منگل، 27 جنوری، 2026

دربار کے اصول





دربار کے اصول


اگر یہ کہاوت درست ہے کہ قومیں اپنے حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتی ہیں، تو پھر یہ حقیقت بھی ماننا پڑے گی کہ کمزور ریاستوں کے حکمران ہمیشہ طاقتور ریاستوں کے اشاروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اقتدار کی اصل قوت اکثر توپ و تفنگ میں نہیں، بلکہ علامتوں کے دبیز پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ کبھی ایک خط، کبھی ایک مہر، کبھی ایک فون کال اور کبھی محض ایک نام—یہ سب بعض اوقات میزائلوں اور بموں سے زیادہ کاری ثابت ہوتے ہیں۔
تاریخ اس نفسیاتی طاقت کی گواہ ہے۔ 1709ء میں جنگِ پولتاوا میں روس کے ہاتھوں شکست کے بعد سویڈن کے بادشاہ چارلس بارہویں کی غیر موجودگی میں اندرونی قوتوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ تخت سے محروم بادشاہ فریاد لے کر عثمانی سلطان احمد ثالث کے دربار میں پہنچا۔ سلطان نے صرف ایک مختصر تحریر دی جو "سلطانی مہر "  زدہ تھی۔ اس مہرکے وقار اور رعب نے اقتدار پر قابض قوتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، مگر اقتدار کی نفسیات وہی رہیں۔ آج ترک سلطان کی جگہ امریکہ کا صدر اس مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک جملہ، ایک اشارہ، یا حتیٰ کہ خاموشی بھی دور رس نتائج پیدا کر دیتی ہے۔
 ٹرمپ کے سابقہ دور میں ، اقوام متحدہ کی قرارداوں کے برعکس  اقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت  کہا گئا تو دنیا کی  خاموشی بے خبری نہیں  بلکہ طاقتور کی ناراضگی کا اندیشہ تھا جو  داخلی انتشار، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔
اسی خوف کی جھلک ہمیں بعض ریاستوں کی خارجہ پالیسی میں اچانک موڑ، بڑے اسلحہ معاہدوں قیمتی تحائف اور نئی علاقائی صف بندیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ یورپ میں نیٹو کے معاملے پر ٹرمپ کے سخت مؤقف کے بعد کئی ممالک کا دفاعی اخراجات بڑھانے کا فیصلہ بھی کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ طاقتور  کی ناراضگی سے بچنے کی عملی تدبیر تھی۔
لاطینی امریکہ میں اقتصادی پابندیاں اور سیاسی دباؤ کئی حکومتوں کی داخلی سمت متعین کرتے رہے۔ یہی طاقت کا وہ کرشمہ ہے جس کے باعث جدید عالمی سیاست قرونِ وسطیٰ کی تمثیل سے جا ملتی ہے—فرق صرف اتنا ہے کہ آج فرمان مہر سے نہیں، ٹوئٹ سے صادر ہوتا ہے، اور دربار کی جگہ عالمی میڈیا نے لے لی ہے۔

سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت

 

جدید دور، سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن امور پر کبھی اندھا یقین سمجھا جاتا تھا، آج وہ انسانی تجربے اور مشاہدے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔

اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ایک دائیں طرف نیک اعمال لکھنے والا اور دوسرا بائیں طرف برے اعمال درج کرنے والا۔ آج سے پچاس یا سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔ لوگ بغیر کسی مادی دلیل کے اس پر یقین رکھتے تھے، کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر آج کے انسان کو اگر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالنے کی دعوت دی جائے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔

آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ انسان اب کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ڈیجیٹل سایہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے بنائے ہوئے آلات یہ سب کچھ محفوظ کر سکتے ہیں، تو پھر اللہ کے مقرر کردہ فرشتوں کا انسان کے اعمال لکھنا کیوں ناقابلِ یقین سمجھا جائے؟

یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت (AI) نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔ عدالتوں میں آج بھی آواز کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آواز بھی ایک قابلِ ریکارڈ اور قابلِ تجزیہ شے ہے۔

اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان رابطے کے لیے ترجمانوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔

اگر اس حدیث کو اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ بات ناقابلِ تصور محسوس ہوتی ہے۔ جانوروں کا انسان سے بات کرنا، یا جوتے اور ران کا خبریں دینا اُس دور کے انسان کے لیے محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

آج جانوروں پر تجربات ہو رہے ہیں جن میں ان کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔

اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ انسان کا موبائل فون، جو اکثر اس کی جیب یا ران کے قریب ہوتا ہے، اسے اس کے گھر والوں کے بارے میں پیغامات دیتا ہے، ان کی آوازیں سناتا ہے اور ان کی تصویریں دکھاتا ہے۔ یوں بظاہر بے جان اشیاء انسان سے “بات” کر رہی ہیں۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی ﷺ محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ جدید دور کے انسان کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر ان تعلیمات کا مطالعہ کرے۔

آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے خالق کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔

پیر، 26 جنوری، 2026

خوف کی سیاست



 خوف کی سیاست

عبرانی اخبار معاریو میں شائع ہونے والا حالیہ تجزیہ محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ اس ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے جس میں آج صہیونی–امریکی قیادت مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ فوجی تجزیہ کار الون بن ڈیوڈ کے مطابق، ایران کے مضبوط اور غیر لچکدار موقف نے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو ایسی الجھن میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی سیدھی راہ دکھائی نہیں دیتی۔

رپورٹ کا سب سے معنی خیز پہلو وہ اعتراف ہے جس میں کہا گیا کہ امام خامنہ‌ای نے ٹرمپ کے ساتھ ایک طرح سے “ذاتی حساب” کھولتے ہوئے اس کے تکبر کو براہِ راست للکارا۔ یہ محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ وقار کی جنگ تھی۔ امریکی صدر، جو طاقت کی زبان سمجھنے اور اسی پر بات کرنے کے عادی ہیں، اس بار ایک ایسے وقار سے ٹکرا گئے جسے نہ دباؤ توڑ سکا اور نہ دھمکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ، رہبرِ ایران کے وقار کو مجروح کرنے میں ناکامی کے باعث، ذاتی اضطراب اور ذہنی بے چینی کا شکار نظر آئے۔

اسی تسلسل میں رپورٹ یہ انکشاف بھی کرتی ہے کہ ٹرمپ نے خطے کے مختلف رہنماؤں اور خصوصاً نیتن یاہو سے مشاورت کی، مگر وہاں سے جو جواب ملا وہ خود امریکی طاقت کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ صاف الفاظ میں کہا گیا کہ “اتنی طاقت اور یہ تمام عسکری قوتیں بھی تہران میں نظام کو گرانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔” یہ جملہ دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام اور داخلی طاقت کا وہ اعتراف ہے جو برسوں کی سیاسی بیان بازی میں کبھی اس وضاحت سے سامنے نہیں آیا تھا۔

نیتن یاہو کا کردار اس پوری کہانی میں سب سے زیادہ معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہی شخص تھا جس نے ایرانی ردِعمل کے خوف سے امریکی جارحانہ رویّے کو لگام دینے کی کوشش کی۔ بظاہر “دفاع” کے نعروں کے پیچھے، حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی قیادت خود جانتی ہے کہ وہ ایرانی میزائل طاقت کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ یہ اعتراف اسرائیلی عسکری برتری کے دیرینہ دعووں پر ایک اور کاری ضرب ہے۔

رپورٹ میں ایران کے دو ہزار سے زائد تیار بیلسٹک میزائلوں کا ذکر محض ایک عددی حقیقت نہیں، بلکہ نفسیاتی برتری کی علامت ہے۔ جب دشمن خود یہ ماننے لگے کہ ان کے طیارے اور افواج محض “پریڈز” بن کر رہ گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کا توازن میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں میں بدل چکا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “وقار کا جال” اپنی پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ طاقتور ہونے کے دعوے دار اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ایک غلط قدم پورے خطے کو ایسی آگ میں جھونک سکتا ہے جس کا انجام ان کے قابو میں نہیں ہوگا۔ معاریو کا یہ تجزیہ دراصل اسی سچ کی گواہی ہے کہ جدید سیاست میں صرف ہتھیار نہیں، وقار، استقامت اور نفسیاتی برتری بھی فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں۔

اتوار، 25 جنوری، 2026

نشان حیدر



یہ تین مئی 1956 کا دن تھا جب اس وقت کے صدر پاکستان اسکندر مرزا نے ملک کے لیے نمایاں شہری اور فوجی خدمات ادا کرنے والے افراد کو مختلف تمغے دینے کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

اسی اعلان میں کہا گیا کہ ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر ہو گا اور یہ تمغہ مسلح افواج کے ان ارکان کو دیا جائے گا جنھوں نے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے زبردست خطرات کا سامنا کرتے ہوئے بے حد بہادری اور زبردست ہمت کا مظاہرہ کیا ہو۔

اس اعزاز کا نام اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے نام پر رکھا گیا۔ حضرت علی میدان جنگ میں اپنی بہادری وکراری کی وجہ سے مشہور ہیں اور خود پیغمبر اسلام نے انہیں 'شیر خدا' کا لقب دیا تھا۔

میاں محمد مسعود الزماں نے اپنی کتاب 'نشان حیدر' میں لکھا ہے کہ 'نشان حیدر' پانچ کونوں کا ایک ستارہ ہے جو توپ کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ ان کونوں کے کنارے تانبے اور نکل کے مرکب سے بنتے ہیں۔ اس میں چاند اور ستارہ ہیرے کا ہوتا ہے، فیتہ ریشمی اور سبز رنگ کا ہوتا ہے، اس کی چوڑائی ڈیڑھ انچ ہوتی ہے، جب یہ فیتہ تمغے کے بغیر پہنا جاتا ہے تو اس کے اوپر پنچ کونی ستارے کی نقل لگالی جاتی ہے۔'

 وزارت دفاع کے حکم پر 'پاکستان مِنٹ' (وہ جگہ جہاں سِکّے بنائے جاتے ہیں) نشان حیدر تیار کرتی ہے۔ اسے دشمن سے چھینے گئے اسلحہ کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 88 فیصد تانبا، 10 فیصد سونا اور 2 فیصد زنک (جست) شامل کیا جاتا ہے۔

عوامی سطح پر اس قسم کی کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ نشان حیدر پانے والوں کو مالی طور پر کیا فوائد دیے گئے تاہم ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید کے مطابق نشان حیدر کا اعزاز پانے والوں کے اہل خانہ کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ چاہیں تو نقدی لے لیں یا زرعی اراضی۔

نشان حیدر کا اعزاز بلالحاظِ عہدہ پاکستان کی مسلح افواج کے کسی بھی فرد کو دیا جا سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ اعزاز صرف جنگ میں شہید ہونے والوں کو دیا جائے، 

نشانِ حیدر حاصل کرنے والے سب سے پہلے فوجی، کیپٹن راجہ سرور تھے جنھوں نے 27 جولائی 1948 کو کشمیر کے محاذ پر جان دی تھی اور ان کا اعزاز 27 اکتوبر 1959 کو ان کی اہلیہ نے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھ سے وصول پایا تھا۔

میجر محمد اکرم نشان حیدر حاصل کرنے والی وہ واحد شخصیت ہیں جو بنگلہ دیش میں دفن ہیں جبکہ باقی قبریں ملک کے مختلف علاقوں اور کشمیر میں واقع ہیں۔

پائلٹ آفیسر راشد منہاس کو 1971 کی جنگ سے قبل نشانِ حیدر حاصل کرنے والے اہلکار تھے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاکستانی فضائیہ کے وہ واحد افسر ہیں جنھیں بے مثال شجاعت پر نشان حیدر دیا گیا۔

1971 سے 1999 کے درمیان نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں میں ایک اور نام کا اضافہ ضرور ہوا جو کہ نائیک سیف علی خان جنجوعہ کا تھا جنھیں 14 مارچ 1949 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اپنا سب سے بڑا فوجی اعزاز 'ہلال کشمیر' دینے کا اعلان کیا تھا۔

30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ہلال کشمیر کو نشان حیدر کے مساوی قرار دینے کا اعلان کیا تو اس فہرست میں نائیک سیف علی کا نام بھی شامل ہو گیا۔

سیف علی جنجوعہ کے بارے میں دفاعی ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق حمید نے کہا کہ 'وہ پاکستان آرمی کا حصہ تھے اور 1948 میں کشمیر کی پہلی جنگ میں بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ وہ بجا طور پر نشان حیدر کے اعزاز کے مستحق تھے۔'

کیپٹن کرنل شیر خان کو کارگل میں اپنے دستوں کے ساتھ قیادت اور معرکہ آرائی کرتے دیکھنے والے بھارتی بریگیڈئیر نے بعد ازاں بھارتی میڈیا سے اپنے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان کی میت کی جیب میں ایک تعریفی رقعہ اس وقت لکھ کر رکھ دیا تھا جب کرنل شیر خان کا جسد خاکی پاکستان کی فوج کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ اس رقعے میں تحریر تھا کہ کرنل خان بڑی بہادری سے لڑے اور ان کی اس بہادری کا اعتراف ہونا چاہیے۔


ہفتہ، 24 جنوری، 2026

آسمانی آگ



آسمانی آگ
مارچ 1945 کی وہ رات انسانی تاریخ کے سب سے ہولناک ابواب میں سے ایک ہے، مگر اسے شاذ ہی وہ توجہ دی جاتی ہے جو اس کی سنگینی کا تقاضا کرتی ہے۔ 334 امریکی بمبار طیاروں نے صرف ایک رات میں ٹوکیو پر 1665 ٹن آتش گیر بم برسائے۔ گنجان آباد شہر، جہاں زیادہ تر مکانات لکڑی سے بنے تھے، لمحوں میں ایک دہکتی ہوئی بھٹی میں بدل گیا۔ آگ اس شدت سے پھیلی کہ ایک لاکھ سے زائد انسان جل کر مر گئے اور دس لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو گئے۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ آسمان سے برسنے والی ایسی آگ تھی جس نے پورے شہر کو اجتماعی قبر میں تبدیل کر دیا۔  جانی نقصان کے اعتبار سے یہ تباہی  ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ بڑی تھی۔
ٹوکیو کا یہ واقعہ کوئی استثنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے سلسلے کی کڑی تھا جس میں جدید جنگ نے شہری آبادی کو براہِ راست ہدف بنانا معمول بنا لیا۔ اس سے قبل جرمنی کے شہر ڈریسڈن پر اتحادی بمباری نے ہزاروں شہریوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ ہیمبرگ میں فائر اسٹورم نے پورے محلّے صفحۂ ہستی سے مٹا دیے، جبکہ برطانیہ کا شہر کوونٹری بھی آسمان سے برسنے والی آگ کی علامت بن گیا۔ ان تمام واقعات میں ایک قدرِ مشترک نمایاں ہے: جنگ کا میدان سپاہیوں سے نکل کر عام انسانوں کے گھروں تک آ چکا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد بھی یہ روایت ختم نہیں ہوئی، بلکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید مہلک ہو گئی۔ کوریا کی جنگ میں امریکی بمباری نے شمالی کوریا کے شہروں کو اس حد تک تباہ کیا کہ بعد میں خود امریکی تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا کہ وہاں کھڑا رہنے کے قابل شاید ہی کوئی بڑا شہر بچا ہو۔ ویتنام میں نیپام بموں نے جنگل ہی نہیں، دیہات اور انسانوں کے جسم تک جلا ڈالے۔ آسمان سے گرنے والی آگ نے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے درمیان کوئی فرق نہ کیا۔
یہی منظر عراق میں دہرایا گیا۔ بغداد پر بمباری، فلوجہ میں آگ اور دھماکوں کا طوفان، اور بعد ازاں افغانستان میں فضائی حملے—سب نے یہ ثابت کیا کہ جدید جنگ میں طاقتور ریاستیں اپنے دشمن کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو سزا دیتی ہیں۔ لیبیا، شام اور یمن میں بھی اتحادی فضائی کارروائیاں شہروں کو ملبے کے ڈھیر میں بدلتی رہیں، اور ہر بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ نشانہ صرف عسکری اہداف تھے، حالانکہ زمین پر جلتے ہوئے گھر اور لاشیں ایک مختلف کہانی سناتی رہیں۔
اسی سلسلے کی  سب سے دردناک مثال فلسطین، بالخصوص غزہ ہے۔ غزہ ایک محصور خطہ ہے، جہاں نہ پناہ گاہیں ہیں نہ فرار کے راستے۔ یہاں آسمان سے برسنے والی آگ جدید بموں، میزائلوں اور فاسفورس جیسی ہتھیاروں کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔ رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول اور پناہ گزین کیمپ اس آگ سے محفوظ نہیں رہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹوکیو میں آگ ایک رات میں برسی، جبکہ غزہ میں یہ آگ وقفوں وقفوں سے برس رہی ہے، مگر اس کا مقصد وہی ہے: اجتماعی خوف، اجتماعی سزا اور اجتماعی تباہی۔
ان تمام مثالوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ آسمان سے آگ برسانا کسی ایک جنگ یا ایک دور کا مسئلہ نہیں، بلکہ طاقت کے اس تصور کا اظہار ہے جس میں اخلاق، قانون اور انسانیت ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ٹوکیو سے لے کر ڈریسڈن، ویتنام سے لے کر بغداد، اور بغداد سے لے کر غزہ تک، آگ کا رنگ بدلتا رہا مگر جلنے والے انسان وہی رہے—عام شہری۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ فاتحین کی زبان میں یہ سب “ضروری جنگی اقدامات” کہلاتا ہے، جبکہ متاثرین کے لیے یہ زندگی بھر کا زخم بن جاتا ہے۔ ٹوکیو کی آگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب جنگ آسمان سے لڑی جائے تو زمین پر بسنے والے انسان صرف اعداد و شمار بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور غزہ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ یہ تاریخ ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نئے نام اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ آج بھی دہرائی جا رہی ہے۔