پیر، 17 نومبر، 2025

زبان اور رویّے





زبان اور رویّے

“بابو دیکھو، جب تم ‘ہاں’ کہتے ہو تو آواز گلے سے نکلتی ہے، مگر جب ‘جی’ کہتے ہو تو زبان سے۔”

میں ایک دن ایک بزرگ سے محوِ گفتگو تھا۔ ان کا یہ فقرہ محض زبان کی لطافت نہیں بلکہ زندگی کی تہذیب کا فلسفہ تھا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا، “گلے سے نکلنے والے الفاظ میں حکم اور سختی ہوتی ہے، مگر زبان سے ادا ہونے والے لفظ میں محبت اور احترام چھپا ہوتا ہے۔” میں کچھ لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گیا — واقعی، انسان کے الفاظ ہی اس کے باطن کا آئینہ ہوتے ہیں۔

زبان انسان کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ ایک نرم جملہ دلوں کو جیت سکتا ہے اور ایک سخت لفظ برسوں کی محبت کو جلا سکتا ہے۔ لفظ محض آواز نہیں، یہ انسان کے اندر کی کیفیت، شعور اور احساس کا عکس ہوتے ہیں۔ جو لوگ گفتگو میں نرمی رکھتے ہیں، وہ دراصل اپنے دل کی وسعت اور ذہن کی روشنی کا اظہار کرتے ہیں۔

کسی دانا نے کہا تھا، “جب دو لوگ لڑتے ہیں، تو ایک بیوقوف ہوتا ہے اور دوسرا سمجھدار۔ اگر دونوں سمجھدار ہوں تو جھگڑا ممکن ہی نہیں۔”
مگر مسئلہ یہ ہے کہ عقل اکثر غصے میں قید ہو جاتی ہے۔ عورتیں اکثر ہنستے ہوئے کہتی ہیں، “باجی صحیح بتاؤں، مرد کی عقل غصے میں بند ہو جاتی ہے!” — یہ جملہ مزاح نہیں، مشاہدے کی صداقت ہے۔ مرد جب غصے میں ہوتا ہے تو اس کے لہجے میں دلیل کی جگہ جذبات آ جاتے ہیں، اور عورت اکثر اپنے ضبط اور صبر سے صورتحال سنبھال لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر گھریلو جھگڑے عورت کے نرم لہجے، خاموشی اور سمجھداری سے ختم ہو جاتے ہیں۔

زندگی بھی ایک گاڑی کی طرح ہے۔ کوئی کہتا ہے، “گاڑی دھیان سے چلاؤ، آگے کوئی جنت ونت نہیں!” یہ جملہ طنزیہ سہی مگر حقیقت سے خالی نہیں۔ زبان، رویہ اور جذبات — یہ تین پہیے ہیں جن پر انسان کی زندگی کا توازن قائم ہے۔ اگر یہ پہیے قابو میں رہیں تو سفر محفوظ ہے، ورنہ حادثہ یقینی۔

اکثر ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شعور تعلیم سے آتا ہے۔ لیکن شعور کسی اسکول، کالج یا ڈگری کا محتاج نہیں۔ تعلیم انسان کو پڑھنا لکھنا سکھاتی ہے، مگر شعور اسے جینا سکھاتا ہے۔ تعلیم عقل دیتی ہے، مگر شعور کردار بناتا ہے۔ تعلیم الفاظ دیتی ہے، مگر شعور لہجہ عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی اخلاق اور برداشت سے محروم ہوتے ہیں، اور کئی ان پڑھ لوگ اپنی سادہ باتوں میں وہ گہرائی رکھ دیتے ہیں کہ بڑے بڑے فلسفی خاموش ہو جاتے ہیں۔

شعور دراصل زندگی کے تجربوں، دکھوں اور احساسات سے جنم لیتا ہے۔ وہ انسان جو تکلیف سے گزرا ہو، وہ نرمی کو بہتر سمجھتا ہے۔ جو ٹھوکر کھا چکا ہو، وہ دوسروں کے لیے نرم زمین بن جاتا ہے۔ اسی لیے باشعور انسان کبھی غرور نہیں کرتا — کیونکہ وہ جانتا ہے کہ لفظ کا زخم تلوار سے گہرا ہوتا ہے۔

انسان کی پہچان اس کے لباس، دولت یا تعلیم سے نہیں، بلکہ اس کے رویّے سے ہوتی ہے۔ جو شخص اپنی زبان میں نرمی، دل میں احترام اور عمل میں توازن رکھتا ہے، وہ دراصل تعلیم یافتہ نہیں بلکہ باشعور ہوتا ہے۔

اور یاد رکھیے، باشعوری ہی انسانیت کا سب سے بلند درجہ ہے — کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں علم خاموش ہو جاتا ہے، اور کردار بولنے لگتا ہے۔

اقتباس:
“نرمی اختیار کرو، کیونکہ نرمی دل کے زخموں کو شفا دیتی ہے، اور سختی محبت کو مار دیتی ہے۔”
— مولانا جلال الدین رومیؒ

کوئی تبصرے نہیں: