‏urdu column. naftat aur sazish لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏urdu column. naftat aur sazish لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 23 اکتوبر، 2026

نفرت اور سازش







نفرت اور سازش

نفرت ایک جذبہ ہے، جبکہ سازش ایک منصوبہ بند عمل۔ نفرت کسی شخص، قوم، مذہب یا نظریے کے خلاف پیدا ہوتی ہے، لیکن سازش اس وقت جنم لیتی ہے جب کوئی اپنے جذبات یا مفادات کے تحت خفیہ طور پر دوسروں کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر نفرت سازش نہیں بنتی اور ہر سازش کے پیچھے نفرت نہیں ہوتی؛ کبھی اقتدار، دولت، خوف اور ذاتی مفاد بھی اس کے محرکات ہوتے ہیں۔

تاریخ اس فرق کو سمجھنے کے لیے کئی مثالیں پیش کرتی ہے۔ سنہ 44 قبل مسیح میں رومی رہنما جولیس سیزر کو سینیٹ کے بعض ارکان نے قتل کر دیا۔ انہیں خدشہ تھا کہ سیزر کی بڑھتی ہوئی طاقت جمہوری اداروں کو کمزور کر دے گی۔ سیاسی مخالفت ایک بات تھی، لیکن خفیہ منصوبہ بنا کر قتل کرنا سازش تھی۔

ایشیا کی تاریخ میں مغلیہ سلطنت کی تخت نشینی کی جنگ بھی قابلِ غور ہے۔ شاہ جہاں کی بیماری کے بعد اس کے بیٹوں، خصوصاً دارا شکوہ اور اورنگزیب، کے درمیان اقتدار کے لیے کشمکش شروع ہوئی۔ اس تنازعے کو محض بھائیوں کی نفرت قرار دینا درست نہیں؛ سلطنت پر قبضہ، سیاسی اتحاد اور اقتدار کی خواہش بھی فیصلہ کن عوامل تھے۔

پاکستان کی تاریخ میں مشرقی پاکستان کا سانحہ اس حقیقت کی تلخ مثال ہے کہ سیاسی اختلاف کو بروقت حل نہ کیا جائے تو نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی میں ناکامی، سیاسی مذاکرات کا تعطل اور 25 مارچ 1971ء کو شروع ہونے والی فوجی کارروائی نے بحران کو شدید کر دیا۔ بالآخر ملک تقسیم ہو گیا۔ اس المیے کو صرف نفرت کا نتیجہ کہنا ناکافی ہے؛ سیاسی غلط فیصلے، اقتدار کی کشمکش اور طاقت کا استعمال بھی اس کے بنیادی عوامل تھے۔

افریقہ میں روانڈا کی نسل کشی نفرت کے ہولناک نتائج کی مثال ہے۔ سنہ 1994ء میں توتسی اقلیت کے خلاف برسوں سے پھیلائے جانے والے تعصب اور نفرت انگیز پروپیگنڈے نے قتلِ عام کے لیے ماحول پیدا کیا۔ انتہا پسند عناصر نے اس نفرت کو منظم تشدد میں بدل دیا اور چند ماہ میں لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے۔ یہاں نفرت محض ایک احساس نہیں رہی بلکہ اسے منصوبہ بندی اور طاقت کے ذریعے انسانی تباہی کا ذریعہ بنایا گیا۔

کانگو کے رہنما پیٹریس لومومبا کا قتل ایک مختلف پہلو سامنے لاتا ہے۔ آزادی کے بعد سرد جنگ کے ماحول میں ان کے سیاسی رجحانات اور ملک کے مستقبل پر بیرونی طاقتوں کے مفادات باہم متصادم ہوئے۔ ان کے خلاف قتل کے خفیہ منصوبوں پر غور اور کوششوں کا ذکر امریکی سرکاری دستاویزات میں موجود ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ سازش کا محرک ذاتی نفرت کے بجائے سیاسی مفاد اور اقتدار کا خوف بھی ہو سکتا ہے۔

ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ نفرت اور سازش میں تعلق ضرور ہے، لیکن دونوں مترادف نہیں۔ کسی سے اختلاف کرنا، اسے ناپسند کرنا یا اس کے نظریات پر تنقید کرنا سازش نہیں۔ البتہ جھوٹے شواہد تیار کرنا، خفیہ طور پر لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا اور کسی کو ناجائز نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنانا سازش کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کا فیصلہ قیاس آرائی سے نہیں، شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

معاشروں کا المیہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اختلاف کو دشمنی بنا دیا جائے، کسی گروہ کو اجتماعی طور پر مجرم ٹھہرایا جائے اور مفادات کے حصول کے لیے نفرت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ مہذب معاشرے اختلاف کو مکالمے، شکایت کو قانون اور اقتدار کی کشمکش کو آئینی طریقوں سے حل کرتے ہیں۔

نفرت دل میں جنم لیتی ہے، سازش ارادے اور منصوبہ بندی سے وجود میں آتی ہے۔ نفرت انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کرتی ہے، لیکن جب اسے طاقت، مفاد اور منظم عمل کا سہارا مل جائے تو یہ افراد ہی نہیں، پوری قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔