جدید دور، سائنسی ترقی اور احادیثِ نبوی ﷺ کی صداقت
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ بہت سی باتیں جو ماضی میں محض روایات، غیبی خبریں یا ناقابلِ فہم تصورات سمجھی جاتی تھیں، آج سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی بدولت حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن امور پر کبھی اندھا یقین سمجھا جاتا تھا، آج وہ انسانی تجربے اور مشاہدے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی تعلیمات اور بالخصوص احادیثِ نبوی ﷺ پر غور کیا جائے تو ان کی صداقت وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔
اسلامی عقیدے کے مطابق ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر قول اور ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ ایک دائیں طرف نیک اعمال لکھنے والا اور دوسرا بائیں طرف برے اعمال درج کرنے والا۔ آج سے پچاس یا سو سال پہلے تک یہ بات محض ایک ایمانی عقیدہ سمجھی جاتی تھی۔ لوگ بغیر کسی مادی دلیل کے اس پر یقین رکھتے تھے، کیونکہ یہ بات حواسِ خمسہ کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ مگر آج کے انسان کو اگر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالنے کی دعوت دی جائے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ تصور اب اجنبی نہیں رہا۔
آج انسان کے ہر عمل، ہر حرکت اور حتیٰ کہ ہر آواز کو محفوظ کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ موبائل فون، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈیجیٹل ریکارڈرز، سمارٹ واچز اور انٹرنیٹ سے جڑے آلات مسلسل انسان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ انسان اب کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ڈیجیٹل سایہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے بنائے ہوئے آلات یہ سب کچھ محفوظ کر سکتے ہیں، تو پھر اللہ کے مقرر کردہ فرشتوں کا انسان کے اعمال لکھنا کیوں ناقابلِ یقین سمجھا جائے؟
یہی بات انسانی آوازوں اور اعمال کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ ماضی میں یہ تصور کہ کسی انسان کی آواز کو محفوظ کر کے بعد میں بالکل اسی طرح سنا جا سکے، ایک عجیب و غریب خیال تھا۔ آج صوتی ریکارڈنگ، وائس اسسٹنٹس، اور مصنوعی ذہانت (AI) نہ صرف آواز محفوظ کرتی ہے بلکہ اسے پہچانتی، تجزیہ کرتی اور حتیٰ کہ نقل بھی کر لیتی ہے۔ عدالتوں میں آج بھی آواز کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آواز بھی ایک قابلِ ریکارڈ اور قابلِ تجزیہ شے ہے۔
اسی طرح زبانوں کے فرق کا مسئلہ ماضی میں انسان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان رابطے کے لیے ترجمانوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ سفارتی ملاقاتیں، تجارتی معاہدے اور علمی تبادلے مترجمین کے بغیر ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج گوگل ٹرانسلیٹ اور دیگر خودکار ترجماتی نظام بغیر کسی انسانی ترجمان کے مختلف زبانوں کو لمحوں میں سمجھنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو کبھی صرف انسان کے بس میں سمجھا جاتا تھا۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کا علم اور اس کی ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ان امور تک پہنچ رہی ہے جن کا ذکر صدیوں پہلے احادیثِ نبوی ﷺ میں موجود تھا۔ انہی احادیث میں سے ایک نہایت اہم حدیث وہ ہے جو مسند احمد، سنن ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں منقول ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک انسان سے جانور (درندے) بات نہ کریں، کوڑا اس سے بات نہ کرے، اور اس کی ران و جوتا اسے اس کے گھر والوں کی خبر نہ دیں۔
اگر اس حدیث کو اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ بات ناقابلِ تصور محسوس ہوتی ہے۔ جانوروں کا انسان سے بات کرنا، یا جوتے اور ران کا خبریں دینا اُس دور کے انسان کے لیے محض ایک غیبی خبر تھی۔ مگر آج کے دور میں جب ہم جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں تو اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
آج جانوروں پر تجربات ہو رہے ہیں جن میں ان کے اشاروں، آوازوں اور دماغی لہروں کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے پر تحقیق جاری ہے۔ بعض تجربات میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مخصوص آلات کے ذریعے جانوروں کے جذبات اور ضروریات کو انسانی زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس سمت میں پیش رفت حدیث کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہے۔
اسی طرح انسان کا جوتا یا ران کا خبریں دینا آج کے دور میں موبائل فون، جی پی ایس اور سینسرز کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔ انسان کا موبائل فون، جو اکثر اس کی جیب یا ران کے قریب ہوتا ہے، اسے اس کے گھر والوں کے بارے میں پیغامات دیتا ہے، ان کی آوازیں سناتا ہے اور ان کی تصویریں دکھاتا ہے۔ یوں بظاہر بے جان اشیاء انسان سے “بات” کر رہی ہیں۔
ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ احادیثِ نبوی ﷺ محض مذہبی بیانات نہیں بلکہ ایسی آفاقی صداقتیں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منکشف ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جو باتیں کبھی ایمان بالغیب کا حصہ تھیں، آج وہ انسانی علم کے دائرے میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ جدید دور کے انسان کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر ان تعلیمات کا مطالعہ کرے۔
آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سائنس اور دین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ جہاں سائنس انسان کو “کیسے” کا جواب دیتی ہے، وہیں دین اسے “کیوں” سے روشناس کراتا ہے۔ اور جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو انسان نہ صرف کائنات کو سمجھتا ہے بلکہ اپنے خالق کو بھی پہچاننے لگتا ہے۔

