اتوار، 8 اکتوبر، 2017

مرکز ثقل

میری عمر ساٹھ سال ہے، میرے بچپن میں دادی اماں کا کمرہ گھر کا مرکز ثقل ہوا کرتا تھا۔دادی کا انتقال ہوا تو گھر میں ٹی وی آگیا ۔ ٹی وی والد صاحب کے کمرے کی بغل والے کمرے میں رکھا ہوا تھا ، پھر وہی کمرہ گھر کامرکز ثقل بن گیا۔والد صاحب کی وفات کے بعد گھر میں تبدیلی آئی اور اپنے اپنے کمرے کے ساتھ باتھ روم بھی اپنااپنا ہوگیا۔ آج میرے گھر کا مرکز ثقل وائی فائی ہے اور سب کے پاس موبائل اپنا اپنا ہے

گدھے کی کھال

اس نے بچھو پالنے کا کام شروع کیا تو اس کے گھر والوں نے اسے بہت برا بھلا کہا، دوستوں نے مذاق اڑایا ، مگر آدمی ضدی تھا ، ہر نصیحت کے جواب میں کہتا ،مجھے یقین ہے ۔۔۔ ، 
پچھلے تین سالوں میں اس نے بچھو وں کی برآمد سے بہت ڈالر کمائے، اس کے پاس بنگلہ ہے گاڑی ہے مگر بیچارہ ہے کیونکہ چھڑا ہے۔۔ 
اب دوست اس نے کاروباری مشورے لیتے ہیں۔
تم گدہے پالنے کا کام شروع کر دو، اس نے دوست کو مشورہ دیا ۔اگلے دو سالوں میں گدہے کی قیمت 10 لاکھ روپے تک جمپ کرنے والی ہے وہ دیر تک دوست کو مفید مشورے دیتا رہا ۔۔۔ میں پاس بیٹھا سن رہا تھا ۔
جب اس کا دوست اٹھ کر جانے لگا تو کہا۔
ہاں سنو ۔۔۔ گدہے کو مارنے سے پہلے بھوکا رکھنا کھال اتارنے میں آسانی رہے گی۔


ہفتہ، 7 اکتوبر، 2017

آپکی عمر

ایک لڑکی سے پوچھا آپکی عمر ؟؟؟
کہا پتہ نہیں البتہ اپنی امی سے آدھی عمر کی ھوں 
پوچھا آپکی امی کی عمر ؟؟؟
کہا پتہ نہیں البتہ میرے ابو سے پانچ سال چھوٹی
پوچھا آپکے ابو کی عمر ؟؟؟
کہا معلوم نہیں البتہ ھم تینوں کی عمر کا مجموعہ 💯 سال
اب آپ بتائیں
لڑکی کی عمر ؟؟؟
لڑکی کی ماں کی عمر ؟
لڑکی کے باپ کی عمر ؟

اعتدال


معاشرتی زندگی میں انفرادی رویوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے، مگر ْ اعتدال ْ ایسا اچھا رویہ ہے جس کو ہر قوم و مذہب ومعاشرہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔انسان بنیادی طور پر امن پسند ہے وہ اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتا ہے، اس کو اپنی آزادی عزیز ہے، وہ جانی و مالی خساروں سے بچنا چاہتا ہے اور اس کی ایک عزت نفس ہے جو اس کو بہت عزیز ہے۔ایک فقرہ ہم روزمرہ زندگی میں سنتے ہیں ْ جیو اور جینے دو ْ دراصل یہ اعتدال اختیار کرنے کی تعلیم دینے کے لیے اختیار کیا گیا ایک بیانیہ ہے۔ عوامی بیانیوں کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے ۔ جیسے ہم سنتے ہیں حدسے بڑہا ہو ا پیار خطر ناک ہوتا ہے ، حالانکہ پیا ر اور محبت حد سے بڑہا ہوا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ محبت کو جتنا بھی بڑہا لیا جائے اس میں مزید کی گنجائش رہتی ہے۔لیکن عمومی بیانیہ یہ ہے کہ کسی بھی رویے میں غلو نقصان دہ ہے خواہ محبت ہی ہو۔
اعتدال کواگر ایک مقام مان لیا جائے تو اس کے اوپر ایک مقام غلو کا ہوتا ہے جس کو افراط کے لفظ سے بیان کیا جا سکتاہے اور افراط کے متضاد لفظ تفریط کا مقام اعتدال کے مقام سے نیچے آ جائے گا ۔افراط و تفریط دراصل ایک قسم کی سختی یا انتہا پسندی کو ظاہر کرتے ہیں۔ان طرفین کے مابین معتدل موقف کواعتدال کا نام دے کر پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔اور یہ پسندیدگی تمام انسانوں میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہے اور اس کا امتیاز ہے کہ اس رویے کی ہمارے رہبر و رہنماء حضرت محمد خاتم مرسلین ﷺ نے بہت حوصلہ افزائی فرمائی اور کہا ْ دو رذیلوں کے مابین برتر اعتدال ہے ْ ۔
یعنی اعتدال کے مقام سے اوپر اور نیچے کے مقام پر دونوں رویوں کو ْ رذیل ْ بتا کر ان سے کنارہ کش ہونے کی ترغیب دی ہے۔ ایک بار حضور ﷺ نے فرمایا ْ دین آسان ہے اور جو بھی دین میں بے جا سختی کرتا ہے تو دین اس پر غالب آ جاتا ہے ْ اور دین کو عملی طور پر فرد پر غالب ہوتے ہوئے ہم موجودہ معاشرے میں اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ انسان دین سے مغلوب ہو کر دین کی اصل روح پر عمل سے کنارہ کش ہو جاتا ہے۔اور حیرت انگیز طور پر یہ ْ مغلوب ْ جاہل نہیں بلکہ ْ عالم ْ ہوتا ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ صادق کا قول اپناآپ خود منواتا ہے۔اعتدال کو بیان کرتے ہوئے صادق و امین نبی ﷺ نے فریایا کہ تمھارے اوپر تمھارے نفس کا حق ہے، تمھارے گھر والوں کا بھی تم پر حق ہے، تمھارے بدن کا بھی تم پر حق ہے اور تمھارے رب کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے تم ہر حق دارکا حق ادا کرو ۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی و رسول ﷺ کے فرمان کو یہ فرما کر مستحکم فر دیا ْ آپ فرما دیجیے ۔ اللہ کے پیدا کیے ہوئے اسباب زینت کو ، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے، اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے ْ ۔
اسلام ایک طرز زندگی ہے جو اعتدال پسندوں کا دین ہے ۔ اسلام جیو اور جینے دو کا سبق دیتا ہے۔ اور اپنے ماننے والوں کو نصیحت کرتا ہے کہ دینی اور دنیاوی معاملات میں اللہ کی حدود سے نہ تجاوز کرو نہ کمی کرو۔اسلام اعتدال ، توازن اور عدل کا دین ہے ۔ اور یہ دین اپنے ماننے والوں کو ہدائت کرتا ہے ْ اور جو کچھ اللہ نے تجھے دے رکھاہے، اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو بھی نہ بھول ْ بلکہ انسان کو مزید تاکید کرتے ہوے اللہ تعالی نے فرمایا ہے ْ اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گذر جاواور اللہ پر بجز حق کے کچھ نہ کہو ْ اورحق یہ ہے کہ ہر انسان اپنے قول و فعل میں اس حد تک آزاد ہے جب تک اس کا قول و فعل معاشرے میں بسنے والے کسی دوسرے فرد کی حق تلفی کا سبب نہ بن جائے۔اور انفرادی آزادی ، جانی و مالی تحفظ اور فرد کی عزت نفس کی پاسداری کا سبق ہمیں اس ہستی نے دیا ہے جس پر خود خالق ارض و سماوات اور آسمانوں کی مخلوق سلامتی بھیجتی ہے اور اہل ایمان کو حکم ہے کہ تم بھی ان رحمت العالمین ﷺ پر صلاۃ و سلام بھیجو !

جمعہ، 6 اکتوبر، 2017

وہ آئے پیر زندیق

شائد آپ محسوس کریں کہ پچھلی چند دہائیوں میں ہمارے ہاں گھی کی نسبت کھانے والے تیل کا استعمال زیادہ ہو گیا ہے اور اس وقت تیل کی کھپت گھی کی کھپت کے تقریبا برابر ہے، پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے دور میں بازار میں گھی کی قیمت میں اضافہ ہو گیا، گھی بنانے والوں سے جواب طلبی ہوئی تو پتہ چلا۔کہ خوردنی تیل کو گھی کی شکل دینے میں حرارت کا ایک کردار ہے اور حرارت جو کہ گیس سے حاصل کی جاتی ہے کی قیمت میں حکومت نے اضافہ کیا ہے ۔ حکومت نے گھی بنانے والوں سے کہا کہ آپ گھی کی بجائے تیل کو مارکیٹ میں لائیں ، عوام کا ذہن بنانا ہمارا کام ہے، پھر ہمارے دیکھتے دیکھتے لوگوں نے خوردنی تیل استعمال کرنا شروع کر دیا۔حالانکہ یہاں ایسے بزرگ موجود ہیں جن کو اسی کی دہائی میں ذولفقار علی بھٹو کے دور میں گھی اور چینی کی قلت یاد ہو گی۔ اس زمانے میں اسلام آباد کی ایک گھی مل کا تیار کردہ گھی محض اس بنا پر غیر مقبول تھا کہ اس میں گھی کم اور تیل زیادہ ہوا کرتا تھا۔اس مثال سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ ذہن بنانے میں میڈیا کا کردار موثر ہوتا ہے۔
جب ہم معاشروں کی بناوٹ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب معاشروں نے اپنے کام اہلیت کی بنا پر تقسیم کر رکھے ہیں، معاشرے کی تربیت کا کام اساتذہ کو سونپا جاتا ہے، معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کا کام پولیس کے سپرد ہوتا ہے، فوج سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے، صحت کا محکمہ بیماروں کی نگہداشت کرتا ہے، میڈیا کا کام لوگوں کے ذہن بنانا ہوتا ہے ، اس سارے عمل کی دیکھ بال کرنا حکومت کا کام ہوتا ہے۔
ؒ شہر لاہور کے دامن میں محواستراحت حضرت علی بن عثمان ہجویری ؒ المعروف داتا صاحب نے اپنی مشہور زمانہ کتاب کشف المجوب میں ایک حکائت نقل کی ہے لکھتے ہیں ایک دن ابو طاہر حرمیؓ گدہے پر سوار ہو کر ایک بازار سے گزر رہے تھے، ایک مرید ہم رکاب تھا، کسی نے پکار کر کہا ْ وہ آئے پیر زندیق ْ مرید غضبناک ہو کر پکارنے والے کی طرف لپک پڑہا، بازار میں ہنگامہ ہو گیا، شیخ نے مرید سے کہا اگر تو خاموش رہے تو میں تجھے ایسی چیز پڑھاوں گا جو تجھے اس قسم کی مصیبت سے دور رکھے۔ مرید خاموش ہو گیا، گھر پہنچ کر شیخ نے کہا میرا صندوقچہ اٹھا لاو، مرید اٹھا لایا اس میں خطوط تھے، مرید سے کہا پڑہوجو خطوط مجھے آتے ہیں ان میں کسی نے مجھے شیخ الالسلام کہہ کر خطاب کیا ہے، کسی نے شیخ پاک لکھا ہے، کسی نے شیخ زاہد لکھااور کسی نے شیخ حرمین، یہ تمام القاب ہیں نام نہیں ، میں ان میں سے کسی ایک کا اہل نہیں۔ ہر کسی نے اپنے اپنے اعتقاد کے مطابق کوئی لقب تراش لیا ہے۔اگر اس شخص نے بھی اپنے اعتقاد کی بنا پر کسی لقب سے مجھے پکار لیا تو اس میں جھگڑے کی کون سی بات تھی۔ 
حکائتیں اور قصے اکثر لوگوں کی سماعتوں کو فرحت بخشتے ہیں مگر اہل علم کے لیے ان میں لطیف سبق پنہاں ہوتے ہیں۔اس حکایت میں بھی سبق ہی پنہاں ہیں کہ استاد نے جھگڑے کے وسط میں بھی اپنے منصب کو نہ چھوڑا اور اس واقعے کو اپنے مرید کی تربیت کا سبب بنا لیا۔
ہمارے اجتماعی ذہن کی بطور ْ ناقد ْ تربیت مکمل ہوجانے کے بعد ایک فرد محسوس کرتا ہے کہ سارا معاشرہ کرپٹ ہو چکا ہے، رشوت ، بے انصافی ، بے اخلاقی کا چلن عام ہے۔ آپ ٹی وی کے سامنے بیٹھ جائیں ، سوشل میڈیا کو دیکھ لیں، مذہبی، معاشرتی اور سیاسی اجتماعات میں شرکت کر کے دیکھ لیں ،ہر جگہ سب سے اونچی آوا ز ناقد ہی کی ہو گی۔فرد کو یقین ہو چلا ہے کہ اس معاشرے میں اس کی انفرادی نیکی اور اچھے عمل کا کوئی وزن نہیں رہا ہے کیونکہ سارا معاشرہ کرپٹ ہو چکا ہے ۔
کیا ہم واقعی کرپٹ ہو چکے ہیں یا ناقد کے سپیکر کا وولیم ضرورت سے زیادہ بلند ہے