منگل، 10 فروری، 2026

دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون




دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون
کچھ لوگ مان لیتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی زندگیاں درست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سچ ان کے پاس ہے  بظاہر یہ جذبہ اصلاح اور خیرخواہی کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ رویّہ ایک فکری جنون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسا جنون جو  نصیحت کو حکم اور اخلاق کو جبر میں بدل دیتا ہے۔
راہِ راست کوئی ایک لکیر نہیں جس پر تمام انسان یکساں چل سکیں۔ ہر انسان اپنے تجربے، شعور اور حالات کے مطابق زندگی کو سمجھتا ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ اپنی فہم کو حتمی سچ قرار دے کر دوسروں پر نافذ کرنے لگے تو مکالمہ ختم اور تصادم شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لمحے خیرخواہی اپنی روح کھو بیٹھتی ہے اور طاقت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
علم اس رویّے کے بالکل برعکس سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ سقراط نے حکمت کا آغاز خود احتسابی سے کیا اور کہا کہ اصل دانائی اپنی لاعلمی کا ادراک ہے۔ بدھ نے دکھ کی نشاندہی ضرور کی، مگر نجات کو ہر فرد کا ذاتی سفر قرار دیا۔ کانٹ کے نزدیک اخلاق وہ نہیں جو بیرونی دباؤ سے مسلط کیا جائے، بلکہ وہ ہے جسے انسان اپنے ضمیر کی آواز سمجھ کر قبول کرے۔ ان مفکرین کے ہاں اصلاح کا مرکز ہمیشہ انسان کا باطن رہا، نہ کہ دوسروں کی نگرانی۔
دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون دراصل اکثر اپنی ذات سے فرار کا راستہ ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے خوف، تضادات اور ناکامیوں کا سامنا نہیں کر پاتا، وہ دوسروں کے اعمال میں عیب تلاش کرنے لگتا ہے۔ نطشے نے اسی رویّے کو اخلاقی بالادستی کی بیماری کہا تھا، جہاں کمزور انسان اپنی کمزوری کو نیکی کا نام دے کر دوسروں پر مسلط کرتا ہے۔
جب یہی ذہنیت اجتماعی طاقت یا ریاستی اختیار کے ساتھ جڑ جائے تو نتائج مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ “درست انسان” بنانے کی ہر مہم نے آخرکار سوال کرنے والوں کو مجرم اور اختلاف رکھنے والوں کو باغی قرار دیا۔ جان اسٹورٹ مل نے خبردار کیا تھا کہ فرد کی آزادی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی تہذیب قائم نہیں رہ سکتی، اور جو معاشرہ بھلائی کے نام پر شعور پر قبضہ کرے، وہ دراصل آمریت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سچ اگر واقعی سچ ہو تو اسے زبردستی نافذ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، جبر سے منوایا گیا نظریہ ذہن پر بوجھ بن جاتا ہے، یقین نہیں۔ انسان کو بدلنے کا واحد پائیدار طریقہ مثال، مکالمہ اور برداشت ہے، نہ کہ حکم، نگرانی اور خوف 
شاید اسی لیے لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا
“ہر شخص دنیا کو بدلنے کی فکر میں رہتا ہے، مگر کوئی خود کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔”
اصل راہِ راست دوسروں کو سیدھا کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے میں ہے۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے تو اسے دوسروں کو زبردستی ہدایت دینے کی حاجت نہیں رہتی — کیونکہ اس وقت اس کا وجود خود ایک خاموش دلیل بن چکا ہوتا ہے۔

اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ



اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ
تاریخ میں بعض فیصلے میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں اور بیانیوں میں نتائج   پیدا کرتے ہیں۔ یحییٰ سنوار کا ’’طوفان‘‘ کی جنگ چھیڑنے کا فیصلہ بھی ایسا ہی ایک قدم ثابت ہوا، جس نے نہ صرف غزہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ کھولا بلکہ امریکہ کے اندر اسرائیل کی سب سے قیمتی متاع—عوامی حمایت—کو آگ لگا دی۔
یہ محض عسکری تصادم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سیاسی دھماکہ تھا جس نے اسرائیل کو امریکہ میں عوامی رائے کا مسئلہ بنا دیا۔ وہ اسرائیل جو دہائیوں تک امریکی سیاست میں ایک ’’ناقابلِ سوال‘‘ اتحادی رہا، اچانک ایک ناپسندیدہ علامت میں بدلنے لگا—ایسی علامت جو امریکی عوام کے ذہن میں اپنے ہی ملک میں بڑھتی بدعنوانی، اخلاقی زوال اور بیرونی جنگوں کے بوجھ سے جڑ گئی۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیل امریکہ میں سیاسی طور پر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دائیں بازو سے بائیں بازو تک، کیمپسوں سے سڑکوں تک، نوجوانوں سے دانش وروں تک—ہر سطح پر اس کی غیر مشروط حمایت میں واضح دراڑ پڑ چکی ہے۔ یہ وہ کاری ضرب ہے جس نے اسرائیل کے سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثے، یعنی امریکہ کے ساتھ اس کے مستقبل کے تعلق، کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ کہنا اب محض قیاس نہیں رہا کہ امریکہ میں جلد یا بدیر ایسا صدر منتخب ہوگا جو اسرائیل کا مخالف ہوگا—اور سخت مخالف ہوگا۔ اسی طرح ایک ایسا سیاسی دھارا بھی ابھرے گا جس کی اسرائیل سے دشمنی نظریاتی نوعیت کی ہوگی۔ جب وہ وقت آئے گا، تو اسرائیل کے پاس سہارا لینے کے لیے نہ خطے میں کوئی اخلاقی جواز بچے گا، نہ عالمی سطح پر کوئی مضبوط کریڈٹ۔
غزہ کے محاذ پر بھی اسرائیل کی حکمتِ عملی ایک اسٹریٹجک ناکامی کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئی۔ اسرائیلی قیادت نے دانستہ   ایک ایسی جنگِ نیست و نابود چھیڑی، جس میں ہزاروں جانیں تو لے لی گئیں، شہر ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے، مگر بدلے میں اسرائیل نے اپنی ہی وجودی قانونی حیثیت جلا ڈالی۔ نہ وہ تاریخی فلسطین میں آبادیاتی حقیقت بدل سکے، نہ اپنی سرحدوں پر جغرافیائی توازن کو اپنے حق میں موڑ پائے۔
اس کے برعکس، یہ دلیل زیادہ وزنی ہوتی جا رہی ہے کہ اسرائیل نے اپنے گرد و نواح کو پہلے سے زیادہ خطرناک بارودی سرنگوں کے میدان میں بدل دیا۔ یمن میں انصار اللہ جیسے زیادہ منظم، زیادہ اہل اور زیادہ دشمن عناصر کو اخلاقی جواز ملا، اور ان عرب حکومتوں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی جو اسرائیل کو خطے کے تانے بانے میں ضم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اس تمام منظرنامے میں ایک تلخ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: نیتن یاہو کی سیاسی حماقت، یحییٰ سنوار کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ ثابت ہوئی۔ سات اکتوبر سے قبل شاید کسی نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ اسرائیلی قیادت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سب سے مضبوط قلعے—امریکی حمایت—میں شگاف ڈال دے گی۔
یہ جنگ بارود اور ٹیکنالوجی سے لڑی گئی، مگر فیصلہ تاریخ، رائے عامہ اور اخلاقی بیانیے کے میدان میں ہو چکا ہے۔

ایران اور طاقت کا کھیل




ایران اور طاقت کا کھیل

تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ سب سے خطرناک طاقت وہ نہیں جو شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو صرف موجود رہے، اور اپنی خاموشی سے ماحول کو قابو میں رکھے۔ کبھی کبھی، یہی خاموشی زمین کے نقشے بدل دیتی ہے، اور انسانیت کو ایسے فیصلوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے جن کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

آج ایران کے ارد گرد کی سرگرمیاں بھی کچھ ایسا منظر پیش کر رہی ہیں۔ فضاؤں میں ایندھن بھرتے طیارے، سرحدوں پر قطار در قطار توپ خانے، اور سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی سخت زبان—یہ سب محض ایک سادہ نتیجے کی طرف نہیں جاتے۔ سوال اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے: کیا یہ سب مذاکرات کی کامیابی کی حکمت ہے، یا ایک ایسی جنگ کی خاموشی، جس کی بازگشت نقشے بدل دے؟

ایران کے صحرائے سمنان میں نصب کردہ میزائل اور سرحدوں پر ٹنگی ہوئی توپ خانے کی قطاریں بظاہر طاقت کے مظاہرے ہیں، لیکن بعض ماہرین انہیں دباؤ کی زبان کہتے ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جو بولتی نہیں، مگر بات چیت کے دروازے کھولتی ہے، ایک قسم کی چپ مگر گونجدار حکمت۔

طاقت تاکہ بات ہو سکے
ایک گروہ کے مطابق، امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو جنگ کے دہانے تک لا کر مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ معروف اسٹریٹجک مبصر اسٹیفن والٹ کہتے ہیں:
"طاقت کا ارتکاز ہمیشہ جنگ کے لیے نہیں ہوتا، اکثر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔"
یہی وجہ ہے کہ فضائی تیاریوں، طیاروں کی آمد، اور سرحدوں پر مضبوط پوزیشنز کا مقصد ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر بات نہ بنی تو قیمت بہت بھاری ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے بعض مشرق وسطیٰ کے حلیف بھی اطمینان ظاہر کر چکے ہیں کہ فوری حملہ فی الحال متوقع نہیں۔

رچرڈ ہاس کے مطابق:
"امریکہ کی اصل دلچسپی نظام گرانے میں نہیں، بلکہ نظام کو اس حد تک خوف میں مبتلا کرنے میں ہے کہ وہ رعایت دینے پر مجبور ہو جائے۔"

دوسرا رخ: فیصلہ کن دباؤ یا جنگ کی چھاپ
تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ محض دباؤ نہیں، بلکہ ایک ایسے فیصلے کی تیاری ہے جس میں ایران کو 'سلامت رہنے' کا موقع شاید نہ دیا جائے۔ جون 2025 کی مثال ابھی تازہ ہے، جب مذاکرات کی آڑ میں ایران کو الجھایا گیا اور عملی کارروائی کی تیاری ساتھ ساتھ جاری رہی۔

اسرائیلی سلامتی ماہر ایال زِسر کے مطابق:
"یہ مرحلہ محض انتباہ کا نہیں، حتمی فیصلے کا لگتا ہے۔ اس بار ہدف صرف پروگرام نہیں، پورا اسٹرکچر ہے۔"
یہ ماہرین مزید کہتے ہیں کہ امریکہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ صرف مشورے تک محدود نہیں رہا، بلکہ واشنگٹن پر اس کا عملی اثر بڑھ چکا ہے۔ اسی لیے خطرے کو 'قابلِ انتظام' دکھانے کے پیچھے رائے عامہ کو ذہنی طور پر ایک بڑے اقدام کے لیے تیار کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے۔

ایران: جاگتا ہوا، تنہا نہیں
دونوں نظریات کے بیچ ایک حقیقت واضح ہے: ایران اس بار غافل نہیں۔ وہ ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے، ردِعمل کی تیاری میں ہے، اور اپنی بقاء کی حکمت عملی کو ہر لمحہ تازہ رکھتا ہے۔ خطے کی دیگر طاقتیں بھی خاموش تماشائی نہیں؛ سب جانتے ہیں کہ اگر یہ نازک توازن ٹوٹا تو آگ صرف ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گی۔

مشرق وسطی کا یہ لمحہ تاریخ کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔ ممکن ہے یہ سب حکمتِ عملی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہو، اور ممکن ہے یہ ایک ایسی جنگ کی تمہید ہو جو زبان سے زیادہ، نقشے اور تقدیر بدل دے۔

طاقت کی دنیا میں سب سے خطرناک سوال کبھی یہ نہیں ہوتا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے: کیا جنگ کو اب روکا جا سکتا ہے؟
یہ سوال آج مشرق وسطی کی خاموش گونج میں سب سے بلند سنائی دے رہا ہے—ایک سوال جو نہ صرف ممالک بلکہ انسانیت کے ضمیر پر بھی بھاری ہے، اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی تیزترین تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

لاہور میں بسنت






لاہور میں بسنت

 جنریشن زی کے لیے یہ دو دن محض واقعات نہیں، بلکہ دو متضاد تجربات ہیں: ایک دن جب ہم نے خود کو بکھرتے دیکھا، اور دوسرا دن جب ہم نے خود کو سمیٹنے کی ایک روشن کوشش کی۔

آٹھ فروری کو لاہور کی فضا بدلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ چھتوں پر صرف گڈے نہیں اڑے، ذہنوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوا۔ ڈھول کی تھاپ پر قدم خود بخود تھرکنے لگے، قہقہے فضا میں گھل گئے، اور اجنبی ایک دوسرے کے لیے مانوس ہو گئے۔ بزرگ نسل نے نئی نسل کو گڈے دلائے، تجربہ کار ہاتھوں نے نو آموز ہاتھوں کو گڈا اڑانے کے رموز سکھائے۔ لوگ ایک دوسرے کی چھتوں تک پہنچے، مگر اصل میں وہ ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچے—وہ دل جو مدتوں سے بند پڑے تھے۔

یہ صرف بسنت نہیں تھی، یہ سماج کی ازسرِنو جڑت تھی۔
یہ ان قدروں کی خاموش واپسی تھی جنہیں ہم نے خوف اور بدگمانی کے نام پر پسِ پشت ڈال دیا تھا۔

اس سے پہلے ہمارا رویہ کیا بن چکا تھا؟
ہم نے اپنے گھروں کو قلعوں میں بدل لیا تھا۔ اونچی دیواریں، خاردار تاریں اور بھاری گیٹ—سب کچھ تحفظ کے نام پر، مگر انجام تنہائی کی صورت میں نکلا۔ عدمِ اعتماد نے ہمارے تعلقات کی ساخت بدل دی تھی۔ ہم سلام سے پہلے سوال اور ملاقات سے پہلے اندیشے پالنے لگے تھے۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں سیاست کو رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا—مگر وہ کہیں راستہ بھٹک گئی۔

سیاست اپنی اصل میں کوئی داغ دار سرگرمی نہیں، یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ سچی سیاست وہ ہوتی ہے جو معاشرے میں امید بانٹے، لوگوں کو مثبت سوچ عطا کرے، مستقبل کی سمت واضح کرے، اور بالخصوص نوجوانوں کو مقصد دکھائے۔ سیاستدان کا کام محض نعرہ لگانا نہیں، بلکہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سیاسی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

یہ راستہ آسان نہیں ہوتا۔
اکثر یہ سفر اتنا کٹھن ہو جاتا ہے کہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد کئی نام ہماری اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہیں—وہ لوگ جنہوں نے اس راہ میں اپنی آسائشیں، اپنی عزت، حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کر دی، مگر اپنے وژن سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی سیاست کا اصل وقار ہے، یہی اس کا اخلاقی وزن ہے۔

اسی تناظر میں آٹھ فروری کی بسنت کو دیکھنا چاہیے۔
یہ کوئی سیاسی مظاہرہ نہیں تھا، مگر ایک سماجی کوشش ضرور تھی—ایک غیر اعلانیہ اعلان کہ معاشرہ ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا۔ کہ ہم اب بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں، بغیر نفرت کے، بغیر اشتعال کے۔

اور پھر ذہن نا چاہتے ہوئے نو مئی کی طرف چلا جاتا ہے۔

نو مئی وہ دن تھا جب سیاست رہنمائی کے بجائے اشتعال میں بدل گئی۔ یہ دن کسی بیرونی دشمن کا نہیں، ہماری اندرونی شکست کا دن تھا۔ نو مئی ایک ایسا خنجر تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھ میں لیا، اور خود کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کیا۔

اس دن نفرت کے بیانیے تراشے گئے، زبانیں سخت ہو گئیں، اور اختلاف دشمنی میں بدل گیا۔ احتجاج اور تخریب کے درمیان حد مٹا دی گئی۔ ہم نے خود اپنا گریبان چاک کیا، اور پھر حیران ہوئے کہ آئینہ ہمیں ٹوٹا ہوا کیوں دکھا رہا ہے۔

نو مئی صرف تشدد کی ایک تاریخ نہیں، یہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔
اس دن ہم نے اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنے اجتماعی شعور کو خود ہی اپنے ہاتھوں مجروح کیا۔ نتیجتاً خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں، اور معاشرہ ایک بار پھر بند گھروں، بند دلوں اور بند ذہنوں میں قید ہو گیا۔

جنریشن زی نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ جب جذبات عقل سے آزاد ہو جائیں تو نعرے بوجھ بن جاتے ہیں، اور جب سیاست اخلاق سے خالی ہو جائے تو قومیں خود اپنی بنیادیں کمزور کر لیتی ہیں۔

اور اسی لیے آٹھ فروری اہم ہے۔
یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ کہ اگر سیاست دوبارہ اپنی اصل روح—امید، سمت اور اخلاق—کی طرف لوٹ آئے، تو سماج دوبارہ سانس لے سکتا ہے۔ کہ ہم نفرت کے خنجروں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

اب سوال یہ نہیں کہ نو مئی کیوں پیش آیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم آٹھ فروری کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

کیونکہ تاریخ صرف واقعات محفوظ نہیں کرتی،
تاریخ یہ لکھتی ہے کہ قوموں نے کس لمحے کیا انتخاب کیا۔

اور انتخاب—
ہمیشہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہوتا ہے۔

کتے اور بھیریے کی کہانی





کتے اور بھیڑیے کی کہانی

 رتقاء کے کسی دھندلے، نیم روشن موڑ پر کتا اور بھیڑیا ایک ہی قبیلے کے فرد تھے۔ جبلّت مشترک تھی، بدن میں مماثلت تھی، اور بقا کی خواہش دونوں کے سینے میں یکساں دھڑکتی تھی۔ نہ فطرت نے ان کے درمیان لکیر کھینچی، نہ وقت نے انہیں جدا کیا۔ یہ فرق کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھا—یہ فرق ایک سوچے سمجھے انتخاب سے پیدا ہوا۔

کتے نے انسان کے قریب رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جنگل کی وسعتوں کے بجائے دہلیز کو چنا۔ یہ قربت سہولت نہیں تھی، ایک ذمہ داری تھی—بھاری، مسلسل اور خاموش۔ اس نے انسان کے گھر، اس کے بچوں اور اس کے مال مویشی کی رکھوالی کی۔ اس نے اپنی ذات کو ڈھال بنایا، اپنے وجود کو خطرے کے سامنے رکھا، تاکہ پیچھے رہ جانے والے محفوظ رہیں۔
اس انتخاب کی قیمت بھی تھی۔ آزادی محدود ہوئی، اختیار مکمل نہ ملا، مگر دہلیز محفوظ رہی۔ اور یوں یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ حفاظت طاقت کا مظاہرہ نہیں، قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔

بھیڑیے نے جنگل کی بے کنار وسعتوں کو چنا۔ اس نے کسی دہلیز سے وابستگی قبول نہ کی، کسی ذمے داری کو اپنے گلے کا ہار نہ بنایا۔ بھوک مٹانے کے لیے وہ کھلے میدان میں اترا، حملہ کیا، نوچا، اور خوف کو اپنی پہچان بنا لیا۔ اس کے نزدیک زندگی حفاظت کا نام نہیں، غلبے کا دوسرا نام ہے؛ ذمہ داری اس کے ہاں بوجھ ہے، فتح ہی اس کی اخلاقیات ہے۔

کتا آج بھی دہلیز پر بیٹھا ہے۔ اس کی خواہش سادہ ہے: جو اس کے پیچھے ہیں، وہ محفوظ رہیں۔ مگر انسانی سماج نے وقت کے ساتھ ایک عجیب اور سفاک فیصلہ کیا۔ اس نے وفاداری کو کمزوری قرار دے دیا۔ جب کسی ہم جنس کو کمتر دکھانا مقصود ہو، اسے “کتا” کہا جاتا ہے۔ یوں اصول پسندی، قانون کی پاسداری اور اخلاقی انکار تمسخر کا نشانہ بن جاتے ہیں، اور کردار کی جگہ چالاکی کو فضیلت کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔

انسانی تاریخ ایسے محافظوں سے بھری پڑی ہے جو دروازوں پر کھڑے رہے، مگر فیصلہ ساز کمروں تک نہ پہنچ سکے۔ ان کے نام قراردادوں کے حاشیوں میں دب گئے، کیونکہ وہ فاتح نہیں تھے۔ فاتح وہ تھے جن کے ہاتھوں میں نقشے تھے، جنہوں نے سرخ لکیروں سے زمین بانٹی، اور جن کے فیصلوں کے بعد شہروں کے نام ملبے میں بدل گئے۔

یہ بھی تاریخ کا ایک تلخ تضاد ہے کہ خونخواری کو بہادری کہا جاتا ہے۔ کہیں آسمان سے آگ برستی ہے، کہیں بستیاں اجڑتی ہیں، اور کہیں ایوانوں میں بیٹھے لوگ اسے “ضروری اقدام” کا نام دے دیتے ہیں۔ میزوں پر فائلیں کھلتی ہیں، نقشوں پر نئی حد بندیاں بنتی ہیں، اور انسان صرف اعداد میں ڈھل جاتے ہیں—کسی رپورٹ کا ایک پیراگراف، کسی بریفنگ کی ایک سطر۔

رفتہ رفتہ یہی بھیڑیے دنیا کی بڑی کہانیوں کے مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔ ان کے لیے زبان نرم ہو جاتی ہے، الفاظ محتاط ہو جاتے ہیں، اور ظلم کو “توازن”، “سلامتی” یا “قومی مفاد” کا خوش نما عنوان دے دیا جاتا ہے۔ جو اس بیانیے سے اختلاف کرے، جو طاقت کے بجائے اصول کی بات کرے، وہ غیر حقیقت پسند، جذباتی یا غیر ذمہ دار قرار پاتا ہے۔

مسئلہ بھیڑیوں کی موجودگی نہیں—طاقت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ اصل مسئلہ وہ عالمی ہجوم ہے جو ان کے پیچھے چلتا ہے۔ وہ تالیاں ہیں جو ہر گرتے ہوئے شہر کے بعد بجتی ہیں۔ وہ خاموشی ہے جو ہر چیخ کے بعد چھا جاتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ ہم نے طاقت کو عقل کا مترادف، اور اخلاق کو رکاوٹ سمجھ لیا ہے۔

جب  پیمانے بگڑ جائیں تو محافظ مجرم دکھائی دینے لگتا ہے، اور آگ لگانے والا رہنما۔ پھر دہلیز پر بیٹھا کتا مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے، اور جنگل سے آنے والا بھیڑیا معتبر۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے اپنی ہی حفاظت پر شرمندہ ہونے لگتے ہیں۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ کتا درست ہے یا بھیڑیا طاقتور۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کن فیصلوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم کن ہاتھوں سے مصافحہ کرتے ہیں، اور کن آنکھوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ کیونکہ جس دن دنیا اپنے محافظوں کو بوجھ، اور اپنے جلادوں کو ناگزیر سمجھ لے، اس دن ظلم محض ایک عمل نہیں رہتا—وہ عالمی روایت بن جاتا ہے۔

اور جب ظلم روایت بن جائے،
تو تاریخ نہیں مرتی—
انسان مرنے لگتا ہے۔