منگل، 27 جنوری، 2026
دربار کے اصول
سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت
پیر، 26 جنوری، 2026
خوف کی سیاست
خوف کی سیاست
عبرانی اخبار معاریو میں شائع ہونے والا حالیہ تجزیہ محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے جس میں آج صہیونی–امریکی قیادت مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ فوجی تجزیہ کار الون بن ڈیوڈ کے مطابق، ایران کے مضبوط اور غیر لچکدار موقف نے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو ایسی الجھن میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی سیدھی راہ دکھائی نہیں دیتی۔
رپورٹ کا سب سے معنی خیز پہلو وہ اعتراف ہے جس میں کہا گیا کہ امام خامنہای نے ٹرمپ کے ساتھ ایک طرح سے “ذاتی حساب” کھولتے ہوئے اس کے تکبر کو براہِ راست للکارا۔ یہ محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ وقار کی جنگ تھی۔ امریکی صدر، جو طاقت کی زبان سمجھنے اور اسی پر بات کرنے کے عادی ہیں، اس بار ایک ایسے وقار سے ٹکرا گئے جسے نہ دباؤ توڑ سکا اور نہ دھمکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ، رہبرِ ایران کے وقار کو مجروح کرنے میں ناکامی کے باعث، ذاتی اضطراب اور ذہنی بے چینی کا شکار نظر آئے۔
اسی تسلسل میں رپورٹ یہ انکشاف بھی کرتی ہے کہ ٹرمپ نے خطے کے مختلف رہنماؤں اور خصوصاً نیتن یاہو سے مشاورت کی، مگر وہاں سے جو جواب ملا وہ خود امریکی طاقت کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ “اتنی طاقت اور یہ تمام عسکری قوتیں بھی تہران میں نظام کو گرانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔” یہ جملہ دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام اور داخلی طاقت کا وہ اعتراف ہے جو برسوں کی سیاسی بیان بازی میں کبھی اس وضاحت سے سامنے نہیں آیا تھا۔
نیتن یاہو کا کردار اس پوری کہانی میں سب سے زیادہ معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہی شخص تھا جس نے ایرانی ردِعمل کے خوف سے امریکی جارحانہ رویّے کو لگام دینے کی کوشش کی۔ بظاہر “دفاع” کے نعروں کے پیچھے، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی قیادت خود جانتی ہے کہ وہ ایرانی میزائل طاقت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ یہ اعتراف اسرائیلی عسکری برتری کے دیرینہ دعووں پر ایک اور کاری ضرب ہے۔
رپورٹ میں ایران کے دو ہزار سے زائد تیار بیلسٹک میزائلوں کا ذکر محض ایک عددی حقیقت نہیں، بلکہ نفسیاتی برتری کی علامت ہے۔ جب دشمن خود یہ ماننے لگے کہ ان کے طیارے اور افواج محض “پریڈز” بن کر رہ گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا توازن میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں میں بدل چکا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں “وقار کا جال” اپنی پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ طاقتور ہونے کے دعوے دار اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ایک غلط قدم پورے خطے کو ایسی آگ میں جھونک سکتا ہے جس کا انجام ان کے قابو میں نہیں ہوگا۔ معاریو کا یہ تجزیہ دراصل اسی سچ کی گواہی ہے کہ جدید سیاست میں صرف ہتھیار نہیں، وقار، استقامت اور نفسیاتی برتری بھی فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔
اتوار، 25 جنوری، 2026
نشان حیدر
یہ تین مئی 1956 کا دن تھا جب اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا نے ملک کے لیے نمایاں شہری اور فوجی خدمات ادا کرنے والے افراد کو مختلف تمغے دینے کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
اسی اعلان میں کہا گیا کہ ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر ہو گا اور یہ تمغہ مسلح افواج کے ان ارکان کو دیا جائے گا جنھوں نے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے زبردست خطرات کا سامنا کرتے ہوئے بے حد بہادری اور زبردست ہمت کا مظاہرہ کیا ہو۔
اس اعزاز کا نام اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے نام پر رکھا گیا۔ حضرت علی میدان جنگ میں اپنی بہادری وکراری کی وجہ سے مشہور ہیں اور خود پیغمبر اسلام نے انہیں 'شیر خدا' کا لقب دیا تھا۔
میاں محمد مسعود الزماں نے اپنی کتاب 'نشان حیدر' میں لکھا ہے کہ 'نشان حیدر' پانچ کونوں کا ایک ستارہ ہے جو توپ کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ ان کونوں کے کنارے تانبے اور نکل کے مرکب سے بنتے ہیں۔ اس میں چاند اور ستارہ ہیرے کا ہوتا ہے، فیتہ ریشمی اور سبز رنگ کا ہوتا ہے، اس کی چوڑائی ڈیڑھ انچ ہوتی ہے، جب یہ فیتہ تمغے کے بغیر پہنا جاتا ہے تو اس کے اوپر پنچ کونی ستارے کی نقل لگالی جاتی ہے۔'
وزارت دفاع کے حکم پر 'پاکستان مِنٹ' (وہ جگہ جہاں سِکّے بنائے جاتے ہیں) نشان حیدر تیار کرتی ہے۔ اسے دشمن سے چھینے گئے اسلحہ کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 88 فیصد تانبا، 10 فیصد سونا اور 2 فیصد زنک (جست) شامل کیا جاتا ہے۔
عوامی سطح پر اس قسم کی کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ نشان حیدر پانے والوں کو مالی طور پر کیا فوائد دیے گئے تاہم ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید کے مطابق نشان حیدر کا اعزاز پانے والوں کے اہل خانہ کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ چاہیں تو نقدی لے لیں یا زرعی اراضی۔
نشان حیدر کا اعزاز بلالحاظِ عہدہ پاکستان کی مسلح افواج کے کسی بھی فرد کو دیا جا سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ اعزاز صرف جنگ میں شہید ہونے والوں کو دیا جائے،
نشانِ حیدر حاصل کرنے والے سب سے پہلے فوجی، کیپٹن راجہ سرور تھے جنھوں نے 27 جولائی 1948 کو کشمیر کے محاذ پر جان دی تھی اور ان کا اعزاز 27 اکتوبر 1959 کو ان کی اہلیہ نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھ سے وصول پایا تھا۔
میجر محمد اکرم نشان حیدر حاصل کرنے والی وہ واحد شخصیت ہیں جو بنگلہ دیش میں دفن ہیں جبکہ باقی قبریں ملک کے مختلف علاقوں اور کشمیر میں واقع ہیں۔
پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو 1971 کی جنگ سے قبل نشانِ حیدر حاصل کرنے والے اہلکار تھے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاکستانی فضائیہ کے وہ واحد افسر ہیں جنھیں بے مثال شجاعت پر نشان حیدر دیا گیا۔
1971 سے 1999 کے درمیان نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں میں ایک اور نام کا اضافہ ضرور ہوا جو کہ نائیک سیف علی خان جنجوعہ کا تھا جنھیں 14 مارچ 1949 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اپنا سب سے بڑا فوجی اعزاز 'ہلال کشمیر' دینے کا اعلان کیا تھا۔
30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ہلال کشمیر کو نشان حیدر کے مساوی قرار دینے کا اعلان کیا تو اس فہرست میں نائیک سیف علی کا نام بھی شامل ہو گیا۔
سیف علی جنجوعہ کے بارے میں دفاعی ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید نے کہا کہ 'وہ پاکستان آرمی کا حصہ تھے اور 1948 میں کشمیر کی پہلی جنگ میں بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ وہ بجا طور پر نشان حیدر کے اعزاز کے مستحق تھے۔'
کیپٹن کرنل شیر خان کو کارگل میں اپنے دستوں کے ساتھ قیادت اور معرکہ آرائی کرتے دیکھنے والے بھارتی بریگیڈئیر نے بعد ازاں بھارتی میڈیا سے اپنے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی جیب میں ایک تعریفی رقعہ اس وقت لکھ کر رکھ دیا تھا جب کرنل شیر خان کا جسد خاکی پاکستان کی فوج کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ اس رقعے میں تحریر تھا کہ کرنل خان بڑی بہادری سے لڑے اور ان کی اس بہادری کا اعتراف ہونا چاہیے۔


