پیر، 17 نومبر، 2025

مکالمہ جو بھلایا نہیں جا سکے گا



مکالمہ جو بھلایا نہیں جا سکے گا
انسانی تاریخ میں دو قوتیں اکثر سچائی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی رہی ہیں: ابا پرستی اور تعصب یہی دو بیماریاں مکہ کے سرداروں کے دل و دماغ پر بھی مسلط تھیں۔ نبی کریم ﷺ کی صداقت اُس دور کے سب سے سخت دلوں کو بھی ہلا دیتی تھی، لیکن سچ قبول کرنے کے لئے صرف دلیل کافی نہیں ہوتی— دل کی ضد اور مفاد کا بوجھ بھی ہٹانا پڑتا ہے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں کچھ ایسے سوالات اور وساوس تھے جنہوں نے قریش کے ذہنوں میں کھلبلی مچا رکھی تھی۔ انہی حالات کے پس منظر میں ایک تاریخی مکالمہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ ابو جہل کے انکار کی اصل وجوہ عقل یا دلیل کا فقدان نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے "ابا پرستی، قبیلائی غرور اور سرداری کا نشہ" تھا۔
مکہ کی رات خاموش تھی، دارالندوہ کے ستونوں کے سائے طویل ہو رہے تھے۔ اسی فضا میں عمر بن ہشام (ابو جہل) اور ابنِ اخنس آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ابنِ اخنس نے پہلا سوال وہی اٹھایا جو مکہ کے ہر شخص کے ذہن میں گونج رہا تھا:
“اے ابو الحکم! محمد بن عبداللہ (ﷺ) کہتے ہیں کہ خدا ایک ہے۔ مگر کیا ہمارے آبا و اجداد غلط تھے؟ کیا اتنی نسلوں نے تین سو ساٹھ معبود یوں ہی پوجے؟”
یہ سوال صرف ایک شخص کا نہیں تھا، بلکہ پوری قوم کی نفسیات کا آئینہ تھا۔ مگر ابا پرستی نے عقل کی راہ بند کر رکھی تھی۔
ابو جہل نے ایک سرد طنز بھری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
“محمد (ﷺ) کا کلام دل کو ہلا دیتا ہے۔ وہ جو پڑھتا ہے… اس کی تاثیر انسان پنہاں نہیں رکھ سکتا۔ لیکن اگر ہم مان لیں تو سوچو— قریش کی سرداری کا کیا بنے گا؟ بنو ہاشم پہلے ہی فخر سے کہتے ہیں کہ نبوت انہی میں ہے۔ اگر ہم بھی مان جائیں تو قیادت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔”
یہ جملہ اس حقیقت کا اعتراف تھا جو تاریخ بار بار کہتی ہے: "قبیلہ پرستی سچائی کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔"
ابنِ اخنس نے پھر دریافت کیا:
“تو کیا تمہیں دل سے یقین نہیں کہ وہ سچا ہے؟”
ابو جہل نے ایک لمحہ خاموشی کے بعد اعتراف کیا:
“دل کہتا ہے وہ سچا ہے۔ لیکن اگر مان لیا تو ہمارے لات، عزیٰ اور منات کا نظام ٹوٹ جائے گا۔ تجارتیں بدل جائیں گی، پرانی روایات ختم ہو جائیں گی۔ اور سب سے بڑھ کر… قریش کی سرداری — میری سرداری — ختم ہو جائے گی۔”
یہ وہ لمحہ تھا جب سچائی نے دروازہ کھٹکھٹایا، مگر ضد نے اسے بند کر دیا۔
ابنِ اخنس نے افسوس سے کہا:
“تو تم عقل کو چھوڑ کر مفاد اور قبیلے کی محبت کو تھامے ہوئے ہو؟”
ابو جہل نے جواب دیا:
“میں عقل کو نہیں چھوڑ رہا، میں اپنی طاقت کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ اگر خدا چاہتا ہے تو میری بادشاہت مجھ سے لے لے، مگر میں خود اسے اپنے ہاتھوں نہیں چھوڑوں گا۔”
یہ مکالمہ محض دو افراد کا نہیں، بلکہ تاریخ کی ان ساری قوموں کا آئینہ ہے جو سچائی کو پہچان لینے کے باوجود ابا پرستی، قبیلہ پرستی اور مفاد پرستی کی وجہ سے اس کا انکار کر دیتی ہیں۔
قرآن کریم نے اسی رویے کو ایک مختصر اور فیصلہ کن جملے میں بیان کیا:
“انہوں نے حق کو پہچان لیا،
مگر ظلم اور تکبر کی وجہ سے انکار کیا۔” *(سورۃ النمل، آیت 14)*
آج بھی یہی دو بیماریاں— اندھی روایت پرستی اور گروہی تعصب— سچ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ قومیں علم کے دروازے پر ٹھوکریں کھا کر گرتی ہیں، مگر اپنی پرانی زنجیروں کو نہیں چھوڑتیں۔
سوال صرف مکہ کے سرداروں کا نہیں—
سوال یہ ہے کہ آج ہم کس طرف کھڑے ہیں؟ سچ کی طرف یا اپنی ضد، رسموں اور تعصبات کی طرف؟

زبان اور رویّے





زبان اور رویّے

“بابو دیکھو، جب تم ‘ہاں’ کہتے ہو تو آواز گلے سے نکلتی ہے، مگر جب ‘جی’ کہتے ہو تو زبان سے۔”

میں ایک دن ایک بزرگ سے محوِ گفتگو تھا۔ ان کا یہ فقرہ محض زبان کی لطافت نہیں بلکہ زندگی کی تہذیب کا فلسفہ تھا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا، “گلے سے نکلنے والے الفاظ میں حکم اور سختی ہوتی ہے، مگر زبان سے ادا ہونے والے لفظ میں محبت اور احترام چھپا ہوتا ہے۔” میں کچھ لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گیا — واقعی، انسان کے الفاظ ہی اس کے باطن کا آئینہ ہوتے ہیں۔

زبان انسان کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ ایک نرم جملہ دلوں کو جیت سکتا ہے اور ایک سخت لفظ برسوں کی محبت کو جلا سکتا ہے۔ لفظ محض آواز نہیں، یہ انسان کے اندر کی کیفیت، شعور اور احساس کا عکس ہوتے ہیں۔ جو لوگ گفتگو میں نرمی رکھتے ہیں، وہ دراصل اپنے دل کی وسعت اور ذہن کی روشنی کا اظہار کرتے ہیں۔

کسی دانا نے کہا تھا، “جب دو لوگ لڑتے ہیں، تو ایک بیوقوف ہوتا ہے اور دوسرا سمجھدار۔ اگر دونوں سمجھدار ہوں تو جھگڑا ممکن ہی نہیں۔”
مگر مسئلہ یہ ہے کہ عقل اکثر غصے میں قید ہو جاتی ہے۔ عورتیں اکثر ہنستے ہوئے کہتی ہیں، “باجی صحیح بتاؤں، مرد کی عقل غصے میں بند ہو جاتی ہے!” — یہ جملہ مزاح نہیں، مشاہدے کی صداقت ہے۔ مرد جب غصے میں ہوتا ہے تو اس کے لہجے میں دلیل کی جگہ جذبات آ جاتے ہیں، اور عورت اکثر اپنے ضبط اور صبر سے صورتحال سنبھال لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر گھریلو جھگڑے عورت کے نرم لہجے، خاموشی اور سمجھداری سے ختم ہو جاتے ہیں۔

زندگی بھی ایک گاڑی کی طرح ہے۔ کوئی کہتا ہے، “گاڑی دھیان سے چلاؤ، آگے کوئی جنت ونت نہیں!” یہ جملہ طنزیہ سہی مگر حقیقت سے خالی نہیں۔ زبان، رویہ اور جذبات — یہ تین پہیے ہیں جن پر انسان کی زندگی کا توازن قائم ہے۔ اگر یہ پہیے قابو میں رہیں تو سفر محفوظ ہے، ورنہ حادثہ یقینی۔

اکثر ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شعور تعلیم سے آتا ہے۔ لیکن شعور کسی اسکول، کالج یا ڈگری کا محتاج نہیں۔ تعلیم انسان کو پڑھنا لکھنا سکھاتی ہے، مگر شعور اسے جینا سکھاتا ہے۔ تعلیم عقل دیتی ہے، مگر شعور کردار بناتا ہے۔ تعلیم الفاظ دیتی ہے، مگر شعور لہجہ عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی اخلاق اور برداشت سے محروم ہوتے ہیں، اور کئی ان پڑھ لوگ اپنی سادہ باتوں میں وہ گہرائی رکھ دیتے ہیں کہ بڑے بڑے فلسفی خاموش ہو جاتے ہیں۔

شعور دراصل زندگی کے تجربوں، دکھوں اور احساسات سے جنم لیتا ہے۔ وہ انسان جو تکلیف سے گزرا ہو، وہ نرمی کو بہتر سمجھتا ہے۔ جو ٹھوکر کھا چکا ہو، وہ دوسروں کے لیے نرم زمین بن جاتا ہے۔ اسی لیے باشعور انسان کبھی غرور نہیں کرتا — کیونکہ وہ جانتا ہے کہ لفظ کا زخم تلوار سے گہرا ہوتا ہے۔

انسان کی پہچان اس کے لباس، دولت یا تعلیم سے نہیں، بلکہ اس کے رویّے سے ہوتی ہے۔ جو شخص اپنی زبان میں نرمی، دل میں احترام اور عمل میں توازن رکھتا ہے، وہ دراصل تعلیم یافتہ نہیں بلکہ باشعور ہوتا ہے۔

اور یاد رکھیے، باشعوری ہی انسانیت کا سب سے بلند درجہ ہے — کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں علم خاموش ہو جاتا ہے، اور کردار بولنے لگتا ہے۔

اقتباس:
“نرمی اختیار کرو، کیونکہ نرمی دل کے زخموں کو شفا دیتی ہے، اور سختی محبت کو مار دیتی ہے۔”
— مولانا جلال الدین رومیؒ

جمعرات، 13 نومبر، 2025

موت نے نگل لیا مگر زندہ رہے گا۔۔۔۔



موت نے نگل لیا مگر زندہ رہے گا۔۔۔۔
خدا کی تخلیق کردہ کائنات کے وحید صادق و امین کا فرمان عالی شان ہے"علم انسان کے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے، کیونکہ اس سے انسانوں کو فائدہ پہنچتا رہتا ہے۔" ( صحیح مسلم)
٭ ٭ ٭
راولپنڈی چھاؤنی کی ایک گلی میں میرا ایک قریبی دوست انعام صدیقی رہا کرتا تھا، اور اسی تعلق نے مجھے ایک ایسے گھر تک پہنچایا جو میرے سوچنے، سمجھنے اور لکھنے کے انداز پر گہرا اثر چھوڑ گیا — وہ گھر جس کے سربراہ تھے فردوس مکیں جناب "استاد حافظ‌الحق صدیقی" جنہیں اہلِ محلہ احترام سے "صدیقی سر" کہتے تھے۔
صدیقی سر کا گھر علم، اخلاق، دین اور روشن خیالی کا گہوارہ تھا۔ ان کے دروازے ہر آنے والے کے لیے کھلے رہتے، چاہے وہ پڑوسی ہو یا محلے کا کوئی طالب علم۔ وہ محض استاد نہیں تھے، بلکہ ایک مربی اور رہنما بھی تھے۔ ان کے لہجے میں نرمی، الفاظ میں وقار، اور رویے میں شائستگی نمایاں تھی۔ باب علم حضرت علی کا ایک قول دہرایا کرتے تھے "جو علم انسان کے رویے میں نرمی نہ لائے، وہ بوجھ ہے، برکت نہیں۔"
یہی اصول ان کی اولاد کی تربیت کی بنیاد تھا۔ اسی گھرانے کی فکری اور اخلاقی تربیت نے سینیٹر عرفان الحق صدیقی (ہلالِ امتیاز) کی فکری اور عملی کردار کی تشکیل کی ۔ عرفان صدیقی نے اپنی زندگی میں یہ سبق برقرار رکھا کہ علم صرف کتابوں میں نہیں بلکہ کردار، رویے اور تحریر میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
عرفان صدیقی نے ملک بھر میں اپنے کالموں اور تقریروں کے ذریعے لوگوں کے دل و دماغ میں علم و فکر کی روشنی پھیلائی۔ ان کی تحریروں میں پاکستان کی فکری بنیادوں کا دفاع، مذہبی رواداری کی تبلیغ اور اخلاقی قدروں کا احیاء نمایاں رہا۔ ان کے قلم نے کبھی نفرت نہیں ٌٌپھیلائی ، ہمیشہ محبت، شائستگی اور فکری بصیرت کی رہنمائی کی۔ وہ لکھتے تو محسوس ہوتا جیسے ہر لفظ پاکستانیت کا وضو کر کے صفحے پر اترا ہو۔ رومی نے لکھا تھا "جو شخص علم چھوڑ جاتا ہے، وہ دراصل اپنے بعد روشنی چھوڑ جاتا ہے۔" ہم دیکھتے ہیں عرفان صدیقی نے خوب روشنی چھوڑی ہے۔
انھوں نے سیاست میں قدم رکھا تو صدیقی سر کے قول کو بھلایا نہیں "الفاظ میں تلخی نہیں، کردار میں بلندی رکھو۔" وہ پارلیمنٹ میں اختلاف رائے کو دشمنی نہیں بلکہ فکری وسعت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے دلائل میں سختی نہیں، بلکہ علم کی نرمی اور دلائل کی شائستگی نمایاں ہوتی تھی۔ انہوں نے قوم کو یہ باور کرایا کہ سیاست میں سب سے بڑی طاقت علم، استدلال اور کردار ہے۔
عرفان صدیقی کا قلم ہمیشہ سچائی کی تلاش میں رہا۔ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، منافقت کو بے نقاب کیا، اور عوام کو شعور و فہم کی راہ پر گامزن کیا۔ ان کی تحریروں میں تنقید میں نرمی اور نصیحت میں وقار نمایاں رہا۔ ان کے مطابق قلم صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔ ان کا ہر لفظ ایک سبق، ہر جملہ ایک فکری رہنمائی رہا انہوں نے یہ نیلسن منڈیلا کے اس جملے کو عزت دی "تعلیم ایک ایسی مشعل ہے جو ایک سے دوسری نسل تک روشنی پہنچاتی ہے۔" عرفان صدیقی نے ہمیں یہ سبق دیا کہ علم کی اہمیت کا ادراک حاصل ہو تو زندگی کے ہر شعبے میں روشنی بکھیرتا ہے۔
عرفان صدیقی کے نزدیک پاکستانیت محض جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ، اخلاقی شناخت اور فکری شعور ہے ۔ انہوں نے ہمیشہ قوم کو یہ باور کرایا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے، اور قوم کی ترقی علم، کردار اور اخلاق سے وابستہ ہے۔ "یہ ملک ہمیں صرف زمین کے طور پر نہیں، ایک نظریے کے طور پر عطا ہوا ہے۔" ان کی تحریروں میں وطن سے محبت، امید، اور فکری رہنمائی کی جھلک نمایاں رہی۔ وہ قوم کو یہ پیغام دیتے رہے کہ مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے، اور امید مومن کا ایمان۔
10 نومبر 2025 کو سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات نے صرف ایک انسان کو نہیں بلکہ ایک فکری روایت کو رخصت کیا۔ اسلام آباد کے اسپتال میں ان کی سانسیں خاموش ہوئیں، مگر ان کے خیالات، تحریریں اور اخلاقی روشنی زندہ رہی۔ بابا اشفاق احمد کا قول بار بار میرے زہن پر دستک دیتا ہے کہ "وہ انسان کبھی نہیں مرتا جو علم، کردار یا محبت کی صورت میں یاد رہ جائے۔"
ان کے کالم، تحریریں اور تقریریں آج بھی عوام کو سوچنے اور شعور پانے پر مجبور کرتی ہیں۔ ان کا اندازِ بیان آج بھی زبانِ کی شائستگی کا معیار ہے، اور ان کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کبھی مرتا نہیں — وہ کردار اور عمل کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ عرفان صدیقی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ان کے علم و کردار کی روشنی کو ہمیشہ زندہ رکھے۔
خدا کرے وہ چراغ، جو عرفان نے جلایا، ہر دل میں امید اور ہر ذہن میں روشنی بن کر خیالات کو منور کرے۔ اور یہ وطن ان کے قلم کا امین رہے، اور ہم سب اس روشنی کے مسافر بنے رہیں۔

اتوار، 9 نومبر، 2025

منفی سوچ — ایک بیماری

منفی سوچ — ایک بیماری
ہم زندگی میں خوشی اور سکون کی جتنی تلاش کرتے ہیں اتنی شاید ہی کسی اور چیز کی کرتے ہوں۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم خود ہی اپنے سکون کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ہمارے خیالات، گمان اور رویّے — یہی وہ نادیدہ قوتیں ہیں جو یا تو زندگی کو خوبصورت بناتی ہیں یا اسے تلخ کر دیتی ہیں۔
مثبت سوچ زندگی کو آسان بناتی ہے، جبکہ غلط فہمیاں فاصلوں کو جنم دیتی ہیں۔ اگر ہمیں دوسروں میں خوبیاں نظر آنا بند ہو جائیں تو سمجھ لیں کہ ہم منفی سوچ کی "بیماری" میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک خاموش بیماری ہے مگر بہت تباہ کن۔ یہ نہ صرف ہمارے تعلقات کو زہر آلود کرتی ہے بلکہ ہمارے اندرونی سکون کو بھی چُرا لیتی ہے۔
قرآن مجید نے اسی حقیقت کو کتنی سادہ مگر گہری بات میں سمیٹا ہے
"اِجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ، إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ" (الحجرات: 12)
"بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔"
ہم میں سے اکثر اپنی رائے، گمان اور سن گن پر فیصلے کر لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ محبت کے رشتے شکوک کے کانٹوں میں الجھ جاتے ہیں۔
ڈیل کارنیگی نے کیا خوب کہا تھا : "دنیا کی آدھی دشمنیاں غلط فہمیوں سے پیدا ہوتی ہیں، اور باقی آدھی ان کے نتیجے میں۔" یہ ایک سچ ہے جسے تسلیم کرنے میں ہمیں دشواری ہوتی ہے۔ ہم دوسروں کے بارے میں گمان بناتے ہیں، لیکن کبھی اپنے گمانوں کا احتساب نہیں کرتے۔
منفی سوچ کا سب سے پہلا نشانہ خود انسان کی اپنی ذات بنتی ہے۔
کارل یونگ نے لکھا تھا: "جو شخص دوسروں میں صرف برائیاں دیکھتا ہے، وہ دراصل اپنی اندرونی کمزوریوں کا عکس دیکھ رہا ہوتا ہے۔"
یہی تو اصل بیماری ہے — وہ ذہنی کیفیت جس میں انسان دوسروں میں روشنی دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ وہ تعریف کرنا بھول جاتا ہے، شکرگزاری سے دور ہو جاتا ہے، اور ہر خوشی میں شک کا سایہ تلاش کرتا ہے۔
دوسری طرف مثبت سوچ ہے — جو زخموں پر مرہم رکھتی ہے، گمانوں کو سمجھ میں بدل دیتی ہے، اور انسان کے اندر امید جگاتی ہے۔
نورمن ونسنٹ پیل نے لکھا تھا: "مثبت سوچ مسائل ختم نہیں کرتی، مگر ان کا سامنا کرنے کی ہمت ضرور دیتی ہے۔"
سچ یہی ہے کہ مثبت سوچ انسان کو طاقت دیتی ہے۔ یہ دل میں اطمینان پیدا کرتی ہے — وہی اطمینان جس کے بارے میں قرآن نے فرمایا:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" (الرعد: 28)
"یادِ خدا ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
یہ اطمینان صرف عبادت سے ہی نہیں بلکہ طرزِ فکر سے بھی جنم لیتا ہے۔ جب ہم دوسروں کے لیے اچھا سوچتے ہیں، ان کی نیتوں پر شک نہیں کرتے، اور برائی کے بجائے بھلائی دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارا دل خود روشن ہونے لگتا ہے۔
حضرت علیؓ کا فرمان ہے: "بدگمانی محبت کو ختم کر دیتی ہے۔"
اور مولانا رومیؒ نے فرمایا: "جو دل میں بدگمانی رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کا جہنم جلا رہا ہوتا ہے۔"
کتنی بڑی سچائیاں ہیں یہ! ہم روز سنتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔ ہم خود کو دانا سمجھتے ہیں، مگر دانائی تو وہ ہے جو دلوں کو قریب کرے، نہ کہ دور۔
ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اپنے خیالات کا معائنہ کریں۔ اگر ہماری گفتگو، سوچ اور فیصلوں میں منفی پن بڑھ رہا ہے تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے زندگی مشکل ہونے لگتی ہے۔ جتنی جلدی اس بیماری کا علاج کر لیا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔
علاج کیا ہے؟
دوسروں میں خوبیاں تلاش کرنا۔ شکر گزار رہنا۔ بدگمانی کے بجائے حسنِ ظن اپنانا۔ اور سب سے بڑھ کر، خود سے یہ کہنا: "میں دوسروں کو ویسا ہی دیکھنا چاہتا ہوں، جیسا میں خود ہوں۔"
زندگی یقیناً آسان نہیں، مگر اگر سوچ مثبت ہو تو راستے روشن ہو جاتے ہیں۔
خوشی کوئی خارجی شے نہیں، یہ ہمارے اندر کی کیفیت ہے۔
اگر ہم دوسروں میں خوبیاں تلاش کرنے لگیں، ان کی نیتوں کو بہتر سمجھنے لگیں، اور ہر حال میں شکر گزاری کو اپنائیں تو زندگی خود بخود خوبصورت ہو جاتی ہے۔
"زندگی کو خوبصورت بنانا چاہتے ہو تو لوگوں میں خامیاں نہیں، خوبیاں تلاش کرو۔"
دلپزیر احمد جنجوعہ

ہفتہ، 1 نومبر، 2025

یک ادبی اور معقول مکالمہ

 




مقام: مدینہ، مسجد نبوی ﷺ کے قرب

حضور ﷺ: عقیل! سنو، تمہارے دل میں کچھ سوالات ہیں جو تمہیں بے چین کرتے ہیں۔

عقیل بن رضیل: یا رسول اللہ ﷺ! میں جاننا چاہتا ہوں کہ انسان کے اعمال کے سلسلے میں سب سے اہم چیز کیا ہے؟

حضور ﷺ: عقیل! سب سے اہم وہ عمل ہے جو دل سے اخلاص کے ساتھ کیا جائے، اور جو لوگوں کے حق میں نفع پہنچائے۔

عقیل بن رضیل: لیکن یا رسول اللہ ﷺ، بعض لوگ بہت عمل کرتے ہیں، مگر ان کے دل میں حسد اور غرور ہوتا ہے۔ وہ کس قدر کامیاب ہیں؟

حضور ﷺ: جو عمل دل سے خالص نہ ہو، وہ صرف ظاہری شکل رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"اور جو تم کرتے ہو، اس میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو۔"

عقیل بن رضیل: یا رسول اللہ ﷺ! پھر کیا ہر انسان کو اپنا راستہ خود تلاش کرنا چاہیے؟

حضور ﷺ: ہاں، عقیل! تمہیں علم اور عقل دونوں سے کام لینا ہوگا۔ دل کی روشنی اور عقل کی رہنمائی کے بغیر انسان گمراہ ہو سکتا ہے۔

عقیل بن رضیل: یا رسول اللہ ﷺ، اور اگر کوئی انسان گمراہی میں ہو، تو ہم اس کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

حضور ﷺ: اسے نصیحت دو، مثال پیش کرو، صبر سے کام لو، اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق جیو۔ انسان کے دل کو اللہ کی یاد سے روشنی ملتی ہے۔

عقیل بن رضیل: جزاک اللہ خیر، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ کی باتیں میرے دل میں روشنی ڈالتی ہیں۔

حضور ﷺ: یاد رکھو، عقیل! علم اور عمل دونوں کا ساتھ ہو تو انسان کی زندگی میں سکون، فہم اور صحیح راستہ ممکن ہے۔