفان نہیں،
ٹیکنالوجی ہے مگر تسکین نہیں،
آزادی ہے مگر امن نہیں۔
یہ وہی انسان ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا:
"اور ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے سب سے پست حالت میں لوٹا دیا — مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔"
(سورۃ التین: 4–5)
یعنی خدا نے انسان کو اپنے قریب ہونے کی صلاحیت دی تھی، مگر جب اس نے خدا کو بھلا دیا تو خود کو بھی بھلا بیٹھا۔
قرآن کا ارشاد ہے:
"اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو ان کا آپ بھلا دیا۔"
(سورۃ الحشر: 19)
یہ آیت گویا انسان کی گمشدگی کا خلاصہ ہے — خدا کو بھلانے کا انجام یہ ہے کہ انسان خود کو کھو بیٹھتا ہے۔
خدا گم نہیں ہوا:
خدا نہ وقت کے بدلنے سے بدلتا ہے، نہ تہذیبوں کے زوال سے چھپتا ہے۔
وہ تو ہر علم، ہر وجود، اور ہر شعور کی بنیاد ہے۔
انسان جب اپنی اندرونی آواز، اپنی فطرت کی سچائی، اور اپنی روح کے نور سے رشتہ توڑ دیتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ خدا کہیں کھو گیا ہے۔
حالانکہ خدا ہمیشہ سے ہے —
"وہ اول ہے اور آخر، ظاہر ہے اور باطن، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔"
(سورۃ الحدید: 3)
مسئلہ یہ نہیں کہ خدا کہاں ہے،
مسئلہ یہ ہے کہ انسان کہاں ہے؟
وہ اپنے آپ سے کتنا دور جا چکا ہے؟
روحانی و فکری خلا:
جدید انسان نے خلا ناپ لیے، کہکشاؤں کی پیمائش کر لی،
مگر اپنے اندر کے خلا کو پر نہ کر سکا۔
اس نے زمین پر جنتیں بنائیں مگر دل میں جہنم بسایا۔
سائنس نے اسے پر لگا دیے، مگر ضمیر کے پنجرے میں قید کر دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ انسان باہر سے کامیاب مگر اندر سے خالی ہے۔
یہی وہ گمشدگی ہے — خدا کی نہیں، انسان کی۔
واپسی کا راستہ:
انسان کا اصل سفر باہر نہیں، اندر کی طرف ہے۔
خدا کہیں باہر نہیں چھپا، وہ ہر دل کے اندر ہے۔
قرآن نے فرمایا:
"اور ہم اس سے زیادہ قریب ہیں جتنا اس کی شہ رگ۔"
(سورۃ ق: 16)
لہٰذا، خدا تک پہنچنے کے لیے کسی فلکی دوربین کی ضرورت نہیں،
بس دل کے زنگ کو صاف کرنا ہے۔
خدا کو پانے کا مطلب کسی نئے وجود کو ڈھونڈنا نہیں،
بلکہ اپنے کھوئے ہوئے انسان کو پانا ہے۔
اختتامیہ:
خدا کبھی گم نہیں ہوتا،
وہ تو ہر لمحہ ہماری سانسوں میں بولتا ہے، ہماری دھڑکنوں میں دھڑکتا ہے۔
گم اگر کوئی ہے تو انسان — جو خدا کو چھوڑ کر اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا میں کھو گیا ہے۔
خدا کو ڈھونڈنے سے پہلے انسان کو خود کو ڈھونڈنا ہوگا،
کیونکہ جب انسان خود کو پا لیتا ہے، وہ خدا کو پا لیتا ہے۔ 

منگل، 6 جنوری، 2026

وقت اور حرکت




وقت اور حرکت: فلسفہ، سائنس اور روحانیت کا مکالمہ


یہ سوال قدیم ہے کہ آخر وقت ہے کیا؟ کیا یہ صرف حرکت کی پیمائش ہے یا اس سے کہیں بڑھ کر کوئی حقیقت رکھتا ہے؟ فلسفہ، سائنس اور روحانیت تینوں اس سوال کا جواب اپنی اپنی زبان میں دیتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر ان کے نتائج ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

فلسفہ کی دنیا میں وقت ہمیشہ محض عددی اکائی نہیں رہا۔ ارسطو نے وقت کو حرکت کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر حرکت نہ ہو تو وقت کا ادراک بھی ممکن نہیں۔ افلاطون کے نزدیک وقت ابدیت کا عکس تھا، ایک ایسی جھلک جو انسان کو ازلی حقیقت کا سراغ دیتی ہے۔ ہراکلیطس نے کائنات کو مسلسل بہاؤ میں دیکھا اور اعلان کیا کہ سب کچھ تغیر میں ہے؛ یوں وقت اور تبدیلی ایک ہی سکے کے دو رخ بن گئے۔

 سینٹ آگسٹین نے وقت کو انسانی شعور کے آئینے میں دیکھا۔ ان کے مطابق ماضی یادداشت میں زندہ ہے، مستقبل توقع میں سانس لیتا ہے، اور حال ادراک کی گرفت میں ہے۔ بیسویں صدی کے فلسفی ہنری برگساں نے گھڑی کے وقت اور شعوری وقت کے فرق کو نمایاں کیا۔ ان کے نزدیک اصل وقت وہ ہے جو ہم جیتے ہیں، جو ہمارے احساسات کے ساتھ پھیلتا اور سکڑتا ہے۔ مارٹن ہائیڈیگر نے تو وقت کو انسانی وجود کی بنیاد ہی قرار دے دیا؛ ان کے نزدیک انسان وقت کے اندر نہیں بلکہ وقت کے ذریعے وجود پاتا ہے۔

یہ فلسفیانہ مکالمہ ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ وقت کوئی بے جان شے نہیں، بلکہ انسانی تجربے کے ساتھ سانس لینے والی حقیقت ہے۔

 سائنس نے اس بحث کو ایک نیا موڑ دیا۔ البرٹ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت نے وقت کو مطلق تصور سے نکال کر نسبتی بنا دیا۔ اب وقت ہر ایک کے لیے یکساں نہیں رہا، بلکہ رفتار اور کششِ ثقل کے تابع ہو گیا۔ روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرنے والا انسان اور شدید کششِ ثقل کے قریب موجود جسم وقت کو مختلف انداز میں جیتے ہیں۔
جڑواں بھائیوں کا مشہور تجربہ—جسے Twin Paradox کہا جاتا ہے—اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حرکت وقت کی رفتار بدل دیتی ہے۔ یہی اصول GPS سیٹلائٹس میں روزانہ استعمال ہو رہا ہے، جہاں وقت کے معمولی فرق کو درست نہ کیا جائے تو پورا نظام ناکارہ ہو جائے۔

اسٹیفن ہاکنگ نے وقت کے “تیر” کو اینٹروپی سے جوڑا اور بتایا کہ کائنات میں بے ترتیبی کا بڑھنا وقت کے آگے بڑھنے کی علامت ہے۔ کارلو روویلی کے مطابق وقت کوئی آزاد وجود نہیں بلکہ واقعات اور تعلقات کا نتیجہ ہے۔ یوں جدید طبیعیات بھی اس نتیجے پر پہنچی کہ وقت جامد نہیں، بلکہ حالات کے ساتھ بدلنے والی حقیقت ہے۔

یہاں پہنچ کر انسان حیران ہوتا ہے کہ یہی بات روحانی متون میں صدیوں پہلے بیان ہو چکی تھی۔ واقعۂ معراج اس کی روشن مثال ہے، جہاں نبی اکرم ﷺ ایک ہی رات میں ایسے سفر سے گزرے جو زمینی پیمانوں سے ماورا ہے، مگر زمینی وقت میں وہی رات باقی رہی۔ قرآن میں حضرت عزیرؑ اور اصحابِ کہف کے واقعات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وقت کا تجربہ حالات اور مشیت کے مطابق بدل سکتا ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک دن انسان کے ہزار برس کے برابر ہے، اور کہیں پچاس ہزار برس کا ذکر آتا ہے۔ یہ آیات صاف بتاتی ہیں کہ وقت انسانی پیمائش کا پابند نہیں، بلکہ خالق کے اختیار میں ہے۔

معاصر مسلم مفکرین نے بھی اس موضوع کو نئے زاویوں سے دیکھا ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کے نزدیک وقت کائناتی نظم کا حصہ ہے جو خالق کے قوانین کے تحت کام کرتا ہے۔ جاوید احمد غامدی وقت کو انسانی ذمہ داری اور اخلاقی جواب دہی کے تناظر میں سمجھتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خان کے ہاں وقت شعور اور دعوت کا سرمایہ ہے، جبکہ عرب مفکرین طہٰ عبدالرّحمٰن اور عبدالکریم بکّار کے نزدیک وقت انسان کے اعمال اور معاشرتی تعمیر کا بنیادی اثاثہ ہے۔

یہ تمام زاویے ایک ہی بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ وقت صرف ناپنے کی چیز نہیں، بلکہ جینے اور سمجھنے کی حقیقت ہے۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ اس سب کا حاصل کیا ہے؟ شاید یہ کہ انسان وقت کو مکمل طور پر قابو میں نہیں کر سکتا، مگر اس کی قدر ضرور کر سکتا ہے۔ فلسفہ ہمیں اس کا شعوری پہلو دکھاتا ہے، سائنس اس کی نسبتی ساخت واضح کرتی ہے، اور روحانیت اس کے تقدس سے آگاہ کرتی ہے۔
وقت ہمیں ہر لمحہ یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم محدود ہیں، اور ہمارا خالق لامحدود۔ یہی احساس انسان کو عاجزی، ذمہ داری اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ یوں وقت محض گزرتا نہیں، بلکہ انسان کو بناتا بھی ہے—اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

دعا , تقدیر، ارادہ اور انسانی شعور



دعا , تقدیر، ارادہ اور انسانی شعور

اسلامی فکر میں دعا محض خواہشات کی فہرست یا مشکل وقت کی نفسیاتی پناہ گاہ نہیں، بلکہ یہ انسان کے شعوری اعترافِ عجز اور الٰہی اختیار کے سامنے خود سپردگی کا اظہار ہے۔ دعا دراصل اس تعلق کا نام ہے جو محدود علم و قدرت رکھنے والا انسان، مطلق علم و قدرت کے مالک خدا سے قائم کرتا ہے۔

کلامی مباحث میں دعا کی حقیقت پر سب سے بنیادی سوال تقدیر اور اختیار کے تناظر میں اٹھایا گیا۔ معتزلہ کے نزدیک اگر کائنات کا ہر واقعہ پہلے سے غیر متبدل طور پر طے شدہ ہو تو دعا ایک غیر مؤثر عمل بن جاتی ہے۔ اسی لیے وہ دعا کو انسانی سعی اور اخلاقی ذمہ داری سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق دعا دراصل انسان کی عملی کوشش اور اخلاقی ارادے کا تسلسل ہے، جس کے بغیر دعا محض زبانی عمل رہ جاتی ہے۔ اس زاویے سے دعا انسان کو جبر کے تصور سے نکال کر ذمہ دار فاعل بناتی ہے۔

اس کے برعکس اشاعرہ نے دعا کو خدا کی مطلق مشیت کے دائرے میں رکھا، مگر اسے غیر بامعنی قرار نہیں دیا۔ ان کے نزدیک دعا بھی اسی الٰہی نظامِ اسباب کا حصہ ہے جس کے ذریعے اللہ اپنے فیصلے نافذ فرماتا ہے۔ دعا کا قبول ہونا یا نہ ہونا انسانی عقل کے لیے قابلِ فہم نہیں، کیونکہ اس کی حکمت خدا کے علمِ کامل میں پوشیدہ ہے۔ یوں دعا بندے کے لیے امتحانِ اطاعت ہے، نہ کہ نتیجے پر قابو پانے کا ذریعہ۔

امام غزالی نے دعا کو ان دونوں انتہاؤں سے نکال کر ایک باطنی و اخلاقی عمل کے طور پر سمجھا۔ ان کے نزدیک دعا کا اصل فائدہ خارجی تبدیلی نہیں بلکہ داخلی تطہیر ہے۔ دعا انسان کے اندر تواضع، امید، صبر اور شکر جیسے اوصاف پیدا کرتی ہے۔ وہ انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اسباب اختیار کرنا ضروری ہے، مگر نتیجے پر غرور یا مایوسی دونوں بے معنی ہیں۔ اس طرح دعا انسان کی روحانی تربیت اور اخلاقی توازن کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

صوفیانہ فکر میں دعا کو محض مانگنے کا عمل نہیں بلکہ ہم کلامی سمجھا گیا۔ یہاں دعا کا مقصد یہ نہیں کہ خدا کو کسی فیصلے پر آمادہ کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ بندہ خود کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھال لے۔ اس زاویے سے دعا قبولیت کی شرط پر نہیں بلکہ اخلاص پر قائم ہے۔

یہ فکری مکالمہ واضح کرتا ہے کہ دعا کو صرف نتائج کی عینک سے دیکھنا اس کے مفہوم کو محدود کر دیتا ہے۔ دعا نہ تو تقدیر سے بغاوت ہے اور نہ ہی انسانی سعی کی نفی، بلکہ یہ دونوں کے درمیان ایک بامعنی رشتہ ہے۔ دعا انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ وہ کوشش بھی کرے، امید بھی رکھے، اور نتیجے کو خدا کی حکمت کے سپرد بھی کرے۔

یوں دعا کی حقیقت کسی ایک فلسفیانہ موقف میں مقید نہیں، بلکہ یہ انسانی کمزوری، اخلاقی ذمہ داری اور الٰہی قربت—تینوں کا جامع اظہار ہے۔

اتوار، 4 جنوری، 2026

مشترکہ خاندان


 

مشترکہ خاندان

ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندان کو اکثر معاشی یا انتظامی تناظر میں زیرِ بحث لایا جاتا ہے، مگر اس نظام کا سب سے قیمتی اور کم زیرِ گفتگو پہلو وہ اثرات ہیں جو یہ بچوں کی شخصیت پر مرتب کرتا ہے۔ خاص طور پر گھر میں دادا اور دادی کی موجودگی ایسی نعمت ہے جس کی قدر اکثر وقت گزرنے کے بعد ہی سمجھ آتی ہے۔

بچپن انسان کی زندگی کا وہ نازک مرحلہ ہے جہاں محبت، تحفظ اور توجہ محض جذبات نہیں بلکہ شخصیت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ والدین اپنی ذمہ داریوں، مصروفیات اور عملی دباؤ کے باعث بعض اوقات بچوں کو وہ وقت نہیں دے پاتے جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔ ایسے میں دادا اور دادی بچوں کے لیے جذباتی سہارے کا وہ مضبوط ستون بن جاتے ہیں جو خاموشی سے مگر گہرائی کے ساتھ ان کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

دادا دادی کی محبت میں ایک خاص ٹھہراؤ اور بے لوث پن ہوتا ہے۔ وہ بچوں سے کسی کارکردگی یا کامیابی کی شرط نہیں باندھتے، بلکہ انہیں ویسا ہی قبول کرتے ہیں جیسے وہ ہیں۔ یہی غیر مشروط قبولیت بچوں کے اندر اعتماد، خود اعتمادی اور ذہنی سکون پیدا کرتی ہے۔ ایسے بچے کم خوف زدہ، کم اضطراب کے شکار اور زیادہ پُرسکون نظر آتے ہیں۔

مشترکہ خاندان میں پلنے والے بچوں کو اخلاقیات کا سبق نصیحتوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے مشاہدے سے ملتا ہے۔ دادا دادی کا اندازِ گفتگو، بڑوں کا احترام، صبر، شکر اور قناعت—یہ سب چیزیں بچے لاشعوری طور پر سیکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بچوں میں خاندانی اقدار اور تہذیبی تسلسل نسبتاً مضبوط ہوتا ہے۔

دادا دادی کی کہانیاں محض قصے نہیں ہوتیں بلکہ ماضی کے تجربات، وقت کی آزمائشوں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے بچے تاریخ، روایت اور جدوجہد سے جڑتے ہیں۔ انہیں یہ شعور ملتا ہے کہ زندگی صرف سہولتوں کا نام نہیں بلکہ صبر اور ثابت قدمی کا امتحان بھی ہے۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مشترکہ خاندان بچوں کو مختلف عمروں کے افراد کے ساتھ رہنا سکھاتا ہے۔ اس ماحول میں بچہ سیکھتا ہے کہ ہر فرد کی سوچ، رفتار اور ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ یہی فہم اسے برداشت، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کی طرف لے جاتی ہے، جو آج کے انفرادی اور تیز رفتار معاشرے میں ایک نایاب خوبی بنتی جا رہی ہے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اگر والدین اور دادا دادی کے درمیان تربیت کے اصولوں پر اتفاق نہ ہو تو بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مگر یہ مشترکہ خاندان کا نقص نہیں بلکہ باہمی رابطے کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب حدود واضح ہوں اور احترام برقرار رہے تو یہی نظام بچوں کے لیے سب سے محفوظ اور متوازن ماحول بن جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دادا اور دادی کی موجودگی بچوں کے لیے صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ایک نعمت ہے۔ یہ وہ سایہ ہے جو سخت دھوپ میں بھی ٹھنڈک دیتا ہے، وہ تجربہ ہے جو کتابوں میں نہیں ملتا، اور وہ دعا ہے جو لفظوں کے بغیر بھی اثر رکھتی ہے۔

شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ جس گھر میں دادا اور دادی زندہ ہوں، وہاں بچوں کی پرورش صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی، جذباتی اور تہذیبی سطح پر بھی ہوتی ہے۔ اور یہی وہ سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کو مضبوط بناتا ہے۔