ہفتہ، 20 دسمبر، 2025

اسلام بمقابلہ جدید فکری بحران

جدید دنیا ایک عجیب فکری بحران سے گزر رہی ہے۔ معلومات کی فراوانی ہے مگر حکمت نایاب، آزادی کے نعرے ہیں مگر انسان اندر سے بے سمت، اور عقل کی بالادستی کا دعویٰ ہے مگر خود عقل اضطراب کا شکار ہے۔ انسان نے کائنات کو مسخر تو کر لیا ہے، مگر اپنے وجود کے سوال کا جواب کھو بیٹھا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جہاں اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک فکری متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔

جدید فکری بحران کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ علم کو اخلاق سے، عقل کو وحی سے، اور آزادی کو ذمہ داری سے الگ کر دیا گیا ہے۔ جدید انسان سب کچھ جاننا چاہتا ہے مگر یہ طے نہیں کر پایا کہ جاننے کے بعد جینا کیسے ہے۔ فلسفہ شک سکھاتا ہے، سائنس طاقت دیتی ہے، مگر یہ نہیں بتاتیں کہ اس طاقت کو کہاں اور کیوں استعمال کیا جائے۔ نتیجتاً انسان ذہنی طور پر ترقی یافتہ مگر اخلاقی طور پر منتشر نظر آتا ہے۔

اسلام اس بحران کا آغاز ہی سے مختلف زاویے سے جواب دیتا ہے۔ وہ عقل کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے وحی کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔ اسلام میں عقل سوال کرتی ہے، مگر وحی سمت دیتی ہے۔ یہی توازن جدید دنیا میں مفقود ہے۔ یہاں یا تو عقل کو مطلق بنا دیا گیا ہے، یا مذہب کو عقل دشمن سمجھ کر دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اسلام اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا۔

اس فکری مکالمے کے مرکز میں رسولِ اکرم کی ذات کھڑی ہے۔ جدید دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں علم پڑھانے والے بہت ہیں مگر نمونہ بننے والے کم۔ نظریات گھڑے جاتے ہیں مگر ان پر جینے کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔ اس کے برعکس رسول اللہ کی شخصیت ایسی واحد مثال ہے جہاں تعلیم اور عمل کے درمیان کوئی خلا نہیں۔ انہوں نے جو کہا، پہلے خود کیا؛ جو سکھایا، خود جیا؛ اور جو دعوت دی، اس کی عملی تصویر بن کر دکھایا۔

افراد کی  تعلیم کچھ اور کہتی ہے، اورعمل بعض اوقات کچھ اور۔ یہی وہ نفاق ہے جو جدید انسان کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم اقدار پر لیکچر دیتے ہیں مگر خود ان کے بوجھ سے بھاگتے ہیں۔ اس کے مقابل رسول اللہ وہ واحد استاد ہیں جن کی تعلیم لفظاً، حرفاً، عملاً اور نیتاً ایک ہی حقیقت کا اظہار تھی۔ یہی چیز انہیں محض مذہبی رہنما نہیں بلکہ انسانیت کا سب سے بڑا معلم بناتی ہے۔

جدید فکری بحران کا ایک اور پہلو آزادی کا غلط تصور ہے۔ آج آزادی کو ہر حد سے بے نیاز ہو جانا سمجھا جاتا ہے، جبکہ اسلام آزادی کو شعور، اخلاق اور جواب دہی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ قرآن انسان کو اختیار دیتا ہے—ایمان لانے یا انکار کرنے کا اختیار—مگر اس اختیار کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ یہ توازن جدید فلسفہ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اسلام اور جدید دنیا کے درمیان اصل تصادم سائنس یا عقل پر نہیں، بلکہ انسان کے تصور پر ہے۔ جدید فکر انسان کو محض ایک حیاتیاتی وجود یا معاشی اکائی بنا دیتی ہے، جبکہ اسلام اسے اخلاقی، روحانی اور باشعور ہستی قرار دیتا ہے۔ یہی فرق جدید انسان کی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ وہ سب کچھ ہونے کے باوجود مطمئن نہیں، کیونکہ اس نے اپنے مقصدِ وجود کو نظرانداز کر دیا ہے۔

اسلام اس فکری بحران کا جواب کسی جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ایک زندہ نمونے کے ذریعے دیتا ہے—اور وہ نمونہ محمد ہیں۔ ان کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ علم کیسے جیا جاتا ہے، طاقت کیسے قابو میں رکھی جاتی ہے، اختلاف کیسے اخلاق کے دائرے  میں رہتا ہے، اور آزادی کیسے بندگی کے ساتھ ہم آہنگ 

کی جاتی  ہے۔ 

پروفیسر  احمد رفیق اختر کی کتاب سے ماخوذ  



کیا تاریخ خود کو دھرا رہی ہے






یہودیوں پر مظالم کے بنیادی اسباب کیا بیان کیے جاتے رہے


دوسرے مذاہب، ریاستوں اور معاشروں نے خود ان مظالم کے جواز کے طور پر کون سے دلائل پیش کیے


تاریخی طور پر ظلم کرنے والوں کی سوچ اور بیانیہ کیا تھا

یہ اضافہ کسی الزام تراشی کے بجائے تاریخی تجزیہ (historical analysis) کے اصول کے تحت کیا گیا ہے۔
یہودیوں پر مظالم کے اسباب: تاریخی تجزیہ اور ظلم کرنے والوں کا بیانیہ

یہودیوں پر ہونے والے مظالم محض اچانک نفرت یا وقتی غصے کا نتیجہ نہیں تھے، بلکہ ان کے پیچھے مذہبی تعبیرات، سیاسی ضرورتیں، معاشی مفادات اور سماجی خوف جیسے گہرے عوامل کارفرما رہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تقریباً ہر دور میں ظلم کرنے والوں نے اپنے اعمال کے لیے کوئی نہ کوئی اخلاقی، مذہبی یا سیاسی جواز پیش کیا۔
1. مذہبی تعصب اور عقائد کی غلط تعبیر

قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں عیسائی کلیساؤں کے زیرِ اثر یہ تصور عام کیا گیا کہ:

یہودی حضرت عیسیٰؑ کے قتل کے ذمہ دار ہیں


یہودی ”خدا کے نافرمان“ اور ”لعنت یافتہ قوم“ ہیں


یہودی مسیحی معاشروں کے لیے روحانی خطرہ ہیں

یہ نظریہ Church Doctrine کے ذریعے عام لوگوں میں پھیلایا گیا۔ چنانچہ جب یہودیوں پر حملے کیے گئے تو حملہ آور خود کو خدا کے غضب کا آلہ سمجھتے تھے، نہ کہ مجرم۔

➡️ Rhineland Massacres (1096) میں حملہ آور صلیبیوں کا مؤقف یہی تھا کہ


“جب تک مسیح کے قاتل زندہ ہیں، مقدس جنگ مکمل نہیں ہو سکتی۔”
2. وباؤں، آفات اور اجتماعی خوف کا الزام

جب معاشرے سائنسی شعور سے محروم تھے، تو وبائیں اور قدرتی آفات الٰہی سزا سمجھی جاتی تھیں۔

Black Death (1347–1351) کے دوران


یہودیوں پر کنوؤں میں زہر ملانے کا الزام لگایا گیا


اعترافات زبردستی تشدد کے ذریعے لیے گئے

➡️ Basel Massacre (1349) میں یہودیوں کو زندہ جلانے والوں کا مؤقف تھا کہ


“ہم شہر کو خدا کے عذاب سے پاک کر رہے ہیں۔”

یہ دراصل اجتماعی خوف (mass hysteria) کا مظہر تھا، جس میں اقلیت کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔
3. معاشی رقابت اور حسد

یہودیوں کو اکثر:

زمین رکھنے سے روکا گیا


سرکاری عہدوں سے محروم رکھا گیا

نتیجتاً وہ تجارت، مالیات اور قرض کے شعبوں تک محدود ہوئے۔

جب ریاستوں اور عوام کو:

قرض معاف کرنا ہوتا


یہودی املاک ضبط کرنی ہوتیں


یا معاشی بحران کا الزام ڈالنا ہوتا

تو یہودیوں کو نشانہ بنایا جاتا۔

➡️ 1492 Expulsion from Spain کے وقت شاہی مؤقف تھا کہ:


“یہودی سلطنت کی مذہبی و معاشی وحدت کے لیے خطرہ ہیں۔”

حقیقت میں یہ قرضوں کی معافی اور املاک پر قبضے کا ذریعہ بھی تھا۔
4. قومی شناخت اور “غیر ملکی” کا تصور

یہودی چونکہ:

اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے


الگ رسوم و رواج رکھتے


اکثریتی ثقافت میں مکمل طور پر مدغم نہیں ہوتے

اس لیے انہیں اکثر “اندرونی دشمن” (Internal Other) کہا گیا۔

➡️ جدید قوم پرست تحریکوں میں یہ دلیل دی گئی کہ:


“یہودی وفادار شہری نہیں بلکہ عالمی سازش کا حصہ ہیں۔”

یہی سوچ نازی جرمنی میں انتہائی شکل اختیار کر گئی۔
5. نازی بیانیہ: نسل، سائنس اور ریاستی پروپیگنڈا

ہولوکاسٹ کے دوران نازیوں نے ظلم کو محض نفرت نہیں بلکہ سائنسی اور ریاستی نظریے کے طور پر پیش کیا:

یہودیوں کو “کمتر نسل” قرار دیا گیا


یورپ کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا


انہیں جراثیم (parasites) سے تشبیہ دی گئی

➡️ نازی مؤقف کے مطابق:


“یہودیوں کا خاتمہ انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔”

یہ تاریخ کی بدترین مثال ہے کہ ریاستی طاقت جب تعصب سے مل جائے تو نسل کشی جنم لیتی ہے۔
6. مسلم دنیا اور جدید دور کے فسادات

کچھ جدید فسادات (جیسے Tripoli Pogrom 1967 یا Thrace Pogroms 1934) میں:

اسرائیل–عرب تنازع کو مقامی یہودیوں سے جوڑ دیا گیا


ریاستی کمزوری یا قوم پرستی نے تشدد کو ہوا دی

ظلم کرنے والوں کا بیانیہ تھا:


“یہودی دشمن ریاست کے نمائندے ہیں۔”

حالانکہ مقامی یہودی نسلوں سے ان معاشروں کا حصہ تھے۔
نتیجہ: تاریخ کا سبق

یہودیوں پر ہونے والے مظالم ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ:

تعصب ہمیشہ کسی نہ کسی اخلاقی جواز کے ساتھ آتا ہے


ظلم کرنے والا خود کو مجرم نہیں، نجات دہندہ سمجھتا ہے


جب علم، مکالمہ اور انصاف ختم ہو جائیں تو اقلیت سب سے پہلے نشانہ بنتی ہے

یہ تاریخ کسی ایک مذہب یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ انسانی کمزوریوں کے خلاف گواہی ہے۔






جمعہ، 19 دسمبر، 2025

روح بے چاری



"روح  ---"بے چاری

 انسان جب دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کوئی یادداشت نہیں ہوتی، مگر اس کے اندر ایک عجیب سی بے چینی ضرور ہوتی ہے۔ جدید نفسیات اسی بے چینی کو انسانی فطرت کا بنیادی سوال قرار دیتی ہے۔ مذہب اسے یادِ الست کہتا ہے اور نفسیات اسے innate awareness یا existential drive کا نام دیتی ہے۔ دونوں کی زبان الگ ہے، مگر اشارہ ایک ہی حقیقت کی طرف ہے۔

جدید نفسیاتی مطالعات بتاتے ہیں کہ انسان کچھ رجحانات سیکھ کر نہیں بلکہ لے کر آتا ہے۔ مثال کے طور پر خیر و شر کا ابتدائی احساس، انصاف کی جبلّت، اور کسی بالاتر معنی کی تلاش۔ یہی وجہ ہے کہ بچہ بغیر کسی تربیت کے ناانصافی پر ردِعمل دکھاتا ہے۔ یہ رویہ اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ انسانی شعور خالی تختی نہیں بلکہ ایک پہلے سے نقش شدہ ذہنی ساخت کے ساتھ وجود میں آتا ہے۔ یوں یومِ الست کا وعدہ نفسیاتی زبان میں ایک pre-conscious imprint بن جاتا ہے۔

لیکن دنیا میں آ کر انسان پر دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ ماحول، سماج اور مسلسل محرکات انسان کی اصل فطرت پر تہہ در تہہ پردے ڈال دیتے ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ اسے نفس کی کشمکش کہتا ہے، کارل یونگ اسے شعور اور لاشعور کی جنگ قرار دیتا ہے، اور وجودی نفسیات اسے انسان کی “اصل سے بیگانگی” کا نام دیتی ہے۔ یوں روح بے بس نہیں ہوتی، بس مسلسل مصروف کر دی جاتی ہے۔

آج کا انسان کسل کا شکار ہے، اور یہ کسل محض جسمانی نہیں بلکہ فکری اور روحانی ہے۔ جدید نفسیات اسے mental fatigue اور existential numbness کہتی ہے۔ ہر وقت کی دوڑ، کامیابی کا دباؤ، اسکرینوں کی روشنی اور خواہشات کی بھرمار انسان کو سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اندر کی وہ آواز، جو کبھی “ألست بربکم” کا جواب تھی، مدھم پڑ جاتی ہے۔ یہ مجبوری نہیں، یہ غفلت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید نفسیاتی تھراپی بھی بالآخر انسان کو “اپنے اصل” کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتی ہے۔ mindfulness، self-awareness، اور meaning-centered therapy دراصل اسی بھولی ہوئی مرکزیت کو بحال کرنے کی مشقیں ہیں۔ مذہبی اصطلاح میں یہی عمل “ذکر” کہلاتا ہے۔ فرق صرف الفاظ کا ہے، منزل ایک ہی ہے۔

یوں دیکھا جائے تو روح دنیا میں آ کر وعدہ تو نہیں بھولتی، انسان اسے سننے کی فرصت کھو دیتا ہے۔ کسل دراصل اسی فراموشی کی علامت ہے۔ جب انسان رک کر اپنے اندر جھانکتا ہے تو جدید نفسیات اور قدیم وحی ایک ساتھ یہ گواہی دیتی ہیں کہ سچ کہیں باہر نہیں، وہ انسان کے اندر پہلے سے موجود ہے—بس دب گیا ہے، مٹا نہیں۔

اتوار، 14 دسمبر، 2025

bondi beach masscare







بانڈی بیچ سانحہ
اتوار، 14 دسمبر 2025 کی شام سڈنی کے معروف ساحل بانڈی بیچ کے قریب ایک یہودی مذہبی تہوار حنوکہ کی تقریب کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔  ۔ دو مسلح افراد نے ہجوم پر فائرنگ کی، جسے بعد ازاں آسٹریلوی حکام نے دہشت گردی قرار دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں مختلف عمروں اور پس منظر کے افراد شامل تھے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک حملہ آور کو موقع پر ہلاک کر دیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران اسلحہ اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔
 آسٹریلوی قیادت اور متعدد عالمی رہنماؤں نے حملے کی مذمت کی ۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر مختلف غیر مصدقہ دعوے اور سازشی نظریات بھی سامنے آئے، جنہیں حکام اور معتبر ذرائع نے مسترد کر دیا۔
پولیس کے مطابق نوید اکرم حملے میں ملوث دو مرکزی افراد میں سے ایک ہے، جو اس وقت حراست میں ہے۔ اس کے پس منظر،  اور محرکات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے قومیت اور دیگر حساس تفصیلات پر حتمی بیان جاری نہیں کیا۔
 اسرائیلی قیادت نے اسے یہودی برادری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اینٹی سیمیٹزم کے خلاف مؤثر اقدامات پر زور دیا، جبکہ کچھ رپورٹس میں اسے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مذہبی و نسلی نفرت کے تناظر میں دیکھا گیا۔
فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور اصل محرکات کا تعین ہونا باقی ہے۔ البتہ سوشل میڈیا پر افواہوں کی بھرمار ہے ۔۔


ہفتہ، 13 دسمبر، 2025

نوبختی خاندان

نوبختی خاندان 
ہم جب اسلامی تاریخ کے علمی خانوادوں پر نظر ڈالتے ہیں تو کچھ نام محض افراد نہیں رہتے بلکہ پورے فکری ادوار کی نمائندگی کرنے لگتے ہیں۔ نوبختی خاندان بھی انہی میں سے ایک ہے۔ یہ خاندان عباسی دور کے ابتدائی زمانے میں نہ صرف دربارِ خلافت سے وابستہ رہا بلکہ علم، عقل اور روایت کے باہمی امتزاج کی ایک روشن مثال بھی بنا۔
نوبختی خاندان کی جڑیں قبل از اسلام ایران کی علمی روایت میں ملتی ہیں۔ نوبخت بن فیروز، جو اس خاندان کے بانی سمجھے جاتے ہیں، علمِ نجوم کے ماہر تھے۔ عباسی انقلاب کے بعد جب بغداد نئی خلافت کا مرکز بنا تو نوبخت اور ان کے اہلِ خانہ کو دربار میں خاص مقام ملا۔ روایت ہے کہ بغداد شہر کی بنیاد رکھتے وقت سعد ساعت کے تعین میں نوبختی علما سے مشورہ لیا گیا۔ یہ اس زمانے کی فکری فضا کا عکس تھا، جہاں علمِ نجوم کو ریاستی منصوبہ بندی سے الگ نہیں سمجھا جاتا تھا۔
عباسی عہد کا ایک نمایاں پہلو ترجمہ اور علم کی سرپرستی تھا۔ یونانی، فارسی اور ہندی علوم کو عربی میں منتقل کرنے کی جو تحریک شروع ہوئی، نوبختی خاندان اس کے فکری ماحول کا حصہ رہا۔ اگرچہ تمام تراجم براہِ راست ان کے نام سے منسوب نہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ اس خاندان نے اس علمی فضا کو جنم دینے اور اسے فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہی وہ دور تھا جب عقل، فلسفہ اور تجربے کو دینی فکر کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں زور پکڑ رہی تھیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ نوبختی خاندان کی ایک شاخ نے علمِ کلام میں نمایاں مقام حاصل کیا، خصوصاً امامیہ شیعہ روایت کے اندر۔ ابو سهل اسماعیل بن علی النوبختی اور حسن بن موسیٰ النوبختی جیسے علما نے عقلی استدلال کو مذہبی مباحث کا حصہ بنایا۔ حسن بن موسیٰ النوبختی کی تصنیف فرق الشیعہ آج بھی شیعہ فرقوں کی تاریخ پر ایک بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں اختلاف کو محض فتنہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور فکری حقیقت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
نوبختی خاندان کا اصل امتیاز یہی تھا کہ وہ روایت اور عقل کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتا رہا۔ ان کے ہاں فلسفہ کوئی اجنبی علم نہیں تھا بلکہ ایسا ذریعہ تھا جس کے ذریعے عقائد کو بہتر طور پر سمجھا اور واضح کیا جا سکتا تھا۔ یہی طرزِ فکر بعد میں اسلامی کلام کی تشکیل میں دور رس اثرات کا باعث بنی۔
چوتھی صدی ہجری کے بعد نوبختی خاندان اجتماعی طور پر تاریخ کے منظرنامے سے پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے۔ عباسی خلافت کی کمزوری، درباری سرپرستی کا خاتمہ اور علمی مراکز کی تبدیلی نے اس خاندان کی شناخت کو منتشر کر دیا۔ مگر تاریخ کا اصول یہی ہے کہ بعض نام خاموش ہو جاتے ہیں، ان کے افکار نہیں۔ نوبختی علما کی تحریریں اور فکری اثرات بعد کے زمانوں میں مختلف صورتوں میں زندہ رہے۔
 نوبختی خاندان کا ذکر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اسلامی تہذیب کسی ایک نسل، زبان یا خطے کی پیداوار نہیں تھی۔ یہ مختلف تہذیبوں، علوم اور فکری روایتوں کے امتزاج سے بنی۔ نوبختی خاندان اسی امتزاج کی ایک علامت ہے—ایرانی دانش،عباسی سیاست اور اسلامی فکر کے درمیان ایک خاموش مگر مضبوط ربط۔